Raah-e-Amal

امام حسنؓ کا نمونہ

Raah-e-Amal — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (94 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. اصول اور فروع
  3. جڑ اور شاخیں
  4. افاقی حقیقت
  5. ایک مثال
  6. دعوت کے بجائے تحفظ
  7. داخل کے بجائے خارج
  8. تبدیلی انسان کے بجائے تبدیلی حکومت
  9. کلیات کے بجائے جزئیات
  10. سبب کے بجائے مرض
  11. راہ عمل
  12. پیغمبر اسلام کی ہدایت
  13. سیاسی بگاڑ
  14. امام حسنؓ کا نمونہ
  15. امام حسینؓ کا نمونہ
  16. دو عملی نمونے
  17. تاریخ امت
  18. نمائندہ گروہ
  19. ایک اہم سبق
  20. اسلام کی طاقت
  21. ایک جائزہ
  22. حکمرانوں پر اثر
  23. سیاسی بدعت
  24. اجماع امت
  25. ناقص استدلال
  26. نمونہ کا مسئلہ
  27. موجودہ زمانے کا تجربہ
  28. ناکامی کااعتراف
  29. نوابادیاتی زمانہ
  30. میدان عمل کا مسئلہ
  31. جاپان کی مثال
  32. فوج سے زیادہ طاقت ور
  33. روس کی مثال
  34. ہندوستانی مسلمانوں کی جدید تاریخ
  35. ایک شخص دو مثال
  36. اصلاح کی طرف
  37. اصل کمی
  38. اسلام اکیسیویں صدی میں
  39. جاپان کی مثال
  40. خدائے واحد کی تلاش
  41. ازادانہ تحقیق کا نتیجہ
  42. مذاہب کا تضاد
  43. اخوت و مساوات کا مذہب
  44. مادی مذہب کی ناکامی
  45. داعیانہ جذبہ
  46. پیغمبرانہ رہنمائی
  47. اعلی کامیابی کا راز
  48. صراط مستقیم
  49. ایمانی حوصلہ
  50. فطرت سے مطابقت
  51. انقلابی زاویہ ٴنظر
  52. نفس امارہ، نفس لوامہ
  53. برائی کے بدلے بھلائی
  54. تعمیر و استحکام
  55. خلاصہ کلام
  56. صبر ایک ابدی حکم
  57. دعوت کا دور
  58. خلافت کا دور
  59. ملوکیت کا دور
  60. دعوت کی اہمیت
  61. قربانیاں بے نتیجہ رہیں
  62. فرض منصبی سے غفلت
  63. یہود کی مثال
  64. دعوت شاہ کلید
  65. اخری بات
  66. انالکم ناصح امین
  67. احساس نصح کا فقدان
  68. احساس امانت کا فقدان
  69. سیف اللہ کا پیغام
  70. موتہ کا سبق
  71. دعوت کا میدان
  72. سبب اپنے اندر
  73. ایک مثال
  74. موعود نہ کہ مقصود
  75. چالیس سالہ انتظار
  76. ابتدائی عمل
  77. وقفہ تعمیر
  78. اسلامی دعوت
  79. اسلام کیا ہے
  80. جنت کیا ہے
  81. مومنانہ زندگی
  82. اسلامی دعوت
  83. اسلامی انقلاب
  84. پیغمبر کا کام
  85. مسلم دنیا سے مغربی دنیا کی طرف
  86. جدید انقلاب کی اسلامی اہمیت
  87. مغرب کا غلبہ مسلم دنیا پر
  88. سیاسی انقلاب کی نوعیت
  89. مسلم دنیا میں سیاسی ردعمل
  90. موجودہ زمانے کی اسلامی تحریکیں
  91. فخر نہیں ذمہ داری
  92. کرنے کا کام
  93. دعوت اور عمل
  94. اصل رکاوٹ

امام حسنؓ کا نمونہ p. 29

حضرت امام حسنؓ (3-50ھ) حضرت علی کی شہادت کے بعد خلیفہ بنائے گئے۔ اس وقت صورت ِ حال یہ تھی کہ امیر معاویہ شام اور دوسرے ملحق علاقوں کے حاکم تھے۔ وہ امام حسنؓ کی بیعت پر راضی نہیں ہوئے۔ جس طرح انہوں نے اس سے پہلے چوتھے خلیفہ حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امام حسنؓ اور امیر معاویہ میں سخت کشیدگی ہوئی اور جنگ کے حالات پیدا ہو گئے۔ p. 29

اس وقت امام حسنؓ کے ساتھ 40 ہزار آدمیوں کا لشکر تھا۔ دوسری طرف امیر معاویہ کے ساتھ بھی 40 ہزار یا اس سے کچھ زیادہ آدمیوں کا لشکر موجود تھا۔ امام حسنؓ 6 مہینہ تک خلافت کے عہدے پر رہے۔ مگر ان کی کوششوں کے باوجود امیر معاویہ ان کے ہاتھ پر بیعت کے لیے راضی نہ ہو سکے۔ p. 29

امام حسنؓ نے محسوس کیا کہ اگر میں امیر معاویہ سے بیعت پر مزید اصرار کرتا ہوں تو اس کا لازمی نتیجہ جنگ ہو گا جس میں دونوں طرف کے ہزاروں مسلمان مارے جائیں گے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یک طرفہ طور پر امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو جائیں۔ امام حسنؓ کے ساتھیوں نے سخت اختلاف کیا اور انہیں معاویہ کے خلاف لڑنے پر ابھارا ۔ مگر وہ کسی قیمت پر لڑنے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور 41ھ میں خلافت کو امیر معاویہ کے حوالے کر کے خانہ نشین ہو گئے۔ p. 30

خلافت سے دستبرداری کے بعد امام حسنؓ نے مسلمانوں کے سامنے ایک تقریر کی جس میں انہوں نے کہا اے مسلمانو، میں فتنہ کو بہت برا سمجھتا ہوں۔ میں نے مسلمانوں کی جان و مال کو بچانے کے لیے معاویہ بن ابی سفیان سے صلح کر لی ہے۔ اور ان کو امیر اور خلیفہ تسلیم کیا ہے۔ سنو، امارت اور خلافت اگر ان کا حق تھا تو وہ ان کو پہنچ گیا اور اگر وہ میرا حق تھا تو میں نے اس کو انہیں بخش دیا۔ (دیکھیے، الاستیعاب لا بن عبدالبر، جلد 1، صفحہ نمبر 389) p. 30unverified

یہ صلح حضرت علی کی شہادت کے چھ ماہ بعد 41ھ میں کوفہ میں ہوئی۔ اسی لیے اسلام کی تاریخ میں 41ھ کو عام الجماعت کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس صلح نے مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو باہمی اتحاد میں تبدیل کر دیا۔ اگرچہ اس وقت کے پرجوش لوگوں نے امام حسنؓ کی سخت مخالفت کی۔ حتیٰ کہ ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی اور ان کو عار المسلمین کا خطاب دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امام حسنؓ کا کارنامہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔ اس کے بارے میں بہترین تبصرہ وہ ہے جو امیر معاویہ سے منقول ہے۔ انہوں نے امام حسنؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاتھا کہ ابو محمد، تم نے آج ایسی بہادری اور جواں مردی دکھائی ہے جیسی بہادری اور جواں مردی اب تک کوئی بھی نہ دکھا سکا تھا۔ p. 30original + quote

امام حسنؓ کی خلافت صرف چھ مہینے تک رہی۔ نیز یہ کہ وہ ازخود خلافت سے دستبردار ہو گئے۔ اس بنا پر مورخین عام طور پر ان کو خلافت راشدہ کی فہرست میں شامل نہیں کرتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اسلامی خلافت کی ایک شاندار سنہری کڑی ہیں۔ p. 30original + quote

امام حسنؓ نے دس سال کی بھیانک خانہ جنگی کو ایک لمحہ میں ختم کر دیا۔ حضرت عثمان کے آخری دور اور ان کی شہادت (35ھ) سے لے کر حسنؓ اور معاویہ کے درمیان صلح (41ھ) تک مسلم دنیامیں جو انتشار رہا، اس نے اسلام دشمنوں کو ریشہ دوانی کا زبردست موقع دے دیا تھا۔ یہ تمام سازشیں صلح کے بعد اچانک درہم برہم ہو گئیں۔ حضرت عثمان کی خلافت کے نصف حصے کے بعد اسلامی فتوحات کاسلسلہ رک گیاتھا ، اب وہ دوبارہ جاری ہو گیا۔ چنانچہ اس کے بعد مسلمانوں نے بحر روم کے جزیروں پر قبضہ کیا ، طرابلس الغرب ، مراکش، اسپین، سندھ، افغانستان، ترکستان وغیرہ فتح ہوئے۔ مسلمان پیش قدمی کر کے قسطنطنیہ کی دیواروں تک پہنچ گئے۔ p. 31

امام حسنؓ کی صلح کا یہ بے حد اہم فائدہ ہوا کہ مسلمانوں کی تلواریں جو آپس میں ایک دوسرے کا خون بہا رہی تھیں ، ان کارخ باہر کی طرف ہو گیا۔ پوری مسلم دنیا اچانک ایک ناقابل تسخیر متحدہ طاقت بن گئی۔ اسلام کا سیلاب جس کو آپس کی لڑائیوں نے روک دیاتھا ، وہ دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ عالمی سطح پر رواں ہو گیا۔ p. 31