Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
استقلال میں کامیابی p. 317
’’استقلال میں کامیابی ہے‘‘۔ کسی کا یہ قول نہایت با معنی طور پر کامیابی کی حقیقت کو بتاتا ہے۔ اور پوری تاریخ اس کی تصدیق کر رہی ہے ۔ زندگی ہمیشہ نا ہموار راستوں میں طے ہوتی ہے۔ یہاں ہر آدمی کو طرح طرح کے ناموافق حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اس لیے زندگی میں ہمیشہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ نا موافق تجربات کے باوجود آدمی اپنا سفر برابر جاری رکھے۔ اسی کا نام استقلال ہے۔ اور جو آدمی استقلال کا ثبوت دے وہی اس دنیا میں کامیابی کی منزل کو پہنچتا ہے جتنا استقلال اتنی ہی کامیابی۔ p. 317original + quote
یہ فطرت کا قانون ہے اور اگر آدمی آنکھ کھول کر دیکھے تو ہر طرف اس کو ایسے نشانات نظر آئیں گے جو اس کو اس حقیقت کا پتہ دے رہے ہوں ۔ جو اس کو اس حقیقت کی یاد دہانی کرانےوالے ہوں۔ p. 317
ایک آدمی دریا کے کنارے ایک چٹان پر کھڑا ہو ا تھا۔ اس نے نیچے کی طرف دیکھا تو اس کو نظر آیا کہ پانی کی موجوں کے مسلسل ٹکرانے سے چٹان کا پتھر گھس گیا ہے۔ اس نے کہا کہ دیکھو ، چٹان ایک سخت چیز ہے اور پانی ایک نرم چیز ہے لیکن اگر نرم چیز بھی استقلال کے ساتھ عمل کرے تو وہ چٹان جیسی سخت چیز کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ ساری دنیا میں سمندروں کے کنارے بے شمار مقدار میں ریت کے جو ذرے پائے جاتے ہیں وہ ساحلی چٹانوں کے ساتھ پانی کے اسی ٹکراؤ کے ذریعہ وجود میں آئے ہیں۔ p. 317
مولانا اسماعیل میرٹھی ایک ادیب اور شاعر تھے ۔ انھوں نے بہت سی اصلاحی نظمیں لکھی ہیں۔ استقلال کی اس اہمیت کو انھوں نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے p. 317original + quote
جو پتھر پہ پانی پڑے متصل تو گھس جائے بے شبہ پتھر کی سل p. 317
اس معاملہ کی ایک تازہ مثال ڈاکٹر سبرا منیم چندرشیکھر (1910-1995) کا واقعہ ہے۔ وہ بچپن سے ریاضی اور فلکیات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ انھوں نے اس موضوع پر ریسرچ شروع کی کہ ستارے کس طرح وجود میں آتے ہیں۔ اور کس طرح فنا ہوتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنی تحقیقات کےابتدائی نتیجہ کو ایک مقالہ کی صورت میں مرتب کیا اور پہلی بار جنوری 1935 کو لندن میں ہونے والی الیسٹرو فیزیکل سوسائٹی کی ایک میٹنگ میں یہ مقالہ پیش کیا۔ اس میٹنگ میں برطانیہ کے بڑے بڑے سائنس داں موجو دتھے۔ ڈاکٹر سبر منیم چندر شیکھر جب اپنا مقالہ پیش کر چکے تو اس وقت کے ایک ممتاز بر طانی سائنس داں سر آرتھر ایڈنگٹن اٹھے ۔ انھوں نے نوجوان چندر شیکھر کا مذاق اڑایا اور ان کا مقالہ سب کے سامنے پھاڑ کر پھینک دیا۔ p. 317
اس کے بعد چندرشیکھر نے چاہا کہ اپنا یہ مقالہ لندن کے ایسٹر وفیز یکل جرنل میں چھپوائیں ۔ مگر اس سائنسی جرنل نے بھی ان کا مقالہ چھاپنے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر چندرشیکھر برطانیہ میں پیش آنے والے اس حوصلہ شکن تجربہ سے بد دل ہو کر اپنے وطن ہندستان واپس آئے اور یہاں یونیورسٹیوں میں ملازمت کی تلاش کی مگر یہاں اپنے وطن میں بھی انھیں کسی یونیورسٹی میں ملازمت نہ مل سکی۔ وطن کے باہر بھی انھیں ٹھکرا دیا گیا اور وطن کے اندر بھی۔ p. 317
لیکن چندر شیکھر مایوس نہیں ہوئے ۔ اس کے بعد وہ شکاگو (امریکہ) چلے گئے۔ وہاں انھیں حالات ساز گار ملے۔ مگر وہ اپنی تحقیقات میں از سر نومشغول ہو گئے۔ دھیرے دھیرے ان کا نظریہ مقبول ہونے لگا۔ ان کے مقالات بڑے بڑے سائنسی مجلات میں چھپنے لگے۔ یہاں تک کہ ان کا نظریہ چندر شیکھر لمٹ (Chandra Shekhar Limit) کے نام سے سائنسی دنیا میں تسلیم کر لیا گیا۔ 1983میں جب کہ ڈاکٹر چندر شیکھر کی عمر 73سال ہو چکی تھی ان کو سائنس کا نوبل پرائز دیا گیا۔ p. 317
اس طرح کے سبق آموز واقعات سے انسانی تاریخ بھری ہوئی ہے۔ اس دنیا میں جس شخص نے بھی کوئی حقیقی کامیابی حاصل کی ہے اسی استقلال اور مسلسل عمل کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں۔ p. 317
کسی مفکر کا قول ہے کہ اگر تم کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے اندر انتظار کی طاقت پیدا کر و ۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے۔ کامیابی ہمیشہ لمبے انتظار کے بعد ملتی ہے۔ اور انتظار کی ضرورت اسی لیے ہے کہ کوشش کے دوران ہر بار ایسی رکاوٹیں پیش آتی ہیں جو بظاہر منزل کو دور کر دیتی ہیں۔ اس لیے آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہمت نہ ہارے۔ وہ صبر و برداشت سے کام لیتے ہوئے اپنی کوشش میں لگار ہے۔ وہ انتظار کی مدت کو کبھی ختم نہ ہونے دے۔ p. 317original + quote
یہ معاملہ اتنا قطعی ہے کہ اس میں ہمارے لیے کوئی دوسرا انتخاب نہیں ۔ ہم مجبور ہیں کہ فطرت کے اس فیصلہ کو مانیں ۔ ہم فطرت کے نظام سے مطابقت کرتے ہوئے ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔فطرت کے مقرر نظام کو بدلنا ہمارے لیے ممکن نہیں ۔ p. 317
ایسی حالت میں عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی نہ شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع کرے۔ اور نہ مایوس اور پست ہمت ہو۔ وہ حقیقت پسندی کی روش اختیار کرتے ہوئے اپنا عمل مسلسل جاری رکھے۔ اس کے بعد کامیابی اس کے لیے اتنی ہی یقینی ہو جائے گی جتنا کہ شام کو سورج ڈوبنے کے بعد اگلی صبح کو دوبارے روشن سورج کا نکلنا۔ مسلسل عمل لازمی طور پر آدمی کو اس کے مطلوب نتیجہ تک پہنچا دیتا ہے۔ p. 317
قدرت کو لکڑی کا درخت اگانے کے لیے صرف چند مہینے درکار ہوتے ہیں۔ مگر جب چنار کا درخت اگانا ہو تو اس میں خود قدرت کو بھی سو سال کا وقت لگ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کا معاملہ اس سے مستثنیٰ کیوں کر ہوسکتا ہے۔ p. 317
اگر آپ لمبی محنت کے اصول کو نہ مانیں تو پھر آپ کو اس پر راضی ہونا پڑے گا کہ آپ اپنی زندگی میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکیں ۔ کیوں کہ لمبی مدت تک مستقل محنت ہی کسی بڑی کامیابی کی لازمی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت دینے کے لیے تیار نہ ہو اس کو اپنے لیے کسی بڑی کامیابی کی امید بھی نہ کرنا چاہیے ۔ p. 317
نوٹ یہ تقریر 28 ستمبر 1995 کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔ p. 317
بیک کور ٹیکسٹ p. 317
زیر نظر مجموعے میں مصنف کی نشری تقریریں شامل کی گئی ہیں۔ یہ تقریریں مختلف موضوعات پر ہیں۔ اس مجموعے میں جو ریڈیائی تقریریں شامل کی گئی ہیں، وہ سب کی سب وہ ہیں جو پیشگی طور پر لکھ لی گئی تھیں اور ریڈیو کے اسٹوڈیو میں پڑھ کر سنائی گئیں۔ان کو آل انڈیاریڈیو کی اجازت سے دوبارے اس مجموعے میں شائع کیا جارہا ہے۔ p. 317