Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
زمانہ کے خلاف p. 229
شہر کی پوش کالونی میں ایک آدمی آوا ز لگا رہا تھا p. 229
برتن قلعی والا، برتن قلعی والا p. 229
وہ آواز لگاتا ہوا تمام سڑکوں پر گھومتا رہا۔ مگر شاندار مکانات میں سے کسی نے بھی اس کی طرف توجہ نہ دی۔ ساری کالونی میں کسی کے یہاں بھی اس کو کام نہ ملا۔ p. 229
کیا یہ تعصب کا معاملہ تھا۔ کیا ظلم اور گھمنڈ کی وجہ سے لوگوں نے ’’برتن قلعی والے‘‘ کو کام نہیں دیا۔ ہو سکتا ہے کہ ’’برتن قلعی والا‘‘اسی طرح سوچتا ہو۔ وہ ایک جاہل آدمی تھا۔ اس کے باپ دادا یہی کام کرتے تھے۔ وہ خود چالیس سال سے یہی کام کر رہا ہے۔ اس بنا پر اس کا ذہن ’’برتن قلعی ‘‘میں اتنا گم ہو چکا ہے کہ وہ اس سے باہر نکل کر نہیں سوچ سکتا۔ p. 229
مگر جو شخص ’’برتن قلعی ‘‘ سے باہر کی حقیقتوں کو جانتا ہو، جو وسیع تر دائرہ میں سوچ سکے، وہ بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ برتن قلعی والے کو کالونی میں کام نہ ملنے کی وجہ کیا تھی۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ قلعی کا کام تانبے پیتل کے برتنوں میں ہوتا ہے، جب کہ کالونی کے تمام مکانات میں اسٹین لیس اسٹیل کے برتن استعمال ہو رہے تھے۔ پھر یہاں برتن قلعی والے کو کام ملتا تو کس طرح ملتا۔ p. 230
موجودہ دنیا میں کامیابی کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی وقت کو پہچانے۔ وہ زمانہ کے تقاضوں سے واقف ہو۔ جو شخص وقت اور زمانہ کو نہ جانے اس کا حال وہی ہو گا جو مذکورہ آدمی کا ہوا۔ وہ اسٹین لیس اسٹیل استعمال کرنے والوں کے درمیان ’’برتن قلعی ‘‘کی آواز لگاتا رہے گا اور وہاں کوئی بھی شخص نہ ملے گا جواس کا خریدار بن سکے۔ وہ اپنی خلاف زمانہ دکانداری کی بنا پر ناکام ہو گا اور پھر دوسروں کو الزام دے گا کہ انھوں نے تعصب اور ظلم کی وجہ سے میری دکان چلنے نہ دی۔ لیاقت کے دور میں تحفظ کا مطالبہ، معافی کی دنیا میں الفاظ کا کرتب دکھانا،حقیقت کے بازار میں خوش خیالی کی قیمت پر سودا حاصل کرنے کی کوشش، یہ سب اسی قسم کی خلاف زمانہ حرکت ہے اور ایسی ہر کوشش کا ایک ہی انجام ہے، اور وہ یہ کہ ان کا کوئی انجام نہیں۔ p. 230