Mazhab aur Jadeed Challenge

فلکیات

Mazhab aur Jadeed Challenge — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. تمہید
  3. مخالفین مذہب کامقدمہ
  4. تبصرہ
  5. استدلال کاطریقہ
  6. کائنات خداکی گواہی دیتی ہے
  7. دلیل اخرت
  8. امکان
  9. تقاضا
  10. تجرباتی شہادت
  11. اثبات رسالت
  12. قران— خداکی اواز
  13. فلکیات
  14. ارضیات
  15. غذائیات
  16. مذہب اورتمدنی مسائل
  17. معاشرت
  18. تعدد ازواج
  19. تمدن
  20. معیشت
  21. جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
  22. اخری بات

فلکیات p. 191

قرآن میں کائنات کے آغازوانجام کو بیان کیا گیاہے۔ یہ تصورسوبرس پہلے تک انسان کے لیے بالکل نامعلوم تھااورنزول قرآن کے زمانے میں تواس کاتصوربھی کسی ذہن میںنہیں گزر سکتا تھا۔ مگرجدیدمطالعہ نے حیرت انگیزطورپراس کی تصدیق کی ہے، آغاز کائنات کے بارے میں قرآن کابیان یہ ہے  أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَا هُمَا (21:30)۔ یعنی کیا منکرین نہیں دیکھتے کہ زمین وآسمان دونوںملے ہوئے ( مُنضم الاجزاء) تھے، پھر ہم نے اس کو پھاڑ دیا۔ p. 191original + quote

اس کانجام یہ بتایاگیا ہے يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ (21:104)۔ یعنی، اس دن لپیٹ دیں گے ہم آسمان کوجیسے لپیٹتے ہیں طومار (scroll) میں کاغذ۔ p. 192original + quote

ان الفاظ کے مطابق کائنات ابتدا میں ایک سمٹی ہوئی حالت میں تھی، اوراس کے بعد پھیلنا شروع ہوئی،اس پھیلاؤ کے باوجوداس کااصل مادہ اتناکم ہے کہ تھوڑی سی جگہ میں اس کودوبارہ سمیٹا جاسکتا ہے۔ p. 192other source

کائنات کے بارے میں جدیدترین تصوریہی ہے،مختلف قرائن اورمشاہدات کی بنیادپر سائنسداں اس نتیجے پرپہونچے ہیں کہ ابتدامیں کائنات کامادہ جامداورسکون کی حالت میں تھا۔یہ ایک بہت ہی سخت سکڑی ہوئی اورگھٹی ہوئی انتہائی گر م گیس تھی،تقریباً پچاس کھرب سال پہلے ایک زبردست دھماکے سے وہ پھٹ پڑی اوراس کے ساتھ ہی اس کے ٹوٹے ہوئے اجزاء چاروں طرف پھیلنے لگے،جب ایک بار پھیلاؤ شروع ہوگیاتواس کا جاری رہنالازمی تھا،کیوں کہ اجزائے مادہ جیسے جیسے دورہوں گے،ان کاباہمی کشش کا اثر ایک دوسرے پرکم ہوتاجائے گا، آغازمیں کائنات کا جو مادہ تھا، اس کے مکانی دائرہ کا اندازہ تقریباًایک ہزارملین سالِ نورہے اور اب پروفیسرایڈنگٹن کے اندازے کے مطابق وہ سابقہ دائرہ کے مقابلے میں تقریباًدس گنابڑھ چکاہے({ FR 1590 })۔ یہ عمل توسیع مسلسل جاری ہے، پروفیسر ایڈنگٹن کے الفاظ میں— ’’ستاروں اورکہکشاؤں کی مثال ایک ایسے ربر کے غبارے کی سطح کے نشانات کی سی ہے جومسلسل پھیل رہاہو،اسی طرح اپنی ذاتی حرکت کے ساتھ تمام خلائی کرّے کائناتی پھیلاؤ کے ساتھ ہرآن دورہوتے جارہے ہیں‘‘ p. 192original + quote

‘We can picture the stars and galaxies,’ says Professor Eddington, ‘as embedded in the surface of a rubber balloon which is being steadily inflated; so that apart from their individual motions and the effects of their ordinary gravitational attraction on one another, celestial objects are becoming farther and farther apart simply by the inflation. p. 192other source

The Limitations of Science, 1938, England, p. 27 p. 193

دوسری بات بھی جدیدترین مطالعہ سے کائنات کے ڈھانچے کے عین مطابق ثابت ہوئی ہے، قدیم انسان یہ سمجھتاتھاکہ ستارے اتنے ہی فاصلوں پرہیں جیسے کہ وہ بظاہر نظر آتے ہیں، مگراب معلوم ہواکہ وہ دوری کی وجہ سے قریب قریب دکھائی دیتے ہیں، ورنہ وہ ایک دوسرے سے بے انتہا بعید فاصلے پرواقع ہیں، اوریہی نہیںبلکہ وہ اجسام جوبظاہرسالم نظرآتے ہیں، ان کابھی ایک بڑاحصہ درحقیقت خلاہے،جس طرح شمسی نظام میں بہت سارے سیارے اورسیارچے ایک دوسرے سے دور دور فاصلوں پررہتے ہوئے ایک نظام کے تحت گردش کرتے ہیں،اسی طرح ہرمادی جسم چھوٹے پیمانے کے بے شمارشمسی نظاموں کامجموعہ ہے، جن کو ’’ایٹم‘‘کہتے ہیں۔ p. 193

نظام شمسی کاخلاہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں، مگرایٹمی نظام کاخلا، انتہائی چھوٹا ہونے کی وجہ سے نظرنہیںآتا ۔ گویاہرچیز،خواہ وہ بظاہر ٹھوس نظرآرہی ہو،اندرسے کھوکھلی ہے۔ مثلاًچھ فٹ لمبے چوڑے انسان کا جسم جن ایٹموں کا مجموعہ ہے، ان کے الکٹران اور پروٹان کو اگر اس طرح ملا دیا جائے کہ ان کے درمیان خلایامکان (Space) باقی نہ رہے تو اس کی حقیقت صرف ایک ایسے دھبہ(spot) کی ہوگی، جس کو صرف خوردبین (microscope) سے دیکھا جاسکے۔ p. 193

اسی طرح فلکی طبیعیات کے ماہرین(Astrophysicists)نے کائنات میں پھیلے ہوئے پورے مادہ کاحساب لگایاہے ،ان کاکہناہے p. 194other source

‘‘If all this were squeezed without leaving any space,the size of the universe will be only thirty times the size of the sun.’’ p. 194

یعنی اگرسارے کائنات کواس طرح سمیٹ دیاجائے کہ اس میں خلاباقی نہ رہے تو سب کا حجم موجودہ سورج سے صرف 30گنازیادہ ہوگا،جب کہ کائنات کی وسعت کایہ حال ہے کہ شمسی نظام سے بعیدترین کہکشاں جواب تک دیکھی جاسکی ہے،وہ سورج سے کئی ملین سال نورکے فاصلے پرواقع ہے۔ p. 194

دورِ جدید کے ماہرین فلکیات (astronomers) اپنے مشاہدات (observations) اور ریاضیاتی اندازے(mathematical estimate) کی بنا پر اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ اجرام سماوی (astronomical object) جس قانون کے تحت گردش کررہے ہیں، ا س کے مطابق مستقبل میں ایک وقت آنے والاہے،جب چاندزمین کے بہت قریب آجائے گا، اور دوطرفہ کشش کی تاب نہ لاکر پھٹ جائے گااوراس کے ٹکڑے زمین کے گردفضامیں پھیل جائیں گے۔ p. 194other source

Man does not Stand Alone, p.34 p. 195

’’شق قمر‘‘کایہ واقعہ اسی قانون کشش کے تحت ہوگا،جس کامظاہرہ جواربھاٹے کی شکل میں سمندروں میںہوتارہتاہے،چاندبالائی فضامیں ہماراقریب ترین ہمسایہ ہے،یعنی زمین سے اس کا فاصلہ صرف دولاکھ چالیس ہزارمیل ہے،اس قربت کی وجہ سے اس کی کشش کا اثر سمندروں پر پڑتا ہے، اوردن میںدوبارپانی اوپراٹھ کرغیرمعمولی تموج پیدا کرتا ہے، یہ موجیں بعض مقامات پرساٹھ فٹ کے قریب اوپرتک اٹھ جاتی ہیں، اورخشکی کی سطح بھی اس قمری کشش سے چندانچ تک متاثر ہوتی ہے۔ p. 195

چانداورزمین کا موجودہ فاصلہ بہت مناسب مقدارپرہے،اوراس کے بہت سے فوائد ہیں، اس کے بجائے اگریہ فاصلہ گھٹ جائے مثلاً پچاس ہزارمیل پرآجائے تو سمندروں میںا س شدت سے طوفان برپاہوکہ خشکی کا بیشتر حصہ اس میں غرق ہوجائے اور طوفانی موجوں کے مسلسل ٹکراؤ سے پہاڑ کٹ کر ریزے ریزے ہوجائیں ،اورزمین ا س کی کشش سے پھٹنے لگے۔ p. 195

ماہرین فلکیات کااندازہ ہے کہ زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت چانداسی طرح زمین کے قریب تھا،اوراس وقت زمین کی سطح پریہ سب کچھ ہوچکاہے،اس کے بعدفلکیاتی قانون نے اسے موجودہ دوری پرپہنچادیا، ان کاخیال ہے کہ ایک بلین سال تک یہ صورت باقی رہے گی،اوراس کے بعدیہی فلکی قانون دوبارہ چاندکوزمین کے قریب لائے گا،اوراس وقت زمین اور چاندکی باہمی کشش کانتیجہ یہ ہوگاکہ چاندپھٹ جائے گااورٹکڑے ہوکرزمین کے گردایک حلقہ کی شکل میں پھیل جائے گا۔ p. 195other source

یہ نظریہ حیرت انگیزطورپراس پیشین گوئی کی تصدیق ہے، جوقرآن میں آیاہے،یعنی قیامت جب قریب آئے گی توچاندپھٹ جائے گااوراس کاپھٹناقرب قیامت کی علامتوں میںسے ایک علامت ہوگا({ FR 43 })۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیںاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۔ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ (54:1-2)۔ یعنی، قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیااوریہ لوگ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تواس سے اعراض کرتے ہیں،اورکہتے ہیں کہ یہ جادوہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ p. 196original + quote