Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
زندگی کا معرکہ p. 258
’’سب کچھ لٹ جانے پر بھی مستقبل باقی رہتا ہے‘‘۔ بودی کا یہ قول زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بیان کر رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے امکانات لٹ گئے ہوں تو وہ یقینی طور پر ماضی کے امکانات ہوں گے نہ کہ مستقبل کے امکانات ۔ آدمی خواہ کتنا ہی زیادہ برباد ہو جائے۔ بہر حال اس کی بربادی اس کے ماضی کی بربادی ہوتی ہے۔ اس کا مستقبل پھر بھی پوری طرح اس کے لیے موجود ہوتا ہے ۔ مستقبل کی طرف اپنے سفر کا آغاز کر کے دوبارے اپنے لیے ایک نئی کامیاب زندگی پا سکتا ہے ۔ p. 258original + quote
کسی حادثہ سے دو چار ہونے کے بعد اگر آدمی یہ کہہ سکے کہ میں نے ’’ماضی کو کھویا ہے مگر میں نے مستقبل کو نہیں کھویا‘‘۔ تو گویا کہ اس نے جو چیز کھوئی تھی اس سے بھی زیادہ بڑی چیز اس نے دوبارے پالی۔ p. 258
کیوں کہ اس کا یہ احساس اس کو ایک نیا آغاز عطا کرتا ہے ، اور اس دنیا میں حقیقی آغاز ہی کا دوسرانام کامیابی ہے ۔ p. 259
رابرٹ کو لیئر نے نہایت صحیح کہا ہے کہ ’’انسان کی سب سے اچھی دوست اس کی دس انگلیاں ہیں‘‘۔ دس انگلیوں سے اس کی مراد آدمی کے دو ہاتھ ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی کے دو ہاتھ جن میں اس کی دس انگلیاں ہیں ، یہ اتنے قیمتی ہیں کہ ساری دنیا کا تمام سونا بھی ان کی قیمت نہیں۔ آدمی جب اپنا باہر کا اثاثہ کھو چکا ہو ، اس وقت بھی اس کی دس انگلیاں اس کے پاس پوری طرح موجود ہوتی ہیں۔ انہیں انگلیوں اور انہیں دونوں ہاتھوں سے اس نے پایا تھا جو کچھ اس نے حاصل کیا تھا ۔ اب دوبارے وہ ان کو استعمال کر کے پھر وہی چیز پا سکتا ہے جس کو اس نے پہلے حاصل کیا تھااور پھر اس نے ان کو کھو دیا۔ p. 259original + quote
مسٹر جے سی ملک ایک فوجی پائلٹ تھے ۔ انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں فائٹر پائلٹ (ہندستان ٹائمس 5 مئی 1982) کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ فوجی پائلٹ جب ایک جنگی جہاز لے کر اڑتا ہے تو یہ اس کے لیے گویا موت کی طرف سفر کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ اس کا آواز سے تیز رفتار جہاز اتنی بلندی پر اڑتا ہے جہاں عملاً مہیب خلا کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ وہ اپنا سارا سفر مشین کے اعتماد پر کرتا ہے ۔ وہ یاتو اپنا کام کرکے دوبارے اپنے سابقہ مقام پر واپس آجاتا ہے یا دشمن کا نشانہ بن کر ختم ہو جاتا ہے۔ p. 259other source
فوجی پائلٹ کے اس جوکھم کے سفرکا ذکر کرتے ہوئے مسٹر ملک نے ایک بڑا سبق آموز جملہ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پائلٹ کے اندر اس وقت جو آدمی ہے وہ ڈر کو جانتا ہے مگر اس کے اندر جو کارکن ہوا باز ہے اس نے اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کر رکھا ہے کہ وہ اس پر قابو پائے p. 260original + quote
The man in him knows fear. But the professional pilot in him has taught and trained himself to master it p. 260
یہ بات جو مضمون نگار نے فوجی پائلٹ کے بارے میں کہی ہے وہی زندگی کے عام معرکہ کے لیے بھی صحیح ہے ۔ زندگی ایک سخت معرکہ ہے جس کا سامنا ہر آدمی کو کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی کمزوریاں اس کو ڈراتی ہیں۔ اس کے بظاہر نا موافق حالات اس کو بے ہمت کرتے ہیں۔ لیکن آدمی کو اگر زندگی کا معرکہ جیتنا ہے تو اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھالے، مشکلات سے گھبرانے کے بجائے وہ مشکلات پر فتح حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ p. 260
’’حافظہ پیچھے دیکھتا ہے اور امید آگے‘‘ رام چندر ٹنڈن کا یہ قول اسی حقیقت کو ایک اور انداز سے بیان کرتا ہے۔ ڈریا نا امیدی در اصل حافظہ کا ایک معاملہ ہے ۔ ہمارے ذہن میں جو پچھلی یا دیں چھپی ہوئی ہیں ان میں سے کسی یاد کو ہم اپنے ساتھ جوڑ کر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صورت جو فلاں کے ساتھ پیش آئی تھی وہ ہمارے ساتھ بھی نہ پیش آجائے ۔ اگر ہم پچھلی یادوں کو نظر انداز کر کے آگے کے امکانات پر اپنے ذہن کو جما دیں تومعلوم ہوگا کہ جہاں ہم صرف خطرہ دیکھ رہے تھے وہیں ہمارے لیے ایک نیا شاندار، امکان چھپا ہوا تھا ۔ کسی نے صحیح کہا ہے— ہر خاتمہ ایک نئے امکان کا آغاز ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں۔ p. 260original + quote
ایک مقولہ ہے کہ ہوائیں اکثر اوقات اس رخ کے خلاف چلتی ہیں جو کہ کشتیاں چاہتی ہیں (الرِّيَاحُ فِي مُعْظَمِ الأَحْيَانِ تَجْرِي عَلَى خِلَافِ مَا تُرِيدُهُ السُّفُنُ)۔ p. 260
زندگی ایک ناہموار سفر ہے ۔ زندگی میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے باہر کے حالات بالکل ویسے ہی ہوں جیسا کہ آپ چاہتے ہیں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حالات آپ کے ساتھ موافقت نہیں کرتے ۔ آپ کو اپنی زندگی کا سفر حالات سے لڑ کر طے کرنا ہوتا ہے ۔ p. 261
زندگی کی مثال دندانہ دار پہیہ ( cog wheel) کی ہے ۔ ایک دندانہ انسان کا ہے اور دوسرا دندانہ قدرت کا ۔ جب تک قدرت کا پہیہ نہ چلے ، انسان کا پہیہ نہیں چل سکتا۔ p. 261
انسان جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ ان کو محض اپنی ذاتی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتا۔ ذاتی کوشش کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ باہر کے اسباب اس کے ساتھ موافقت کریں۔ گویا کہ موجودہ دنیا میں کسی کامیابی کو پانے کے لیے بیک وقت دو چیزیں ضروری ہیں ۔ ایک ،آدمی کی اپنی ذاتی محنت ، دوسرے ، باہر کے حالات کی موافقت ۔ p. 261
آدمی کو یقیناً اپنے آپ پر قابو حاصل ہے ۔ مگر خارجی اسباب پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔ ایسی حالت میں موجودہ دنیا میں کامیابی کی صرف ایک ہی صورت ہے ۔ یہ کہ ہم اپنی زندگی کا منصوبہ بناتے ہوئے خارجی اسباب کا بھی ضرور لحاظ رکھیں۔ خشکی پر چلنے کی قوت رکھتے ہوئے سمندر میں چھلانگ نہ لگائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات سے ہم آہنگی کرکے اپنا راستہ نکالنے کا نام کامیابی ہے۔ اگر چہ بہت سے لوگ حالات سے لڑ کر اپنا راستہ نکالنے کو کامیابی کا راز سمجھ لیتے ہیں ۔ p. 262
نوٹیہ تقریر 10-11دسمبر 1982کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی ۔ p. 262