Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دانش مندی کے ذریعہ p. 235
کیا یہ ممکن ہے کہ زندہ شیر کا مطالعہ کھلے جنگل میں عین اس کے قریب بیٹھ کر کیا جائے۔ اس طرح کہ آدمی اس کو چھوئے اور اس کے جسم کے اعضاء کی صحیح پیمائش کر سکے۔ بظاہر یہ ایک نا ممکن سی بات نظر آتی ہے۔ مگر خدا نے انسان کو جو عقل دی ہے وہ ایسی عجیب و غریب ہےکہ وہ ہر ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔ بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔ p. 235
امریکا کے ایک ماہر حیوانات جارج بی شیلر نے اس ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ شیلر کو شیر ببر کی عادات و خصوصیات پر ایک کتاب لکھنی تھی۔ چنانچہ اس نے دو سال تک کھلے جنگل میں زندہ شیروں کے بالکل قریب جا کر ان کا مطالعہ کیا۔ اس نے اس قریبی مطالعہ کے ذریعہ جنگل کے بادشاہ کے بارے میں عجیب و غریب حقائق دریافت کیے۔ مثلاً یہ کہ شیر ببر نہایت سست اور کاہل درندہ ہے۔ شیروں کے اکثر بچے بھوکے مر جاتے ہیں کیوں کہ ان کے ماں باپ اپنی سستی کی وجہ سے اپنے بچوں کے لیے خوراک مہیا نہیں کرتے، وغیرہ۔ p. 235other source
مسٹر شیلر کوکیسے یہ موقع ملا کہ وہ کھلے جنگل میں زندہ شیر کے بالکل پاس جاکر شیرکا مطالعہ کریں۔ جواب یہ ہے عقل کے ذریعے۔ مسٹر شیلر نے ایسے کارتوس تیار کیے جن میں گولی کے بجائے بے ہوش کرنے والی دوا بھری ہوتی تھی۔ اس بے ہوشی کےکارتوس کو مخصوص بندوق میں رکھ کر وہ داغتے تو وہ شیر کے پاس پہنچ کر منٹوں میں اس کو غافل اور بے ہوش کر دیتی تھی۔ انھوں نے اس طریقہ کے ذریعہ تقریباً ایک سو شیروں کو بے ہوشی کی دوائوں کا نشانہ بنا کر بے حس کر دیا اور جب وہ بے حس ہو کر زمیں پر گر پڑتے تو ان کے قریب جا کر ان کی ہر چیز دیکھی اور غور کے ساتھ ان کا مکمل مطالعہ کیا۔ p. 236
انسان جس طرح جنگل کے خونخواردرندوں کو قبضہ میں کرلیتا ہے، اسی طرح وہ انسانی بستی کے مردم نما بھیڑیوں پر بھی قابو پا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسانی بھیڑیوں پر بھی خدا کی دی ہو ئی عقل کو اسی طرح استعمال کیا جائے۔ جس طرح اسے جنگل کے بھیڑیوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ p. 236
ایک شخص آپ سے کسی اعتبار سے بڑا ہے اور آپ سے اپنی بڑائی منوانا چاہتا ہےتو آپ اس کی بڑائی مان کر اسے ’’ بے ہوش ‘‘ کر دیجئے اور پھر اپنی خاموش تعمیر میں لگ جائیے۔ اگر آپ ایسا کریں تو بالآخر وہ وقت آجائے گا کہ خود اس کو وہ واقعہ ماننا پڑے جس کا مطالبہ اس سے پہلے وہ آپ سے کر رہا تھا۔ p. 236
خود جاننا پڑتا ہے p. 236
پچاس سال پہلے دیا سلائی اور لائٹر کا رواج نہیں تھا۔ دیہات کے لوگ ایک دوسرے کے گھروں سے آگ مانگ کر اپنا چولھا گرم کیا کرتے تھے۔ اس زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک خاتون اپنے پڑوسی کے گھر گئیں اور پوچھا کہ کیا آگ ہے۔ پڑوسی خاتون بولیں’’ہاں بہن، طاق پر رکھی ہے‘‘یہ خاتون بڑھاپے کی وجہ سے بہت کم سنتی تھیں۔ اس بنا پر ان کے لیے اس غیرمتعلق جواب کا عذر تھا۔ مگر بہت سے لوگ جن کے آنکھ اور کان پوری طرح درست ہوتے ہیں وہ بھی اکثر اس سے زیادہ مختلف ثابت نہیں ہوتے۔ p. 236original + quote
جنرل جے این چودھری نے جنوری 1971 میں ’’قومی تحفظات کے مسائل ‘‘پر لیکچر دیتے ہوئے کہا تھا کہ دفاع میں خبر رسانی (انٹیلی جنس)کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ واقعہ سے پہلے صحیح علم ضروری ہے۔ تاکہ دشمن کی چال کو ذمہ دار لوگ اچھی طرح سمجھیں اور جو فیصلہ کریں خوب سمجھ کر کریں۔ انٹیلی جنس کی سروس کا بہتر نہ ہونا بہت خطرناک ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے انٹیلی جنس کی ناکاکردگی کی ایک دلچسپ مثال دی۔ انھوں نے بتایا کہ 1961 میں جب ہندوستان نے گوا میں فوجی کاروائی کی تو اس کے دوران جنوبی کمان سے وائرلیس پر پوچھا گیاکہ کیا تم پرتگالیوں کےپاس آرمرڈکار اور ٹینک ہیں۔ وہاں سے جواب آیا—’’ٹینک تو ٹھیک ہیں۔ مگر ان میں صرف پندرہ ہزار گیلن پانی کی گنجائش ہے‘‘۔ سوال جنگی ٹینک کے بارے میں تھا اور جواب پانی کے ٹینک کے بارے میں ملا۔ p. 237unverified
کوئی اجتماعی کام اسی وقت صحیح طور پر انجام پاتا ہےجب کہ اس سے متعلق تمام لوگ اپنے حصہ کا کام ٹھیک ٹھیک انجام دے رہے ہوں۔ اجتماعی کام ہمیشہ مشترک ذمہ داری پر ہوتا ہے۔ اگر ہر ایک اپنی انفرادی ذمہ داری کو ٹھیک ٹھیک ادا کر رہا ہو تو گاڑی کامیابی کے ساتھ چلتی رہے گی۔ اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنے حصہ کا کام کرنے میں کوتاہی کی تو وہیں گاڑی ٹھپ ہو جائے گی۔ کیونکہ کوئی شخص دوسرے کے حصہ کا کام نہیں کر سکتا۔ p. 237
نیز یہ کہ ہر بات بتائی نہیں جا سکتی۔ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو متعلقہ شخص کو خود جاننا پڑتا ہے۔ ہر شخص کو اتنا ذمہ دار اور باشعور ہونا چاہیے کہ وہ بتائے بغیر جان لے کہ کسی معاملہ میں اس کو کس قسم کا حصہ ادا کرنا ہے یا کسی وقت خاص میں اجتماعیت اس سے کسی چیز کا تقاضا کر رہی ہے۔ گویا ایک فوجی افسر جب اپنے ساتھی سے’’ٹینک‘‘کے بارے میں پوچھے تو ساتھی کو وضاحت کے بغیر یہ جاننا چاہیے کہ پوچھنے والا جنگی ٹینک کے بارے میں پوچھ رہا ہے،نہ کہ پانی کے ٹینک کے بارے میں۔ p. 237