Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اقتصادی حملہ p. 240
ہوائی (Hawaii) بحر الکاہل کا جزیرہ ہے۔ اس کے ایک ساحلی مقام کا نام پرل ہار بر ہے۔ پرل ہار بر کو امریکا نے ایک فوجی بندرگاہ کے طور پر ترقی دی۔ یہ بحر الکاہل میں امریکا کا سب سے زیادہ مضبوط بحری اڈہ بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران 7 دسمبر 1941 کو جاپان نے پرل ہار بر پر بمبار ہوائی جہازوں سے حملہ کیا۔ اس وقت امریکا کے تقریباً ایک سو جنگی جہاز یہاں موجود تھے جاپانی بمباری نے ان میں سے اکثر کو تباہ کر دیا۔ p. 240
اس کا بدلہ امریکا نےاس طرح لیا کہ 6 اگست 1945 کو اس نے دو ایٹم بم جاپان پر گرائے جس کے نتیجہ میں جاپان کے دو اہم ترین صنعتی شہر بالکل تباہ ہو گیے۔ تاہم یہ دونوں شہر (ہیرو شیما اور ناگاساکی) اب دوبارہ زیادہ شاندار طور پر تعمیر کر لیے گئے ہیں۔ 1945 میں وہ جاپان کی بربادی کی علامت تھے۔ 1985 میں وہ جاپان کی غیر معمولی ترقی کی علامت ہیں۔ p. 240
دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ جاپان کی مکمل شکست پر ہوا تھا۔ مزید یہ کہ امریکا نے اس کے اوپر اپنی فوجی اور سیاسی بالادستی قائم کر لی۔ مگر جاپان نے حیرت انگیز طورپر اس کا ثبوت دیا کہ وہ اپنے آپ کو حالات کے مطابق بدل لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے وہ ہتھیاروں پر یقین رکھتا تھا مگر جنگ کے بعد اس نے خود اپنی مرضی سے ہتھیار الگ رکھ دیے اور خالص پُرامن انداز میں اپنی نئی تعمیر شروع کر دی۔ جاپان نے لڑائی کے میدان کو چھوڑ دیا جو اس کے لیے بند ہو گیا تھا۔ اس نے تعمیر کے میدان کو اختیار کر لیا جو اب بھی اس کے لیے کھُلا ہوا تھا۔ p. 240
دوسری تدبیر پہلی تدبیر سے زیادہ کامیاب ہوئی۔ جاپان صنعت وتجارت میں اس حد تک آگے بڑھ گیا کہ آج وہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی اقتصادی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ امریکا کے مقابلہ میں اس کا ٹریڈسرپلس 37 بلین ڈالر کے بقدر زیادہ ہے۔ جنگ کے فاتح امریکا کو مفتوح جاپان نے اقتصادیات کے میدان میں شکست دے دی۔ p. 241
اس صورت حال سے امریکا کے لوگ بے حد پریشان ہیں۔ وہ جاپان کے موجودہ حملہ کو اقتصادی پرل ہاربر( Economic Pearl Harbou) کا نام دیتے ہیں۔ امریکا میں ایک کتاب چھپی ہے جو اس وقت امریکا اور جاپان میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے جاپان نمبر ایک (Japan - Number One)۔ p. 241
اس کتاب میں دکھایا گیا ہے کہ جاپان اور امریکا کے درمیان تجارت میں جاپان بہت زیادہ آگے بڑھ گیا ہے اور عنقریب وہ برطانیہ سے بھی آگے بڑھ جانے والا ہے۔ بیرونی اثاثہ کے اعتبار سے جاپان آج دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند قوم ہے۔ اس کا بیرونی اثاثہ 1984 کے آخر میں 74 بلین ڈالر تھا۔ ( ٹائمس آف انڈیا،13-14 جون 1985) p. 241original + quote
جاپان نے اپنی فوجی شکست کو اقتصادی فتح میں کس طرح تبدیل کیا۔ جواب یہ ہے کہ اس کا راز یہ تھا کہ جاپان نے از سر نو وہاں سے اپنا سفر شروع کیا جہاں حالات نے اس کو پہنچا دیا تھا۔ p. 241
اس نے اشتعال کے بجائے صبر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس نے ٹکرائو کے میدان سے ہٹ کر پُر امن میدان میں اپنی قوتوں کو استعمال کیا۔ جو امکان برباد ہوگیا تھا ، وہ اس کا فریادی نہیں بنا۔ بلکہ جو امکان باقی رہ گیا تھا اس نے اپنی ساری توجہ اس پرلگادی۔ p. 241
خلاصہ یہ کہ جاپان نے دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنے آپ کو الزام دیا اور اس کے بعد فوراً اس کی نئی تاریخ بنناشروع ہو گئی جو اس وقت تک نہ رکی جب تک وہ تکمیل کی حد کو نہ پہنچ گئی۔ p. 242
آپ اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ یہاں دوسرے بہت سے لوگ بھی ہیں۔ اور وہ سب بڑھنے اور غالب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس صورت حال کے مقابلہ میں آپ کا طریقہ دو قسم کا ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ جہاں کوئی دوسرا آپ کو اپنی راہ میں حائل نظر آئے وہاں آپ اس سے لڑنا شروع کر دیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ٹکرائو سے بچ کر اپنی مثبت تعمیرکرنے کی کوشش کریں۔ p. 242
تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں صرف دوسرا طریقہ کامیاب طریقہ ہے۔ اس کے برعکس پہلا طریقہ صرف بربادی کا طریقہ ہے۔ سمندری جہاز کو اگر چلتے ہوئے راستہ میں چٹان مل جائے تو وہ اس سے کترا کر نکل جاتا ہے۔ اور جو جہاز اس سے لڑ کر جانا چاہے وہ ٹوٹ کرختم ہو جاتا ہے۔ ایسے جہاز کے لیے منزل پر پہنچنا مقدر نہیں۔ p. 242