Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مذہب اور سیاست p. 184
مذہب کیا ہے۔ مذہب ان روحانی قدروں اور انسانی اصولوں میں جینے کا نام ہے جن کو خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بتایا ہے۔ مذہب کا پہلا اصول توحید ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں صرف ایک حقیقت ایسی ہے جو سب سے اوپر ہے جو سب سے بالا ہے ، اور وہ خدا ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے۔ وہ اس سے گھنڈ کا جذبہ چھین لیتا ہے جو تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔ p. 184
مذہب کا دوسرا اصول مساوات ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسان ایک ہی خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اور سب کے سب ایک ہی آدم کی اولاد ہیں ۔ مذہب کا یہ اصول انسان اور انسان کے درمیان ہر قسم کی اونچ نیچ کو مٹا دیتا ہے۔ خواہ وہ دولت اور عہدہ کی وجہ سے ہو ، یا رنگ اور نسل کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے۔ اس مذہبی عقیدہ کے مطابق تمام انسان بھائی بھائی ہیں۔ سب کو ایک مشترک خاندان کی طرح مل جل کر رہنا چاہیے ۔ p. 184
مذہب کا تیسرا بنیادی اصول عدل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سماجی تعلقات اور آپس کے لین دین میں ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسرے آدمی کے ساتھ برابری اور انصاف کا معاملہ کرے جس طرح تر از و ٹھیک ٹھیک تولتا ہے اسی طرح انسان کو بھی ٹھیک ٹھیک تو لنا چاہیے ۔ انسان کا ہرمعاملہ اسی طرح درست ہونا چاہیے جس طرح ترازو کی تول بالکل درست ہوتی ہے۔ p. 185
یہی مذہب کی اصل حقیقت ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ مذہب در حقیقت کچھ قدروںاور کچھ پیمانوں کا نام ہے۔ وہ ایک فرد کو سوچ اور مزاج کے اعتبار سے ، خاص طرح کا انسان بناتا ہے۔ ایسا انسان جو دنیا میں تواضع کی نفسیات کے ساتھ جئے۔ جو سچائی کے آگے جھک جائے ۔ جو تمام انسانوں کو اپنا سمجھے، جس کو کوئی انسان غیر نظر نہ آئے۔ جو دوسرے انسان کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ خود اپنے ساتھ چاہتا ہے۔ جو اپنے آپ کو بھی اسی پیمانہ سے ناپے جس پیمانہ سے وہ دوسروں کو نا پنا چاہتا ہے۔ p. 185
اس طرح مذہب انسان کی زندگی کو جانوروں کی زندگی سے الگ کر دیتا ہے۔ جانور صرف ایک ہی بات کو جانتے ہیں۔ اور وہ ان کا فائدہ ہے۔ وہ اپنے غرض اور فائدہ کے سوا کسی اور چیز سے واقف نہیں۔ مگر مذہبی انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ مذہبی انسان کی زندگی کچھ قدروں اور کچھ اصولوںکے تابع ہوتی ہے۔ وہ اپنی خواہش پر نہیں چلتا۔ بلکہ اپنے عقلی فیصلہ کے مطابق عمل کرتا ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو حق کے مطابق کرنا چاہیے ۔ اور وہ نہیں کرتا جس کا کرناحق کے مطابق اس کے لیے درست نہیں۔ p. 185
مذہب کی اس حقیقت کو سامنے رکھنے کے بعد یہ بات اپنے آپ واضح ہو جاتی ہے کہ مذہب کا تعلق سیاست سے کیا ہے۔ وہ چیز جس کو آجکل سیاست کہا جاتا ہے اس سے مذہب کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ البتہ بالواسط طور پر مذہب کا تعلق سیاست سے اسی طرح ہے جس طرح اس کا تعلق دوسری تمام انسانی سرگرمیوں سے ہے۔ p. 185
ایک شخص جو صحیح معنوں میں مذہبی ہو اور مذہب کو اس کی روح کے اعتبار سے اپنائے ہوئے ہو تو وہ زندگی کے جس شعبہ میں بھی داخل ہو گا اس کا مذہب بھی اس کے ساتھ ساتھ رہے گا۔ اس کا رویہ ہر معاملہ میں مذہبی انسان کا رویہ ہو گا۔ مثلاً وہ سڑک پر چل رہا ہو تو وہ ٹریفک کے اصولوں کی پوری پابندی کرتا ہوا چلے گا۔ وہ کسی سروس میں ہو تو وہ حسب قاعدہ اپنی پوری ڈیوٹی انجام دے گا۔ وہ تاجر ہو تو اس کی تجارت لوٹ اور دھوکہ بازی کی تجارت نہیں ہوگی بلکہ دیانت داری کی تجارت ہوگی ۔ ایک سچا مذہبی انسان خود اپنے اندرونی جذبہ کے تحت مجبور ہوتا ہے کہ وہ جہاں بھی رہے با اصول انسان کی طرح رہے ۔ وہ کسی بھی حال میں بے اصولی اور خود غرضی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ p. 186
یہی معالہ سیاست کا بھی ہے۔ ایک مذہبی انسان سیاست میں بھی ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر داخل ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں بھی وہ اپنے مذہبی مزاج کے تحت اپنا سیاسی عمل کرے گا نہ کہ مذہبی مزاج کو چھوڑ کر۔ اس کی سیاست دوبارے با اصول سیاست ہوگی نہ کہ مصلحت پرستی کی سیاست ۔ وہ سیاسی مواقع کو قوم اور ملک کی خدمت کے لیے استعمال کرے گا نہ کہ قوم اور ملک کو لوٹنے کے لیے۔ وہ اپنی سیاسی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹ نہیں بولے گا۔ بلکہ اپنی غلطیوں کا کھلے طور پر اعتراف کرے گا، خواہ اس اقرار کی قیمت اس کو یہ دینی پڑے کہ وہ سیاسی عہدہ یا سیاسی اقتدارسے محروم ہو جائے ۔ p. 186
ایک شخص سیاست میں مذہب کا نام لے تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مذہبی آدمی ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ایک خود غرض سیاست داں ہو اور مذہب کا نام صرف اس لیے استعمال کر رہا ہو کہ اس کے ذریعہ سے عوام کو دھوکہ دے۔ وہ اپنی خود غرضی کی سیاست چلائے اور ظاہر یہ کرے کہ وہ مذہب کی سیاست چلا رہا ہے۔ p. 186
مشہور مثل ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح مذہب کے نام پر چلائی جانے والی سیاست کو بھی اس کے نتیجہ کے اعتبار سے جانچنا چاہیے ۔ اگر یہ سیاست اخلاق اور انسانیت کی فصل اگا رہی ہو تو وہ مذہبی لوگوں کی سیاست ہے۔ اور اگر اس کے نتیجہ میں باہمی ٹکراؤ اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا جھاڑ جھنکاڑ پیدا ہو تو یقینی طور پر وہ استحصالی سیاست ہے۔ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ p. 186original + quote
اگر کہا جائے کہ مذہبی تجارت یا مذہبی ڈاکٹری ، تو یہ الفاظ بے معنی معلوم ہوں گے۔ لیکن اگر ہم لفظ بدل دیں اور یوں کہیں کہ مذہبی آدمی کی تجارت یا مذہبی آدمی کی ڈاکٹری ، تو پھر یہ الفاظ بے معنی معلوم نہیں ہوں گے ۔ کیوں کہ مذہبی تجارت یا مذہبی ڈاکٹری کسی چیز کا نام نہیں ۔ مگر مذ ہبی آدمی کی تجارت واقعتاً ایک چیز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اپنی سوچ اور اپنے ذہن کے اعتبار سے مذہبی ہو ۔ ایسا آدمی جب تجارت کرے گا تو اس میں وہ اپنے مذہبی اصولوں کا لحاظ کرے گا۔ مثلاً وہ گاہک کو دھوکا نہیں دے گا۔ وہ لین دین میں خیانت نہیں کرے گا، وغیرہ۔ اس طرح اس کی تجارت مذہبی آدمی کی تجارت بن جائے گی۔ p. 187
اسی طرح ایک شخص سچامذہبی ہو ، اس کے بعد وہ ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرے تو وہ اپنے مریضوں کو صرف پیسہ لوٹنے کا ذریعہ نہیں سمجھے گا۔ بلکہ وہ ان کا ہمدرد ہو گا۔ وہ ان کو صحیح دوا دے گا۔ وہ ان کا خیر خواہ بن کر ان کا علاج کرے گا ۔ اس طرح کا اعلیٰ سلوک اس کی ڈاکٹری کو ایک مذہبی انسان کی ڈاکٹری بنا دے گا۔ p. 187
گویا مذہب عملی اعتبار سے مذہبی انسان کا نام ہے۔ اگر واقعتاً کسی سماج میں مذہبی انسان ہیں ۔ تو ان کے مذہبی عمل سے سماج میں مذہبی ماحول پیدا ہو گا۔ اور اگر ایسے انسان نہ ہوں جو واقعی معنوں میں مذہبی ہوں تو اب سماج مذہبی سماج نہیں بن سکتا، خواہ وہاں مذہبی نعرہ لگانے والوں کی بھیڑا کھٹا ہو، خواہ وہاں مذہب کے نام پر کتنے ہی ہنگامے جاری ہوں۔ p. 187
مذہبی تجارت حقیقتاً مذہبی انسان کی تجارت کا دوسرا نام ہے ۔ مذہبی انسان کے بغیر وہ تجارت وجود میں نہیں آسکتی جس کو مذہبی تجارت کہا جاسکے۔ اسی طرح اگر مذہبی سیاست کوئی چیز ہو تو وہ بھی مذہبی انسان کی سیاست کا دوسرا نام ہوگی۔ حقیقی مذہبی انسان کے بغیر حقیقی مذہبی سیاست کا کوئی وجود نہیں۔ p. 187
جو لوگ مذہب کی اس حقیقت کو نہیں جانتے وہ ’’مذہبی حکومت‘‘ بنانے کا نعرہ لگاتے ہیں، حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ ’’ مذ ہبی انسان بنانے کی کوشش کی جائے‘‘۔ ’’مذہبی حکومت بناؤ ‘‘ کا نعرہ ایک بے معنی نعرہ ہے جو صرف سماجی جھگڑے اور قومی فساد میں اضافہ کرتا ہے ۔ اس کے برعکس، اگر مذہبی انسان بناؤ کا مشن چلایا جائے تو سماج میں جھگڑا گھٹے گا اور فساد ختم ہوگا۔ p. 187
’’مذہبی تجارت‘‘ اگر کوئی چیز ہو تو وہ مذہبی انسان کی تجارت کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی انسان کے بغیر مذہبی تجارت کے کوئی معنی نہیں ۔ اسی طرح ’’مذہبی سیاست‘‘ اگر کوئی چیز ہو تو وہ بھی مذہبی انسان کی سیاست کا دوسرا نام ہوگی۔ p. 188
سچے مذہبی انسان کی روش ہی کسی سیاست کو مذہبی رنگ دیتی ہے ۔ اگر سچے مذہبی انسان نہ ہوں تو مذ ہبی نعرے بازی یا مذہب کے نام پر ہنگامہ آرائی سے کوئی سیاست مذہبی سیاست نہیں بن سکتی، خواہ اس قسم کی کوشش میں ہزاروں سال لگا دئے جائیں۔ p. 188
مذہب اور سیاست یا سیاست اور مذہب کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ سیاست کو مذہب کے لیے استعمال کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کیا جائے۔ پہلی صورت مذہب کے مطابق ہے اور انسانیت کے لیے رحمت ہے۔ جب کہ دوسری صورت سراسر مذہب کے خلاف ہے اور انسانیت کے لیے ایک سماجی عذاب سے کم نہیں۔ p. 188
مذہب کے بارے میں خاص طور پر مشرقی ملکوں میں لوگ بہت حساس ہوتے ہیں۔ اگر مذہب کے نام پر کوئی اِشو کھڑا کیا جائے تو وہ فورا بھڑک اٹھتے ہیں۔ p. 188
اس بنا پر خود غرض سیاستداں اپنی لیڈری کو نمایاں کرنے کے لیے اس کو سب سے زیادہ آسان سمجھتے ہیں کہ ’’ مذہب خطرہ میں ‘‘ جیسا کوئی نعرہ بلند کریں اور لوگوں میں ادھر سے اُدھر تک آگ لگا دیں۔ اس آگ کی روشنی میں لیڈر کا اپنا چہرہ تو خوب روشن ہو جاتا ہے مگر عام انسان اس کی آگ میں جھلس کر رہ جاتے ہیں ۔ p. 189
صحیح سیاست اور غلط سیاست کو ناپنے کا ایک بہت کھلا ہو ا معیار ہے ۔ جو سیاست محبت کی بنیاد پر اٹھائی جائے وہ سچی سیاست ہے۔ اور جو سیاست نفرت کی بنیاد پر اٹھائی جائے وہ جھوٹی سیاست۔ p. 189
اب چونکہ مذہب تمام انسانوں سے محبت اور خیر خواہی کی تعلیم دیتا ہے اس لیے جب کوئی سچا مذہبی انسان سیاست کے میدان میں آئے گا تو وہ انسانوں کی محبت کی بنیاد پر اپنی سیاسی تحریک چلائے گا۔ وہ سیاست میں ان اعلیٰ انسانی قدروں کو شامل کرے گا جو مذہب کی روح اور اخلاص ہیں۔ مثلاً بے غرضی، اصول پسندی، انصاف، استحصال سے بچنا ، حقوق سے زیادہ ذمہ داریوں کاخیال ، وغیرہ۔ p. 189
اس کے برعکس، اگر کوئی شخص مذہب کا نام لیتا ہے۔ اور اسی کے ساتھ وہ نفرت اور تشدد کی سیاست چلانا چاہتا ہے تو یقینی طور پر وہ مذہبی نہیں ہے ۔ وہ مذہب کو صرف اپنے خود غرضانہ مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ کیوں کہ مذہب اور نفرت یا مذہب اور تشدد دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ p. 189
مذہب اور سیاست کا لفظ ایسا ہی ہے جیسے محبت اور سیاست کا لفظ ۔ محبت سے بھرا ہوا دل ، خواہ وہ سیاست کے پلیٹ فارم پر ہو یا اور کسی پلیٹ فارم پر، کبھی نفرت اور دشمنی کی بات نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جس انسان کے اندر مذہب کی روح اتری ہوئی ہو وہ کبھی نفرت اور دشمنی کی بات نہیں کرے گا، خواہ وہ سیاست کے میدان میں ہو یا کسی اور میدان میں ۔ p. 190
نوٹ آل انڈیا ریڈ یو، نٹی دہلی، سے 17 اکتو بر 1988 کو نشر کیا گیا۔ p. 190