Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غلطی پر غلطی p. 321
آدمی اگر اپنی غلطی نہ مانے تو وہ ہمیشہ دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ دوسرے کو برا ظاہر کر کے اپنی برائی پر پردہ ڈال سکے۔ p. 322
ایک آدمی بے روز گار تھا۔ اس کے دوست نے کہا کہ تم کوئی کاروبار کرو۔ آدمی نے کہا میرے پاس سرمایہ نہیں۔ دوست نے کہا کہ تم کسی طرح پانچ ہزار روپے فراہم کر لو تو میں تم کو پانچ ہزار روپے بطور قرض دے دوں گا۔ پھر تم دس ہزار روپے سے اپنا کام کر لینا۔ آدمی نے کہیں سے پانچ ہزار روپے حاصل کیے۔ اس کے بعد جب اس نے دوست سے وعدہ کے مطابق رقم مانگی تو اس نے عذر کر دیا۔ اس کے بعد دوست کا یہ حال ہوا کہ وہ اس آدمی کو مستقل برا کہتا رہتا۔ ہر موقع پر اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا۔ p. 322
دوست ایسا کیوں کرتا تھا۔ جواب یہ ہے کہ اپنے احسا س جرم کو دوسرے کے اوپر ڈالنے کے لیے۔ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ میں روپیہ دینے کے لیے تو تیار تھا۔ مگر یہ آدمی اس قابل ہی نہ تھا کہ اس کو روپیہ دیا جائے۔ اس کی اپنی نالائقی نے اس کو روپیہ سے محروم رکھا،نہ کہ میری کوتاہی نے۔ انسان یا تو اپنی غلطی مانے گا یا دوسرے کو غلط کہے گا۔ وہ بیک وقت دونوں سے بچ کر نہیں رہ سکتا۔ p. 322
ایسا آدمی بطور خود یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہوشیاری کر رہا ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے ایک جرم کو دو جرم بنا رہا ہے۔ پہلے مرحلہ میں دوست صرف وعدہ خلافی کا مجرم تھا، اب وہ جھوٹا الزام لگانے کا بھی مجرم بن گیا۔ p. 322
جب بھی آدمی سے کوئی غلطی ہو تو بہترین بات یہ ہے کہ وہ اس کا اعتراف کر لے۔ غلطی کا اعتراف بات کو وہیں کا وہیں ختم کر دیتا ہے۔ مگر جب آدمی غلطی کا اعتراف نہ کرے تو لازماً ایسا ہو گا کہ وہ دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے گا اور اس طرح غلطی پر غلطی کرتا چلا جائے گا۔ آدمی یا تو اپنے کو غلط مان کر مطمئن ہوتا ہے یا دوسرے کو غلط ثابت کرکے۔ اگر وہ پہلا کام نہ کرے تو ضرور اس کو دوسرا کام کرنا پڑے گا۔ اور دوسرا کام یقینی طور پر اس کے لیے پہلے سے زیادہ برا ہو گا۔ p. 322
غلطی کرنا بشری کمزوری ہے۔ مگر جھوٹا الزام لگانا سر کشی ہے۔ اور کمزوری کے مقابلہ میں سرکشی یقیناً زیادہ بڑا جرم ہے۔ p. 323