Paiqhambar-e-Inqilab

دعوت کا رد عمل

Paiqhambar-e-Inqilab — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (55 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. حصہ اول ادم سے مسیح تک
  3. نبوت محمدی کا ظہور
  4. مثالی کردار
  5. برتر اخلاقیات
  6. اسباق سیرت
  7. سنت رسول
  8. حصہ دوم پیغمبر انقلاب
  9. ایک تقابل
  10. نصرت خدا وندی
  11. دین توحید اور دین شرک
  12. اعلاء کلمۃ اللہ
  13. ایک نئی قوم برپا کرنا
  14. خیر امت
  15. غیرمتعلق مسائل سےتعرض نہ کرنا
  16. خدائی منصوبہ سے مطابقت
  17. حالات سے بلند ہو کر
  18. پیغمبرانہ طریق کار
  19. اندرونی طاقت
  20. خارجی نشانہ دعوت
  21. صبر و استقامت
  22. اللہ پر بھروسہ
  23. پیغمبر مکہ میں
  24. اغاز دعوت
  25. دعوت کی زبان
  26. عربوں کی صلاحیت
  27. دعوت کی ہمہ گیری
  28. دعوت کے مصالح
  29. دعوت کا رد عمل
  30. قبیلہ سے اخراج
  31. اہل یثرب کا اسلام
  32. ہجرت
  33. مہاجرین کی نصرت
  34. فتح اسلام
  35. فتح کے بعد
  36. ایک سوال اور اس کا جواب
  37. اپ کا معجزہ— قران
  38. اجتماعی انقلابات
  39. ادبی ارتقاء
  40. اصحاب رسول
  41. دین ان کے لیے محبوب چیز بن گیا تھا
  42. پیغمبر کو اغاز تاریخ میں پہچاننا
  43. قران کو دور نزاع میں اپنانا
  44. غیر قائم شدہ صداقت کے لیے مال لٹانا
  45. اپنا تاج دوسرے کےسر پر رکھنا
  46. اپنی محدودیت کو جاننا
  47. ذمہ داری کو اپنے اوپر لے لینا
  48. شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
  49. قانونی حد سے اگے بڑھ کر ساتھ دینا
  50. اختلاف سے بچ کر اصل نشانہ پر لگے رہنا
  51. پچھلی نشست پر بیٹھنے کے لیے راضی ہو جانا
  52. غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی طاقت
  53. درخت کی طرح اگے بڑھنا
  54. اظہار رسالت عہد حاضر میں
  55. ہیرووں کی نرسری

دعوت کا رد عمل p. 194

آپ نے اپنی دعوتی مہم کا آغاز کیا، تو وہ سارے واقعات پیش آنے شروع ہوئے جو کسی معاشرہ میں نئي آواز بلند ہونے کی صورت میں پیش آتے ہیں ۔ کچھ لوگ حیران تھے کہ یہ کیا چیز ہے۔ عبد بن حمید نےاپنی مسند میں نقل کیاہے کہ قریش کے سرداروں نے ایک بار عتبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر آپ کے پاس بھیجا۔ اس نے آپ کی تردید میں ایک لمبی تقریر کی، جب وہ کہہ چکا تو آپ نے کہا فَرَغْتَ، اس نے کہا ہاں۔ آپ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہا اور حم سجدہ کی ابتدائی 13آیتیں پڑھ کر اسے سنائیں ۔ عتبہ نے سن کر کہا بس بس، اس کے سوا اور کچھ تمہارے پاس نہیں (حَسْبُك حَسْبُك، مَا عِنْدَك غَيْرُ هَذَا؟)آپ نے فرمایا نہیں ۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ حسب ذیل ہیں p. 194original + quote

فَرَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ، فَقَالُوامَا وَرَاءَك؟ قَالَمَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَرَى أَنَّكُمْ تُكَلِّمُونَهُ بِهِ إِلَّا كَلَّمْتُهُ، قَالُواهَلْ أَجَابَك؟ قَالَنَعَمْ، وَالَّذِي نَصَبَهَا بَنِيَّةً، مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَأَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ ، قَالُواوَيْلَك يُكَلِّمُك رَجُلٌ بِالْعَرَبِيَّةِ لَا تَدْرِي مَا قَالَ، قَالَلَا، وَاللهِ مَا فَهِمْتُ شَيْئًا مِمَّا قَالَ غَيْرَ ذِكْرِ الصَّاعِقَةِ (مسند ابویعلی، حدیث نمبر 1818)۔ يعني، پھر عتبہ قریش کے پاس آیا۔ انہوں نے پوچھا کیاہوا۔ عتبہ نے جواب دیا، تم لوگ جو کچھ کہتے وہ سب میں نے کہہ ڈالا۔ انہوں نے پوچھا پھر کیا کوئی جواب دیا۔ عتبہ نے کہا ہاں۔ پھر بولا خدا کی قسم اس نے جو دلیل دی، اس سے میں کچھ نہیں سمجھا، سوا اس کے کہ تم کو عا د و ثمود جیسے کڑکے سے ڈرایا ہے۔ قریش نے کہا تمہارا برا ہو ایک شخص تم سے عربی میں بات کر رہاہے اور تم نہیں سمجھتے کہ اس نے کیا کہا۔ عتبہ نے کہا خدا کی قسم اس نے جو کچھ کہا اس سے میں کڑکے کے سوا کچھ نہیں سمجھا۔ p. 195unverified

کچھ لوگ جو مذہب کے ایک خاص روایتی ڈھانچے سے مانوس ہو چکےتھے، انہیں آپ کی دعوت میں اسلاف کی تحقیر کی بو نظر آئی۔ ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں نیز نسائی او ر بغوی وغیرہ نے نقل کیاہے کہ حضرت ضماد مکہ آئے تاکہ عمرہ کریں۔ ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھ گئے جس میں ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف تھے۔ ابو جہل نے کہا p. 195original + quote

هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي فَرَّقَ جَمَاعَتَنَا وَسَفَّهَ أَحْلَامَنَا وَأَضَلَّ مَنْ مَاتَ مِنَّا وَعَابَ آلِهَتَنَا فَقَالَ أُمَيَّةُالرَّجُلُ مَجْنُونٌ غَيْرَ شَکٍّ (دلائل النبوۃ لابی نعیم، حدیث نمبر 187)۔ يعني،اس شخص نے ہماری جماعت میں اختلاف ڈال دیا۔ ہم سب کو بیوقوف بتایا۔ ہمارے اسلاف کو گمراہ قرار دیا۔ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا۔ امیہ بولا اس آدمی کے پاگل ہونے میں کوئی شک نہیں۔ p. 195quoted source

عمر و بن مرہ جہنی نے اپنے قبیلہ جہینہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو ایک شخص نے کہا p. 195

يا عمرو بن مرة أمر الله عيشك أتأمرنا برفض آلهتنا وأن نفرق جمعنا وأن نخالف دين آبائنا الشيم العلى إلى ما يدعونا إليه هذا القرشي من أهل تهامة لا حبا ولا كرامة(اے عمر و بن مرہ ! خدا تیری زندگی تلخ کردے کیا تو ہم کو ہمارے معبودوں کوچھوڑنے کا حکم دیتا ہے اور یہ کہ ہم اپنی جمعیت کو منتشر کردیں، اوراپنے باپ دادا کے دین کی مخالفت کریں جو اخلاق عالیہ کے مالک تھے۔ یہ تہامہ کا رہنے والا قریشی ہمیں کس چیز کی طرف بلاتا ہے اس میں نہ کوئی شرافت ہے نہ کرامت )۔ p. 196other source

اس کے بعد اس نے تین شعر پڑھے۔ آخری شعر یہ تھا p. 196

ليسفه الأشياخ ممن قد مضى من رام ذلك لا أصاب فلاحا p. 196

وہ ہمارے گزرے ہوئے اسلاف کو احمق ثابت کرنا چاہتا ہے اور جس کا ایسا ارادہ ہو وہ کبھی فلاح نہیں پاسکتا (تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد46، صفحہ345)۔ p. 197original + quote

کچھ لوگوں کے لیے حسد مانع ہو گیا۔ کیوں کہ آپ اپنی پیغمبری کا اعلان کررہے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میرے پاس حقیقت کا علم ہے اور انسان کے لیے ہمیشہ یہ مشکل ترین امر رہا ہے کہ وہ کسی کے بارے میں یہ اعتراف کرے کہ خدا نے اس کو حقیقت کا وہ علم دیا ہے جو خود اسے نہ مل سکا۔ بیہقی نے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے کہ ابو جہل بن ہشام نے ایک روز ان سے علیحٰدگی میں کہا p. 197original + quote

وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَن مَا يَقُول حق، وَلَكِن [يمنعنى] شئ، إِنَّ بَنِي قُصَيٍّ. قَالُوافِينَا الْحِجَابَةُ.فَقُلْنَانَعَمْ.ثُمَّ قَالُوا فِينَا السِّقَايَةُ فَقُلْنَانَعَمْ.ثُمَّ قَالُوا فِينَا النَّدْوَةُ. فَقُلْنَا نَعَمْ. ثُمَّ قَالُوافِينَا اللِّوَاءُ.فَقُلْنَانَعَمْ... قَالُوامِنَّا نَبِيٌّ! وَاللهِ لَا أَفْعَلُ (السيرة النبوية لابن كثير، جلد1، صفحہ 507)۔ يعني،خدا کی قسم میں خوب جانتاہوں کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں ، حق ہے مگر مجھے ایمان لانے میں ایک چیز مانع ہے۔ بنی قصی نے کہا کہ کعبہ کی دربانی ہماری ہے۔ ہم نے کہا ہاں۔ پھر بنی قصی نے کہا حاجیوں کو پانی پلانے کا کام ہمارا ہے۔ ہم نے کہاہاں۔ پھر بني قصی نے کہا کہ دارالندوہ میں ہمارا حق ہے، ہم نے کہا ہاں۔ پھر انہوں نے کہا جنگ میں جھنڈا اٹھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم نے کہا ہاں۔ اب وہ کہتے ہیں کہ نبوت ہمارے اندر ہے۔ پس خدا کی قسم میں ہر گز اس کو نہیں مانوں گا۔ p. 197unverified

کچھ لوگ آپ کے اس لیے مخالف ہوگئے کہ آپ کی دعوت کو مان لینے میں انہیں اپنا اقتصادی خطرہ نظر آتاتھا۔ اسلام سے قبل خانہ کعبہ ایک بہت بڑ ا بت خانہ تھا جس میں تمام مذاہب کے بت رکھے ہوئے تھے حتٰی کہ اس میں مسیح اور مریم کی بھی تصویر یں تھیں۔ اس طرح کعبہ تمام مذاہب کے لوگوں کی زیارت گاہ بن گیاتھا۔ چارحرام مہینوں کی غرض بھی یہی تھی۔ کیوں کہ اس زمانے میں تمام مذاہب کے لوگ مکہ آتے رہتے تھے۔ اگربتوں کو خانہ کعبہ سے ہٹا دیاجاتا تو کوئی شخص کعبہ کی زیارت کے لیے نہ آتا اور مکہ کا بازار جو چار مہینوں تک لگا رہتا تھا، بند ہوجاتا۔ اس لیے مکہ کے باشندے آپ کی دعوت کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ ان کاخیال تھا کہ اگر توحید کا دین فروغ پاگیا تو یہ غیر ذی زرع علاقہ بالکل تباہ ہوجائے گا نیز کعبہ کی تولیت نے قریش کو مختلف قبائل میں سرداری کا مقام دے رکھا تھا۔ ایک مورخ لکھتے ہیں : p. 197original + quote

کانت اموالھا وتجارتھا تسافرفی الشرق والغرب فی ظلال معاہدات تجاریۃ بینھا و بین اہم و ثنیۃ مثلھا کفارس وامم مسیحیۃ کا لجشۃ و کمثل بیز نطۃ وکانت قریش تتصوران تاییدھا لرسالۃ محمد انمایعنی شیئا واحد اھون ان تتحلل الامم المجاورۃ لھابل و قبائل العرب نفسھا المقیمۃ علی الوثنیۃ من تعھد اتھا بحمایۃ تجارۃ قدیش وقوافلھا واذا حدث ذلک فھذ ایعنی موت قریش تجاریا واقتصاد یا وانتھاء عصر سیادتھا علی العرب۔ یعنی، قریش کے اموال اور ان کی تجارتیں مشرق و مغرب میں سفر کرتی تھیں۔ یہ سفر تجارتی معاہدوں کے تحت ہوتا تھا جو انہوں نے دوسری قوموں سے کر رکھا تھا۔ مثلاً فارس، حبشہ اور بازنطینی سلطنت۔ قریش کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے رسالت محمدی کی تائید کی تو اس کا مطلب صرف ایک ہوگا، وہ یہ کہ پڑوسی قومیں او ر عرب کے بت پرست قبائل معاہدات ختم کردیں گے جو انہوں نے قریش کے تجارتی قافلوں کے بارے میں کر رکھے ہیں اور جب ایساہو گا تو یہ قریش کی تجارتی موت کے ہم معنی ہوگا اور عرب پر ان کی قیادت ختم ہو جائے گی۔ p. 198unverified

چنانچہ سورہ واقعہ (56:82)کی آیت ’’وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اِنْکُمْ تُکَذِّبُوْنَ‘‘کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ تم تکذیب کواپنی غذا بنا رہے ہو۔ یعنی یہ سمجھ رہے ہو کہ پیغمبر اسلام کی دعوت توحید کا انکار کر کے تم اپنی اقتصادیات اور اموال کو محفوظ رکھ سکو گے۔ p. 198original + quote

آپ کی دعوت کے نتیجہ میں آپ کا وجود ایک سو الیہ نشان بن گیاتھا۔ دیکھنے والا دوسرے شخص سے پوچھتا کیا یہی وہ ہیں (أَهُوَ هُوَ)مسند ابویعلی الموصلی، حدیث نمبر 6830۔ p. 198original + quote

ایک روایت میں ہے p. 199

وَيَمْشِي بَيْنَ رِجَالِهِمْ، وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ (مسنداحمد، حدیث نمبر 14456)۔ یعنی، آپ قافلوں کے درمیان چلتے تو لوگ انگلیوں سے آپ کی طرف اشارہ کرتے۔ p. 199original + quote

اب کوئی مکہ آتا تو واپس جاکر اپنے ساتھی کو دوسری باتوں کے ساتھ یہ خبر بھی دیتا کہ مُحَمَّدُ بْنُ عبد الله تَنَبَّأَ، وَقَدْ تَبِعَهُ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ(دلائل النبوۃ للبیہقی، صفحہ 28)۔ یعنی، محمد بن عبد اللہ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ابن ابی قحافہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ قریش نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذممّ رکھ دیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3533)۔ وہ آپ پر اپنے آباء و اجداد کو احمق قراردینے کا الزام لگاتے(مسند احمد، حدیث نمبر7036)۔ آپ کے راستہ میں رات کے وقت گندی چیزیں ڈال دیتے۔ ایک بار آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَيُّ جِوَارٍ هَذَا ( سیرت ابن ہشام،جلد1، صفحہ416)۔یعنی، اے قریش کے لوگو!یہ کیسا پڑوس ہے۔ p. 199original + quote

ابو طالب کی زندگی تک وہ آپ کے خلاف کوئی جار حانہ کا رروائی کرنے کی ہمت نہ کرسکے۔ کیونکہ قبائلی نظام کے تحت آپ سے جنگ کرنا پورے قبیلۂ بنی ہاشم سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا۔ عمر بن الخطاب جب اسلام سے پہلے ایک بار تلوار لے کر آپ کے قتل کے ارادے سے نکلے توایک شخص کا یہ جملہ عمر کے غصہ کو ٹھنڈا کر نے کے لیے کافی تھا وَكَيْفَ تَأْمَنُ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي زُهْرَةَ وَقَدْ قَتَلْتَ مُحَمَّدًا؟(دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد2، صفحہ219)۔ یعنی، بنو ہاشم اوربنو زہرہ سے کیسے بچ پاؤگے، جب تم محمد کو قتل کر دوگے۔ جب بھی کوئی شخص آپ کے خلاف جارحانہ ارادہ کرتا تو فوراً یہ سوال اس کے سامنے آجاتا۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ میں جو جارحانہ مظالم ہوئے وہ زیادہ تر غلاموں اور لونڈیوں کے خلاف ہوئے۔ امام احمد اور ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ ابتدائی دور میں سات افراد نے مکہ میں اسلام کا اعلان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر،عمار، سعید،صہیب، بلال اور مقداد p. 200original + quote

فَأَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، وَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر150؛مسند احمد، حدیث نمبر 3832 )۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے ان کے چچا کے ذریعہ محفوظ رکھا۔ حضرت ابوبکر کی حفاظت ان کی قوم کے ذریعہ کرائی۔ بقیہ مسلمانوں کو مشرکین نے پکڑا۔ ان کو لو ہے کی زر ہیں پہنائیں اور سخت دھوپ میں  انہیں تپایا۔ p. 200original + quote

اما م بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن جعفر سے روایت کیا ہے کہ جب بنی ہاشم کے سردار ابوطالب کی وفات ہوگئی تو قریش کےکسی بد تمیز شخص نے آپ کے اوپر مٹی ڈال دی۔ آپ گھر واپس آئے تو آپ کی ایک لڑکی نے مٹی جھاڑی۔ اس وقت آپ نے فرمایا مجھے قریش سے اب تک کسی مکر وہ چیز کا سابقہ نہیں پڑاتھا۔ ابو طالب کی وفات ہو گئی تو انہوں نے اس قسم کی حرکتیں شروع کردیں۔ حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت میں ہے p. 200unverified

لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ تَجَهَّمُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَيَا عَمِّ مَا أَسْرَعَ مَا وَجَدْتُ فَقْدَك(حلیۃ الاولیاء، جلد 8، صفحہ308)۔یعنی، ابو طالب کی وفات ہو گئی تو قریش مکہ نے آپ کے ساتھ نہایت سختی کا برتاؤ کیا،آپ نے فرمایا چچا، آپ کے نہ ہونے کا احساس مجھے کتنی جلد ہو گیا۔ p. 200original + quote

ابو طالب کی وفات کے بعد قریش میں آپ کے قتل کے مشورے شروع ہوگئے۔ ابوجہل کا آپ کے سر میں اوجھ ڈالنا اور عقبہ بن معیط کا آپ کی گردن میں چادر ڈال کر کھینچنا اسی دور کے واقعات ہیں جب کہ گلا گھونٹ کر آپ کو مار ڈالنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ ابوطالب کی وفات کے بعد بظاہر آپ کے خلاف جار حانہ کارروائی کے لیے راستہ صاف ہوگیا تھا تاہم ایک قسم کی جھجک اس لیے باقی تھی کہ یہ عرب کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ اس کے علاوہ خود مشرکین میں اب بھی کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو ضمیر کی آواز کےتحت آپ کی حمایت کرتے تھے۔ مثلاً ابو جہل نے جب پہلی بار آپ کے سر اور گردن میں اوجھ ڈال کر آپ کا گلا گھوٹنا چاہا تو ابو البختری کو خبر ہوئی،وہ کوڑالے کر خانہ کعبہ میں آیا، جہاں ابو جہل فاتحانہ انداز سے اپنے ساتھیوں میں بیٹھا ہو اتھا۔ تحقیق کے بعد جب واقعہ صحیح نکلاتو اس نےاسی وقت ابو جہل کے سر پر اتنے زور سے کوڑا ماراکہ وہ چلا اٹھا۔ p. 201

مذاہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ شرک اپنے خلاف تنقید سننے کے لیے ہمیشہ بے حد حساس رہاہے۔ پھر قدیم زمانہ میں چونکہ اجتماعی نظام کی بنیاد بھی شرک ہی پر قائم ہوتی تھی اس لیے اس شدت کے حق میں سیاسی اسباب بھی جمع ہو جاتے تھے۔ چنانچہ مکہ کے ماحول میں توحید کی دعوت آپ کے لیے انتہائی صبر آزماثابت ہوئی۔ ابتدائی تین سال تک چند آدمیوں کے سواکوئی آپ پر ایمان نہ لاسکا۔ دو مربع کیلو میٹر میں آبا د مکہ میں جس طرح درخت کا کوئی سایہ نہ تھا، اسی طرح وہ آپ کے ساتھیوں اور طرف داروں سے بھی خالی تھا۔ بستی میں صرف چار آدمی تھے جو آپ کے قریب ہو سکتے تھے خدیجہ، علی، زید اور ابو بکر۔ اگر حضرت ابو بکر کی بچی عائشہ کو بھی شامل کر لیا جائے، جو گو یا پہلی پیدائشی مسلمان تھیں، تو آپ کے حامیوں کی تعداد پانچ ہو جاتی ہے۔ p. 201

تین سال تک یہی سلسلہ جاری رہا، اس وقت یہ حال تھا کہ آپ گھر سے باہرنکلتے تو دیوانوں کی طرح آپ کا استقبال کیا جاتا۔ ایک روز ابو جہل کی تحریک سے ایک جماعت آپ کو گالیاں دے رہی تھی اور آپ کو برا بھلاکہہ رہی تھی کہ ایک شخص ادھر سے گزرا۔ مکہ کے ایک معزز شخص کے خلاف یہ سلوک اس کو نا قابل بر داشت معلوم ہوا۔ وہ آپ کے چچا حمزہ کے یہاں گیا ’’آپ کی غیرت کو کیاہوا‘‘ اس نے کہا ’’لوگ آپ کے بھتیجے کو ذلیل کر رہے ہیں اور آپ ان کی مدد نہیں کرتے ‘‘ حمزہ بن عبد المطلب کی عرب غیرت جوش میں  آئی، اسی وقت ابو جہل کے یہاں پہنچے اور اپنی لو ہے کی کمان اس کے سرپرد ے ماری اور کہا کہ ’’آج سے میں بھی محمد کا دین قبول کر تاہوں ، تم کو جو کرنا ہو کر و‘‘ (دِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ، فَوَاللهِ لَا أَنْثَنِي عَنْ ذَلِك، فَامْنَعُونِي مَنْ ذَلِك إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2926۔ p. 201unverified

حمزہ عرب کے مشہور پہلوان تھے۔ اب کچھ لوگوں کو حوصلہ ہوا اور مسلمانوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی۔ اس وقت مکہ میں دو انتہائی با اثر افراد تھے۔ ایک عمر بن الخطاب، دوسرے ابو جہل بن ہشام۔ آپ نے دعا فرمائی کہ خدایا، ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو طاقت پہنچا (اللهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 10314۔ آپ کی یہ پکا ر اول الذکر کےحق میں قبول ہوئی۔ نبوت کےچھٹے سال حضرت عمر کا اسلا م بہت سے دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف لانے کا سبب بنا اور اب مسلمانوں کی تعداد چالیس ہوگئی۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مسلمان ابن ارقم کے مکان میں اپنا پوشیدہ مرکز بنائے ہوئے تھے۔ مستدرک الحاکم میں دار ارقم میں جمع ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 39بتائی گئی ہے(مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 6130)۔ p. 202original + quote

مگر جو لوگ مروجہ نظام کے زیر سایہ عمل کر رہے ہوں، ان کی طاقت ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک عارضی وقفہ کے بعد مظالم کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔ آپ کو ہر قسم کی تکلیف دینے کے باوجود وہ آپ کو قتل نہ کرسکتے تھے۔ کیونکہ قبائلی رواج کے مطابق کسی قبیلہ کے ایک فرد کو قتل کر نا پور ے قبیلہ سے جنگ کرنے کےہم معنی تھا۔ یہی مسئلہ تھا جس کی بنا پر حضرت شعیب کی قوم نے ان سے کہا کہ اگر تمہارے قبیلہ کا خوف نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مارمار کر ہلاک کر دیتے (ھو د، 11:91)۔ p. 202original + quote

قریش نے بنی ہاشم کے سردار اور آپ کے چچا ابو طالب بن عبد ا لمطلب سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کو قبیلہ سے خارج کردیں تاکہ قریش کے لیے آپ کو قتل کرنا ممکن ہوجائے۔ مگر ابوطالب کی غیرت اس کے لیے تیار نہ ہوئی۔ ایک بار قریش کی شکایت پر جب ابو طالب نے آپ سےکہا کہ تم ان کے بتوں پر تنقید کرناچھوڑ دو تو آپ کو اندیشہ ہوا کہ وہ آپ کو قریش کے حوالے کردیں گے (أَنَّهُ قَدْ بَدَا لِعَمِّهِ فِيهِ بَدَاءٌ أَنَّهُ خَاذِلُهُ وَمُسْلِمُه)۔مگر ابو طالب نے فوراً یہ کہہ کر آپ کو مطمئن کردیافَوَ الله لَا أُسْلِمُك لِشَيْءِ أَبَدًا(اللہ کی قسم، میں تمھیں کسی چیز کے بدلے کبھی بھی ان کے حوالے نہیں کروں گا)سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 266۔ p. 202original + quote

اب قریش نے ایک اجتماعی معاہدہ کر کے بنی ہاشم کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ یہ نبوت کا ساتواں سال تھا، اس کے بعد ابو طالب آپ کو اور آپ کےخاندان کو لےکر مکہ کےباہر نکل گئے اور ایک گھاٹی میں مقیم ہوئے جس کو شعب ابی طالب کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خشک پہاڑی درہ تھا جس میں بعض جنگلی درختوں کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ آپ تین سال تک اس حال میں رہے کہ درخت کی پتیاں اور جڑیں کھاکر گزارہ کرتے، اس سے مستثنیٰ صرف وہ چار حرام مہینے تھے جب کہ آپ کےخاندان کے لوگ مکہ جاتے اور قربانی کے جانوروں کا گوشت لے آتے اور اس کو سکھا کر رکھ لیتے جو عرصہ تک غذا کا کام دیتاتھا۔ p. 202

تین سال بعد نبوت کے دسویں برس معاہدہ ختم ہو گیا مگر اس کی شدت ابو طالب کے لیے جان لیو اثابت ہوئی۔ ابو طالب کے انتقال (620ء) کے بعد قبیلہ کے سب سے بزرگ فرد کی حیثیت سے عبد العزی (ابو لہب ) بنی ہاشم کا سردار بن گیا۔ اب دشمن خود جج کی کرسی پر تھا۔ اس نےآپ کو قبیلہ سےخارج کیے جانے کا اعلان کردیا۔ p. 203