Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مسئلہ کا حل p. 277
ایک کہاوت ہے خود کو بدل دو قسمت خود بخود بدل جائے گی۔ اسی طرح ٹی ایس ایلیٹ نے کہا ہے ’’اگر تم کسی گول چھید میں جاپڑو تو تمہیں اپنے آپ کو گیند بنا لینا چاہیے‘‘۔ p. 277other source
دونوں جملے ایک ہی بات کو دو مختلف پہلوؤں سے واضح کر رہے ہیں۔ وہ یہ کامیابی کا راز حالات سے مطابقت adjustment میں ہے، نہ کہ حالات سے ٹکراؤ میں۔ دنیا میں رہتے ہوئے بار بار مختلف قسم کے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔ کبھی آدمی قدرت کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ کبھی ماحول کے مقابلہ میں اورکبھی کسی اور چیز کے مقابلہ میں ۔ ایسے ہر موقع پر عقلمند آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ لڑنے کی کوشش نہ کرے بلکہ خارجی حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنی راہ نکالے ۔ p. 277
جاپان ایک ایسا ملک ہے جہاں اکثر زلزلے آتے ہیں۔ بے حساب جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ یہ ایک بے حد مشکل مسئلہ تھا۔ جاپان والوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ وہ پختہ مکانات کم بنائیں ۔ وہ لکڑی اور بانس وغیرہ کے مکانات بنا کر اس میں رہنے لگے ۔ لکڑی اور بانس کا مکان اگر گر بھی جائے تو اس کا نقصان کم ہوتا ہے نیز اس کے بقیہ اجزاء کسی حد تک دوبارے استعمال ہو سکتے ہیں۔ p. 278
زلزلہ میں انسان کا مقابلہ قدرت سے ہوتا ہے ۔ یہاں انسان بالکل بے بس ہے۔ چنانچہ جاپان والے یہاں جھک گئے ۔ انھوں نے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو جھکا کر اپنے مسئلہ کاحل نکال لیا۔ p. 278original + quote
ٹویوٹا (Toyota) کا لفظ آج جاپانی کار کے ہم معنی بن گیا ہے۔ مگر پندرہ سال پہلے یہ لفظ جاپان میں ٹکسٹائل انڈسٹری کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ جاپان کی ٹویوٹا کمپنی نے ابتداءً ٹکسٹائل انڈسٹری (کپڑے کی صنعت) سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ مگر جاپان ٹکسٹائل انڈسٹری کے لیے موزوں ملک ثابت نہیں ہوا ۔ کمپنی اس کاروبار میں کامیاب نہ ہو سکی۔ ٹویوٹا والوں نے اس تجریہ کے بعد نیا میدان اختیار کر لیا۔ وہ موٹر کار کی صنعت میں داخل ہو گئے ۔ یہاں ان کو فضا اپنے موافق ملی۔ انھوں نے تھوڑے عرصہ میں زبردست ترقی کی۔ یہاں تک کہ تمام دنیا کی سڑکوں پر جاپانی کاریں دوڑنے لگیں۔ p. 278
اس دوسری مثال میں جاپان کو ملکی اور جغرافی رکاوٹوں کا سامنا تھا ۔ جاپانیوں نے یہ کیا کہ انہوں نے اپنے عمل کا میدان بدل دیا۔ اس کے بعد کامیابی ان کے لیے اسی طرح یقینی ہو گئی جس طرح کوئی شخص دیوار کی طرف سے نکلنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو ۔ اور پھر وہ دروازہ کی طرف سے نکلنے کی تدبیر کرے۔ p. 278
جاپان کے چار بڑے اخباروں میں سے ایک اخبار خسارہ میں چلا گیا۔ ہاتھی کا ایک پاؤں ٹوٹ جائے تو اس کے بعد اس کا بچنا سخت مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح اخبا راگر ایک بار خسارہ میں پڑ جائے تو اس کا سنبھلنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ مگر جاپان والے اپنی قومی صحافت کو زندہ رکھنا اپنا مقدس فرض سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد یہ ہوا کہ فوراً ایک بنک نے اس اخبار کو ایک بڑا فرض آسان شرطوں پر دے دیا۔ کمپنیاں اور نیم سرکاری ادارے اس کو مسلسل بڑے بڑے اشتہارات دینے لگے۔ اسی کے ساتھ اخبار کے کارکنوں نے بطور خود اخبار کے منتظمین سے کہ دیا کہ ان کی ماہانہ تنخواہوں میں حسب قاعدہ جو اضافہ ہونا ہے اس کو روک دیا جائے ۔ یہ اضافہ اس وقت تک رکار ہے جب تک اخبار کی حالت سنبھل نہ جائے۔ نتیجہ ظا ہر ہے۔ اخبار دوبارے اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔ p. 279
کسی کا قول ہے کہ ’’کبھی دوسرے کی مدد کرنا خود اپنی مدد کرنا ہوتا ہے‘‘۔ یہ قول مذکورہ مثال سے پوری طرح واضح ہو رہا ہے۔ اخبار کو دیوالیہ ہوتے دیکھ کر اگر جاپان کے لوگ اس سے کھنچنے لگتے تو ہ اخبار کا بھی نقصان کرتے اور خود اپنا بھی۔ مگر جب اس نازک وقت میں وہ اس کی مدد کے لیے کھڑے ہو گئے تو انھوں نے اخبار کوبھی فائدہ پہنچایا اور خود اپنے آپ کو بھی۔ p. 279original + quote
کسی کا قول ہے — ’’اگر آپ دوسروں کے مقابلہ میں کم ہوں تواس کا رخ نہ کیجیے۔ کیونکہ کم ہونا بھی آدمی کو ایک چیز دیتا ہے۔ اور وہ ہے اپنی کمی کو دور کرنے کا جذبہ۔ اگر یہ جذبہ آپ اپنے اندر پیدا کر لیں تو آپ کی کمتری وہ زینہ بن جائے گی جو آپ کو اٹھا کر برتر مقام تک پہنچا دے‘‘۔ مشہور باکسنگ چیمپئن محمد علی کلے کا واقعہ اس کا ایک زندہ نمونہ ہے۔ p. 279original + quote
امریکہ کی کالی نسل کا ایک لڑکا جس کی عمر تقریباً بارے سال تھی۔ روزانہ دیکھتا تھا کہ سڑک سے خوبصورت کاریں گزر رہی ہیں۔ ایک روز اس نے اپنے باپ سے کہا ابا ، یہ چمکتی ہوئی کاریں ہمارے پاس کیوں نہیں ۔ p. 279
’’بیٹے ، ہم لوگ کالے ہیں اور یہ حق صرف گوروں کو حاصل ہے کہ وہ خوب صورت کاروں پر چلیں‘‘۔ p. 280opposing view
باپ نے بیٹے کی کالی جلد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ p. 280
’’ ابا کیا کالا ہونا جرم ہے‘‘ بیٹے نے اپنے باپ سے کہا۔ ’’بات یہ ہے کہ کالا ہونے کی وجہ سے ہمیں کوئی ایسا کام کرنے نہیں دیا جاتا جو ہماری آمدنی میں زیادہ اضافہ کرنے والا ہو۔ اور جو آدمی صرف اتنا کمائے کہ اپنا پیٹ بھر سکے وہ کار خریدنے کا بوجھ کیسے برداشت کرے گا‘‘۔ باپ نے اپنے بیٹے کو جواب دیا۔ تاہم جب اس نے دیکھا کہ اس جواب سے بیٹے کی افسردگی ختم نہیں ہوئی تو اس نے بیٹے کے لیے ایک بائیسکل خرید دی۔ بائیسکل دیتے ہوئے اس نے اپنے بیٹے سے کہا p. 280other source
ہماری تو اتنی بھی سکت نہیں تھی مگرتم کو غمگین دیکھ کرمجھ سے رہا نہ گیا۔ p. 280
لڑ کا بائیسکل پر سوار ہوا ۔ وہ گھنٹی بجاتا اور ہینڈل ادھر ادھر گھماتا ہوا خوشی سے چل رہا تھا یہاں تک کہ وہ ایک دکان کے سامنے جا کر رکا۔ اس نے اپنی بائیسکل باہر کھڑی کی اور دکان کے اندر چلا گیا۔ جب وہ رو مال خرید کر باہر نکلا توکیا دیکھتا ہے کہ ایک سفید فام لڑکا اس کی بائیسکل پر سوار ہو کر دوڑا چلا جارہا ہے۔اس نے دوڑ کر اس کو پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا۔ p. 281
پھولتی ہوئی سانس کے ساتھ جب اس نے ایک پولیس والے سے شکایت کی تو اس نے اس کے کالے رنگ کو دیکھ کر حقارت سے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ یہ موقع تھا کہ لڑکے کے دل میں سفید فام لوگوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ۔ مگر ایسا نہیں ہوا ۔ بلکہ اس کے اندر خود اپنے اس احساس کے خلاف شدید جذبہ ابھر آیا کہ ہم اپنے کالے رنگ کی وجہ سے اپنے کوکم کیوں سمجھتے ہیں۔ جس طرح سفید ایک رنگ ہے اسی طرح کالا بھی ایک رنگ ہے۔ پھر اس کی وجہ سے ہم احساس کمتری میں کیوں مبتلا ہوں۔ p. 281
لڑکے نے پولیس والے سے کہا کہ اگر مجھ کو وہ سفید فام لڑکا مل گیا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا ۔ پولیس والا ہنستا ہوا بولا ’’جاؤ، پہلے تم ناک توڑنے کی مشق کرو‘‘۔ اس جملہ میں جو طنز چھپا ہوا تھا اس نے لڑ کے کو آخری حد تک جھنجھوڑ دیا۔ اس نے طے کرلیا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے گا۔ اس نے اسی دن سے باکسنگ کی مشق شروع کر دی۔ p. 281
یہ لڑکا محنت کرتے کرتے بالآخر ایک روز عالمی با کسنگ چیمپئنبن گیا۔ اب خوب صورت کیڈ لک کا راس کے گھر کے سامنے اس کی منتظر رہتی۔ وہ ان ہوٹلوں میں ٹھہرنے لگا جن میں صرف شہزادے اور سر بر اہان مملکت ٹھہرتے ہیں۔ وہ دنیا بھر کے اخبارات کے صفحہ اول میں جگہ پانے لگا — یہ محمد علی کلے تھا جس نے تمام باکسروں کو ہرا کر باکسنگ کا عالمی اعزاز حاصل کیا ہے۔ p. 281
محمد علی کلے نے ایک انٹرویو میں کہا اگر میرا باپ اپنے کالے رنگ کی وجہ سے احساس کمتری کا اظہار نہ کرتا اور مجھ کو کار کے بجائے بائیسکل نہ دیتا تو آج میں عالمی با کسنگ کا چیمپئنبھی نہ بنتا۔ یہ در اصل اپنے پیچھے ہونے کااحساس تھا جس نے میرے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پید اکیا۔ p. 282original + quote
نوٹ 13-14اکتوبر 1984کو آل انڈر پریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کیا گیا۔ p. 282