Raz e Hayat

دو سو سال

Raz e Hayat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (169 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. ناموافق حالات
  3. قدرت کا نظام
  4. قدرت کا قانون
  5. استحکام
  6. ٹوٹنے کے بعد
  7. دنیا کا قانون
  8. بچائو کا انتظام
  9. کردار
  10. بدعنوانی
  11. قومی کردار
  12. طاقت کاراز
  13. تعمیری مزاج
  14. اخلاق کی طاقت
  15. تعمیر خویش
  16. یہ خوش اخلاقی
  17. کردار کی طاقت
  18. کردار کا معاملہ
  19. اچھا معاشرہ
  20. اعتبار پیدا کیجئے
  21. حقیقت پسندی
  22. آسان حل
  23. دنیا ٹائپ رائٹر نہیں
  24. سڑک کا سبق
  25. نیا دور
  26. خود کشی نہیں
  27. اور تالا کھل گیا
  28. شوق کافی ہے
  29. زبان درازی
  30. حقیقت پسندی نہ کہ شوق
  31. دشمنی کے وقت بھی
  32. تعلیم کی اہمیت
  33. اس کے باوجود
  34. امکانات
  35. اپنی کوشش سے
  36. ایک کے بعد دوسرا
  37. مواقع کا استعمال
  38. ہار میں جیت
  39. کامیابی کے لیے
  40. کمی کی تلافی
  41. بربادی کے بعد بھی
  42. کمزوری نعمت ثابت ہوئی
  43. سڑک بند ہے
  44. افسوس نہ کیجئے
  45. ناکامی زینہ بن گئی
  46. سمجھ دار کون
  47. تاریخ سازی
  48. کوئی چیز مشکل نہیں
  49. حکمت
  50. جواب کا صحیح طریقہ
  51. عقل کا استعمال
  52. لچک بھی ضروری ہے
  53. مشتعل نہ ہو
  54. محفوظ سفر
  55. الٹی چھلانگ
  56. سب سے زیادہ خطرناک
  57. بے معنی اچھل کود
  58. خود جانناپڑتا ہے
  59. جدید نسل
  60. بلا تحقیق
  61. تحقیق کیجئے
  62. کامیابی کا سادہ اصول
  63. نفع بخشی
  64. تلوار سے زیادہ
  65. عزت کا مقام
  66. کامیاب تدبیر
  67. بہتر منصوبہ بندی سے
  68. ناکامی کا سبب
  69. جڑ کا کام
  70. الٹا اہرام
  71. آغاز نیچے سے
  72. بڑی چھلانگ کب
  73. ابتدائی تیاری
  74. سیڑھی نہ کہ لفٹ
  75. تنگی میں وسعت
  76. فرد کی سطح پر
  77. رخ صحیح کیجئے
  78. بڑا کام کرنے والے
  79. استقلال
  80. لگاتار عمل
  81. پتھر کا سبق
  82. کامیابی پندرہ سال میں
  83. مستقل ارادہ
  84. دو سو سال
  85. صحیح سبق
  86. خود کشی
  87. امامت عالم کا راز
  88. ایک طریقہ یہ بھی ہے
  89. جرأت مندی
  90. شبہات
  91. تنقید
  92. مایوسی نہیں
  93. قربانی
  94. کامیابی کا راز
  95. بڑا کام
  96. اسی خرچ سے
  97. خاموش تعمیر
  98. کامیابی کی قیمت
  99. دانش مندی
  100. زمانہ کے خلاف
  101. بتائے بغیر
  102. واقفیت کی کمی
  103. غلط اقدام
  104. دانش مندی کے ذریعہ
  105. حالات کی رعایت
  106. پہلے شعور پیدا کیجئے
  107. اقتصادی حملہ
  108. جانے بغیر بولنا
  109. خوشی کا راز
  110. برائی کی جڑ
  111. امتیاز
  112. ایک کے بجائے دو
  113. ٹاپ کی جگہ خالی ہے
  114. کامیاب انسان
  115. خود اعتمادی کا راز
  116. استحقاق پیدا کیجئے
  117. معمولی تدبیر سے
  118. بے کچھ سے سب کچھ تک
  119. خصوصی صلاحیت
  120. خود ساز ، تاریخ ساز
  121. فرق کا سبب
  122. اتحاد
  123. مل کر کام کرنا
  124. حقیقی حل
  125. اجتماعی عمل
  126. اتحاد کا طریقہ
  127. متحدہ عمل
  128. اختلاف دشمن کا ہتھیار
  129. ایک تجربہ
  130. اتحاد کی قیمت
  131. اتحاد کا راز
  132. شکایات
  133. بے غرضی
  134. نفرت کی تیزاب
  135. مزاج کی اہمیت
  136. کام یا نام
  137. تعبیر کا فرق
  138. قانع بنئے
  139. پاگل پن
  140. غیر حقیقی اضافہ
  141. سب کا فائدہ
  142. مغالطہ
  143. اعراض
  144. مسائل اور مواقع
  145. بڑا آدمی
  146. اُلٹا نتیجہ
  147. شیر کا سبق
  148. جواب کا طریقہ
  149. اشتعال نہیں
  150. جھگڑے سے بچ کر
  151. ڈیگال ازم
  152. کہانی بن گئی
  153. اعتراف
  154. بنیاد
  155. انسان کی شخصیت
  156. غلطی پر غلطی
  157. غلطی مان لینے سے
  158. سبب اپنے اندر
  159. اعتراف نہیں
  160. دوسری غلطی نہیں
  161. پیغامِ حیات
  162. رازِ حیات
  163. دینے کے بعد پانا
  164. تخلیقی اقلیت
  165. معلومات نہیں ذہنی رجحان
  166. ایک تجارتی راز
  167. برتر کامیابی
  168. شکایت
  169. چوٹی کے لوگ

دو سو سال p. 171

1782 میں ایک انگریز اڈنبرا سے گلیسگو آیا۔ اس کے پاس دو سو پونڈ تھے اور ایک لکڑی کا پریس۔ اس نے اس کے ذریعہ ایک اخبارجاری کیا۔ ابتداء ً اس کا نام تھا گلیسگو ایڈورٹائزر (Glasgow Advertiser) ۔یہی وہ اخبار ہے جو اب) (Glasgow Heraldکے نام سے مشہور ہے۔ اور اس کی موجودہ اشاعت روزانہ چار لاکھ ہے۔ اس کے اجراء پر اب دو صدیاں گزر چکی ہیں۔ p. 171

اس کا بانی جان ميننز ( John Mennons) ہر قسم کے نا موافق حالات سے دو چار تھا۔ البتہ ایک مبصر کے الفاظ میں ایک چیز اس کے پاس افراط کے ساتھ موجود تھی۔ وہ تھا اس کا اتھاہ جوش (Limitless enthusiasm)۔ اتھا ہ جوش اس کے لیے ہر کمی کا بدل بن گیا۔ اس نے ایک ایسے اخبار کی بنیاد رکھی جو دو سو سال سے مسلسل جاری ہے۔ درمیان میں شرکاء کے درمیان زبردست اختلافات بھی پیدا ہوئے مگر وہ حکمت اور صبر کے ساتھ طے کر لیے گئے۔ p. 171original + quote

جو اخبار دو سو سال پہلے لکڑی کے پریس میں ہاتھ کے عمل سے چھاپا گیا تھا وہ آج تمام کا تمام آٹو میٹک مشینوں کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں حروف کمپوز نہیں کیے جاتے اور نہ ڈھالے جاتے۔ بلکہ وہ لیزر شعاعوں کے ذریعہ پلیٹ پر منعکس ہوتے ہیں۔ کاغذ اپنے آپ چھپ کر نکلتا ہے۔ وہ اپنے آپ مڑتا ہے۔ اس کے بعد اس کے بنڈل بنتے ہیں۔ اور بنڈ ل کے اوپر پولی تھین لپیٹا جاتا ہے۔ ا و ر پھر ڈسپیچ ڈیپارٹمنٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ سب کمپیوٹر کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا 22 جنوری 1984) p. 172other source

مذکورہ انگریزی اخبارچوں کہ برابر دو سو سال سے جاری ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہوا کہ اس دوران میں ہونے والی تمام طباعتی اور اشاعتی ترقیاں اس کی تاریخ کا جزء بن جائیں۔ وہ اس کی ترقی کے لیے زینہ بنتی چلی جائیں۔ اگر بالفرض وہ ابتدائی 25 سال یا 50 سال میں بند ہو گیا ہوتا تو دنیا میں ہر قسم کی ترقیاں ہوتیں مگر مذکورہ اخبار ان ترقیوں میں حصہ دار بننے کے لیے موجود نہ ہوتا۔ p. 172

موجودہ دنیا میں کوئی کام ’’ دو دن ‘‘میں انجام نہیں پاتا۔ اس کو کرنے کے لیے ’’ دوسو سال ‘‘ درکار ہوتے ہیں۔ مگر دو سو سالہ منصوبہ کی تکمیل کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ جوش عمل اور استقلال۔ ان دو چیزوں کے بغیر یہاں کوئی بڑی ترقی ممکن نہیں۔ p. 172

ہار مان لینا p. 172

امریکا کے ایک شخص نے 1831ء میں تجارت کی۔ اس میں وہ ناکام ہو گیا۔ 1832 میں اس نے ملکی سیاست میں حصہ لیا مگر وہاں بھی اس نے شکست کھائی۔ 1834 میں اس نے دوبارہ تجارت کی۔ اس بار بھی وہ اپنی تجارت کو چلانے میں ناکام رہا۔ p. 172

1841 میں اس کے اعصاب جو اب دے گئے۔ 1843 میں وہ دوبارہ سیاست میں داخل ہوا۔ اس کو امید تھی کہ اس بار اس کی پارٹی اس کو کانگرس کی ممبری کے لیے نامز کر دے گی۔ مگر آخروقت میں اس کی امید پوری نہ ہو سکی۔ اس کا نام پارٹی کے امیدواروں کی فہرست میں نہیں آیا۔ 1855 میں اس کو پہلی بار موقع ملا کہ وہ سینٹ کے لیے کھڑا ہو۔ مگر وہ الیکشن میں ہار گیا۔ 1858 میں وہ دوبارہ سینٹ کے الیکشن میں کھڑا ہوا اور دوبارہ شکست کھائی۔ p. 173

یہ بار بار ناکام ہونے والا شخص ابراہام لنکن (1809-65) تھا جو 1860 میں امریکا کا صدر منتخب ہوا۔ اس نے امریکا کی تعمیر میں اتنا بڑا کام کیا کہ آج وہ نئے امریکا کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ p. 173

ابراہام لنکن کو امریکا کی قومی اور سیاسی تاریخ میں اتنا معزز نام کیسے ملا اور وہ اس اونچے مقام تک کس طرح پہنچا، ڈاکٹر نارمن ونسنٹ پیل کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ— وہ جانتا تھا کہ شکست کو کس طرح تسلیم کیا جائے  p. 173original + quote

He knew how to accept defeat. p. 173

حقیقت پسندی زندگی کا سب سے بڑا راز ہے اور ہار ماننا حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ ہار ماننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کر لیں کہ آپ دوسروں سے آگے نہیں ہیں، بلکہ دوسروں سے پیچھے ہیں۔ بالفاظ دیگر، آپ جہاں فی الواقع ہیں وہیں نظری طور پر اپنے آپ کو کھڑا مان لیں۔ ہار ماننے کے بعد آدمی فوراً اس حیثیت میں ہو جاتا ہے کہ وہ اپنا سفر شروع کر سکے۔ کیونکہ سفر ہمیشہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ فی الواقع ہیں،نہ کہ وہاں سے جہاں ابھی آپ پہنچے ہی نہیں۔ p. 173

حقیقت پسندی p. 174

باغ لگانے کا کام ’’ باغ کانفرنس ‘‘ سے شروع نہیں ہوتا۔ بلکہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ ایک ایک پودے کو وہ حالات فراہم کیے جائیں جن میں وہ اپنی ذاتی اپجائو کی صلاحیت کو بروئےکار لائے اور درخت کی صورت میں ترقی کر کے باغ کے مجموعہ کا جزء بن جائے۔ p. 174

یہی طریقہ ملت کی تعمیر کا بھی ہے۔ ملت کی تعمیر دراصل افراد کی تعمیر کا نام ہے۔ ایک ایک فرد کو با شعور بنانا، ایک ایک فرد کی چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو بیدار کر کے اس کو حقیقی انسان کے درجہ پر پہنچانا، ایک ایک فرد کے اندر یہ احساس پیدا کرنا کہ وہ دوسرے بھائیوں کے لیے مسئلہ بنے بغیر اپنے ترقیاتی امکانات کو ظہور میں لانے کی جدوجہد کرے۔ اسی قسم کے عمل کا نام ملت کی تعمیر ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ بے فائدہ شوروغل ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ p. 174

یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی کے لیے بے روک ٹوک مواقع کھلے ہوئے ہوں اور میدان میں اس کا کوئی حریف موجود نہ ہو۔ ایسا نہ کبھی اس زمین پر کسی کے لیے ہوا اور نہ آج کسی کے لیے ایسا ہو سکتا ہے۔ زندگی حقیقۃ ً رکاوٹوں کے درمیان سے اپنے لیے راستہ نکالنے کا نام ہے،نہ کہ رکاوٹوں کی غیر موجودگی میں بے خوف وخطر دوڑنے کا۔ p. 174

تاریخ کا مطالعہ جس طرح یہ بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا آغاز ہمیشہ رکاوٹوں اور مشکلوں کے درمیان کرنا پڑتا ہے ، اسی طرح تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ رکاوٹیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں ، ہمیشہ آدمی کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ کھلا ہوتا ہے جس سے چل کر وہ اپنی منزل پر پہنچ سکے۔ مگر یہ راستہ انھیں لوگوں کے لیے ہے جو راستہ کے بند مقامات پر سر نہ ٹکرائیں بلکہ دوسرے گوشوں میں اپنے لیے کوئی ’’ درہ ‘‘ تلاش کر کے آگے بڑھ جائیں۔ p. 174

پھر تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ حادثہ خواہ کتنا ہی بڑا ہو ، اس کی تلافی کی صورت بھی انسان کے لیے ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی آفت یا حادثہ انسان کے لیے اس امکان کو ختم نہیں کرتا کہ وہ دوبارہ زیادہ بہتر منصوبہ کے ساتھ اپنے عمل کا آغاز کرے اور کھوئی ہوئی چیز کو دوبارہ نئے انداز سے حاصل کر لے۔ p. 175

جو کچھ کسی دوسرے انسان کے پاس ہے وہی آپ بھی حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ اس راز کو جان لیں کہ اس دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے حقیقت پسندانہ جدوجہد سے ملتا ہے،نہ کہ تمنائوں اور خوش خیالیوں سے۔ p. 175

دوسروں کا لحاظ p. 175

کیپ بیل راجر س پولٹری کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ہیں۔ پولٹری ( مرغ بانی ) پر ان کی ایک مشہور کتاب ہے۔ یہ کتاب ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے  بڑے پیمانہ کی کامیاب پولٹری فارمنگ بڑی حد تک ایک مزاجی کیفیت کا معاملہ ہے۔ کوئی شخص جو چڑیوں اور جانوروں کے لیے شفقت کا جذبہ نہ رکھتا ہو وہ اس کا م میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پولٹری فارمنگ کے لیے سخت اور صبر آزما قسم کا روٹین کا کام (Routine work) بے حد ضروری ہے۔ یہ کام ان لوگوں کو بہت اکتا دینے والا معلوم ہو گا جو ایک ہی کام کو ہر روز کرنے کے عادی نہ ہو ، اور وہ بھی بغیر اس امید کے کبھی اس میں انقطاع یا تعطیل کا دن آسکتا ہے۔ p. 175

Success is a matter of cooled decisions, without constant hovering and changing of the mind, acute observation, initiative, and unremitting attention to a vast amount of petty details. p. 175

A. C. Campbell Rogers, p. 176

Profitable Poultry Keeping in India and the East, p. 176

D. B Taraporevala Sons. Co. Bombay 1959, p. 223 p. 176

کامیابی ایک ٹھنڈے فیصلوں کا معاملہ ہے ، بغیر اس کے کہ آدمی اِدھر اُدھر مڑے یا ذہن کو بدلے۔ گہرائی کے ساتھ مشاہدہ ، اقدام ، اور چھوٹی چھوٹی تفصیلات کی بہت بڑی تعداد پر مسلسل اور غیر منقطع توجہ۔ p. 176

مرغبانی کے ماہر نے جو بات مرغبانی کے لیے کہی ہے وہی عام زندگی کے لیے بھی صحیح ہے۔ جس طرح مرغیاں پالنے والا شخص صرف اپنی مرضی پر نہیں چلتا بلکہ وہ مرغیوں کیعادات اوران کی ضروریات کا لحاظ کرتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں ہمیں دوسرے انسانوں کے مزاج اور ان کے مفادات کی رعایت کرنا ہے۔ دوسروں کی عزت کر کے ہی ہم دوسروں کے درمیان عزت پاسکتے ہیں۔ دوسروں کے لیے مفید بن کر ہی ہم دوسروں کو اپنے لیے مفید بنا سکتے ہیں۔ اس دنیا میں ذاتی کامیابی دراصل دوسروں کی کامیابی میں مدد گار بننے کا نام ہے ، جو لوگ صرف اپنے کو جانیں اور دوسروں کو نہ جانیں وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ p. 177

موقع صرف ایک بار p. 177

کالج کے ایک پرانے استاد کے ایک جملہ نے مجھے بہت متاثر کیا— ’’ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ‘‘ انھوں نے کہا۔ وہ اپنی زندگی پر تبصرہ کر رہے تھے ’’ میں بی ایس سی کر کے ملازمت میں لگ گیا تھا۔ ایم ایس سی نہیں کیا۔ اب کتنے اچھے اچھے چانس میرے سامنے آتے ہیں۔ مگرمیں ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ صرف اس لیے کہ میرے پاس ماسٹر ڈگری نہیں۔ اگر آپ کے پاس اعلیٰ لیاقت نہیں ہے تو آپ اعلیٰ مواقع سے فائدہ اٹھانے سے بھی محروم رہیں گے ‘‘۔ p. 177original + quote

یہ تبصرہ ہمارے سماج کے تقریباً 99 فی صد لوگوں پر صادق آتا ہے۔ ابتدائی عمر انسان کے لیے تیاری کی عمر ہے۔ مگر بیشتر افراد اس عمر کو پوری طرح استعمال میں نہیں لاتے۔ وہ اپنے بہترین وقت کو سستے مشاغل میں ضائع کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور کام کرنے کا وقت آجاتا ہے۔ اب وہ مجبور ہوتے ہیں کہ کمتر تیاری کے ساتھ عملی زندگی کے میدان میں داخل ہو جائیں۔ وہ چاہنے کے باوجود زیادہ ترقی نہیں کر پاتے۔ ان کو ساری عمر اس طرح گزارنی ہوتی ہے کہ اس دنیا میں ان کی صلاحیتوں کے لیے جو آخری امکان مقدر تھا ، اس سے بہت کم امکان تک وہ پہنچ پاتے ہیں۔ وہ محرومی اور ناکامی کے احساس کے تحت زندگی گزارتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔ p. 177

اگر آپ کمتر تیاری کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوئے ہیں تو اس دنیا میں آپ اپنا بھرپور حصہ نہیں پا سکتے ، اور جو ایک بار محروم رہا وہ گویا ہمیشہ کے لیے محروم رہا۔ کیونکه— زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ، بار بار نہیں ملتی۔ p. 177

پتھر ہر ایک کے لیے سخت ہے۔ مگر پتھر اس شخص کے لیے نرم ہو جاتا ہے جس نے اس کو توڑنے کا اوزار فراہم کر لیا ہو۔ یہی صورت ہر معاملہ میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوں تو ہر جگہ آپ اپنا حق وصول کر کے رہیں گے۔ اور اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کے لیے اس دنیا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اپنی مفروضہ حق تلفی کے خلاف فریاد واحتجاج کرتے رہیں۔ p. 178

ماحول سے امید نہ رکھیے بلکہ اپنی محنت اور لیاقت پر بھروسہ کیجئے ، آپ کو کبھی ماحول سے شکایت نہ ہو گی۔ ماحول کی شکایت دراصل ماحول سے زیادہ خود اپنی نالائقی کا اظہار ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وہ مطلوبہ تیاری نہیں کی تھی جو ماحول سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے ضروری ہے۔ p. 178

جھوٹی بڑائی p. 178

ایک صاحب کا قصہ ہے۔ ان کے دادا کا میاب تاجر تھے۔ مگر بعد کو ان کی تجارت ختم ہو گئی۔ والد اور والدہ کا بچپن میں انتقال ہو گیا۔ مذکورہ صاحب کے حصہ میں باپ دادا کا مال تو نہ آیا البتہ یہ احسا س انھیں وراثت میں ملا کہ ’’میرے باپ دادا بڑے آدمی تھے ‘‘۔ p. 178

وہ ا بھی نوجوان تھے کہ انھیں معلوم ہوا کہ قصبہ کے ڈاک خانہ میں پوسٹ مین کی جگہ خالی ہے۔ وہ درخواست دے کر پوسٹ مین ہو گئے۔ لوگوں نے انھیں مشورہ دیا کہ تمہاری تعلیم صرف آٹھویں کلاس تک ہوئی ہے ، تم کوشش کر کے ہائی اسکول کر ڈالو۔ اس کے بعد تم آسانی سے مقامی ڈاک خانہ میں پوسٹ ماسٹر ہو جائو گے۔ اسی کے ساتھ کچھ گھر کی کھیتی ہے۔ دونوں کو ملا کر آسانی سے تمہاری ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔ مگر ان کے جھوٹے فخر کی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ کسی کا مشورہ مانیں۔ مزید یہ ہوا کہ جھوٹی بڑائی کے احساس کی بنا پر اکثر وہ ڈاک خانہ کے کارکنوں سے لڑ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک روز انھوں نے پوسٹ ماسٹر سے جھگڑا کر لیا اور کام چھوڑ کر چلے آئے۔ p. 178original + quote

پوسٹ آفس کی ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ بے کار پڑے رہے۔ نہ کوئی دوسرا کام کیا اور نہ تعلیم حاصل کی۔ ان کا مشغلہ صرف یہ رہ گیا کہ اپنی فرضی بڑائی کے تذکرے کریں اور اس کے ذریعہ جھوٹی تسکین حاصل کرتے رہیں۔ ملازمت چھوڑنے کے بعد کھیتی سے کام چلتا رہاجس کو بٹائی پر دیے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے چھ بچے ہو گئے۔ اب مسائل نے پریشان کرنا شروع کیا۔ تاہم ان کی جھوٹی بڑائی کا احساس دوبارہ اس میں رکاوٹ بنا رہا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کریں۔ وہ اپنے رشتہ داروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان سے لڑنے لگے۔ مگر اس غیرحقیقت پسندانہ رویہ نے صرف ان کی بربادی میں اضافہ کیا یہاں تک کہ ان کا ذہنی توازن خراب ہو گیا۔ p. 179

موجودہ دنیا حقیقتوں کی دنیا ہے۔ یہاں حقیقت سے مطابقت کر کے آپ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ حقیقت سے مطابقت نہ کریں تو آپ کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ خدا کی اس دنیا میں جھوٹی بڑائی سے زیادہ بے معنی کوئی چیز نہیں۔ یہاں جھوٹی بڑائی سے زیادہ تباہ کن کوئی ذہنیت نہیں۔ p. 179

برداشت p. 179

صبر ایک مثبت عمل p. 179

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صبر ایک منفی عمل ہے مگر یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک مثبت عمل ہے بلکہ وہ مثبت عمل کی بنیاد ہے۔ کیوں کہ صبر کے بغیر اس دنیا میں کوئی مثبت عمل نہیں کیا جا سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری دور میں اطراف عرب کے رئیسوں اور بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے۔ آپ کا یہ عمل واضح طور پر ایک مثبت عمل تھا۔ مگر اس مثبت عمل کی قیمت صبر تھی۔ اس سے پہلے آپ کو صبر کرنا پڑا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ حالات پیدا ہوں جن میں مذکورہ قسم کا مثبت عمل انجام دیا جا سکے۔ p. 179original + quote

یہ ایک معلوم بات ہے کہ رئیسوں اور بادشاہوں کے نام یہ خطوط صلح حدیبیہ کے بعد روانہ کیے گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام صلح حدیبیہ سے پہلے بھی ہو سکتا تھا۔ پھر آپ نے اس کو صلح حدیبیہ کے بعد کیوں انجام دیا۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ سے پہلے آپ جنگ وقتال کے حالات میں گھرے ہوئے تھے۔ صبح وشام دشمنوں کے حملہ کاخطرہ لگا رہتا تھا اورآپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی ساری توجہ دفاعی کاموں میں خرچ ہو رہی تھی۔ ایسے غیر معتدل حالات میں حکمرانوں کے نام دعوتی مہم کا منصوبہ بنانا اور اس کی تعمیل کرنا عملاً سخت دشوار تھا۔ p. 180

صلح حدیبیہ حقیقۃً مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ (No war pact) تھا۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد حالات بالکل معتدل ہو گئے۔ اس کے بعد فوراً آپ نے حکمرانوں کے نام دعوت نامے بھیجنے کامنصوبہ بنایا اور اس کی تعمیل فرمائی۔ جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ p. 180

حقیقت یہ ہے کہ صبر کے بغیر کوئی مثبت عمل ممکن نہیں۔ اگر آپ کو داعی بننا ہے تو مدعو کے ساتھ تمام جھگڑوں کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا ہو گا۔ اگر آپ کو متواضع اخلاق اختیار کرنا ہے تو اپنے سینہ کو تکبر کا قبرستان بنانا ہو گا۔ اگر آپ کو لوگوں کا خیر خواہ بننا ہے تو اپنے اندر اٹھنے والے حسد کے جذبات کو دبانا ہو گا۔ اگر آپ لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر پیدا ہونے والے انتقامی جذبات کو ذبح کرنا ہو گا۔ اور یہ سب وہ چیزیں ہیں جو صبر سے تعلق رکھتی ہیں۔ صبر کے بغیر ان کا حصول ممکن نہیں۔ p. 180

عملی حل p. 180

ایک عالم نفسیات کا قول ہے کہ جب کسی کی اَنا کو مَس کیا جاتا ہے تو وہ برتر اَنا بن جاتا ہے اور اس کا نتیجہ ہے فساد  p. 180other source

When one's ego is touched, it turns into super-ego, and the result is break-down. p. 181

عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آخر زمانہ میں اپنے پوتے ابو جعفر کو ایک لمبی نصیحت کی۔ اس نصیحت کا ایک حصہ صبر سے متعلق تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے کہا  p. 181original + quote

من لا یرضی بالقلیل مما یاتی بہ السفیہ یرضی بالکثیر ( المعجم الكبير للطبرانی، حديث نمبر 2258)يعني جو شخص نا دان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہو گا اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔ p. 181original + quote

ان دونوں اقوال میں بدلے ہوئے الفاظ کے ساتھ ایک ہی بات کہی گئی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں لوگوں کے شر سے بچنے کی ایک ہی یقینی تدبیر ہے۔ اور یہ کہ اپنے آپ کو لوگوں کو شر سے دور رکھا جائے۔ p. 181

ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر ’’ انا ‘‘ موجود ہے۔ یہ انا عام حالت میں سویا ہوا رہتا ہے اس کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی صورت صرف یہی ہے کہ اس کو سو یا رہنے دیا جائے۔ اگر کسی کارروائی سے اس انا کو چھیڑ دیا گیا تو وہ سانپ کی طرح اٹھ کر کھڑا ہو جائے گا اور پھر وہ ہر وہ ممکن فساد برپا کرے گا جو اس کے بس میں ہو۔ p. 181

اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی نادان یا کسی فسادی آدمی سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے۔ اکثر حالات میں اس کا بہترین حل یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی تکلیف کو برداشت کر لیا جائے۔ کیونکہ اگر ابتدائی معمولی تکلیف کو برداشت نہیں کیا گیا اور اس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی تو فریق ثانی اور زیادہ بھڑک اٹھے گا۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ جس آدمی نے کنکری کی چوٹ برداشت نہیں کی تھی وہ مجبور کر دیا جائے گا کہ پتھروں کی بارش کو برداشت کرے۔ p. 182

دور کا راستہ p. 182

ترقی یافتہ ملکوں میں ٹیلی فون کا نظام نہایت معیاری ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس غیر ترقی یافتہ ملکوں میں اگرچہ ہر جگہ ٹیلی فون ہے مگر اس کا نظام درست نہیں۔ مثلاً ہندوستان میں اگر آپ مقامی ٹیلی فون کریں یا ایک شہر سے دوسرے شہر بات کریں تو طرح طرح کی خرابیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بر عکس اگر آپ دہلی سے لندن کے کسی نمبر پر ڈائل کریں تو آپ کو فوراً لائن مل جائے گی اور نہایت صاف طور پر گفتگوہو سکے گی۔ p. 182

اس سلسلہ میں افریقہ کا ایک لطیفہ اخبار میں نظر سے گزرا۔ افریقہ کے ایک ملک میں کسی عورت نے گوشت کی مقامی دکان پر ٹیلی فون کرنا چاہا۔ کافی دیر تک کوشش کرنے کے باوجود اس کو نمبر نہیں ملا۔ اس عورت کی ماں لندن میں رہتی تھی۔ اس کے بعد اس نے لندن کے ٹیلی فون پر اپنی ماں کا نمبر ڈائل کیا۔ یہ نمبر اس کو فوراً مل گیا۔ اپنی ماں سے بات کرتے ہوئے مذکورہ عورت نے ضمناً کہا کہ وہ گوشت منگوانے کے لیے ایک گھنٹہ سے گوشت کی دکان پر ٹیلی فون ملانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر رابط قائم نہ ہو سکا۔ اس کی ماں نے کہا کہ اچھا میں یہاں سے ملاتی ہوں۔ p. 182

چنانچہ اس کی ماں نے لندن سے افریقہ کی گوشت کی دکان کا ٹیلی فون نمبر ملایا۔ نمبر بلاتا خیر مل گیا۔ افریقہ کی گوشت کی دکان کو جو پیغام مقامی ٹیلی فون سے نہیں پہنچ سکا تھا۔ وہ لندن کے ٹیلی فون سے پہنچ گیا۔ p. 182

یہ لطیفہ زندگی کی ایک حقیقت کو بتا رہا ہے۔ يه حقیقت ہے كه کبھی دور کا راستہ عملاً زیادہ قریب ہوتا ہے۔ p. 183

بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ منزل پر پہنچنے کے لیے مختصر راستہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ اپنے مطلوبہ نتیجہ کو حاصل کرنے کے لیے وہ طریقہ اختیار کرتے ہیں جو بظاہر جلد نتیجہ کو سامنے لانے والا ہو۔ مگر منزل تک جلد پہنچنے کے لیے صرف ’’ راستہ ‘‘ کو دیکھنا کافی نہیں ہے بلکہ ’’ سواری ‘‘ کو دیکھنا بھی ضروری ہے ، نتیجہ کو جلد حاصل کرنے کا تعلق صرف ظاہری اسباب سے نہیں ہے بلکہ بہت سے ان دوسرے اسباب سے ہے جو دکھائی نہیں دیتے۔ p. 183

کبھی دور کا راستہ زیادہ قریب ہوتا ہے اور قریب کا راستہ زیادہ دور بن جاتا ہے۔ p. 183

اندر اور باہرکا فرق p. 183

اپا لو 8 کے تین خلائی مسافر 27 دسمبر 1968 کو بحر الکاہل میں اترے تھے۔ زمین سے چاند تک کا سفر کرنے میں ان امریکی خلا بازوں کو چھ دن تین گھنٹے لگے اور انھوں نے تقریباً پانچ لاکھ 47ہزار میل کا سفر طے کیا۔ ان کے سفر کا سب سے زیادہ نازک لمحہ وہ تھا جب کہ ان کا چھ ٹن وزنی جہاز ساٹھ میل کے فاصلہ سے چاند کا چکر لگا کر دوبارہ زمین کے قریب واپس پہنچا۔ p. 183

امریکی راکٹ جب زمین کی بیرونی فضا میں داخل ہوا تو زمین کی کشش کی وجہ سے اس کی رفتار غیر معمولی طور پر بڑھ کر 39 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گئی۔ چاند کے مقابلہ میں اس کو سات گنا زیادہ قوت کشش کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا تھا۔ اس غیر معمولی رفتار کی وجہ سے خلائی جہاز انتہائی خوفناک قسم کی گرمی سے دو چار ہوا۔کرهٔ فضا میں داخل ہوتے ہی خلائی جہاز ہوا کی رگڑ سے گرم ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ وہ آگ کے انگار ے کی طرح سرخ ہو گیا۔ اس وقت خلائی جہاز کے بیرونی حصہ کی تپش تین ہزار تین سو سنٹی گریڈ (6 ہزار ڈگری فارن ہائٹ ) تھی ، جب کہ صرف سو ڈگری کی حرارت پر پانی ابلنے لگتا ہے۔ p. 184

تین ہزار تین سو ڈگری سنٹی گریڈ کی حرارت میں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ پھر اس غیر معمولی تپش میں تینوں خلائی مسافر کس طرح زندہ سلامت رہ کر واپس آگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس خلائی جہاز کے اندر وہ بند تھے ، وہ خاص طور پر اس ڈھنگ سے بنایا گیا تھا کہ وہ باہر کی شدت کو اند ر نہ پہنچنے دے۔ چنانچہ سخت ترین گرمی کے باوجود اس کے اندر کا درجہ حرارت 21 ڈگری سنٹی گریڈ سے آگے نہیں بڑھا۔ باہر کا درجہ حرارت تین ہزار تین سو اور اندر کا درجہ حرارت صرف 21۔ p. 184

خلائی سفر کا یہ واقعہ اپنے اندر بڑا سبق رکھتا ہے۔ انسانی زندگی میں بھی بار بار ایسے سخت مرحلے آتے ہیں جب بیرونی ماحول انتہائی طور پر آپ کے خلاف ہو جاتا ہے۔ اس وقت حالات کی شدت سے بچنے کی صرف ایک سبیل ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے اندرونی جذبات کو دبائیں اور اپنے احساسات پر قابو رکھتے ہوئے اس کو معتدل حالت پر قائم رکھیں۔ اگر ایسا ہو کہ آپ کے ’’ اندر ‘‘بھی شدت کا وہی حال ہو جائے جو آپ کے ’’باہر ‘‘ ہے تو آپ اپنے کو تباہ کر لیں گے۔ اس کے برعکس اگر اندر کی شدت باہر سے غیرمتاثر رہ کر اعتدال کی حالت پر قائم رہے تو آپ باہر کی ’’ آگ ‘‘ سے محفوظ رہیں گے اور آخر سلامتی کے ساتھ کامیابی کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ p. 184

زندگی کا راز یہ ہے کہ آپ کے باہر اگر آپ کے خلاف نفرت اور بغض پایا جاتا ہو تو آپ اس نفرت اور بغض کو اپنے اندر داخل نہ کریں۔ بلکہ اپنے کو قابو میں رکھ کر اپنے اندر محبت اور درگزر کے جذبات کی پرورش کریں۔ باہر کی دنیا آپ کے ساتھ برائی کا معاملہ کرے تو آپ بھلائی کی صورت میں اس کا جواب دیں۔ یہی طریقہ زندگی اور کامیابی کا طریقہ ہے۔ اگر آپ بھی ویسے ہی ہو گئے جیسا ماحول تھا تو یقیناً آپ مقابلہ کی اس دنیامیں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ p. 184

بے صبری کا نتیجہ p. 185

15 جنوری 1986 کا واقعہ ہے۔ انڈین ائیرلائنز کا ایک جہاز ( فلائٹ نمبر 406 ) بمبئی سے دہلی کے لیے اڑا۔ مگر صرف پندرہ منٹ بعد وہ واپس ہوا اور دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ یہ جہاز کسی ٹیکنیکل سبب سے آدھ گھنٹہ لیٹ ہو گیا تھا۔ جہاز جب اوپر فضا میں پہنچا تو اس کے ایک مسافر نے کیپٹن بھٹنا گر کے نام ایک نوٹ بھیجا کہ وہ بتائے کہ جہاز کیوں آدھ گھنٹہ لیٹ روانہ ہو ا ہے۔ p. 185

کیپٹن نے مذکورہ مسافر کو کاک پٹ میں بلایا اور وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ لیٹ ہونے کی وجہ کیا تھی۔ مسافر اس کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوا اور کیپٹن کی پیٹھ پر گھونسہ مار کر کہا کہ میں نے تمہارے جیسے بہت پائلٹ دیکھے ہیں p. 185

I have seen many pilots like you. p. 185

کیپٹن بھٹناگر اس صورت حال سے گھبرا اٹھے۔ انھوں نے فوراً جہاز کو موڑ دیا اور اس کو واپس لا کر دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتار دیا۔ اس کے بعد بمبئی کے ہوائی اڈہ پر کافی دیر تک ہنگامہ رہا بالآخر انڈین ائیر لائنز کےذ مہ داروں نے جہاز کو دوسرے پائلٹ کے ذریعہ روانہ کیا۔ p. 185

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذکورہ جہاز جب بمبئیسے دہلی پہنچا تو وہ تین گھنٹہ لیٹ ہو چکا تھا۔ مسافر نے آدھ گھنٹہ کی تاخیر برداشت نہ کی۔ اس کی قیمت انھیں یہ دینی پڑی کہ وہ تین گھنٹہ تاخیر کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچے۔ مزید یہ کہ انڈین ائیر لائنز کے ذمہ داروں نے ایک انکوائری (High-level inquiry) بٹھائی ہے (ٹائمس آف انڈیا ، ہندوستان ٹائمس 16 جنوری 1986)۔ مذکورہ مسافر بالفرض کسی سزا سے بچ جائے تب بھی وہ ایک انجام سے بچ نہیں سکتے— اسی چیز کی اور زیادہ قیمت دینا جس کی تھوڑی قیمت دینے پر وہ راضی نہیں ہوئے تھے ، یعنی وقت۔ p. 186original + quote

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کر رہا ہے۔ حالاں کہ وہ اپنے مقصد کو کھو رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہوں۔ حالاں کہ اس کی تیزی کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزل سے کچھ اور دور ہو جائے۔ p. 186

جینے کا راز p. 186

ایک مسلمان لیڈر نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نام ایک خط لکھا۔ اس میں انہوں نے یہ شکایت کی کہ مسلم اقلیت کے ساتھ ہندوستان میں ظلم اور امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر اس صورتِ حال کو ختم نہ کیا گیا تو ان کی پارٹی ستیہ گرہ شروع کر دے گی۔ اس کے جواب میں مسز اندرا گاندھی نے مکتوب نگار کو جو خط لکھا اس کا ایک جملہ یہ تھا  p. 186

No minority could survive if their neighbours of the majority were irritated. p. 186

کوئی اقلیت زندہ نہیں رہ سکتی اگر اس کی پڑوسی اکثریت مشتعل ہو۔ (ہندوستان ٹائمز 21 فروری 1983) p. 187

اگر بالکل غیر جانبدار ہو کر دیکھا جائے تو وزیر اعظم اندرا گاندھی کا یہ جملہ صورتِ حال کی نہایت صحیح ترجمانی ہے۔ نیز اسی کے اندر مذکورہ مسئلہ کا حقیقی حل بھی چھپا ہوا ہے۔ p. 187

موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف اسباب سے ایک دوسرے کے خلاف ناراضگی کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں۔ کوئی آگے بڑھ گیا ہے تو دوسروں میں اس کے خلاف حسد کا جذبہ ، کسی کو زیادہ مل گیا ہے تو اس کے مقابلہ میں اپنی محرومی کا احساس، کسی سے شکایت کی کوئی بات ہو جائے تو اس کے خلاف غصہ اور انتقام ، وغیرہ۔ اس قسم کے جذبات انتہائی عام ہیں او روہ ہر سماج میں بلکہ ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں۔ مگر عام حالات میں وہ دلوں کے اندر چھپے رہتے ہیں۔ لوگوں کی روز مرہ کی مصروفیات بھی اس کے ابھرنے میں رکاوٹ بنی رہتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آجائے تو یہ جذبات ظاہر ہو جاتے ہیں۔ p. 187unverified

سماجی امن درحقیقت اس کا نام ہے کہ ان منفی جذبات کو دبا رہنے دیا جائے۔ اس کے برعکس، سماجی بدامنی یہ ہے کہ کوئی نادانی کر کے ان چھپے ہوئے جذبات کو مشتعل کر دیا جائے۔ p. 187

یہ زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ موجودہ مقابلہ کی دنیا میں کوئی معاشرہ حتی کہ کوئی خاندان اس سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں زندگی کا راز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ صبر اور حکمت کا طریقہ اختیار کر کے دبے ہوئے جذبات کو دبا رہنے دیا جائے۔ ان کو ہر قیمت پر بروئے کار آنے سے روکا جائے۔ p. 187

زندگی کا یہی راز ہے جس کو ایک مفکر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے— اس دنیامیں ہر آدمی کے پاس ایک وسیع قبرستان ہونا چاہیے جس میں وہ لوگوں کے قصوروں کو دفن کر سکے۔ p. 188other source

صبرکی ضرورت p. 188

مغل حکمراں اورنگ زیب کو اپنے والد شاہ جہاں سے سیاسی اختلاف ہو ا۔ 1658ء میں اس نے شاہجہاں کو تخت سے بے دخل کر کے آگرہ کے قلعہ میں قید کر دیا۔ اسی حال میں شاہجہاں 1666ء میں 74 سال کی عمر میں مر گیا۔ اسیری کے زمانہ میں اس کی بہن جہاں آرا بھی قلعہ میں اس کے ساتھ تھی۔ شاہ جہاں آگرہ کے قلعہ سے تاج محل کو دیکھا کرتا تھا اور اشعار پڑھتا رہتا تھا۔ p. 188

ڈاکٹر آر۔ سی۔ مجمدار ، ڈاکٹر ایچ۔ سی۔ رائے چودھری اور ڈاکٹر کالی کِنکر دتہ نے اپنی مشترک کتاب تاریخ ہند (An Advanced History of India) میں شاہ جہاں کے آخری حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے مذہب میں اپنی تسکین کا سامان پا لیا۔ اور صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے آخری ایام اپنی پارسا لڑکی جہاں آرا کے ساتھ عبادت اور مراقبہ میں گزار دیے یہاں تک کہ مر گیا  p. 188other source

He found solace in religion, and, in a spirit of resignation, passed his last days in prayer and meditation in the company of his pious daughter, Jahanara, till his death (p. 477) p. 188

کہا جاتا ہے کہ ایک عرصہ کے بعد شاہ جہاں قید کی زندگی سے گھبرا اٹھا۔ اس نے اورنگ زیب کو ایک مصرعہ لکھ کر بھیجا جس کا مطلب یہ تھا کہ یا تو ہم کو مار ڈالو یا دام دو یا پھر ہم کو آزاد چھوڑ دو p. 189other source

یا بکش یا دام دہ یا ازقفس آزاد کن p. 189

اورنگ زیب نے بھی اس کے جواب میں ایک اور مصرعہ لکھ کر شاہ جہاں کے پاس بھیج دیا۔ جو یہ تھا کہ ہوشیار چڑیا جب جال میں پھنس جائے تو اس کو برداشت سے کام لینا چاہیے  p. 189

مرغ زیر ک چوں بدام افتد تحمل بایدش p. 189

ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ نہ ہو ، صرف ایک لطیفہ ہو۔ تاہم یہ بذات خود ایک حکمت کی بات ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی غلطی یا کسی حادثہ کی بنا پر ایک ایسی صورت حال میں پھنس جاتا ہے جو اس کے لیے عام حالات میں بالکل نا قابل برداشت ہوتی ہے۔ مگر اب جہاں وہ پھنس گیا ہے وہاں سے فوری طور پر نکلنا عملاً ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں گھبرا کر کوئی اقدام کرنا سراسر نادانی ہے۔ جال میں پھنسنے کے بعد چڑیا اگر پر پھڑ پھڑ ائے تو وہ اور زیادہ پھنستی چلی جاتی ہے ، اسی طرح کسی نازک صورت حال میں پھنس جانے کے بعد آدمی اگر بے صبری کے ساتھ کاروائی کرے تو وہ اور زیادہ اس میں الجھ جائے گا۔ p. 189

حکمت کا یہ اصول افراد کے لیے بھی ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ p. 190

رد عمل کے بغیر p. 190

ایک ہندی کہاوت ہے— چوٹ سہے جو شبد کی وائے گرو میں داس۔ یعنی جو شخص لفظ کی چوٹ سہ سکے وہ اس قابل ہے کہ اس کو پیشوائی کا درجہ دیا جائے اور دوسرے لوگ اس کے خادم بن کر رہیں۔ p. 190

لفظ کو سن کر بظاہر نہ کسی کا خون بہتا اور نہ کسی کا ہاتھ پائوں ٹوٹتا۔ مگر لفظ کی چوٹ کو برداشت کرنا بلاشبہ کسی آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے ، لفظ کی چوٹ وہی شخص برداشت کر سکتا ہے جس کے اندر گہرائی ہو۔ جو ظاہری سطح سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھ سکے۔ p. 190

مسٹر کرشنا مورتی (عمر 90 سال ) ہندوستان کے مشہور مفکر ہیں۔ وہ نہایت عمدہ انگریزی بولتے ہیں۔ چنانچہ ان کی تقریروں میں انگریزی دان طبقہ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتا ہے۔ ہندوستان کے علاوہ مغربی ملکوں میں بھی ان کی تقریریں دل چسپی سے سنی جاتی ہیں۔ p. 190

تاہم کرشنا مورتی کو یہ شکایت ہے کہ کوئی ان کے خیالات کو عملی طور پر نہیں اپناتا۔ مدراس کی ایک تقریر میں انھوں نے کہا کہ 50 سال سے میں دنیا بھر میں سفر کر کے اپنے خیالات پیش کر رہا ہوں مگر لوگوں کے اندر کوئی عملی حرکت پیدا نہیں ہوتی ’’ کیا آپ لوگ اپنے آپ کو بدل لیں گے ‘‘۔ انھوں نے مجمع سے سوال کیا، پھر خود ہی جواب دیا ’’ آپ لوگ میری باتیں سن کر واپس چلے جائیں گے اور بد ستور ویسا ہی کرتے رہیں گے جیسا اب تک کر رہے تھے‘‘۔ p. 191other source

یہ سن کر مجمع سے ایک شخص اٹھا اور سخت غصہ میں کہا ’’ ہر سال آپ یہی کہتے ہیں کہ ہم آپ کا ساتھ نہیں دیتے۔ پھر کس لیے آپ ہم کو اپنی بات سناتے رہتے ہیں ‘‘ اس کے جواب میں مسٹر کرشنا مورتی نے نہایت نرمی کے ساتھ کہا  p. 191original + quote

Sir, have you ever asked a rose why does it bloom? p. 191

جناب ، کیا آپ نے کبھی گلاب سے پوچھا ہے کہ وہ کیوں کھلتا ہے (ہندوستان ٹائمس 24 فروری 1984) p. 191

تنقیدی بات سن کر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بپھر اٹھتا ہے۔ مگر ایسے موقع پر بپھرنا خود اپنا ہی نقصان کرنا ہے۔ اگر آپ مخاطب کی تنقید سن کر غصہ ہو جائیں تو آپ صرف تیز وتند الفاظ بولیں گے۔ لیکن اگر ایسے موقع پر آپ اپنے جذبات کو سنبھال لیں تو آپ ایسی بات کہہ سکتے ہیں جو دل میں اتر جائے اور مخاطب کو خاموش کر دے۔ p. 192

آسانی ہمیشہ مشکلوں کے بعد آتی ہے p. 192

گرمیوںکے موسم میں گردوغبار سے بھری ہوئی آندھی جب اٹھتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر روس کے ماہرین موسمیات نے قراقرم کے ریگستانوں میں تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ گرد بھری ہوئی آندھیاں زمین پر موسم کی سختی کو کنٹرول کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہیں۔ جب آندھیاں چلتی ہیں تو ان کی وجہ سے گرد اٹھ کر اوپر چھا جاتی ہے اور فضا میں ایک غلاف کی صورت بنا لیتی ہے۔ اس طرح یہ آندھیاں زمین کی سطح کو گرمی کی تپش سے محفوظ رکھتی ہیں۔ روسی سائنس دانوں نے مختلف آلات اور جہازوں کا استعمال کر کے آندھیوں کی خصوصیات کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سخت گرمی کے دنوں میں بھی ریگستان کی تپتی ہوئی سطح اس وقت ٹھنڈی ہو جاتی ہے جب گرد سے بھری ہوئی آندھیاں چلنا شروع ہوتی ہیں۔ گرد کے یہ سایہ دار بادل محدود فضا میں بھی چھا سکتے ہیں اور کافی دور تک بھی ، جیسے عرب سے جنوبی امریکا تک اور وسط ایشیا سے بحر آرکٹک تک۔ p. 192original + quote

قدرت کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ ہر مفید واقعہ کسی پُر مشقت عمل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔ یہ ایک سبق ہے جو بتاتا ہے کہ ہم جب اپنی زندگی کے بارے میں کوئی منصوبہ بنائیں تو اس حقیقت کو بھی ضرور سامنے رکھیں کہ مطلوبہ نتیجہ کو حاصل کرنے کے لیے ہم کو جدوجہد کے پُر مشقت دور سے گزرنا ہو گا۔ موجودہ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اسی ڈھنگ پر بنایا ہے۔ اور اس سے مطابقت کر کے ہی ہم کوئی مفید نتیجہ برآمد کر سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہیں کہ ہم کو ’’آندھی ‘‘ کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے اور اس کے بغیر ہی ہمارے سروں پر ٹھنڈا بادل سایہ کرلے تو ایسے نتیجہ کو پانے کے لیے ہمیں دوسری کائنات بنانی پڑے گی۔ p. 192

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر حالات میں نا کامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی فوراً کامیابی چاہتا ہے۔ ’’ مختصر راستہ ‘‘ کا لفظ سڑکوں اور پگڈنڈیوں کی دنیا کے لیےصحیح ہے مگر زندگی کی جدوجہد میں ’’ مختصر راستہ ‘‘ کی قسم کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ سورت میں ہیرے کی ایک دکان ہے جو دوسری منزل پر ہے۔ ایک نوجوان اس دکان میں داخل ہوا۔ اس نے ایک ہیرا چرا لیا اور اس کو لے کر باہر نکل جانا چاہا۔ مگر دکان کے آدمیوں کو شبہ ہو گیا۔ انھوںنے فوراً سیڑھی کا دروازہ بند کر دیا اورنوجوان سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ نوجوان نے دیکھا کہ سیڑھی کے راستہ سے بھاگنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔ وہ تیزی سے قریب کی کھڑکی میں داخل ہوا اور وہاں سے نیچے کی طرف چھلانگ لگا دی۔ بظاہر اس نے بھاگ نکلنے کے لیے چھلانگ لگائی تھی۔ مگر دوسری منزل سے جب وہ سڑک پر گرا تو اس کو اتنی سخت چوٹ آئی کہ وہ وہیں سڑک پر مر گیا (ٹائمس آف انڈیا 21 جنوری 1980)— ’’ سیڑھی ‘‘ کا راستہ اگر کسی کو بند نظر آئے تووہ ’’ کھڑکی ‘‘ سے چھلانگ لگا کر سڑک پر نہیں پہنچ سکتا۔ ایسی چھلانگ اس کو جہاں پہنچائے گی وہ قبر ہے،نہ کہ سڑک۔ بظاہر یہ ایک احمق نوجوان کا قصہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر بہت سے عقل مند لوگ بھی ٹھیک اسی طریقہ کو اپنی زندگی میں دہراتے ہیں اور بالآخر اسی انجام سے دو چار ہوتے ہیں جس سے مذکورہ نوجوان دوچار ہوا۔ p. 192original + quote

اپنی کمیوں کو جانئے p. 193

وہ بڑھاپے کی منزل میں تھا۔ مگر اس نے شادی نہیں کی تھی ، اس لیے کہ اس کو ایک آئیڈیل رفیقۂ حیات کی تلاش تھی۔ لوگوں نے پوچھا  کیا آپ کو زندگی بھر کوئی ایسی خاتون نہیں ملی جو آئیڈیل رفیقۂ حیات بن سکتی ہو۔ اس نے جواب دیا  ایک خاتون ایسی ملی تھی مگر مشکل یہ تھی کہ وہ بھی اپنے لیے ایک آئیڈیل شوہر تلاش کر رہی تھی— اور بدقسمتی سے میں اس کے معیار پر پورا نہ اتر سکا۔ p. 193

لوگ عام طور پر دوسروں کی کمیوں کو جاننے کے ماہر ہوتے ہیں اس لیے ان کا کسی سے نباہ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی اپنی کمیوں کو جان لے تو اس کو معلوم ہو کہ وہ بھی اسی بشری مقام پر ہے جہاں وہ دوسرے کو کھڑا ہوا پاتا ہے۔ اپنی کمیوں کا احساس آدمی کے اندر تواضع اور اتحاد کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے بر عکس، اگر وہ صرف دوسروں کی کمیوں کو جانتا ہو تو اس کے اندرگھمنڈپیدا ہو گا اور کسی سے نباہ کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ p. 193

نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی ایک آدمی میں ساری خصوصیات جمع نہیں ہوتیں۔ کسی میں کوئی خصوصیت ہوتی ہے اور کسی میں کوئی خصوصیت۔ پھر جس شخص میں کوئی ایک خصوصیت ہوتی ہے اس کے اندر اسی نسبت سے کچھ اور خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں جو گویا اس خصوصیت کا ضمنی نتیجہ ہوتی ہیں مثلاً ایک شخص اگر بہادر ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر شدت ہو گی۔ ایک شخص شریف ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر نرمی ہو گی۔ ایک شخص حساس ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر غصہ ہو گا۔ ایک شخص ذہین ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر تنقیدی مادہ ہو گا۔ ایک شخص عملی صلاحیت زیادہ رکھتا ہے تو اسی نسبت سے اس کے اندر فکری استعداد کم ہو گی، وغیرہ۔ p. 193

ایسی حالت میں قابل عمل بات صرف ایک ہے۔ ہم جس شخص کے ’’روشن پہلو ‘‘سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہوں اس کے ’’ تاریک پہلو ‘‘ کو نظر انداز کریں۔ یہی واحد تدبیر ہے جس سے ہم کسی کی صلاحیتوں کو اپنے لیے کارآمد بنا سکتے ہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات ہوں یا مالک اور ملازم کے تعلقات یا دکان دار اور شرکت دار کے تعلقات ہر جگہ اسی اصول کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کو ’’ پھول ‘‘ لینا ہے تو ہم کو ’’ کانٹے ‘‘ کو بھی برداشت کرنا ہو گا۔ جس کے اندر کانٹے کی برداشت نہ ہو اس کے لیے اس دنیا میں پھول کا مالک بننا بھی مقدرنہیں۔ p. 193

یہ ایک حقیقت ہے کہ تنہا آدمی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مطلوبہ کام کی پشت پر کئی آدمیوں کی صلاحیتیں ہوں۔ اسی ضرورت نے مشترک سرمایہ کی کمپنیوں کا تصور پیدا کیا ہے۔ لیکن کئی آدمیوں کامل کرکسی مقصد کی تکمیل کے لیے جہدوجہد کرنا اسی وقت ممکن ہے جب کہ اس کے افراد میں صبر اور وسعتِ ظرف کا مادہ ہو۔ وہ ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے نہ الجھیں۔ وہ نا خوش گوار باتوں کو یاد رکھنے کے بجائے نا خوش گوار باتوں کو بھلانے کی کوشش کریں۔ معیار پسندی بہت اچھی چیز ہے مگر جب معیار کا حصول ممکن نہ ہو تو حقیقت پسندی سب سے بہتر طریق عمل ہوتا ہے۔ p. 194

صبر کی زمین پر p. 194

ہری بھری فصل مٹی کے کھیت میں اگتی ہے،نہ کہ سونے چاند ی کے فرش پر— یہ محدود معنوں میں صرف زراعت کی بات نہیں۔ بلکہ یہ زندگی کا عالم گیر قانون ہے۔ خدا نے ہر چیز کے وجود میں آنے کے لیے ایک نظام مقرر کر دیا ہے۔ اسی خاص نظام کے تحت وہ چیز وجود میں آتی ہے۔ کسی اور طریقہ سے ہم اس کو وجود میں نہیں لا سکتے۔ p. 194

یہی انسانی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جو صبر کی زمین پر دینا پڑتا ہے۔ زندگی ایک ایسی کھیتی ہے جو صبر کی زمین پر اگتی ہے۔ خدا نے ابدی طور پر مقرر کر دیا ہے کہ زندگی کی تعمیر صبر کی زمین پر ہو اب قیامت تک یہی ہونا ہے۔ ہم اس کی تعمیر کے لیے کوئی دوسری زمین نہیں بنا سکتے۔ p. 194

صبر کسی منفی چیز کا نام نہیں وہ سراسر ایک مثبت رویہ ہے۔ صبر کامطلب ہے— بے سوچے سمجھے کر گزرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر اپنا کام کرنا۔ جذباتی رد عمل کے بجائے شعوری فیصلہ کے تحت اپنا منصوبہ بنانا۔ وقتی ناامیدیوں میں مستقبل کی امید کو دیکھ لینا۔ حالات میں گھر کر رائے قائم کرنے کے بجائے حالات سے اوپر اٹھ کر رائے قائم کرنا۔ p. 194

ایک بیج کو آپ سونے کی پلیٹ میں رکھ دیں تو وہ اپنی زندگی کے سر چشموں سے مربوط نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے اسباب سے بھری ہوئی کائنات میں بے اسباب بنا ہوا پڑ ا رہتا ہے۔ وہ اپجائو کی ساری صلاحیت رکھتے ہوئے اپجنے سے محروم رہتا ہے۔ p. 195

یہی حال انسان کا ہے۔ اگر وہ بے صبری کی حالت میں ہو تو وہ خدائی سر سبز وشاداب دنیا میں ایک ٹھنٹھ کی مانند سوکھا ہوا پڑا رہے گا۔ لیکن صبر کو اختیار کرتے ہی وہ اچانک خدا کی زمین میں اپنی جڑیں پا لیتا ہے اور بڑھتے بڑھتے بالآخر پورا درخت بن جاتا ہے۔ p. 195

جب آدمی حقیقی معنوں میں صبر کا ثبوت دیتا ہےتووہ بندوں کی سطح پر جینے کے بجائے خدا کی سطح پر جینے لگتا ہے۔ دنیا کی تنگیوں سے گزر کر وہ آخرت کی وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ بے معنی زندگی کے مرحلہ سے نکل کر با معنی زندگی کے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ p. 195

صبر والا انسان ہی مومن انسان ہے۔ اسی کے لیے وہ ابدی انعام مقدر کیا گیا ہے جس کا دوسرا نام جنت ہے۔ p. 195

انتقام نہیں p. 195

ایک صاحب ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایک گاڑی تھی جس کا لائسنس رسمی طور پر دوسرے کے نام تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس آدمی کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے چاہا کہ کاغذ میں قانونی اندراج سے فائدہ اٹھا کر گاڑی پر قبضہ کرلے یا اس کے معاوضہ میں ان سے کوئی بڑی رقم حاصل کرے۔ ٹرانسپورٹ کے مالک کے سامنے جب یہ بات آئی تو اس کے بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ اپنے اس ’’ دوست ‘‘ کا جانی دشمن ہو گیا۔ p. 196

اب اس کا ذہن ہر وقت ایک ہی سوچ میں رہتا۔ وہ یہ کہ اس شخص کو کس طرح مروایا جائے۔ انتقام کے جذبہ نے اس کے ذہن کو جرائم کا کارخانہ بنا دیا۔ اب اس کو نہ اپنے کاروبار کی ترقی کی فکر تھی نہ اپنے گھر کو بنانے کی۔ ساری فکر اس بات کی تھی کہ مذکورہ شخص کو کسی نہ کسی طرح ہلاک کر دیا جائے۔ اسی حال میں چھ ماہ گزر گئے۔ بالآخر ایک ایسا واقعہ پیش ا ٓیا جس نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ وہ اتفاقاً ایک مقام پر گیا ہوا تھا۔ ایک سڑک سے گزرتے ہوئے اس کے کان میں کچھ آوازیں آئیں۔ اس کو محسوس ہوا کہ یہاں کوئی تقریر ہو رہی ہے۔ وہ جلسہ گاہ کی طرف مڑ گیا اور وہاں بیٹھ کر تقریر سننے لگا۔ تقریر کرنے والا کہہ رہا تھا  p. 196

’’انتقام لینے سے پہلے سوچ لوکہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا۔ ‘‘ p. 196

تقریر کی سادگی نے اس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ انتہائی غور کے ساتھ مقرر کی باتیں سنتا رہا جو بار بار مختلف مثالوں کے ذریعہ اپنے نقطہ نظر کو واضح کر رہا تھا۔ تقریر کے بعد جب وہ جلسہ گاہ سے اٹھا تو وہ دوسرا انسان بن چکا تھا۔ ان نے طے کیا کہ وہ انتقام کے ذہن کو ختم کر دے گا اور مذکورہ شخص کے معاملہ کو خدا کے حوالہ کر کے اپنے کاروبار کی ترقی میں لگ جائے گا۔ p. 196

ٹرانسپورٹ کے مالک کو اب تک کام کرنے کاصرف ’’ تخریبی ڈھانچہ ‘‘ معلوم تھا۔ اب انھوں نے کام کرنے کا ’’تعمیری ڈھانچہ ‘‘ دریافت کر لیا۔ ان کو معلوم ہوا کہ کام کرنے کا وہی ایک اندا ز نہیں ہے جس پر دوسرے اکثر لوگ چل رہے ہیںٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ۔ کام کرنے کا ایک اور انداز بھی ہے۔ اور وہ ہے— دوسرےکے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنے پیچھے دوڑنا۔ p. 196

مذکورہ شخص نے اب اسی دوسرے طریقے کو پکڑ لیا۔ انھوں نے 6 ستمبر 1983 کی ایک ملاقات میں کہا کہ ’’ اب وہ اپنے کو زیادہ پر سکون بھی پاتے ہیں اور زیادہ کامیاب بھی ‘‘۔ p. 197original + quote

نا گزیر برائی p. 197

مسٹر ڈی کے داس دہلی کے اعلیٰ ترین سرکاری افسران (Seniormost IAS officers) میں سے ایک تھے۔ دہلی کی ایک پوش کالونی ’’ مدھوبن ‘‘ میں ان کا بہت بڑا مکان تھا۔ p. 197

مگر 13 اگست 1985 کو انھوں نے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی۔ ان کی اہلیہ مسز ہیناداس ایک بجے دن میں ان کے کمرے میں داخل ہوئیں تو ان کا مردہ جسم چھت کے پنکھے سے بندھا ہوا لٹکا تھا۔ موت کے وقت مسٹر د اس کی عمر 56 سال تھی۔ وہ حال میں دہلی ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چیئر مین مقرر ہوئے تھے اور آئی اے ایس کے اسکیل کا آخری مشاہرہ پا رہے تھے۔ اس کے باوجود مسٹر داس نے کیوں خود کشی کر لی۔ اس سلسلہ میں ہم دو اخباروں کی رپورٹ سے چند جملے یہاں نقل کرتے ہیں۔ پہلا اقتباس ہندوستان ٹائمس 4 اگست کا ہے اور دوسرا ٹائمس آف انڈیا 4 اگست کا ہے p. 197

A businessman friend of Mr Das said the deceased bureaucrat was dissatisfied with many of the postings he got. He said that Mr Das often used to say that he was always given insignificant and ordinary positions. He was also depressed because he felt that he was not being given his due in the Delhi administration. p. 197other source

مسٹر داس کے ایک تاجر دوست نے کہا کہ آنجہانی افسر اپنی کئی تقرری پر مطمئن نہ تھے۔ مسٹر داس اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کو ہمیشہ غیر اہم اور معمولی پوزیشن دی جاتی ہے۔ وہ غیرمطمئن بھی تھے کیوں کہ وہ محسوس کرتے تھے کہ دہلی ایڈ منسٹریشن میں ان کو ان کی واجبی جگہ نہیں دی گئی ہے۔ p. 198original + quote

اس دنیا میں کوئی شخص اقلیتی فرقہ کا ہو یا اکثریتی فرقہ کا ، معمولی ملازم ہو یا اعلیٰ عہدیدار ، ہر حال میں اس کو کہیں نہ کہیں امتیازی برتائو کا تجربہ ہوتا ہے۔ امتیاز اس دنیا کی نا گزیر برائی ہے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اس احساس سے بچ نہیں سکتا کہ اس کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کا وہ مستحق تھا۔ ایسی حالت میں عقلمندی یہ ہے کہ اس صورت حال کو گوارا کیا جائے۔ کیوں کہ اس کو گوارا نہ کرنا آدمی کو یا تو مایوسی کی طرف لے جاتا ہے یا خود کشی کی طرف۔ p. 198

چھلانگ نہیں p. 198

A young man once came to a venerable master and asked, “How long will it take to reach enlightenment”? p. 198

The master said, “Ten years.” p. 198

The young man blurred, “So long”. p. 199

The master said ,“ No. I was mistaken. It will take you 20 years”. p. 199other source

The young man asked, “Why do you keep adding to it”. p. 199

The master answered, “ Come to think of it, in your case it will probably be 30 years”. p. 199

اوپر کا اقتباس فلپ کپلیو (Philip Kapleau) کے ایک مضمون سے لیا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے  ایک نوجوان شخص ایک بار ایک بزرگ استاد کے پاس آیا اور کہا  صاحبِ علم بننے میں کتنا وقت لگے گا۔ p. 200other source

’’ دس سال ‘‘۔ استاد نے جواب دیا۔ p. 200

’’اتنی لمبی مدت ‘‘۔ نوجوان بولا۔ p. 200

استاد نے کہا ’’ نہیں مجھ سے غلطی ہو گئی۔ تمہارے لیے اس میں 20سال کی مدت درکار ہو گی۔ p. 200other source

نوجوان شخص نے پوچھا ، ’’آپ مدت میں اضافہ کیوں کرتے جا رہے ہیں ‘‘۔ p. 200opposing view

استاد نے جواب دیا  ’’بات کو سمجھو ، تمہارے معاملہ میں غالباً اس کو 30 سال لگ جائیں گے ‘‘۔ (آر ڈی جنوری 1983 )۔ جو مقصد عام رفتار سے 10 سال میں حاصل ہوتا ہو اس کو آپ دس دن میں حاصل کرنا چاہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ چھلانگوں کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ اور چھلانگوں کے ذریعہ سفر ہمیشہ اصل سفر کو طویل تر بنا دیتا ہے۔ p. 201original + quote

چھلانگ لگانے والے کا انجام ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی چٹان سے ٹکرا جاتا ہے یا کسی کھڈ میں جا گرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو پیچھے لوٹ کر کسی اسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے جہاں وہ مدت تک علاج کے لیے پڑا رہے۔ اگر وہ عام رفتار سے چلتا تو وقت پر اپنی منزل تک پہنچ جاتا۔ مگر چھلانگ نے اس کو پیچھے ڈال کر اس کے سفر کو اور لمبا کر دیا۔ p. 201

کسی کام میں دیر لگانا جتنا غلط ہے اتنا ہی غلط یہ بھی ہے کہ آپ اس کو جلد پورا کرنا چاہیں ہر کام کی تکمیل کا ایک وقت ہے اور صحیح تکمیل وہی ہے جو اپنے وقت پر انجام پائے دیر کرنا اگر سستی ہے تو جلدی کرنا بے صبری، اور خدا کی اس محکم دنیا میں دونوں بالآخر جہاں پہنچتے ہیں وہ بے انجامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ p. 201

حوصلہ مندی p. 201

حوصلہ مندی p. 201

نوبل انعام یافتہ پروفیسر عبد السلام نے جنوری 1986 میں ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ اس سلسلہ میں ان کی تقریروں کی رپورٹیں اخبارات میں آتی رہیں۔ ان کی ایک تقریر کی رپورٹ میں حسب ذیل الفاظ شامل تھے  p. 202

Citing the example of South Korea, he said that about 15 years ago, the gross national product per capita there was equal to that of India. However, it was many times more now due to the efforts they had put. Prof. Salam said that a team from South Korea had come to Trieste, Italy , where he stays, and wanted to know how Nobel prizes were won. He said that it was a similar spirit which should be inculcated in the people of the third world. p. 202unverified

The Times of India, January 16, 1986 p. 202

جنوبی کوریا کی مثال دیتے ہوئے پروفیسر عبد السلام نے کہا کہ تقریباً پندرہ سال پہلے اس کی اور ہندوستان کی قومی پیداوار فی شخص برابر تھی۔ مگر اب جنوبی کوریا کی کوششوں کے نتیجہ میں اس کی فی شخص قومی پیداوار ہندوستان سے کئی گُنا زیادہ ہو چکی ہے۔ پروفیسر عبد السلام نے کہا کہ جنوبی کوریا کی ایک ٹیم ٹریسٹ ( اٹلی ) آئی جہاں وہ رہتے ہیں اور ان سے یہ جاننا چاہا کہ نوبل انعام کس طرح حاصل کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ، یہی وہ روح ہے جو تیسری دنیا کے لوگوں میں پیدا کی جانی چاہیے۔ p. 202original + quote

تلاش کا یہ جذبہ ہی تمام ترقیوں کی بنیاد ہے ، خواہ وہ فرد کی ترقی کا معاملہ ہو یا قوم کی ترقی کا معاملہ۔ اور خواہ اس کا تعلق دنیا کی ترقیوں سے ہو یا آخرت کی ترقیوں سے۔ ہر ترقی انھیں لوگوں کے لیے ہے جو اپنے اندر تلاش وجستجو کا کبھی نہ ختم ہونے والا جذبہ رکھتے ہوں۔ p. 202

تلاش کا جذبہ یہ بتاتا ہے کہ آدمی کے اندر جمود نہیں پیدا ہوا ہے۔ اور جمود تمام ترقیوں کا قاتل ہے۔ جہاں جمود آیا وہاں ترقی کا عمل بھی لازمی طور پر رک جائے گا۔ جمود کی حالت طاری ہونے کے بعد آدمی ’’ مزید ‘‘ کے شوق سے محروم ہو جاتا ہے۔ اور جس سے مزید کا شوق رخصت ہو جائے وہ جہاں ہے وہاں بھی باقی نہیں رہے گا۔ بلکہ پیچھے جانا شروع ہو جائے گا ،یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں پہنچ جائے گا۔ p. 203