Mazhab aur Jadeed Challenge

تعدد ازواج

Mazhab aur Jadeed Challenge — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. تمہید
  3. مخالفین مذہب کامقدمہ
  4. تبصرہ
  5. استدلال کاطریقہ
  6. کائنات خداکی گواہی دیتی ہے
  7. دلیل اخرت
  8. امکان
  9. تقاضا
  10. تجرباتی شہادت
  11. اثبات رسالت
  12. قران— خداکی اواز
  13. فلکیات
  14. ارضیات
  15. غذائیات
  16. مذہب اورتمدنی مسائل
  17. معاشرت
  18. تعدد ازواج
  19. تمدن
  20. معیشت
  21. جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
  22. اخری بات

تعدد ازواج p. 224

اسی طرح اسلام میں ایک سے زیادہ شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کو بھی تہذیب جدیدنے بڑے زورشورکے ساتھ جہالت (ignorance)کاقانون قرار دیا ہے، مگر تجربے نے ظاہر کردیا ہے کہ اسلام کایہ اصول سماجی ضرورت کے مطابق ہے ۔یہ سماج میں پیدا ہونے والےمسئلہ کا حل ہے، نہ کہ حکم، جس پر عمل کرنا ہر وقت ضروری ہو۔ وہ مسئلہ کیا ہے۔ p. 224

سروے بتاتے ہیں کہ باعتبار پیدائش عورت اور مرد کی تعداد تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ یعنی جتنے بچے، تقریباً اتنی ہی بچیاں ۔ مگر شرح اموات (Mortality) کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے درمیان موت کی شرح زیادہ ہے۔ یہ فرق بچپن سے لے کر آخر عمر تک جاری رہتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کے مطابق، عمومی طور پر، موت کا خطرہ عمر کے ہر مرحلہ میں، عورتوں کے لیے کم پایا گیا ہے اور مردوں کے لیے زیادہ p. 224original + quote

In general, the risk of death at any given age is less for females than for males. (EB. VII/37) p. 224other source

اکثر حالات میں سماج کے اندر عورتوں کی تعدادکا زیادہ ہونا اور مردوں کی تعداد کا کم ہونامختلف اسباب سے ہوتا ہے۔مثلاً جنگ۔پہلی عالمی جنگ (1914-18) میں آٹھ ملین سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ شہری لوگ جو اس جنگ میں ہلاک ہوئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ یہ زیادہ تر مرد تھے۔ دوسری عالمی جنگ (1939-45) میں ساڑھے چھ کروڑ آدمی ہلاک ہوئے یا جسمانی طور پر ناکارہ ہو گئے۔ یہ سارے لوگ زیادہ تر مرد تھے۔ عراق، ایران جنگ میں (1979-88) میں ایران کی82 ہزار عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ عراق میں ایسی عورتوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے جن کے شوہر اس دس سالہ جنگ میں ہلاک ہوئے۔ p. 225

اسی طرح مثال کے طور پر جیل اور قید کی وجہ سے بھی سماج میں مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔ امریکا کو موجودہ زمانہ میں دنیا کی مہذب ترین سوسائٹی کی حیثیت حاصل ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکا میں ہر روز تقریباً 13لاکھ آدمی کسی نہ کسی جرم میں پکڑے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک تعداد وہ ہے جو لمبی مدت تک کے لیے جیل میں ڈال دی جاتی ہے۔ ان سزا یافتہ قیدیوں میں 97فیصد مرد ہی ہوتے ہیں ۔ (EB-14/1102) p. 225original + quote

اسی طرح جدید صنعتی نظام نے حادثات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں حادثاتی موتیں روزمرہ کا معمول بن گئی ہیں۔ سڑک کے حادثے، ہوائی حادثے، کارخانوں کے حادثے اور دوسرے مشینی حادثے ہر ملک میں اور ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ جدید صنعتی دور میں یہ حادثات اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ اب سیفٹی انجینئرنگ (safety engineering) کے نام سے ایک مستقل فن وجود میں آ گیا ہے۔ 1967ء کے اعداد و شمار کے مطابق، اس ایک سال میں پچاس ملکوں کے اندر مجموعی طور پر 175000 حادثاتی موتیں واقع ہوئیں، یہ سب زیادہ تر مرد تھے (EB-16/137) ۔ p. 225

صنعتی حادثات کی موتوں میں، سیفٹی انجینئرنگ کے باوجود، پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، ہوائی حادثات جتنے1988ء میں ہوئے، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ اسی طرح تمام صنعتی ملکوں میں مستقل طور پر اسلحہ سازی کے تجربات ہو رہے ہیں۔ ان میں برابر لوگ ہلاک ہوتے رہتے ہیں۔ ان ہلاک شدگان کی تعداد کبھی نہیں بتائی جاتی، تاہم یہ یقینی ہے کہ ان میں بھی تمام تر صرف مرد ہی ہیں جو ناگہانی موت کا شکار ہوتے ہیں۔ p. 225

اس طرح کے مختلف اسباب کی بنا پر عملی صورت حال اکثر یہی ہوتی ہے کہ سماج میں عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہو، اور مردوں کی تعداد نسبتاً کم ہو جائے۔ دنیا کی آبادی میں مرد اور عورت کی تعداد کے فرق کو بتانے کے لیے یہاں کچھ مغربی ملکوں کے اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984)سے لیے گئے ہیں p. 225

COUNTRY MALE FEMALE p. 226

1. Austria 47.07% 52.93% p. 226

2. Burma 48.81 51.19 p. 226

3. Germany 48.02 51.89 p. 226

4. France 48.99 51.01 p. 226

5. Italy 48.89 51.11 p. 226

6. Poland 48.61 51.39 p. 226

7. Spain 48.94 51.06 p. 227

8. Switzerland 48.67 51.33 p. 227

9. Soviet Union 46.59 53.03 p. 227

10. United States 48.58 51.24 p. 227

انڈیا کے حوالے سے اس کی تفصیل جاننا ہو تو انڈیا ٹو ڈے (15 نومبر 1978) کی 8 صفحات کی باتصویر رپورٹ ملاحظہ فرمائیں، جو اس بامعنی عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے کہ بیوائیں، انسانیت کا برباد شدہ ملبہ p. 227

Widows: Wrecks of Humanity p. 228

اس مسئلہ کے حل کے لیے ایک صورت یہ ہے کہ یہ ’’فاضل‘‘ عورتیں جنسی آوارگی یا معاشرتی بربادی کے لیے چھوڑ دی جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے ایسے مردوں کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں وابستہ ہو جائیں جو ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ عدل کر سکتے ہوں۔ مذکورہ بالا دو ممکن صورتوں میں سے اسلام نے دوسری صورت کا انتخاب کیا ہے۔ یعنی مخصوص شرائط کے ساتھ کچھ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت۔ p. 228

تعدد ازواج کا یہ اصول جو اسلامی شریعت میں مقرر کیا گیا ہے، وہ دراصل عورتوں کو مذکورہ بالا قسم کے بھیانک انجام سے بچانے کے لیے ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے کہ عملی طور پر کوئی عورت کسی مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر ہنگامی حالات ہی میں راضی ہو سکتی ہے، نہ کہ معمول کے حالات میں۔ بظاہر یہ ایک عام حکم ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ حکم دراصل ایک سماجی مسئلہ کے عملی حل (practical wisdom)کے طور پر وضع کیا گیا ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب، تعدد ازواج ، مطبوعہ گڈ ورڈ بکس، نئی دہلی)۔ p. 228original + quote