Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۂ بدر اولیٰ p. 100
جمادی الاولیٰ2ھ p. 100
ہجرت کے آخری زمانہ میں مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے درپے ہوگئے تھے۔ انکے بڑے بڑے سردار اپنی قومی مجلس دارالندوہ میں جمع ہوئے تاکہ اس معاملہ میں مشورہ کر کے آخری فیصلہ کریں۔ مشورہ میں کسی نے کہا کہ محمد کو پکڑ کر کوٹھری میں بند کر دو یہاں تک کہ اسی کے اندر ان کی موت آ جائے۔ کسی نے کہا کہ ان کو مکہ سے جلا وطن کر دو۔ کسی نے کہا کہ تمام قبیلوں کے لوگ مل کر انہیں قتل کر دیں تاکہ ان کا خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہو جائے اور بنو ہاشم اس کا انتقام نہ لے سکیں(سیرۃ ابن ہشام،جلد2، صفحہ93-95)۔ p. 100original + quote
مکہ کے اس واقعہ کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے__ اور جب منکرین تمہاری نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا تم کو قتل کر دیں یا تم کو جلاوطن کر دیں۔ وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیریں کر رہا تھا۔ اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے(8:30)۔ p. 100original + quote
اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل کر مدینہ آگئے۔ تاہم اب یہ ظاہر ہو چکا تھا کہ قریش صرف عام مخالفت پر رکنے والے نہیں ہیں بلکہ وہ جنگ کرکے اسلام اور اہل اسلام کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہجرت کے بعد برابر آپ مہاجر صاحبہ کے جاسوس دستے مکہ کے اطراف میں بھیجتے رہے تاکہ قریش جب جنگی اقدام کریں تو پیشگی طور پر ان کا اندازہ ہو جائے۔ ہجرت کے بعد مہاجر صحابہ پر مشتمل جو سرایا بھیجے گئے وہ زیادہ تر قریش کی جارحانہ سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے تھے۔ p. 100
عشیرہ کی مہم بھی اسی قسم کی تھی جو جمادی الاولیٰ 2ھ میں پیش آئی۔ قریش کے بعد قافلہ کی خبر سن کر آپ200 مہاجرین کو لے کر عشیرہ کی طرف گئے جو ینبع کے قریب ہے۔ مگر ٹکرائو کی نوبت نہیں آئی۔ آپ چند روز کے بعد مدینہ واپس آگئے۔ اسی سفر میں آپ نے قبیلہ بنی مدلج سے وہ حلیفانہ معاہدہ کیا تھا جو تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے(سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 177)۔ p. 100original + quote
عشیرہ سے آپ کی واپسی پر تقریباً دس دن گزرے تھے کہ قریش کی طرف سے براہ راست حملہ کا وہ واقعہ پیش آگیا جس کا اندیشہ تھا۔ قریش مکہ کے ایک سردار کرزبن جابر فہری نے ایک دستہ کے ساتھ مدینہ پر چھاپا مارا۔ یہ لوگ رات کے وقت مدینہ کے علاقہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے مدینہ کے مسلمانوں کی ایک چراگاہ پر شب خون مارا۔ وہ مسلمانوں کے اونٹ اور بکریاں لے کر بھاگ گئے۔ p. 101
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قریش کی طرف سے اس واقعہ کی خبر معلوم ہوئی تو فوراً ہی آپ صحابہ کا ایک دستہ لے کر حملہ آوروں کے تعاقب میں نکلے۔ اس تعاقب میں آپ صفوان کے مقام تک گئے جو بدر کے قریب واقع ہے۔ مگر آپ کے اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی قریش کا حملہ آور دستہ آگے جا چکا تھا۔ چنانچہ آپ صفوان سے واپس مدینہ چلے آئے۔ آپ نے صفوان سے آگے کی طرف سفر نہیں کیا۔ p. 101
یہ قریش کی طرف سے پہلا براہ راست حملہ تھا جو بدر کے قریب پیش آیا۔ اسی لیے اس کو غزوۃ بدر الاولیٰ کہا جاتا ہے۔ نیز مذکورہ سبب سے اس کو غزوۃ صفوان بھی کہتے ہیں۔ اس غزوہ کے لیے جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا۔ p. 101
کرز بن جابر قریش مکہ کے سرداروں میں سے تھے۔ بعد کو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اسلام کی صداقت ان پر واضح ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے مدینہ آ کر اسلام قبول کر لیا۔ p. 101
قبول اسلام کے بعد انہوں نے بہت سی اسلامی خدمات انجام دیں۔ رسول اللہ نے بعد کو عرینیین کے تعاقب میں بیس سواروں کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔ اس دستہ کا امیر آپ نے کرزبن جابر کو مقرر کیا۔ فتح مکہ کی مہم میں وہ شریک تھے۔ اس مہم میں وہ شہید ہوئے۔ p. 101