Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
متحدہ عمل p. 280
اسٹیم انجن چلانے والا آدمی آگ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ مادی مجموعہ متحرک ہو جس کو مشین کہتے ہیں۔ اسی طرح مل کر کام کرنے والوں کو برداشت کی زمین پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ جو لوگ برداشت کے لیے تیار نہ ہوں وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام بھی نہیں کر سکتے۔ p. 280
جب بھی کچھ لوگ باہم مل کر کام کریں تو لازماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک کودوسرے سے اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ایک کے دل میں دوسرے کے خلاف شکایت کے جذبات بھڑکتے ہیں۔ ایسا بہر حال ہوتا ہے۔ جمع ہونے والے لوگ انفرادی طور پر خواہ کتنے ہی اچھے ہوں مگر ایک دوسرے کے خلاف اس قسم کے منفی جذبات لازماً پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی پیدائش کو کسی حال میں روکا نہیں جا سکتا۔ p. 280
ایسی حالت میں متحدہ کوشش اور مشترکہ عمل کو کیسے ممکن بنایا جائے۔ اس کی ایک ہی صورت ہے۔ اور وہ ہے اختلاف کے باوجود متحد رہنا۔ لوگوں کو شعوری طور پر اتنا بیدار ہونا چاہیے کہ وہ ہر شکایت کو پی جائیں۔ ہر جذباتی ردعمل کو اپنے سینہ میں دفن کر دیں۔ وہ اتحاد کو باقی رکھنے کی خاطرہراختلافی بات کو برداشت کرتے رہیں۔ p. 281
یہ مطالبہ کسی نا ممکن چیز کا مطالبہ نہیں ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو ہر ا ٓدمی عملاً اپنے گھر میں اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایک گھر جس کے اندر چند افرادِ خاندان مل کر رہتے ہوں ان میں روزانہ کسی نہ کسی بات پر ناگواری پیش آتی ہے۔ روزانہ ایک کے دل میں دوسرے کے خلاف شکایتی جذبات ابھرتے ہیں۔ مگر پھر خونی رشتہ غالب آتا ہے۔ بار بار ناگواری پیدا ہوتی ہے اور بار بار باہمی محبت کا جذبہ اسے ختم کرتا رہتا ہے۔ اس طرح گھر کا اتحاد برقرار رہتا ہے۔ ہرگھراختلاف کے باوجود متحد رہنے کی عملی مثال ہے۔ p. 281
یہی چیز اجتماعی زندگی میں شعور کے تحت ظہور میں آتی ہے۔ خاندانی زندگی میں جو واقعہ محبت کے جذبہ کے تحت پیش آتا ہے وہی واقعہ اجتماعی زندگی میں شعوری فیصلہ کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ گھر کے اندر دل کا تعلق لوگوں کو باہم جڑے رہنے پر مجبورکرتا ہے اور گھر کے باہر لوگوں کا عقلی فیصلہ انھیں اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ اتحاد کو باقی رکھنے کی خاطر ہر ناگواری کو گوارا کرتے رہیں۔ p. 281