Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حالات کی رعایت p. 237
19 جولائی 1981 کو دہلی۔ احمد آباد میل حسب معمول اپنے وقت پر روانہ ہوئی۔ مگر مہسانہ اسٹیشن پر وہ چالیس منٹ لیٹ ہو گئی۔ ٹرین جب مہسانہ سے آگے بڑھی تو ڈرائیور نے اس کو عام رفتار سے زیادہ تیز دوڑانا شروع کیا تا کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر احمد آباد پہنچ جائے۔ ٹرین ڈنگروا سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر تھی کہ ڈرائیور نے دیکھا کہ آگے کی پٹری میں کچھ فش پلیٹیں غائب ہیں۔ اس نے فوری طور پربریک لگایا کہ ٹرین کو روک کر حادثہ سے بچائے۔ مگر تیز دوڑتی ہوئی ٹرین اچانک بریک لگنے سے بے قابو ہو گئی۔ انجن اور اس کے ساتھ لگی ہوئی 12 بوگیاں پٹری سے اچھل پڑیں اور پوری گاڑی اپنی پٹری چھوڑ کر کنارے کے کھڈ میں جا گری۔ کافی لوگ مر گئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ p. 237
اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ حالات کو نظر انداز کر کے اپنی زندگی کی گاڑی تیز دوڑانا شروع کر دیں۔ کیونکہ اس دنیا میں صرف آپ ہی نہیں ہیں بلکہ دوسرے بھی ہیں۔ یہاں صرف آپ برسرعمل نہیں ہیں بلکہ دوسرے بھی برسرعمل ہیں۔ ایسی ایک دنیا میں اسی شخص یا قوم کا سفر کامیاب ہو سکتا ہے جو خارجی حالات کو اچھی طرح سمجھے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے اپنی گاڑی کو آگے بڑھائے۔ اگر یہ حکمت نہ برتی جائے تو راستہ میں کوئی بھی غیر موافق واقعہ پیش آکر ہمارے سارے منصوبہ کو خاک میں ملا دے گا۔ p. 238
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے بہت سے بڑے بڑے اقدامات کیے اور سب ناکام ہوتے چلے گئے۔ اس ناکامی کی توجیہہ ہر ایک کے پاس صرف ایک ہے’’فلاں کی ساز ش نے ان کے منصوبہ کو ناکام بنادیا‘‘مگر یہ عذر صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ مذکورہ اقدام میں حالات کی پوری رعایت شامل نہ تھی۔ خوش فہمی کے تحت اپنی گاڑی دوڑا دی گئی اور اس بات کا اندازہ نہیں کیا گیا کہ آگے کی پٹری پر ایک دشمن موجود ہے جو ’’فش پلیٹ ‘‘نکال کر ہماری گاڑی کو الٹنے کا خفیہ منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔ p. 238original + quote
’’گاڑی‘‘خواہ مکمل طور پر آپ کی ہو مگر جس ’’سڑک‘‘پر آپ کو اپنی گاڑی دوڑانی ہے وہ مکمل طور پر آپ کی نہیں۔ یہ حقیقت خواہ کسی کے لیے کتنی ہی تلخ ہو مگر بہر حال وہ ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اس کو نظر انداز کر کے کوئی شخص اس دنیا میں کامیاب ہو سکے۔ p. 238
جو لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے اپنی زندگی کی گاڑی دنیا کی سڑک پر دوڑائیں ان کے حصے میں کبھی منزل نہیں آتی۔ واحد چیز جو اس دنیا میں ان کے لیے مقدر ہے وہ یہ کہ وہ اپنے ہر اقدام کے بعد ناکام ہوں اور پھر کسی نہ کسی ’’سازش‘‘ کا انکشاف کرکے اس کے خلاف فریاد کرتےرہیں۔ p. 238