Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نفس امّارہ، نفس لوّامہ p. 107
پیغمبر اسلام صلی ا للہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے جو کتاب لائے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر دو قسم کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ ایک صلاحیت کو قرآن میں نفس امّارہ(یوسف،12:53) کہا گیا ہے، اور دوسری صلاحیت کو نفس لوّامہ(القیامہ، 75:2)۔ نفس امّارہ سے وہی چیز مراد ہے جس کو انانیت(egoism) کہا جاتا ہے۔ اور نفس لوّامہ سے مراد وہ چیز ہے جس کا نام نفسیاتی اصطلاح میں ضمیر(conscience) ہے۔ p. 107original + quote
نفس امّارہ کی صفت سرکشی، ظلم اور فساد انگیزی ہے۔ اس کے برعکس، نفس لوّامہ کی صفت اعتراف، تواضع اور انصاف پسندی ہے۔ آدمی کے نفس امّارہ کا جاگنا ظلم کا جاگنا ہے، اور اس کے نفس لوّامہ کا جاگنا انصاف کا جاگنا ہے۔ p. 107
یہ دونوں صلاحیتیں ہر آدمی کے اندر موجود ہیں۔ مگر ابتدائی حالت میں وہ سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ جب آپ کا کسی کے ساتھ معاملہ پیش آئے تو آپ کے لیے دو میں سے ایک کے انتخاب کا موقع ہوتا ہے۔ آپ چاہیں تو نفس امّارہ کو اپنا حصہ دار بنائیں، اور چاہیں تو نفس لوّامہ کو اپنے حصہ میں لیں جو گویا فریق ثانی کے اندر آپ کا ایک موافق وکیل ہے۔ اس معاملےکا انحصار اس پر ہے کہ فریق ثانی کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں میں سے کس صلاحیت کو آپ نے جگایا ہے۔ p. 108
حقیقت یہ ہے کہ فریق ثانی کے اندر آپ کا ایک دشمن انسان چھپا ہوا ہے، اور اسی کے ساتھ آپ کا ایک دوست انسان بھی۔ اب یہ آپ کا امتحان ہے کہ آپ دونوں میں سے کس انسان کو جگاتے ہیں۔ آپ جس انسان کو جگائیں گے، وہی انسان آپ کے حصے میں آئے گا۔ p. 108
سب سے زیادہ برا شخص وہ ہے جس کے لیے موقع تھا کہ وہ فریق ثانی کے اندر چھپے ہوئے اپنے موافق انسان کو جگاتا، مگر اس نے اپنی نادانی سے فریق ثانی کے اندر چھپے ہوئے اپنے دشمن انسان کو جگا دیا۔ یہی وہ بدبخت انسان ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ إِنَّ الْفِتْنَةَنَائِمَةٌ لَعَنَ اللهُ مَنْ أَيْقَظَهَا۔(التدوين في اخبار قزوين للرافعی، جلد1، صفحہ 291)یعنی، فتنہ سویا ہوا ہے، اس شخص پر خدا کی لعنت ہے جو اس کو جگائے۔ p. 108original + quote
حدیث کی کتابوں میں ایک واقعہ آیا ہے۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے جو مسجد نبوی کے مقدس نام سے مشہور ہے۔ ایک اعرابی (مشرک) وہاں آیا اور مسجد کے ایک حصے میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ کرام یہ دیکھ کر دوڑے کہ اس کو پکڑیں اور اس کی تنبیہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تمہارا کام لوگوں کو آسانی دینا ہے۔ تمہارا کام لوگوں کو مشکل میں ڈالنا نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جس مقام پر اعرابی نے پیشاب کیا ہے، وہاں ایک بالٹی پانی بہا دو، وہ جگہ پاک ہو جائے گی۔ اعرابی کو آپ نے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ یہ گھر خدا کی عبادت کے لیے ہے، یہ بول و براز کے لیے نہیں۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر 285) p. 108original + quote
اگر آپ اس اعرابی کو پکڑتے اور مارتے تو اس کا نفس امّارہ جاگ اٹھتا۔ وہ مدینہ سے لوٹ کر جاتا تو آپ کے خلاف سازشیں کرتا اور ہر طرف لوگوں سے آپ کی برائی بیان کرتا۔ مگر جب آپ نے اس کے ساتھ مذکورہ قسم کا شریفانہ برتاؤ کیا تو اس کا نفس لوّامہ جاگ اٹھا۔ اب اس کو اپنے آپ پر شرم آنے لگی۔ اس کا دل بار بار اس سے کہنے لگا کہ میں کتنا برا ہوں اور محمدؐ میرے مقابلے میں کتنے اچھے ہیں۔ p. 109
یہ اعرابی واپس ہو کر اپنے قبیلے میں گیا تو وہ اندر سے ایک بدلا ہوا انسان تھا۔ وہ اپنے قبیلے والوں سے کہتا پھرتا تھا کہ میں مدینہ گیا اور وہاں میں نے محمدؐ کے عبادت خانے کو گندہ کر دیا۔ مگر خدا کی قسم، محمدؐ نے نہ مجھ پر غصہ کیا، اور نہ محمدؐ نے مجھ کو جھڑکا وَاللهِ مَا قَهَرَنِي مُحَمَّدٌ، وَاللهِ مَا زَجَرَنِي مُحَمَّدٌ۔ (مسند ابن أبي شيبة،حدیث نمبر 825) p. 109original + quote
اولاً مذکورہ اعرابی کا نفس لوّامہ جاگا تھا، مگر اس کی تقریروں سے قبیلے کے تمام افراد کی انسانیت جاگ اٹھی۔ چنانچہ اس اعرابی نے اور اس کے پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ پیغمبر اسلام کی جماعت میں اضافہ کرکے آپ کی مزید طاقت کاذریعہ بن گئے۔ p. 109
اب اس واقعے کا موجودہ زمانے کی صورتِ حال سے تقابل کیجیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی غلطی پر ایک بالٹی پانی بہایا تھا اور اس کے بعد ایک پورا قبیلہ اس سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوگیا۔ موجودہ زمانے میں لوگ اس قسم کی غلطیاں کرتے ہیں تو مسلمان ان سے لڑ پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے اور ہزاروں بالٹی خون سڑکوں پر بہا دیا جاتا ہے۔ مگر خون کی ان ہزاروں بالٹیوں نے مسلمانوں کے دشمنوں میں سے کسی ایک دشمن کو بھی اسلام کی رحمتوں کے سایے میں داخل نہیں کیا۔ p. 109original + quote
دونوں کے درمیان اس غیر معمولی فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محبت کا پانی تھا، اور یہ نفرت کا خون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی غلطیوں پر محبت کا پانی بہایا تھا، موجودہ مسلمان لوگوں کی غلطیوں پر نفرت کا خون بہا رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ محبت اور نفرت دونوں کا انجام یکساں نہیں ہو سکتا۔ محبت کے پانی کی ایک بالٹی بھی دلوں کو بدل دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر نفرت کے خون کی لاکھوں بالٹیاں بھی انڈیل دی جائیں تو وہ لوگوں کے دلوں کو پھیرنے والی نہیں بنیں گی۔ p. 110
مزید وضاحت کے لیے یہاں ایک اور واقعہ درج کیا جاتا ہے۔1968 میں ایک مسلمان تاجر نے یوپی کے ایک شہر میں اپنا گھر بنایا۔ اس کے قریب ایک ہندو ٹھیکیدار کا گھر تھا۔ دونوں گھروں کے درمیان ایک غیر ہموار خالی زمین تھی۔ مسلمان کا خیال تھا کہ یہ میری زمین ہے، انہوں نے چاہا کہ اس کو ہموار کریں اور اس کی گھیرا بندی کرکے اس کو اپنے مکان میں شامل کر لیں۔ ہندو ٹھیکیدار کو اس پر اعتراض ہوا۔ اس نے کہا کہ یہ میری زمین ہے۔ آپ کا اس پر کوئی حق نہیں۔ p. 110
خلاصہ یہ کہ ہندو ٹھیکیدار نے شہر فرقہ پرست ہندوؤں کو اکسایا۔ یہاں تک کہ ایک روز ہندوؤں کا غصہ میں بھرا ہوا ایک ہجوم مسلمان کے گھر کے سامنے کی سڑک پر جمع ہوگیا۔ وہ اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔ مسلمان کے پاس بندوق موجود تھی، مگر اس نے بندوق استعمال نہیں کی۔ وہ خالی ہاتھ باہر نکلا، مجمع کا اندازہ کرنے کے بعد اس نے کہا کہ آپ میں لیڈر کون ہے۔ ایک شخص(مسٹر سونڈ) آگے بڑھے۔ مسلمان نے مجمع سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریئے۔ اور سونڈ کو لے کر اندر اپنے دفتر میں گیا۔ وہاں ان کو بٹھا کر ان سے بات چیت شروع کی۔ p. 110
مسلمان نے پوچھا کہ آپ حضرات نے کیوں زحمت فرمائی۔ مسٹر سونڈ نے نہایت روکھے انداز میں جواب دیا کہ آپ نے ہمارے بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے، اس لیے ہم یہاں آئے ہیں۔ مسلمان نے کہا کہ ٹھیک ہے۔دیکھیے زمین کاغذ پر ہوتی ہے۔ یعنی زمین کا فیصلہ کاغذی نقشہ اور دستاویزات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اب آپ ایسا کریں کہ زمین سے متعلق جو کاغذات میرے پاس ہیں وہ مجھ سے لے لیں، اور جو کاغذات ٹھیکیدار صاحب کے پاس ہیں، وہ ان سے لے لیں۔ اس کے بعد آپ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیں۔ دونوں کے کاغذات کو دیکھ کر آپ جو فیصلہ کر دیں گے وہی مجھے منظور ہے۔ p. 110unverified
یہ سنتے ہی مسٹر سونڈ کا انداز بدل گیا۔ وہ ہنستے ہوئے باہر نکلے اور اپنے آدمیوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ میاں صاحب نے خود ہم کو اس معاملے میں جج بنا دیا ہے۔ ہم معاملے کی جانچ کرنے کے بعد اس کا فیصلہ کریں گے۔ مسٹر سونڈ اور ان کے ساتھیوں نے چند دن کاغذات کی جانچ کی۔ اس کے بعد انہوں نے مکمل طور پر مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ p. 111
مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق نکالتا اور ہندوؤں سے لڑائی کرتا تو وہ ان کی نفس امّارہ کو جگاتا۔ ایسی حالت میں فریق ثانی کا صرف’’دشمن انسان‘‘ اس کے حصے میں آتا۔ مگر جب اس نے شرافت اور اخلاق والا انداز اختیار کیا تو اس نے فریق ثانی کے اندر چھپے ہوئے اپنے ’’دوست انسان‘‘ کو جگا دیا۔ اس کے بعد وہی موافق انجام ہو سکتا تھا جس کا اوپر ذکر ہوا۔ p. 111