Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
وقفۂ تعمیر p. 161
کائنات خدا کی خاموش کتاب ہے۔ وہ ربّانی حقیقتوں کی تمثیل کے روپ میں بیان کرتی ہے۔ آدمی اگر کائنات کی خاموش زبان کو سن سکے تو وہ اس کے لیے معرفت کا عظیم ترین کتب خانہ بن جائے۔ p. 161
درخت کو دیکھیے ۔ درخت زمین سے نکلتا ہے تو وہ کمزور پودے کی مانند ہوتا ہے۔ اس کے تنہ میں ابھی طوفان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اس وقت درخت کیا کرتا ہے۔ وہ سراپا نرمی بن جاتا ہے۔ ہواؤں کے جھونکے آتے ہیں تو وہ ان کے مقابلے میں اکڑتا نہیں، بلکہ ہوا کا جھونکا اس کو جس طرف لے جانا چاہتا ہے، وہ اسی طرف چلا جاتا ہے۔ وہ حالی کی زبان میں،’’چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی‘‘ کی تصویر بن جاتا ہے۔ p. 162
مگر اسی پودے کو 25سال بعد دیکھیے تو وہ بالکل دوسری تصویر پیش کر رہا ہوگا۔ اب وہ اپنے موٹے تنہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ اب جھکنے کا لفظ اس کی ڈکشنری سے خارج ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ ہواؤں کے جھونکے سے غیر متاثر رہ کر سیدھا اپنی جڑوں پر کھڑا رہتا ہے۔ اب وہ زمین پر’’درخت‘‘ بن کر رہتا ہے، جب کہ اس سے پہلے وہ’’پودا‘‘ بن کر رہ رہا تھا۔ p. 162
درخت اس طرح تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ہر آدمی پر ابتداءً وہ وقت آتا ہے جب کہ اس کو ایک وقفۂ تعمیر درکار ہوتا ہے۔ جب ضرورت ہوتی ہے کہ ہ اپنی جڑیں زمین میں داخل کرے۔ وہ اپنے تنہ کو مضبوط کرے۔ وہ اپنے آپ کو ایک طاقت ور وجود کی حیثیت سے نشوونما دے۔ اس وقفےکے دوران اس کو اس طرح نہیں رہنا چاہیے جس طرح کوئی شخص مضبوط اور مستحکم ہونے کے بعد رہتا ہے۔ p. 162
اس ابتدائی مرحلہ میں اس کو نرمی اور موافقت(adjustment) کا مجسّمہ بن جانا چاہیے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کی تعمیر کا وقفہ نہیں ملے گا، اور جو کوئی وقفۂ تعمیر سے محروم ہو جائے، وہ کبھی مرحلۂ تعمیر تک بھی نہیں پہنچے گا۔ ایسا شخص ہمیشہ کمزور پودا بنا رہے گا، وہ کبھی تناور درخت کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ p. 163