Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
انتقام نہیں p. 288
کسی کا قول ہے — ’’انتقام لینے سے پہلے سوچ لو کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا ‘‘۔ یہ زندگی کی نہایت گہری حقیقت ہے۔ اور اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد ہی کوئی شخص موجودہ دنیا میں اپنے لیے کامیاب زندگی بنا سکتا ہے۔ p. 288original + quote
ایک شخص سے آپ کو تکلیف پہنچی ۔ آپ کے دل میں اس کے خلاف انتقام لینے کا جذبہ بھڑک اٹھا ۔ آپ چاہنے لگے کہ اس سے بدلہ لے کر اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کریں۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شخص کے تکلیف دینے سے آپ کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھا ، پھر وہی تکلیف جب آپ اس شخص کو دیں گے تو کیا اس کے اندر دوبارے انتقام کا جذبہ نہیں بھڑکے گا۔ یقیناً ایسا ہی ہوگا ۔ اور پھر برائی کا ایک چکر چل پڑے گا۔ آپ کو ایک تکلیف کے بعد دوسری تکلیف سہنی پڑے گی۔ اس لیے عقلمندی یہ ہے کہ نظرانداز کرنے کا طریقہ اختیار کر کے بات کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیا جائے۔ p. 288
میری ملاقات ایک بار یوپی کے ایک شخص سے ہوئی۔ اس نے ایک نیتا کی شرکت میں ایک بس خریدی۔ اس آدمی نے پیسہ لگایا۔ اور نیتا نے لائسنس حاصل کیا۔ لائسنس قانونی طور پر نیتا کے نام تھا۔مگر نفع میں دونوں برابر کے شریک تھے۔ p. 288
کچھ دنوں کے بعد نیتا کی نیت بگڑی۔ اس نے سوچا کہ قانونی طور پر گاڑی میری ہے کیوں کہ لائسنس میرے نام ہے۔ پھر میں اس کا نفع دوسرے کو کیوں دوں ۔ اس نے یک طرفہ طور پر گاڑی پر قبضہ کر لیا۔ p. 289
اب آدمی بہت غصہ ہوا۔ اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے ارادہ کیا کہ نیتا کو قتل کر ڈالے۔ چنانچہ وہ اس کے قتل کا منصوبہ بنانے لگا۔ اس دوران اس کی ملاقات ایک بوڑھے تجربہ کار آدمی سے ہوئی۔ حالات سننے کے بعد بوڑھے آدمی نے کہا کہ اگر تم اپنے منصوبہ کے مطابق نیتا کو مار ڈالو تو اس کے بعد اس کے بچّے کیا تم کو زندہ چھوڑ دیں گے۔ p. 289
یہ بات آدمی کی سمجھ میں آگئی۔ اس نے نیتا کو مارنے کا ارادہ چھوڑ دیا۔ اس کے بجائے اس نےیہ کیا کہ اس کے پاس جو رقم اب بھی باقی تھی اس سے چھوٹے پیمانہ پر بزنس شروع کر دیا۔ چند سال بعدجب اس آدمی سے میری ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں بس کی شرکت سے میں جتنا کماتا ، اب میں اس سے زیادہ کما رہا ہوں ۔ اور میرا کاروبار برابر ترقی کر رہا ہے۔ p. 289
جب بھی آپ کے سینہ میں کسی کے خلاف انتقام کی آگ بھڑ کے تو اپنے ذہن کو ٹھنڈا کر کے سب سے پہلے یہ سوچیے کہ میرا فائدہ انتقام لینے میں ہے یا انتقام نہ لینے میں۔ p. 289
ظاہر ہے کہ دوسرے کو نقصان پہنچانا بذات خود کوئی مقصد نہیں ۔ اصل مقصد جو ہر آدمی اپنے سامنے رکھتا ہے یا اس کو رکھنا چاہیے ، وہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اگر دوسرے کو نقصان پہنچانے کا نتیجہ یہ ہو کہ آخر میں آپ کو خود اس سے بڑا نقصان اٹھا نا پڑے ، تو ایسی حالت میں عقلمندی کیا ہے۔ اگر آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو آپ یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ ایسی کارروائی جو آخر میں خود اپنے خلاف پڑنے والی ہو ، وہ کسی بھی حال میں صحیح نہیں کہی جاسکتی۔ ایسی ہر کارروائی صرف بے وقوفی ہے نہ کہ وہ کام جو ایک عقلمند آدمی کو کر نا چاہیے ۔ p. 289
ہمارے سماج میں جو جھگڑے ہیں اور عدالتوں میں جو مقدمات کی بھر مار ہے وہ سب اسی انتقامی جذ بہ کا نتیجہ ہے۔ لوگ شکایت یا تکلیف کی کوئی بات پیش آنے کے بعد اس کو بھلا نہیں پاتے۔ وہ فور اردعمل کا شکار ہو جاتے ہیں اور جوابی کارروائی کر نا شروع کر دیتے ہیں۔ p. 289
اس طرح جو جھگڑے اور مقدمے بڑھتے ہیں اس کا نقصان صرف فریق ثانی کو نہیں پہنچتا بلکہ اس شخص کو بھی پہنچتا ہے جس نے جوابی کارروائی کر کے دوسرے کے خلاف بدلہ لینا چاہا تھا۔ ہر آدمی سکون کی زندگی چاہتا ہے ۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کا سماج امن و امان کا سماج ہو ۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر بدلہ نہ لینے کا مزاج پیدا ہو جائے ۔ یہی ہمارے مسئلہ کا واحد حل ہے ۔ اسی سے ہر آدمی کو ذاتی سکون حاصل ہو سکتا ہے۔ اور پورا سماج بھی اسی کے ذریعہ امن و امان کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ p. 290
جب بھی آپ کسی سے انتقام لیں تو انتقام لینے میں آپ اپنی طاقت خرچ کرتے ہیں۔ وقت اور پیسہ کی کافی مقدار خرچ کیے بغیر کوئی شخص دوسرے سے انتقام نہیں لے سکتا ۔ اگر بالفرض آدمی انتقام لینے میں کامیاب ہو جائے تب بھی انتقام لے کر اس کو جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ صرف ایک نفسیاتی تسکین ہے ۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ p. 290
لیکن یہی وقت اور یہی رقم اگر کسی مثبت چیز کو حاصل کرنے میں لگا دیا جائے تو وہ نفع کے ساتھ آدمی کی طرف لوٹتا ہے، جیسا کہ مذکورہ شخص کے ساتھ پیش آیا۔ انتقام لینے میں طاقت کو خرچ کر نا طاقت کو کھونا ہے ، اور ایک مثبت کام میں طاقت لگانا ، طاقت کو مزید اضافہ کے ساتھ دوبارے پالینا ہے۔ ایسی حالت میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ عقل مند آدمی کو دونوں میں کون سا طریقہ اختیار کر نا چاہیے ۔ p. 290