Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ترقی کے آداب p. 308
اس دنیا میں ہر آدمی ترقی کرنا چاہتا ہے، مگر بہت کم آدمی ہیں جو فی الواقع کوئی بڑی ترقی حاصل کرتے ہوں۔ زیادہ لوگ معمولی یا اوسط درجہ کی زندگی گزار کر مر جاتے ہیں۔ p. 308
اس کا سبب کیا ہے۔ کیا کچھ لوگ خوش قسمت پیدا کیے گئے ہیں اور کچھ لوگ پیدائشی طور پر محروم اور بد قسمت ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ ایسا کہنا خدا پر بے انصافی کا الزام عائد کرنا ہے۔ اور خدا کبھی کسی کے ساتھ بے انصافی کا معاملہ نہیں کرتا۔ p. 308
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی بڑی بڑی ترقیوں کا امکان اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ جو آدمی عقلمندی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتا ہے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کرتا ہے۔ اور جو آدمی اپنی خداداد صلاحیتوں کو استعمال نہیں کرتا ۔ یا اسی کے ساتھ مہلک نادانیاں بھی کہتا رہتا ہے وہ کامیابی اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ p. 309
مثلا کچھ لوگ چھلانگ لگانے کی فکر میں پڑے رہتے ہیں۔ حتی کہ بعض اوقات غیر دانش مندانہ طور پر چھلانگ لگاکر اپنا ہاتھ پاؤں توڑ لیتے ہیں۔ حالانکہ اس دنیا میں ترقی ہمیشہ لمبی محنت اور مستقل کوشش سے ملتی ہے۔ وقتی چھلانگ لگانے سے کسی کو ترقی نہیں مل سکتی۔ p. 309
کچھ لوگ دوسروں سے چھین جھپٹ میں ترقی کا راز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ بہت بڑی بھول ہے۔ دوسرے کی چیز کبھی آپ کی چیز نہیں بن سکتی ۔ اگر بالفرض آپ کسی غلط تدبیر سے دوسرے کی چیز کو ہڑپ کر لیں، دوسرے کی چیز پر نا جائز قبضہ کر کے بیٹھ جائیں تو اس طرح آپ کبھی ترقی کا مقام نہیں پاسکتے۔ یہ قدرت کے قانون کے خلاف ہے۔ قدرت کا قانون جلد یا بدیر آپ کو رسوا کر کے رکھ دےگا۔ وہ آپ کی آئندہ نسلوں تک کوترقی اور کامیابی سے محروم کر کے چھوڑ دے گا۔ p. 309
کچھ لوگوں کی ترقی اس لیے رک جاتی ہے کہ وہ حرص اور خود غرضی میں حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ سب کچھ اپنی ذات کے لیے سمیٹ لیں، دوسروں کو کچھ نہ ملنے دیں۔ حالانکہ اس دنیا کو بنانے والے نے اُس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں دینے والا پائے۔ دوسروں کو نفع پہنچانے والا خود بھی نفع اٹھائے۔ اپنی کمائی میں دوسروں کا حصہ لگانے والا دوسروں کی کمائی میںحصہ دار بنے۔ p. 309
کچھ لوگ حسد اور جلن میں پڑ کر اپنی ترقی کا راستہ روک لیتے ہیں۔ جب وہ کسی کو ابھرتا ہوا دیکھتے ہیں تو اس کی کاٹ میں لگ جاتے ہیں۔ وہ اس کی کامیابیوں پر جلنے لگتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ دوسروں کو آگے بڑھتا ہوا دیکھیں تو آپ بھی آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔دوسروں کی ترقی سے آپ کے اندر شوق پیدا ہونا چاہیے نہ کہ حسد۔ p. 309
بڑی ترقی حاصل کرنے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ آپ دوسروں کو ساتھ لے کر چل سکیں۔ کوئی بھی آدمی اکیلے اکیلے بڑی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ آپ اگر بڑی ترقی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو دوسروں کا دل جیتنا ہو گا۔ دوسروں کے اندر اپنا اعتماد پیدا کرنا ہو گا۔ اس طرح رہنا ہوگا کہ دوسرے لوگ آپ کو اپنا سچا خیر خواہ سمجھیں۔ آپ کو ایسا بننا ہوگا کہ جو کچھ آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی آپ دوسروں کے لیے بھی پسند کریں ۔ اور جو کچھ آپ کو اپنے لیے پسند نہیں ہے وہ آپ کو دوسروں کے لیے بھی پسند نہ ہو۔ p. 310
اس دنیا میں ترقی ہر آدمی کا حق ہے۔ ترقی ہر آدمی کا مقدر ہے۔ ترقی ہر آدمی کے لیے لکھ دی گئی ہے۔ مگر ترقی صرف اس کے لیے ہے جو ترقی کے اصول اور آداب کو جانے اور ان کو درست طور پر اپنی زندگی میں استعمال کرے۔ p. 310
زلزلہ قدرت کا ایک مظہر ہے۔ دنیا کے اکثر حصوں میں زلزلے آتے رہتے ہیں۔ پہلے جب زلزلہ آتا تھا تو بہت زیادہ جانی نقصان ہوتا تھا۔ مگر اب ترقی یافتہ ملکوں، مثلاً جاپان، کیلی فورنیا ( امریکہ) وغیرہ میں زلزلہ آتا ہے تو بہت کم آدمی مرتے ہیں۔ p. 310
اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مطالعہ اور تجربہ سے لوگوں نے جانا کہ زلزلہ میں جان کا نقصان زیادہ تر مکانوں کے گرنے سے ہوتا ہے۔ اس کا حل زیا دہ پختہ یا زیادہ مضبوط مکان بنانا نہیں ہے۔ کیوں کہ زلزلہ کے مقابلہ میں کوئی بھی مکان مضبوط نہیں ۔ اسی طرح اس کا یہ حل بھی نہیں تھا کہ زلزلہ کے خلاف شکایت اور احتجاج کیا جائے۔ کیوں کہ زلزلہ نیچر کے قانون کے تحت آتا ہے، اور نیچر کے خلاف احتجاجی شور و غل کبھی موثر نہیں ہو سکتا۔ p. 310
ترقی یافتہ ملکوں میں اس مسئلہ کا حل یہ نکالا گیا کہ وہ لوگ اپنے مکان زیادہ پختہ بنانے کے بجائے لوز انداز میں بنانے لگے۔ وہاں زلزلہ اب بھی آتا ہے ۔ مگر اب یہ ہوتا ہے کہ زلزلہ کے جھٹکے کے وقت مکانات صرف ہل کر رہ جاتے ہیں ۔ وہ ٹوٹ کر گرتے نہیں۔ اس طرح انسانوں کے مرنے کی نوبت نہیں آتی ۔ کیوں کہ انسان چھتوں اور ملبوں کے نیچے دب کر مر جاتےتھے، نہ کہ محض جھٹکے سے ۔ p. 310
یہی معاملہ خود انسانوں کا بھی ہے۔ ہر آدمی اپنے سینہ کے اندر ایک خطرناک زلزلہ چھپائے ہوئے ہے۔ یہ غصہ اور انتقام کا زلزلہ ہے۔ ایک آدمی کو جب دوسرے آدمی سے کوئی ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایک شخص کو جب دوسرے شخص سے کوئی جھٹکا لگتا ہے تو اس کے بعد اس کے اندر غصہ کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ اس کے سینہ میں انتقام کا زلزلہ آجاتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو قتل کر دیتا ہے۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کے گھر اور دکان میں آگ لگا دیتا ہے۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کے نقصان کے درپے ہو جاتا ہے۔ p. 311
یہ گو یا سماجی زلزلہ ہے۔ یہ زلزلہ بھی فطرت کا ایک مظہر ہے ۔ ہم اس کے وجود کو مٹانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہاں بھی ہم یہی کر سکتے ہیں کہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچالیں۔ اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنے آپ کو اس کی زد میں نہ آنے دیں۔ p. 311
اس سماجی زلزلہ کے مقابلہ میں حکیمانہ تدبیر کیا ہے۔ ایک لفظ میں ، وہ اعراض ہے یعنی ٹکراؤ کے مواقع کو اوائڈ کرنا۔ آپ کو کوئی برا کہے تو اس کا اثر نہ لیجیے۔ کسی کی طرف سے کوئی اشتعال انگیز کلمہ آپ کے کان میں پڑے تو اس کو سنی ان سنی کر دیجیے۔ کوئی آپ کے کپڑے کے اوپر کیچڑ ڈال دے تو کیچڑ ڈالنے والے سے الجھنے کے بجائے پانی کے نل کے پاس جائیے اور اس کو دھو دیجیے۔ راستہ چلتے ہوئے کوئی شخص آپ کے اوپر کنکری پھینک دے تو اس کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائیے۔ غرض ناخوش گوار باتوں کو بھلا کر اعتدال کے ساتھ اپنا سفر حیات جاری رکھیے۔ p. 311
زمینی زلزلے کبھی بند نہیں ہوں گے۔ زمینی زلزلوں کے سلسلہ میں صرف یہ ممکن ہے کہ ہم ان کے نقصان سے اپنے آپ کو بچا لیں۔ اسی طرح انسانی یا سماجی زلزلے بھی کبھی ختم ہونے والے نہیں۔ یہاں بھی جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہ کہ ہم اعراض اور بر داشت کی تدبیر کو استعمال کر کے اپنے آپ کو ان کی زد میں نہ آنے دیں ۔ اپنے آپ کو ان کے نقصانات سے محفوظ رکھیں۔ p. 311
یہ دنیا مسائل کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو آزادی ہے۔ ایک آدمی جب اپنی آزادی کو بے جا استعمال کرتا ہے تو وہ دوسرے آدمی کے لیے مسئلہ پید اکرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک آدمی جب اپنی زبان، اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں کو بے قید طور پر استعمال میں لاتا ہے تو وہ ایسا کر کے دوسرے لوگوں کو مسائل و مشکلات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ p. 312
اس کا حل کیا ہے۔ اس کا حل یہ نہیں کہ ہم لوگوں کی آزادی کو ختم کرنے کی مہم چلائیں۔ ایسی مہم بے معنی شور و غل کے سوا اور کچھ نہیں ۔ کیوں کہ لوگوں کو یہ آزادی ان کے خالق نے دی ہے۔ اور جو چیز خود خالق نے دی ہو اس کو ہم لوگوں سے چھین نہیں سکتے۔ p. 312
ایسی حالت میں مسئلہ کا حل صرف ایک ہے ، اور وہ ہے تدبیر۔ حکیمانہ اصول پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے ضرر سے کسی حد تک اپنے آپ کو بچانا اور اپنی تعمیر کے مواقع تلاش کر کےاس کے حصول میں لگ جانا۔ p. 312
مثلاً ٹکراؤ سے اعراض کرنا، چھوٹے نقصان کو برداشت کر لینا ، اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا ، دوسروں سے مطالبہ کرنے کے بجائے خود اپنے استحکام پر توجہ دینا۔ مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع اور امکانات کو استعمال کرنا۔ p. 312
موجودہ امتحان کی دنیا میں کامیابی کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں جس کے ذریعے کوئی شخص اس دنیا میں کامیابی حاصل کر سکے۔ p. 312
حکیمانہ تدبیر ہر مسئلہ کا حل ہے۔ حکیمانہ تدبیر ہر نقصان سے بچنے کا یقینی نسخہ ہے۔ آپ حکیمانہ تدبیر کو اپنا اصول بنا لیجیے اور پھر آپ کو کسی سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ p. 313
نوٹ یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 16 دسمبر 1993کو نشر کی گئی۔ p. 313