Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
پتھر کا سبق p. 166
راجستھان کا ایک طالب علم ہائی اسکول میں فیل ہو گیا۔ دوسرے سال اس نے پھر امتحان دیا۔ مگر وہ دوبارہ فیل ہو گیا۔ اس کے بعد جب اس کا تیسرے سال کا نتیجہ آیا اور اس نے دیکھا کہ وہ اب بھی فیل ہے تو اس کو سخت دھکا لگا۔ وہ اتنا بیزار ہو ا کہ گھر سے بھاگ نکلا۔ p. 166
چلتے چلتے وہ ایک گائوں کے کنارے پہنچا۔ اس کو پیاس لگ رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک کنواں ہے جس پر کچھ عورتیں اور بچے پانی بھر رہے ہیں۔ وہ کنویں کے پاس پہنچا تاکہ اپنی پیاس بجھا سکے۔ مگر وہاں اس نے ایک منظر دیکھا۔ منظر بظاہر چھوٹا سا تھا مگر وہ اس سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنی پیاس بھول گیا۔ اس کو اچانک محسوس ہوا کہ اس نے پانی سے زیادہ بڑی ایک چیز پا لی ہے۔ p. 166
اس نے دیکھا کہ گائوں کے لوگ جو پانی بھرنے کے لیے کنویں پر آتے ہیں ، عام طور پر ان کے ساتھ دو عدد مٹی کے گھڑے ہوتے ہیں۔ ایک گھڑے کو وہ کنویں کے قریب ایک پتھر پر رکھ دیتے ہیں اور دوسرے گھڑے کو کنویں میں ڈال کر پانی نکالتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ جس پتھر پر گھڑا رکھا جاتا ہے وہ گھڑا رکھتے رکھتے گھس گیا ہے۔ p. 166
’’ گھڑا مٹی کی چیز ہے ‘‘ اس نے سوچا ’’ مگر جب وہ بار بار بہت دنوں تک ایک جگہ رکھا گیا تواس کی رگڑ سے پتھر گھس گیا۔ استقلال کے ذریعہ مٹی نے پتھر کے اوپر فتح حاصل کر لی۔ مسلسل عمل نے کمزور کو طاقت ور کے اوپر غالب کر دیا۔ پھر اگر میں برابر محنت کروں تو کیا میں امتحان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیا کوشش کے اضافہ سے میں اپنی کمی پر قابو نہیں پا سکتا ‘‘۔ p. 166
یہ سوچ کر بھاگے ہوئے طالب علم کے قدم رک گئے۔ و ہ لوٹ کر اپنے گھر واپس آگیا اور دوبارہ تعلیم میں اپنی محنت شروع کر دی۔ اگلے سال وہ چوتھی بار ہائی اسکول کے امتحان میں بیٹھا۔ اس بار نتیجہ حیرت انگیز طور پر مختلف تھا۔ اس کے پرچے اتنے اچھے ہوئے کہ وہ اول درجہ میں پاس ہو گیا۔ تین بار ناکام ہونے والے نے چوتھی کوشش میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ پتھر کا یہ سبق نوجوان کی زندگی کے لیے اتنا اہم ثابت ہوا کہ اس کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ جو طالب علم ہائی اسکول میں مسلسل ناکام ہو کر بھاگا تھا وہ اس کے بعد مسلسل فرسٹ آنے لگا۔ یہاں تک کہ ایم اے میں اس نے ٹاپ کیا۔ اس کے بعد وہ ایک اسکالر شپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونی ملک میں گیا۔ اور وہاں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ p. 167
یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں جو صرف ایک گائوں میں پیش آیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جگہ ایسے ’’ پتھر ‘‘ موجود ہیں جو آدمی کو زندگی کا سبق دے رہے ہیں جو ناکامیوں میں سے کامیاب بن کر نکلنے کا اشارہ دیتے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر نصیحت لینے کا مزاج ہو تو وہ اپنے قریب ہی ایسا ایک ’’ پتھر ‘‘ پا لے گا جو خاموش زبان میں اس کو وہی پیغام دے رہا ہو جو مذکورہ نوجوان کو اپنے پتھر سے ملا تھا۔ p. 167
خود جاننا پڑتا ہے p. 167
ٹائمس آف انڈیا( 18 جولائی 1983 )میں ایک دلچسپ قصہ شائع ہوا ہے۔ ہندوستان کے ایک لیڈر (جن کا نام درج نہیں ) 1970 میں فرانس گئے۔ پیرس میں ان کی ملاقات ایک فرانسیسی لیڈر سے ہوئی جو حکمراں گالسٹ پارٹی سے تعلق رکھتا تھا۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی لیڈر اور فرانسیسی لیڈر کے درمیان گفتگو کا ایک حصہ حسب ذیل تھا p. 167
“Is there anything in particular you would like to do in Paris” Asked the Gaulist. p. 167
“I am a great admirer of de Gaulle. replied the Indian visitor.” I should like to make a courtesy call on him.” But he is dead, Sir” p. 168
“What? Nobody told me in India during the briefing.” p. 168
“They must have presumed you were aware of it. p. 168
He died four years ago.” p. 168
فرانسیسی لیڈر نے پوچھا ’’کیا آپ پیرس میں کوئی خاص چیز پسند کریں گے ‘‘۔ ہندوستانی لیڈر نے جواب دیا’’ میں جنرل ڈیگال سے بہت متاثر ہوں اور میری خواہش ہے کہ ان سے ملاقات کروں‘‘۔کہنے والے نے کہا’’مگر جناب ان کا تو انتقال ہو گیا‘‘۔ ہندستانی لیڈر نے کہا’’کیا، ہندوستان میں فرانس کے حالات بتاتے ہوئے تو کسی نے مجھ سے یہ بات نہیں کی ‘‘ کہنے والے نے دوبارہ کہا ’’ انھوں نے فرض کیا ہو گا کہ آپ اس کو جانتے ہیں۔ جنرل ڈیگال چار سال پہلے مر چکے ہیں۔ ‘‘ p. 169other source
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر بات بتائی نہیں جا سکتی۔ ضروری ہے کہ آدمی خود کچھ باتوں کو جانے۔ سننے والا اگر پچاس فیصد بات جانتا ہو تو اس کو بقیہ پچاس فی صد بات بتائی جا سکتی ہے۔ اگروہ نصف بات پہلے سے نہ جان چکا ہو تو بقیہ نصف بھی وہ نہ جان سکے گا۔ خواہ وہ بات کتنی ہی معقول ہو اور کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ اس کو پیش کر دی جائے۔ p. 169
آج کسی سے کہئے کہ’’فلاں کھلاڑی نے سنچری بنائی‘‘تو وہ فوراً سمجھ لے گا کہ اس سے مراد کرکٹ کے ایک سو(100)رن ہیں۔ مگر یہ کہئے کہ’’قوم کی ترقی کے لیے ایک سنچری کی جدوجہد درکار ہے‘‘ تو اس کو کوئی نہیں سمجھتا۔ کیوں کہ تعمیر قوم کے معاملہ میں سو سالہ جدوجہد سے کوئی واقف نہیں۔ p. 169