Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
جلدی میں دیر p. 285
ونسٹن چرچل (1965-1874) مشہور انگریز مد بر تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے وقت وہ برطانیہ کے وزیر اعظم تھے ۔ جب کہ برطانیہ کی سلطنت آج سے بہت زیادہ بڑی تھی۔ انھوں نے اپنے ملک کی زبر دست خدمات انجام دی ہیں۔ چرچل کا ایک قول یہ ہے p. 285
تم جتنی جلدی کروگے اتنی ہی زیادہ دیر لگے گی p. 286
یہ زندگی کی بڑی گہری حقیقت ہے ۔ آپ ایک مکان کی تیسری منزل پر ہیں اور آپ کو کسی ضرورت کے تحت فوراً نیچے اتر نا ہے۔ تاہم آپ کو کتنی ہی جلدی ہو، آپ کو بہر حال سیڑھیوں کے ذریعہ اترنا ہو گا۔ اگر جلدی کی خاطر آپ ایسا کریں کہ تیسری منزل سے زمین کی طرف کو دیں تو یقیناً آپ بہت جلد نیچے پہنچ جائیں گے ۔ مگر یہ جلدی عملاً بہت زیادہ دیر بن جائے گی۔ کیوں کہ آپ کا ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائے گا اور آپ نیچے اتر کر اپنی منزل کی طرف جانے کے بجائے ہسپتال لے جائے جائیں گے اور وہاں مہینوں تک علاج کے بستر پر پڑے رہیں گے۔ p. 286
ایک شخص اپنے گھر کے آنگن میں آم کا درخت دیکھنا چاہتا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر میں آم کا چھوٹا پودا لگاؤں تو اس کو بڑھنے میں کم از کم دس سال لگ جائیں گے ۔ اس کے باغ میں آم کا ایک پانچ سال کا درخت تھا۔ اس نے منصو بہ بنا یا کہ اس درخت کو کھود کر نکالے اور اس کو لا کر گھر کے آنگن میں لگائے ۔ وہ خوش تھا کہ اس طرح پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے ہو جائے گا اور چند ہی سال کے بعد گھر کے اندر آم کا ایک پورا درخت کھڑا ہوا نظر آئے گا۔ اس نے پانچ سالہ درخت کی کھدائی کے لیے مزدور لگا دیے۔ کئی آدمیوں نے گھنٹوں کی محنت کے بعد اس کو کھودا اور پھر ایک بڑی چارپائی پر رکھ کر اس کو گھر کے اندر لے آئے ۔ درخت آنگن میں لگا دیا گیا۔ مگر اگلے ہی دن اس کے پتے مرجھاگئے۔ اور چند ہفتوں کے بعد آدمی کے آنگن میں شاداب درخت کی جگہ صرف سوکھی لکڑی کا ایک ٹھنٹھ کھڑا ہوا تھا۔ p. 286
ایک آدمی پیسہ کمانا چاہتا تھا۔ اس نے کرا کری کی دکان کھولی۔ سال بھر اس میں بیٹھا۔ جب اس نے دیکھا کہ دکان زیادہ نہیں چل رہی ہے تو اس نے طے کیا کہ کسی اور چیز کی دکان کھولے ۔ اب اس نے بساطہ کا کام شروع کیا۔ ایک سال کے بعد اس کو محسوس ہوا کہ اس میں بھی زیادہ فائدہ نہیں ہے۔ اب اس نے اسٹیشنری کا کام شروع کر دیا۔ ایک سال میں اس سے بھی جی بھر گیا اور اس نے جو تہ کی دکان کرلی ۔ اس طرح وہ بار بار اپنی لائن بدلتا رہا اور بالآخر ما یوس اور ناکام ہو کر بیٹھ گیا ۔ اس آدمی کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس راز کو نہ سمجھ سکا کہ کسی کام میں کامیابی کے لیے وقت درکار ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ادھر دکان کھولی اور ادھر وہ شان دار طریقے سے چلنے لگی ۔ آدمی نے کئی کاموں میں جتنا وقت لگا یا وہی وقت اگر وہ ایک کام میں لگا تا تویقیناً وہ کامیاب ہو جاتا۔ اس نے ’’جلدی‘‘ چاہی اس لیے اس کو دیر ہوتی چلی گئی۔ اگر وہ جلدی نہ کرتا تو اس سے کم وقت میں وہ کامیاب ہو جاتا جتنا وقت اس نے بار بار کے ناکام تجربوں میں ضائع کر دیا۔ p. 286
کسی بھی میدان میں کامیابی کے لیے ایک لازمی شرط استقلال ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ تمام پہلوؤں کے بارے میں اچھی طرح سوچ کر اپنا راستہ متعین کرے۔ اس معاملہ میں لوگوں سے مشورہ بھی کرے تاکہ اپنے فیصلہ پر اس کو پورا یقین حاصل ہو سکے ۔ زندگی میں اس طرح کا فیصلہ ایک بار کیا جاتا ہے ، بار بار نہیں۔ p. 287
آدمی جب ایک بار فیصلہ کر لے تو اس کے بعد اس کو اپنے فیصلہ پر جم جا نا چاہیے ۔ اس کے بعد اگر کوئی بات سامنے آتی ہے جو اس کے فیصلہ میں تذبذب پیدا کرنے والی ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ ایسی بات کے خلاف لڑ کر اس کو اپنے دماغ سے نکال دے اور اسی ایک فیصلہ پر قائم رہے جو اس نے سوچ سمجھ کر اپنے لیے طے کیا تھا۔ p. 287
ایسے ہی لوگ اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ بار بار اپنا راستہ بدلتے رہیں وہ اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ p. 287
نوٹ یہ مضامین 26-28دسمبر 1979 کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کیے گئے۔ p. 288