Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اعتراف نہیں p. 327
نئی دہلی کے ایک خاندان کو ٹیلی گرام ملا۔ اس کا مضمون یہ تھا p. 327
Nani expired p. 327
یعنی نانی کا انتقال ہو گیا۔ یہ ٹیلی گرام پڑھ کر گھر کے سب لوگ پریشان ہو گئے۔ پورا خاندان فوری طور پر اس مقام کے لیے روانہ ہو گیا جہاں مذکورہ نانی رہتی تھیں اور جہاں سے ٹیلی گرام موصول ہوا تھا۔ یہ لوگ جب گھبرائے ہوئے اور کافی پیسہ خرچ کر کے مذکورہ مقام پر پہنچے تو وہاں نانی صاحبہ زندہ سلامت موجود تھیں۔ p. 327
معلوم ہوا کہ ٹیلی گرام کا اصل مضمون یہ تھا کہ نانی پہنچ گئیں (Nani reached) مگر وہ موصول کرنے والے کلرک کی غلطی سے نانی انتقال کر گئیں (Nani expired) بن گیا۔ (ٹائمس آف انڈیا، 6دسمبر 1983) p. 327
ٹیلی گراف آفس کو اس افسوسناک غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی۔ مگر اس کا جو نتیجہ ہوا وہ اخبار کے الفاظ میں یہ تھا p. 328
The P&T department has not yet accepted the charge of inefficiency, regrets only the inconvenience, if any. p. 328
The Times of India, 7.12.1985 p. 328
محکمہ ڈاک وتارنے اپنی غفلت تسلیم نہیں کی۔ اس نے صرف یہ کہا کہ اگر اس کی وجہ سے کوئی زحمت ہو ئی ہو تو اس کو اس کا افسوس ہے۔ p. 328
اوپر کی مثال صرف محکمہ تار کی مثال نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ میں تمام لوگوں کا حال ہے۔ ’’ میں نے غلطی کی ‘‘ صرف چار الفاظ کا ایک جملہ ہے۔ مگر چار الفاظ کا یہ جملہ ادا کرنے والے چار انسان بھی مشکل سے آج کی دنیا میں ملیں گے۔ لوگوں کی ڈکشنری میں صرف یہ الفاظ ہیں کہ ’’تم غلطی پر ہو ‘‘۔ لوگوں کی ڈکشنری ان الفاظ سے خالی ہے کہ ’’ میں غلطی پر ہوں ‘‘۔ آج کا انسان کسی قیمت پر اپنی غلطی کو نہیں مانتا، خواہ اس کی خاطر اسے حقیقت کو ذبح کرنا پڑے۔ خواہ ایک غلطی کو نہ ماننے کی کوشش میں وہ مزید بےشمار غلطیاں کرتا چلا جائے۔ p. 328
اعتراف p. 329
اردو زبان کے ایک استاد کلاس میں غزل پڑھا رہے تھے۔ اس درمیان میں ایک مصرعہ آیا جو کتاب میں اس طرح چھپا ہوا تھا p. 329
پنجۂ سل سے کھلیں گے عقدهٔ گیسوئے دوست p. 329
استاد نے اس مصرعہ کی تشریح ان الفاظ میں کی— پنجۂ سل کا مطلب ہے سل کا پنجہ۔ كھلیں گے ، یعنی وا ہو جائیں گے۔ عقدہ یعنی گرہ۔ گیسو ئے دوست، یعنی محبوب کے گیسو۔ مصرعہ کا مطلب یہ ہے کہ محبوب کے گیسو پنجۂ سل سے کھل جائیں گے۔ p. 329other source
طلبہ حیرانی میں تھے۔ کیوں کہ استاد کی مذکورہ تشریح کے باوجود مصرعہ کا مطلب واضح نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے نظم کے الفاظ کو نثر میں دہرا دیا تھا۔ اتنے میں کلاس کا ایک ذہین طالب علم اٹھا۔ اس نے کہا p. 329original + quote
’’ سر ، میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں ‘‘ p. 330
’’ کہو ‘‘ p. 330
’’ سر ، یہ شاید طباعت کی غلطی ہے۔ میرے خیال سے یہ پنجۂ سل نہیں بلکہ پنجۂ شل ہے۔ اور شل کے معنی ہیں بے جان۔ کنگھا انسانی پنجہ کے مشابہ ہوتا ہے۔ بے جان ہونے کی وجہ سے شاعر نے اس کو پنجۂ شل کہا۔ شاعر افسوس کر رہا ہے کہ ہماری جاندار انگلیاں تو محبوب کی زلف کو سنوار نہ سکیں۔ اور کنگھا جس کی انگلیاں بے جان ہیں اور وہ گویا پنجۂ شل ہے ، اس کی خوش بختی دیکھو کہ اس نے زلف محبوب کے بل کھول کر اس کو سنوار دیا ‘‘۔ p. 330
طالب علم کی اس وضاحت کے بعد کلاس کے تمام طلبہ خوش ہو گئے۔ ان کو محسوس ہوا کہ استاد کی تشریح کے باوجود جو مصرعہ بد ستور نا قابل فہم بنا ہوا تھا اس کو طالب علم کی تشریح نے قابل فہم بنا دیا ہے مگر استاد محترم اپنی ہار ماننے والے نہیں تھے۔ انھوں نے فوراً کہا p. 330
درست، درست۔ پنجۂ سل اور پنجۂ شل ایک ہی بات ہے۔ p. 330
حقیقت کھل جانے کے بعد آدمی اگر اس کا اعتراف نہ کرے تو گویا وہ چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو بڑا اور حقیقت کو چھوٹا ثابت کرے۔ مگر چوں کہ امر واقعہ اس کے خلاف ہے۔ اس لیے عملاً صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی خودچھوٹا ہو کر رہ جاتا ہے۔ p. 331
اعتراف p. 331
ایک نوجوان کھلاڑی کو ایک فٹ بال ٹیم میں شامل ہو کر میچ کھیلنا پڑا۔ اتفاق سے اس کی ٹیم ہار گئی۔ ہارنے کے بعد نوجوان نے اپنے باپ کو خط لکھا ہمارے مخالفوں کو ہماری دفاعی لائن میں ایک زبردست شگاف مل گیا تھا۔ اور وہ شگاف میں ہی تھا۔ p. 331
یہ اعتراف کسی آدمی کے لیے سب سے بڑی بہادری ہے اور یہی تمام اجتماعی ترقیوں کی جان بھی ہے۔ ہر شکست ’’ دفاعی لائن میں کسی شگاف ‘‘ ہی کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ اور اس کا بہترین علاج اس کا اعتراف ہے۔ اعتراف کے ذریعہ اصل مسئلہ بغیر کسی مزید خرابی کے حل ہو جاتا ہے۔ اعتراف کرنے والا یا تو اپنی کمی کا احساس کرتے ہوئے اپنے آپ کو میدان سے ہٹا دیتا ہے۔ اور اس طرح دوسرے بہتر لوگوں کو کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یا وہ اپنی ہار کو وقتی معاملہ سمجھ کر مزید تیاریوں میں لگ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بالآخر کامیاب ہو جاتا ہے۔ p. 331
زندگی کی سب سے بڑی حقیقت اعتراف ہے۔ ایمان ایک اعتراف ہے۔ کیونکہ ایمان لا کر آدمی اپنے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کا اقرار کرتا ہے۔ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی اعتراف ہے۔ کیونکہ ان پر عمل کر کے ایک شخص بین انسانی ذمہ داریوں کا اقرار کرتا ہے۔ تو بہ ایک اعتراف ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے آدمی اس حقیقت کا اقرار کرتا ہے کہ صحیح وہ ہے جو خدا کے نزدیک صحیح ہے اور غلط وہ ہے جو خدا کے نزدیک غلط ہے۔ زندگی کی ہر قسم کی اصلاح کا راز اعتراف میں چھپا ہوا ہے۔ کیونکہ انسان ہمیشہ غلطی کرتا ہے۔ اگر وہ اعتراف نہ کرے تو اس کی غلطیوں کی اصلاح کی دوسری کوئی صورت نہیں۔ p. 332
اعتراف تمام ترقیوں کا دروازہ ہے۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اعتراف کے لیے آمادہ کر سکے۔ جب بھی ایسا کوئی موقع آتاہے تو آدمی اس کو اپنی عزت کا سوال بنا لیتا ہے۔ وہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خرابی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ جس غلطی کا صرف زبانی اقرار کر لینے سے کام بن رہا تھا اس غلطی کا اسے اپنی بربادی کی قیمت پر اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ p. 332