Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
قربانی کا تصور اور ہمارا معاشرہ p. 102
عید اضحی کے موقع پر ہر سال جو قربانی کی جاتی ہے ، اس کا تعلق انسانی زندگی سے بہت گہرا ہے۔ وہ صحت مند زندگی کی تعمیر کی علامت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں قربانی ایک سالانہ رسم بن کر رہ گئی ہے۔ اب وہ ایک بے روح مذہبی روایت کے طور پر زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سال کے مخصوص دنوں میں رسمی طور پر جانور تو ذبح کر دیتے ہیں۔ مگر اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نظر نہیں آتا۔ قربانی کا عمل اگر زندہ اسپرٹ کے ساتھ کیا جائے تو ہمارا پورا معاشرہ بالکل بدل جائے۔ p. 102
قرآن میں قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتا یا گیا ہے کہ اللہ کو اس کا گوشت اور اس کا خون نہیں پہنچتا ، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے (22:37)۔ گوشت اور خون جانور کے جسم میں ہوتا ہے جس کو ذبح کیا جاتا ہے۔ اور تقویٰ اس آدمی کے دل کی چیز ہے جو ذبح کرنے والا ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر اگر چہ جانور کو خد اکے سامنے پیش کیا جاتا ہے، مگر یہ حقیقت اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں قربانی جانور کا ذبیحہ نہیں بلکہ خود اپنا ذبیجہ ہے۔ یہ ذبح ہونے والے سے زیادہ ذبح کرنے والے کی تصویر ہے۔ بظاہر وہ ایک خارجی عمل ہے مگر باعتبار حقیقت وہ ایک اندرونی عمل ہے۔ اسی شخص کی قربانی صحیح قربانی ہے جس کی ظاہری قربانی اس کی اندرونی قربانی میں ڈھل جائے۔ p. 103original + quote
جانور کو ذبح کر کے آدمی اپنے اس ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ خدا کی خاطر اپنی انا کو ذبح کرے گا۔ وہ اپنے مفادات کو قربان کرکے سچائی کے طریقہ پر قائم رہے گا۔ وہ مصلحتوں کو نظر انداز کر کے خدا کے حکم پر چلنے والا بنےگا۔ اس کا نفس اگر خدا کے راستہ میں چلنے میں رکاوٹ بنے گا تو وہ اپنے نفس پر چھری چلا دے گا مگر خدا کے راستہ سے ہٹنا گوارہ نہیں کر ے گا۔ p. 103
ایک اور مقام پر قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو (108:2)۔ یہ آیت ایک اعتبار سے دین کے دو پہلوؤں کو بتاتی ہے۔ ایک عجز و تواضع ، اور دوسرے ایثار و قربانی۔ نماز عجز کی علامت ہے اور جانور کا ذبیحہ قربانی کی علامت یہ گویا دو بنیادیں ہیں جن کے اوپر پورے دین کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ p. 103original + quote
ایک اعتبار سے اس کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں عجز مطلوب ہے، اور بندوں کے مقابلہ میں قربانی درکار ہے۔ اللہ بڑا ہے ، ہم چھوٹے ہیں۔ اللہ دینے والا ہے، ہم پانے والے ہیں۔ اللہ آقا ہے ۔ ہم اس کے بندے ہیں۔ اس اعتبار سے اللہ کے مقابلہ میں واحد چیز جو مطلوب ہو سکتی ہے ، وہ عجز و تواضع ہی ہے۔ یہاں بندے کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے بے کمال ہونے کو مانے ، وہ اللہ کے مقابلہ میں عاجزی اور فرماں برداری کا طریقہ اختیار کرے۔ p. 103
قربانی کا عمل کئی اعتبار سے بندوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ اس اخلاقی برتاؤ اور انسانی سلوک کا خلاصہ ہے جو قربانی کرنے والے کو اپنے معاشرہ کے اندر پیش آتا ہے۔ p. 104
قرآن میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کے لیے لٹانا چاہا تو حضرت اسماعیل نے اپنے مقدس باپ سے کہا کہ آپ کو خدا کی طرف سے جو حکم ملا ہے ، اس کو کر ڈالیے ، ان شاءاللہ آپ مجھ کو صبر کرنے والا پائیں گے (37:102)۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کی حقیقت صبر ہے۔ قربانی اس کے بغیر انجام نہیں پاسکتی کہ آدمی پوری طرح صبرو برداشت کرنے والا بن جائے۔ قربانی کر کے آدمی علامتی طور پر اپنے اس ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں حضرت اسماعیل کی طرح صبر کرنے والا بنے گا۔ p. 104original + quote
صبر اچھے معاشرہ کی واحد بنیاد ہے۔ صبر کے بغیر کبھی صالح اور صحت مند معاشرہ نہیں بن سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بہت سے آدمی مل کر رہتے ہیں تو ان میں بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو ایک دوسرے کے لیے ناخوشگواری کا باعث ہوتی ہیں ۔ ایسا ایک گھر کے اندر بھی ہوتا ہے ۔ ایک بستی میں بھی ہوتا ہے اور ایک پوری قوم میں بھی ہوتا ہے ۔ ایک کمرہ میں پتھر کے بہت سے اسٹیچو رکھے ہوئے ہوں تو ان کے درمیان آپس میں کبھی ٹکراؤنہیں ہوگا۔ مگر جہاں زندہ انسان بستے ہوں وہاں اختلاف اور شکایت کا پیش آنا ضروری ہے۔ p. 104
ایسی حالت میں معاشرہ کو انتشار اور فساد سے بچانے کا واحد راز یہ ہے کہ اس کے افراد کے اندر صبر کا مادہ ہو۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں کو برداشت کر لیا کریں۔ لوگ شکایتوں سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے سے معاملہ کریں۔ p. 104
یہ صبر ہمیشہ قربانی مانگتا ہے۔ قربانی کے بغیر صبر و بر داشت کارویہ ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ کے اندر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے رویہ سے کسی کے وقار کو ٹھیس لگتی ہے ۔ کسی کا سلوک کسی کی انانیت کو بھڑکا دیتا ہے۔ کسی کی کوئی روش کسی کے لیے اشتعال پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ ایسے ہر موقع پر گویا آدمی کے اندر ایک حیوان جاگ اٹھتا ہے۔ اب آدمی کو اپنے اندر جاگنے والے اس حیوان کو ذبح کرنا پڑتا ہے۔ اس اندرونی حیوان کی قربانی ہی در اصل حقیقی قربانی ہے۔ کیوں کہ اسی قربانی سے سچی حق پرست زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہی وہ صالح معاشرہ بنتا ہے جس کو حقیقی معنوں میں صالح اور صحت مند معاشرہ کہاجاسکے۔ p. 105
اختلاف اور شکایت کے مواقع پر جاگنے والے اندرونی حیوان کو ذبح کرنا ہی وہ اصل قربانی ہے جو اللہ کو مطلوب ہے ۔ اس قربانی کو پیش کر کے آدمی اس اعلیٰ عمل کا ثبوت دیتا ہے جس کو قرآن میں تقویٰ ( 22:37) کہا گیا ہے۔ p. 105original + quote
جب آدمی اس نفسیاتی حیوان کی قربانی دیتا ہے ، اس کے بعد ہی اس کے اندر وہ مطلوب صفت پیدا ہوتی ہے جس کو صبر کہا گیا ہے ۔ صبر و برداشت اور عفو و اعراض صالح معاشرہ کے قیام کے لیے ناگزیر طور پر ضروری ہیں۔ اور یہ صفتیں اندرونی حیوان کو ذبح کرنے کےبعد ہی حقیقی طور پر کسی کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ p. 105
قرآن میں قربانی کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لوگ حج کے لیے آئیں اور چند معلوم دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں دئے ہیں۔ پس تم اس میں سے کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ (22:28)۔ p. 106original + quote
اس آیت سے قربانی کے دو مزید پہلو معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے جو چیزیں انسان کو دی ہیں ، خواہ وہ ذبیحہ کا جانور ہو یا کوئی اور ضرورت کی چیز، ان سب کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کا نام لینا ضروری ہے ۔ چیزوں کے استعمال پر اللہ کا نام لینا ، در اصل اس واقعہ کا اعتراف کرنا ہے کہ یہ سب چیزیں براہ راست خدا کا عطیہ ہیں۔ اس نے انسانوں کی حاجت اور ضرورت کے لیے یہ تمام چیزیں پیدا کر رکھی ہیں۔ اب ہم سے یہ مطلوب ہے کہ ہم ان کو خدا کا عطیہ سمجھ کر انھیں استعمال کریں نہ کہ ان کو اپنی عقل یا اپنے دست و بازو کا کارنامہ سمجھ لیں۔ p. 106original + quote
قربانی کے موقع پر جو جانور ذبح کیا جاتا ہے ، اس کے متعلق حکم ہے کہ اس کو کھاؤ اور کھلاؤ۔ اس طرح قربانی کا عمل آدمی کے اندر فیاضی اور باہمی ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی اسپرٹ ابھارتا ہے۔ وہ سبق دیتا ہے کہ تم خود کھانے پر اکتفا نہ کرو بلکہ دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ تم اپنی کمائی کو صرف اپنی چیز نہ سمجھ لو بلکہ اس میں دوسروں کا بھی حصہ سمجھو۔ تم صرف اپنا معاملہ درست کر کے مطمئن نہ ہو جاؤ بلکہ دوسروں کے معاملات بھی درست کرنے کی کوشش کرو۔ تم ایک انفرادی انسان بن کر نہ رہو بلکہ معاشرہ کے ایک مفید فرد کی حیثیت سے زندگی گزارو۔ تم انسانیت کے کُل کا ایک صالح جزء بن جاؤ۔ p. 106
ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو معلوم ہوگا کہ قربانی ایک زندہ عمل ہے ، نہ کہ محض ایک بے روح قسم کی تاریخی رسم۔ قربانی کا پیغام یہ ہے کہ اپنے وجود کے حیوانی حصہ کو دباؤ اور اپنے وجود کے انسانی حصہ کو زندہ کرو۔ یہی قربانی کی اصل حقیقت ہے اور یہی قربانی کا اصل پیغام۔ p. 106
نوٹ یہ تقریر 14جولائی 1989 کو آل انڈیا ریڈ یو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔ p. 107