Mazhab aur Jadeed Challenge

معیشت

Mazhab aur Jadeed Challenge — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. تمہید
  3. مخالفین مذہب کامقدمہ
  4. تبصرہ
  5. استدلال کاطریقہ
  6. کائنات خداکی گواہی دیتی ہے
  7. دلیل اخرت
  8. امکان
  9. تقاضا
  10. تجرباتی شہادت
  11. اثبات رسالت
  12. قران— خداکی اواز
  13. فلکیات
  14. ارضیات
  15. غذائیات
  16. مذہب اورتمدنی مسائل
  17. معاشرت
  18. تعدد ازواج
  19. تمدن
  20. معیشت
  21. جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
  22. اخری بات

معیشت p. 229

مذہب ،معاشیات کی جوتنظیم کرتاہے، اس میں ذرائع پیداوارپرانفرادی ملکیت کو تسلیم کیا گیا ہے بلکہ اس کاساراڈھانچہ بنیادی طورپر،انفرادی ملکیت کے اوپرقائم ہے، یہ نظام عرصہ تک باقی رہا({ FR 44 })۔ مگرصنعتی انقلاب کے بعدیورپ میں انفرادی ملکیت کے اصول پر زبردست تنقیدیں شروع ہوئیں،یہاں تک کہ تعلیم یافتہ طبقہ کی عام فضااس کے خلاف ہوگئی، انیسویں صدی کے نصف آخراوربیسویں صدی کے نصف اول کے درمیان سوبرس تک ایسی فضارہی گویا انفرادی ملکیت ایک مجرمانہ قانون تھا،جودورِ وحشت میں انسانوں کے درمیان رائج ہوگیا،اوراب جدید علمی ترقی نے اجتماعی ملکیت کااصول دریافت کیاہے، جو معاشیات کی بہترتنظیم کے لیے اعلیٰ ترین اصول ہے۔ p. 229

اس کے بعدتاریخ میں پہلی باراجتماعی ملکیت کے نظام کاتجربہ شروع ہوا،زمین کے ایک بڑے حصّے میں ا س کونافذکیاگیا،اس کے حق میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے ،بڑی بڑی امیدیں باندھی گئیں،مگرطویل تجربہ سے ثابت ہوگیاکہ اجتماعی ملکیت کانظام نہ صرف یہ کہ غیرفطری ہونے کی وجہ سے اپنے قیام کے لیے تشددپیداکرتاہے،نہ صرف یہ کہ وہ انسان کی ہمہ جہتی ترقی میں مانع ہے، نہ صرف یہ کہ سرمایہ داری سے بھی زیادہ ایک مرکوز اور جابرانہ نظام کاموجب ہے بلکہ خودوہ زرعی اورصنعتی پیداواربھی اس میں ملکیتی نظام کے مقابلے میں کم حاصل ہوتی ہے،جس کے لیے آزادی اورہمہ جہتی ترقی کی قربانی دی گئی تھی۔ p. 229unverified

یہاںمیں روس کی مثال دوں گا،روس کی تمام زمینیں اس وقت سرکاری ملکیت میں تبدیل کی جاچکی ہیں، اورپورے ملک میں ’’اجتماعی انتظام‘‘ کے تحت کاشت کی جاتی ہے، ساری زمینیں سرکاری اور پنچایتی فارم کی صورت میں ہیں، نہ کہ نجی ملکیت کی صورت میں۔ البتہ1935ء کے فیصلہ کے مطابق ہرکسان کویہ حق دیاگیاہے کہ وہ اپنے رہائشی مکان سے متصل اپنے ذاتی استعمال کے لیے ایک تہائی یا نصف ایکڑاوربعض مخصوص صورتوں میں دوایکڑتک زمین پرقبضہ رکھ سکتاہے،اسی طرح اسے یہ بھی حق ہے کہ اپنے مکان میں محدود تعداد میں گائے ،بکری،بھیڑاورمرغی وغیرہ پالے،1961ءکے اعداد و شمار کے مطابق روس میں کل زیرکاشت رقبہ204بلین ہیکٹیر(Hectares)تھا،جس میں نجی رقبہ کی مجموعی مقدارچھ ملین ہیکٹیرتھی،یعنی کل کاشت زمین کاصرف تین فیصد حصّہ،مگر1961ء میں آلوکی پیداوار کا جو تناسب تھا،وہ حسب ذیل ہے p. 229unverified

زیرکاشت زمین p. 230

پیداوار p. 230

اجتماعی رقبہ p. 230

43,5,2,000 p. 230

3,08,00,000ٹن p. 230

نجی رقبہ p. 230

45,26,000 p. 230

5,35,00,000ٹن p. 231

اس طرح نجی رقبہ پرپیداہونے والے آلوکی مقدارگیارہ ٹن فی ہیکٹیرتھی،جب کہ سرکاری فارموں میں یہ مقدارصرف سات ٹن فی ہیکٹیرتھی،حالانکہ سرکاری فارموں کو جدید زرعی مشینیں، موزوں زمین اورمعدنی کھاد وغیرہ کی وہ سہولتیں حاصل تھیں جن سے نجی رقبے قدرتی طورپرمحروم تھے۔ اسی قسم کاتناسب دوسرے اجناس کی پیداوارمیں بھی پایاجاتاہے۔ p. 231

مویشیوں کی حالت اس سے بھی زیادہ خراب ہے،چارہ کی کمی اورناقص دیکھ بھال کی وجہ سے سرکاری فارموں میں کثرت سے جانورمرجاتے ہیں۔ چنانچہ صرف ایک ریاست میں 1962 کے گیارہ مہینوںمیںمجموعی طورپرتقریباًایک لاکھ 70ہزارمویشی مرگئے۔اس کے مقابلے میں ہرقسم کی دشواریوں کے باوجودنجی طورپرپالے ہوئے مویشیوں کی تعدادبڑھ رہی ہے ،اور بااعتبار تناسب وہ سرکاری جانوروں سے زیادہ مفیدثابت ہورہے ہیں، اورزیادہ پیداوار دے رہے ہیں۔چنانچہ سرکاری فارم جوکل تعدادکا75 فی صدی مرغیوں اور مویشیوں کے مالک ہیں، انھوں نے نجی ذرائع کے مقابلے میں صرف دس(10) فیصد زیادہ گوشت فراہم کیا اور انڈے میں تونجی پيداوارنے انھیں بہت پیچھے چھوڑیا۔ 1961ء کے اعداد و شمار ملاحظہ ہوں p. 231

اجتماعی رقبہ p. 231

نجی رقبہ p. 231

گوشت p. 231

ٹن48,00,000 p. 232

ٹن39,00,000 p. 232

دودھ p. 232

ٹن3,4,00,000 p. 232

ٹن2,85,00,000 p. 232

انڈا p. 232

ٹن6,300 p. 232

ٹن23,000 p. 233

اون p. 233

ٹن2,87,000 p. 233

ٹن79,000 p. 233

حتیٰ کہ یہ محدودنجی ذرائع خودحکومتی مرکزوں کوغذائی اشیاسپلائی کرتے ہیں۔چنانچہ 1962ء میں صرف ایک ریاست میںحکومت نے اپنے دفاترکا26فیصد آلواور 34 فیصد انڈانجی فارموں سے حاصل کیاہے،اوراسی طرح دوسری چیزیں۔ p. 233

Bulletin, Germany, November 1963 p. 233

اس اجتماعی ملکیت کاآخری انجام یہ ہے کہ روس جو زارکے زمانے میں،جب کہ وہاں نجی ملکیت کانظام رائج تھا،اناج کے معاملے میں دنیاکے چندبڑے برآمدی ملکوںمیں سے تھا،اس نے 1963ء میں کناڈا،آسٹریلیااورامریکا سے پندرہ ملین ٹن گیہوں خریداہے ، اور یہ صورت حال مسلسل جاری ہے،چنانچہ 56۔1941ء میں اس نے امریکا سے بارہ لاکھ پچاس ہزارٹن غلہ خریداہے ،اسی طرح بعدکے سالوں میں بھی یہی حال دوسرے اشتراکی ملک چین کابھی ہے ۔ p. 233

Bulletin, Oct. 1963 p. 234

اس تجربے سے معلوم ہواکہ مذہب کاقانون جس ذہن سے نکلاہے ،وہ انسانی فطرت کوزیادہ جاننے والاہے، اوراس کے مسائل کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھتاہے ۔ p. 234

حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کچھ جوتمدن کی تعمیرکے لیے ہمیں درکارہے، اس کا واحد اور حقیقی جواب صرف مذہب کے پاس ہے۔مذہب اعلیٰ انسانی ذہن سازی کی طرف رہنمائی کرتاہے ،وہ تمدن کے لیے موزوں ترین اساس فراہم کرتاہے۔ وہ زندگی کے ہر معاملے میں وہ صحیح ترین بنیاددیتاہے، جس کی روشنی میں ہم زندگی کامکمل نقشہ بناسکیں۔ وہ حاکموں اورمحکوموں کے درمیان قانونی مساوات پیداکرنے کی واحدصورت ہے، وہ قانون کے لیے وہ نفسیاتی بنیادفراہم کرتاہے، جس کی عدم موجودگی میں قانون عملاًبیکارہوکررہ جاتا ہے،وہ سوسائٹی کے اندروہ موافق فضاپیداکرتاہے،جوکسی قانون کے نفاذ کے لیے ضروری ہے، اس طرح مذہب ہمیںوہ سب کچھ دیتاہے، جس کی ہمیں اپنے تمدن کی تعمیرکے لیے ضرورت ہے، جب کہ لامذہبیت ان میں سے کچھ بھی نہیں دیتی اورنہ حقیقتاً دے سکتی ہے ۔ p. 234