Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
معتدل زندگی p. 236
جاپان میں ایک شخص ہے جس کا نام ہے شیگی چیوایزومی۔ وہ دنیا کاسب سے زیادہ معمر آدمی سمجھاجاتا ہے۔ اس کی پیدائش 29 جون 1865 میں ہوئی تھی ۔ اتنی زیادہ عمر کے باوجود ابھی تک اس کی جسمانی حالت بہت اچھی ہے۔ وہ جنوبی جاپان کے ایک جزیرہ ٹو کو نوشیما میں ایک ناریل آدمی کی طرح رہتا ہے۔ غیر معمولی طور پر لمبی عمر کے باوجود تندرست ہونے کی وجہ سے اس نے بہت شہرت پائی ہے ۔ وہ جاپان میں آنے والے سیاحوں کی فہرست کا ضروری جزء بن گیا ہے ۔ چنانچہ ہر روز تقریباً 200 سیاح اس کو دیکھنے کے لیے اس جاپانی جزیرہ میں پہنچتے ہیں ۔ اس سے ملنے والے عام طور پہ ایک سوال ضرور کرتے ہیں آپ کے نزدیک زندگی گزارنے کا بہتر طریقہ کیا ہے ، ایزومی کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ p. 236unverified
Live an ordinary life and don't go to extremes p. 237
معمولی زندگی گزارو اور کسی معاملہ میں انتہا پسندی تک نہ جاؤ ( ہندستان ٹائمس ، 8جولائی 1981) ۔ p. 237
یہ بظاہر سیدھی سادی بات بہت قیمتی بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی اگر کھانے، کپڑے ، مکان اور دوسری ضروریات زندگی میں سادہ اور معمولی طریقہ کو اپنائے تو وہ کہیں زیادہ سکھی اور تندرست رہے اور بہت سی الجھنوں اور دشواریوں سے اپنے آپ بچ جائے۔ زیادہ تر مسئلے غیر ضروری تکلفات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور ان سے بچنے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر یہ ہے کہ اس قسم کے غیر ضروری تکلفات کو اپنی زندگی میں شامل ہی نہ کیا جائے۔ p. 237
آپ کسی بھی مقام پر دونوں قسم کی مثالیں دیکھ سکتے ہیں ۔ ایک شخص وہ ہے جس پر ہر وقت یہ احساس چھایا رہتا ہے کہ اس کی پوزیشن خراب نہ ہو۔ وہ اپنے اس مزاج کی وجہ سے مہمانوں کی تواضع میں بے حد تکلف کرتا ہے۔ گھر کو سجانے میں اپنی بساط سے زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے۔ گھر سے باہر نکلنا ہو تو کافی وقت اس کو اپنے بنانے سنوارنے میں لگانا پڑتا ہے۔ تعلقات اور بات چیت میں خواہ مخواہ تصنعبرتتا ہے۔ کوئی سفر کرنا پڑے تو ہر قسم کے لوازم کی فراہمی میں اتنا زیادہ سامان اپنے ساتھ لاد لیتا ہے کہ اس کا سفر غیر ضروری طور پر ایک مصیبت بن جائے۔ ایسا آدمی کبھی خوش نہیں ہو گا اور نہ اس کی صحت اچھی رہے گی ۔ p. 238
دوسری طرف وہ شخص ہے جو ضرورت دیکھتا ہے، نہ کہ پوزیشن ۔ جب کوئی شخص اس کے یہاں آتا ہے تو گھر میں جو کچھ موجود ہوتا ہے وہ بے تکلف اسے کھلا دیتا ہے۔ مکان کے معاملہ میں وہ صرف صفائی کو ضروری سمجھتا ہے نہ کہ سجاوٹ اور تزئین کو ۔ اس کو گھر سے باہر نکلا ہو تو اسی حال میں باہر چلا جاتا ہے جیسے کہ وہ گھر کے اندر تھا۔ اس کا سفر اتنا ہلکا پھلکا ہوتا ہے کہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کب گیا تھا اور کب واپس آگیا۔ ایسا آدمی ہمیشہ خوش رہے گا۔ اس کی صحت بھی اچھی ہوگی ۔ اس کے دماغ پر کسی قسم کا تناؤ نہیں ہو گا۔ وہ دن کو نشاط کے ساتھ کام کرے گا اور رات کو چین کی نیند سوئے گا۔ p. 238
اسی طرح یہ ایک واقعہ ہے کہ انتہا پسندی اکثر حالات میں آدمی کے لیے مشکلات کا باعث ہوتی ہے۔ مثلاً لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے مختلف اسباب سے ایک شخص کا دوسرے سے ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے۔ ایسے مواقع پر لوگ عام طور پر انتہا پسندانہ طریقوں کی طرف جھک جاتے ہیں۔ وہ اعتدال اور توسط کا طریقہ اختیار نہیں کر پاتے بلکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا پسند کرتے ہیں۔ مگر یہ مسئلہ کا حل نہیں ۔ کیونکہ ایک فریق کی انتہا پسندی دوسرے فریق کے اندر جوابی انتہا پسندی پیدا کرتی ہے اور مسئلہ ختم ہونے کے بجائے اور زیادہ الجھتا چلا جاتا ہے ۔ ایک مسئلہ کی جگہ کئی مسئلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ p. 238
یہ دوسری مثال بھی ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے ۔ جو لوگ اپنے خلاف باتوں کا شدید اثر لیتے ہیں ۔ جو دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنے میں ہمیشہ آخری انتہا پر چلے جاتے ہیں، جن کی دوستی بھی حد سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور دشمنی بھی حد سے بڑھی ہوئی ، ایسے لوگ کبھی پر سکون زندگی کے مالک نہیں بن سکتے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ خلاف مزاج باتوں کو نظر انداز کریں، جو دوسروں کے بارے میں ہمیشہ اعتدال کے ساتھ رائے قائم کریں، جو دوستی میں بھی درمیانی راہ اختیار کریں اور دشمنی میں بھی درمیانی راہ ۔ ایسے لوگ ہمیشہ چین کے ساتھ رہیں گے ۔ ان کا دن بھی سکون کے ساتھ گزرے گا اور رات بھی ۔ یہی وہ زندگی ہے جس کے متعلق ویٹنگٹن نے کہا ہے— موت کے بعد جنت میں رہنے کے لیے موت سے قبل بھی جنت میں رہنا ہو گا۔ p. 238original + quote
نوٹ یہ تقریر 2-1اگست 1981کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔ p. 239