Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دعوت کا میدان p. 146
مسلمانوں کے لیے ساری د نیا میں کرنے کا کام صرف ایک ہے، اور وہ دعوت الیٰ اللہ ہے۔ مسلمانوں کو پہلے بھی یہی کام کرنا تھا، مگر اب تو آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان ٹکراؤ کے میدان سے واپس ہو کر دعوت کے میدان میں اپنا عمل جاری کریں۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن کی نظر سے دیکھنے کے بجائے انہیں اپنے مدعو کی نظر سے دیکھیں۔ وہ ’’تلوار‘‘ کے بجائے قرآن کو لے کر اٹھیں اور اقوامِ عالم کے اوپر اپنی داعیانہ ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ اسی میں ان کی دنیا کی بھلائی ہے اور اسی میں ان کی آخرت کی بھلائی بھی۔ p. 146
نارتھ امریکہ میں مسلمانوں کی ایک پرانی تنظیم ہے جو مختصر طور پر اسنا(ISNA) کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا 26واں اجلاس اوہایواسٹیٹ میں ستمبر1989 کے پہلے ہفتہ میں ہوا۔ اس اجلاس کی خاص تھیم یہ تھی کہ اسلامی دعوت کو لے کر باہر نکلو p. 146
‘‘Preaching out with Islam’’ p. 147
اسلامی عمل کے لیے یہ ایک صحیح عنوان ہے۔ تاہم اس جملے میں مجھے حریفانہ نفسیات کی بو آتی ہے۔ جب کہ اسلامی دعوت سرتاپا ایک نصیحت کا عمل ہے۔ وہ دوسروں کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں ہے، بلکہ دوسروں کی خیر خواہی کے لیے خدا کے حکم کے تحت متحرک ہونا ہے۔ p. 147
آج ساری دنیا میں ایسی مسلم کانفرنسیں ہو رہی ہیں جن کا عنوان دعوت ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سی کانفرنسوں میں مجھے خود بھی شرکت کا اتفاق ہوا ہے۔ مگر میں نے پایا ہے کہ ان کانفرنسوں میں اگر ایک طرف’’دعوت‘‘ کی بات کی جاتی ہے تو اسی کے ساتھ ان میں ’’عداوت‘‘ کی باتیں بھی پرجوش طور پر جاری رہتی ہیں۔ حالانکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ p. 147
موجودہ زمانے میں ہمارے لکھنے اور بولنے والے کثرت سے دعوت اور داعیانہ مقام کے الفاظ لکھنے اور بولنے میں مصروف ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ہر ایک کے یہاں احتجاج اور فریاد، غصہ اور نفرت، حتٰی کہ ٹکراؤ اور تصادم کی باتیں بھی پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہیں۔ حالانکہ دونوں چیزوں میں اتنا زیادہ دوری ہے کہ جہاں ایک چیز ہو وہاں کبھی دوسری چیز جمع نہیں ہو سکتی۔ p. 148
اس تضاد اور ذہنی انتشار کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے یہاں دعوت ان کی قومی مہم کے ضمیمہ کے طور پر آئی ، نہ کہ حقیقتاًپیغمبرانہ ذمہ داری کے طور پر۔ مسلمان ایک سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت سے احساس شکست میں جی رہے تھے۔ اپنے ’’دشمنوں‘‘ کے خلاف ان کی تمام لڑائیاں یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی بربادی پر ختم ہو رہی تھیں، وہ محسوس کر رہے تھے کہ دوسری قوموں نے انہیں علمی، تہذیبی، اقتصادی، سیاسی، ہر اعتبار سے بہت زیادہ پیچھے دھکیل دیا ہے۔ p. 148
ایسی حالت میں کچھ مسلمانوں کو اسلام کی نظریاتی برتری میں اپنی قومی نجات نظر آئی۔ وہ دعوت اور داعی کے الفاظ بول کر یہ تسکین حاصل کرنے لگے کہ ہم دوسری قوموں سے پیچھے نہیں ہیں، بلکہ ان سے بہت آگے ہیں۔ مسلمانوں کے ایک طبقے میں دعوت کا جو رحجان پیدا ہوا ہے، وہ حقیقتاداعیانہ ذہن کے تحت نہیں بلکہ قومی ذہن کے تحت پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے دعوت کی صورت میں اپنے فخر(pride) کو دریافت کیا ہے۔ انہوں نے دعوت کی صورت میں اپنی ذمہ داری(responsibility) کو دریافت نہیں کیا جو کہ دعوت کا اصل خلاصہ ہے۔ p. 148
یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ جب دعوت کے موضوع پر بولتے ہیں تو ایسی باتیں کہتے ہیں جن کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ دعوت کو ریولیوشن اور نیٹڈ (revolution-oriented) ہونا چاہیے۔ کوئی کہتا ہے کہ دعوت کو پالیٹکس اورینٹڈ، (politic-oriented) ہونا چاہیے۔ کوئی کہتا ہے کہ دعوت کو سسٹم اورینٹڈ (system-oriented) ہونا چاہیے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا ایک ہی صحیح طریقہ ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ آخرت اورینٹڈ (akhirat-oriented) ہو۔ یعنی قرآن کے الفاظ میں، یوم آلازفہ(المؤمن،23:18) سے ڈرانا۔ موت کے بعد آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہی دعوت الٰی اللہ کا اصل مقصد ہے۔ اس کے سوا اگر کچھ ہے تو وہ اس کے اضافی اجزاء ہیں ، نہ کہ اس کے حقیقی اجزاء۔ p. 148original + quote
ان مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ’’داعی‘‘ ہونے کو جانا مگر انہوں نے دوسروں کے ’’مدعو‘‘ ہونے کو دریافت نہیں کیا۔ وہ اپنے حقوق کی فہرست سے مبالغہ آمیز حد تک واقف ہیں، مگر فریق ثانی کے بارے میں وہ ضروری حد تک بھی اپنی ذمہ داریوں کو نہیں جانتے۔ p. 148
یہی وجہ ہے کہ ان کی دعوت ذاتی فخر کا اظہار تو ہے مگر وہ صبر و اعراض کا جہاد نہیں۔ اس میں اپنی برتری کی تسکین ہے مگر اس میں تواضع کی نفسیات نہیں۔ اس میں دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کا جوش ہے مگر اس میں دوسروں کو ہدایت طلبی کی تڑپ نہیں۔ اس کے اندر ’’میں‘‘ کی پوری رعایت پائی جاتی ہے مگر اس ک اندر’’وہ‘‘ کی کوئی رعایت موجود نہیں۔ p. 149
ایسا عمل ایک قومی عمل تو ہو سکتا ہے، مگر وہ کوئی دعوتی عمل نہیں۔ ایسے عمل سے ان نتائج کی امید نہیں کی جا سکتی جو ایک حقیقی دعوتی عمل کے لیے خدا کی طرف سے مقرر کی گئی ہیں۔ p. 149
ایک سفر میں میری ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانےکے مسلمانوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ جانیں کہ ان کا تعلق دوسری قوموں کے ساتھ داعی اور مدعی کا ہے ، نہ کہ حریف اور رقیب کا۔ ایک صاحب نے میری بات سن کر کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ آج کل تو سبھی لوگ داعی اور دعوت کی باتیں کر رہے ہیں۔ موجودہ مسلمان اس کی اہمیت سے غافل نہیں۔ p. 149unverified
میں نے کہا کہ جن لوگوں کی بابت آپ فرما رہے ہیں وہ اس معاملے میں ابھی صرف آدھی بات سے واقف ہیں۔ انہوں نے ’’داعی‘‘ کے معاملے کو تو جانا ہے، مگر انہوں نے ’’مدعو‘‘ کے معاملے کو ابھی تک نہیں جانا۔ میں نے کہا کہ دعوت کوئی تقریری نمائش یا قومی فخر کے اظہار کا نام نہیں۔ دعوت ایک انتہائی سنجیدہ عمل ہے۔ دعوت کی اصل بندوں کی خیر خواہی ہے جس کو قرآن میں نصیحت کہا گیا ہے۔(الاعراف،6:68-69) p. 150unverified
موجودہ زمانے کے مسلمان ایک بے برداشت قوم ہیں۔ جب کہ داعی از اول تا آخر ایک برداشت کرنے والی شخصیت ہوتا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمام قوموں کو اپنا حریف اور رقیب بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی حقیقی دعوتی عمل کا وجود میں آنا ممکن نہیں— مدعو کو اپنا محبوب بنانا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی دعوت کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔ p. 150