Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
وقت کا استعمال p. 313
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ کشادگی کا انتظار کرنا افضل عبادت ہے أفْضلُ الْعِبادةِ انْتظارُ الْفَرَجِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3571)۔ یہ ایک حکیمانہ بات ہے جو خدا کے پیغمبر نے ہمیں بتائی ۔ وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے الجھے ہوئے معاملات میں اکثر کسی مسئلہ کا سادہ حل یہ ہوتا ہے کہ اس کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیا جائے۔ p. 313original + quote
خدا نے اس دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں سارے اسباب ہمیشہ اصلاح اور تعمیر کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ راستہ میں کوئی گندگی ڈال دیں تو فور لاکھوں کی تعداد میں بیکٹیریا وہاں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ اس کو تحلیل (decompose) کرکے اس کو مفید گیس میں تبدیل کو سکیں ۔ یہی فطرت کے پورے نظام کا حال ہے۔ اس لیے انتظار کی پالیسی اس دنیا میں کوئی بے عملی کی پالیسی نہیں۔ وہ عین عمل کی پالیسی ہے کیوں کہ انسان کا انتظار کرنا گو یا فطرت کو یہ موقع دینا ہے کروہ حرکت میں آکر اس کے مسئلہ کو زیادہ بہترطو پر حل کردے۔ اس بات کوشاعر نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے p. 313original + quote
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا p. 314
ایک بار میں ایک بڑے شہر میں گیا۔ وہاں میری ملاقات ایک تاجر سے ہوئی۔ وہ سخت پریشان تھے۔ حتیٰ کہ ان کا بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ایک تجارتی سامان تیار کیا۔ مگر جب وہ اس کو مارکیٹ میں لائے تو انھیں بر وقت خریدار نہ مل سکے ۔ ان کا سامان گودام میں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے کوئی دعا یا عمل بتائیے جس سے میں اس تجارتی بحران سے نکل سکوں۔ p. 314
میں نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر ایک نصیحت لکھی اور اس کا غذ کو ایک لفافہ میں بند کر کے انھیں دے دیا۔ میں نے کہا کہ اس لفافہ کو آپ دس دن کے بعد کھولیے گا۔ اس لفافہ کے اندر جو کاغذ بند تھا اس پر میں نے مذکورہ حدیث کی روشنی میں ایک مختصر جملہ ان الفاظ میں لکھا تھا اپنے معاملہ کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔ p. 314unverified
ڈیڑھ سال کے بعد مذکورہ تاجر کی طرف سے ایک خط میرے پاس آیا۔ اس میں انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ کے مشورہ کے مطابق میں نے انتظار کی پالیسی اختیار کی۔ اس کا نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ اللہ کے فضل سے میر اسار امال نفع کے ساتھ فروخت ہوگیا۔ میرا پھنسا ہواروپیہ ہے خالی ہو گیا ہے اور اب میں ایک نیا کاروبار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔ p. 314
ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ اخلاقی عمل کا عظیم قانون خدا کے بعد یہ ہے کہ وقت کا احترام کیا جائے p. 314other source
The great rule of moral conduct is, next to God, to respect time. p. 314
خدا کاحق انسان پر یہ ہے کہ وہ خدا کی پرستش کرے ۔ خدا سب سے بڑا ہے ۔ وہ انسان کا خالق اور مالک ہے۔ وہی سب کچھ دینے والا ہے۔ اس لیے وہی ان کا حقدار ہے کہ سب سے زیادہ اس کی تعظیم کی جائے ۔ اِسی کا نام پرستش یا عبادت ہے۔ p. 314
وقت موجودہ دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں سب کا سب وقت کے دائرہ میں کرتے ہیں ۔ جہاں وقت ختم ہو جائے وہاں انسان کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔ p. 315
اس لیے انسان کو سب سے زیادہ وقت کا پاس و لحاظ کرنا چاہیے ۔ وقت کو ضائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس جو سب سے بڑی دولت تھی اس کو اس نے ضائع کر دیا۔ وقت کو اگر آپ استعمال نہ کریں تو وہ آپ کے پاس ٹھہرا نہیں رہے گا بلکہ چلا جائے گا۔ اور پھر کبھی لوٹ کر آپ کے پاس نہیں آئے گا ۔ وقت کا جولمحہ کھویا گیا وہ ابدی طور پر کھویا گیا۔ اس کو شاعر نے سادہ طورپر ان لفظوں میں بیان کیا ہے p. 315original + quote
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں p. 315
شیکسپیئر جومشہور انگریزی ادیب اور شاعر ہے، اس کا ایک قول یہ ہے کہ — میں نےوقت کو برباد کیا تھا اب وقت مجھ کو بربا دکر رہا ہے p. 315other source
I wasted time and now doth time waste me. p. 315
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو وقت مجھے ملا تھا وہ میرے لیے عمل کا یا ترقی کی طرف بڑھنے کا ایک لمحہ تھا۔ جب میں نے اس ملے ہوئے وقت کو استعمال نہیں کیا تو اس کے بعد یہ ہوا کہ میں ترقی کی طرف اپناسفر بھی جاری نہ کر سکا جس کا نتیجہ ابدی محرومی تھا۔ اس طرح اب میں محرومی کی صورت میں اپنے ضیاع وقت کی قیمت ادا کر رہا ہوں ۔ p. 316
گول برن (Goulbum) کا ایک قول اس قابل ہے کہ ہر آدمی اس کو یا د کر لے۔ وہ اس کواس طرح محفوظ کرلے کہ وہ ہمیشہ اس کے دماغ میں مستحضر رہے ۔ وہ قول یہ ہے کہ زندگی میں کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں جس کے ضائع کرنے کا ہم تحمل کر سکیں p. 316
There is not a single moment in life that we can afford to lose. p. 316
وقت کو کھو ناعمل کے مواقع کو کھونا ہے۔ جس نے عمل کے مواقع کو کھو دیا اس نے گویا کہ اپنا سب کچھ کھو دیا۔ وقت کو کھونے کے بعد کوئی بھی چیز باقی نہیں رہتی جس کو پانے کے لیے کوئی شخص جد و جہد کرے۔ p. 316
وقت کو صحیح طور پر استعمال کرنے کے لیے زندگی میں انضباط (ڈسپلن) پیدا کر نالازمی طور پرضروری ہے۔ اس کی چند ضروری تدبیریں یہ ہیں۔ p. 316
1۔ صبح کو سویرے اٹھنا۔ رات آرام کرنے کے لیے ہے اور دن کام کرنے کے لیے۔ آدمی جتنا زیادہ سویرے اٹھے گا اتنا ہی زیادہ وہ اپنے دن کو مفید طور پر استعمال کر سکے گا۔ اگر آپ اپنے ملےہوئے وقت کو مفید بنانا چاہتے ہیں تو صبح کو سویرے اٹھنے کی عادت ڈالیے۔ p. 316
2۔ اپنا احتساب کرنا۔ شام کو جب آپ سونے کے لیے بستر پر لیٹتے ہیں تو یہ سوچیے کہ آج کا دن آپ نے کیسا گزارا۔آپ نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ کون سا کام آپ کا صحیح تھا اور کون سا کام غلط۔ اپنے آج کے دن کو آپ اور زیادہ بہتر کس طرح بنا سکتے تھے۔ حال کا یہ احتساب آپ کے مستقبل کوزیادہ بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔ p. 316
3۔ ڈائری کا استعمال ۔ ہمیشہ اپنے پاس ایک پاکٹ ڈائری رکھیے۔ اس میں ہر روز کے مشاہدات اور تجربات کو مختصر طور پر لکھتے رہیے۔ یہ ڈائری آپ کے لیے نہ صرف ایک یادداشت ہو گی بلکہ وہ آپ کے لیے ایک ریگو لیٹر بھی بن جائے گی۔ وہ آپ کی زندگی کی بہترین گائڈ ثابت ہوگی۔ p. 317
نوٹ آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 29 جون 1995 کو نشر کیا گیا۔ p. 317