Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اس میں سبق ہے p. 243
مولانا اکرام الدین قاسمی(پیدائش1938)ڈمراواں(ضلع بھاگل پور) کے رہنے والے۔ 7 فروری1990ء کی ملاقات میں انہوں نے اپنے کچھ واقعات بتائے جن میں بہت بڑا سبق ہے۔ p. 243
1966ء کا واقعہ ہے۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے گنگا کو اسٹیمر سے پار کیا۔ وہ براری ریلوے اسٹیشن پر بھاگل پور جانے والی پسنجر ٹرین پر سوار ہوگئے۔ ٹرین میں بھیڑ تھی۔ ایک جگہ سیٹ پر ڈالڈہ کا ڈبہ رکھا ہوا تھا۔ وہ ڈبہ کو کھسکا کر وہاں بیٹھ گئے۔ p. 243
تھوڑی دیر کے بعد ایک ہندو نوجوان آیا یہ ڈبہ اسی کا تھا۔ وہ اس کو سیٹ پر رکھ کر باہر چلا گیا تھا جب اس کو اندازہ ہوا کہ ڈبہ اپنی جگہ سے ہٹایا گیا ہے تو اس نے پوچھا کہ اس کو کس نے ہٹایا ہے۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے کہا کہ میں نے ہٹایا ہے یہ سنتے ہی وہ سخت غصہ ہوگیا۔ کیونکہ اس کے عقیدہ کے مطابق ایک مسلمان نے اس کو چھو کر اس کو گندہ کر دیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس ڈبہ میں گنگا جل تھا۔ اس کو لے کر میں دیو گھر جا رہا تھا۔ اس کو تم نے اپوتر (ناپاک)کر دیا۔ اب وہ لے جانے کے قابل نہیں رہا۔وہ غصہ میں آپے سے باہر تھا۔ اور نہایت گرم اور اشتعال انگیز لہجہ میں بار بار کہہ رہا تھا کہ تم نے میرے گنگا جل کو اپوتر کر دیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے ان باتوں کا کوئی اثرنہیں لیا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سیٹ نوجوان کے لیے خالی کر دی۔ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا تھا کہ اس ڈبہ میں گنگا جل ہے اور وہ میرے چھونے سے اپوتر ہو جائے گا۔ مجھ سے غلطی ہوگئی، مجھے معاف کر دو۔ p. 244unverified
ہندو نوجوان ان کے خلاف برستا رہا اور وہ خاموشی سے کسی ردعمل کے بغیر اس کو سنتے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر ڈبہ کے تمام ہندو اس نوجوان کے خلاف ہوگئے اور مولانا اکرام الدین صاحب کی حمایت کرنے لگے۔ انہوں نے نوجوان سے کہا کہ مولانا جب چپ ہیں اور اپنی غلطی مان رہے ہیں تو تم کیوں ان کے خلاف اتنا زیادہ چیخ رہے ہو۔ انہوں نے مولانا اکرام الدین صاحب سے کہا کہ آپ بالکل مطمئن رہیے۔ یہ آپ کا کچھ نہیں کر سکتا۔ p. 244original + quote
آخر کار ہندو نوجوان چپ ہوگیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب اپنی جگہ برابر کھڑے رہے۔ کچھ دیر کے بعد نوجوان نے بے رخی کے ساتھ مولانا اکرام الدین صاحب سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کھڑک بازار سے (اس وقت مولانا اسی مقام پر رہتے تھے) نوجوان نے کہاکہ کھڑک بازار میں ایک مولانا اکرام الدین ہیں، کیا آپ ان کو جانتے ہیں۔ وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ میری ماں ان کے پاس گئی تھی اور ان سے تعویذ لائی تھی۔ اس تعویذ سے بہت فائدہ ہوا۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ p. 244
مولانا اکرام الدین صاحب نے مسکراتے ہوئے کہاکہ ابھی تو وہ سفر میں ہیں۔ کل تک وہ وہاں پہنچ جائیں گے۔ اس وقت ان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ ہندو نوجوان نے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم کہ وہ سفر میں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ جس مسافر سے تم بات کر رہے ہو وہی مولانا اکرام الدین ہیں۔ p. 244other source
یہ سنتے ہی ہندو نوجوان نے مولانا اکرام الدین کے پائوں پکڑ لیے۔ اس نے کہا کہ مجھے چھما کر دیے۔ مجھ سے بہت بھاری غلطی ہوگئی۔ اس غلطی پر جی چاہتا ہے کہ میں اپنے آپ کو مار لوں۔ وہ نوجوان اپنی سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اصرار کرکے مولانا اکرام الدین صاحب کو اپنی جگہ بٹھا دیا۔ اس کے بعد وہ آخری اسٹیشن تک برابر کھڑا رہا۔ اگلے اسٹیشن پر جب دونوں اترے تو نوجوان نے اصرار کرکے مولانا کو ناشتہ کرایا۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے اس طرح کے اور کئی واقعات سنائے اور کہاکہ ہندوئوں میں ہم نے جو اخلاق پایا وہ اخلاق ہم نے موجودہ مسلمانوں میں نہیں پایا۔ p. 244
اسی طرح انہوں نے بتایا کہ 1982ء میں میں تراویح سنانے کے لیے بنگلور گیا ہوا تھا۔ ایک روز میں ہگنور سے کورم ہلّی بذریعہ اسکوٹر جا رہا تھا۔ راستہ میں میرے اسکوٹر کا پٹرول ختم ہوگیا۔ کچھ دور تک میں اسکوٹر کو دھکیل کر لے گیا۔ پھر سڑک کے کنارے ناریل کا ایک باغ دکھائی دیا۔ اس کے اندر ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ میں باغ کے اندر گیا۔ وہاں ایک ہندو بیٹھا ہوا تھا۔ مجھ کو دیکھتے ہی اس نے اپنے آدمی سے کہا کہ ایک کرسی لے آئو۔ مجھ کو کرسی پر بٹھا کر پوچھا کہ حضرت کیا کام ہے۔ میں نے کہا کہ میری گاڑی میں پٹرول ختم ہوگیا ہے۔ یہاں سے آٹھ کلو میٹر دور جانے پر مجھے پٹرول مل سکے گا۔ میں کار دیکھ کر یہاں آگیا کہ شاید یہاں سے مجھے پٹرول مل جائے۔ p. 245
مذکورہ ہندو نے فوراً اپنے ڈرائیور سے کہا کہ دیکھو اگر باہر پٹرول ہو تو اس کو حضرت کی گاڑی میں ڈال دو اور اگر باہر نہ ہو تو اپنی گاڑی میں سے نکال کر ان کو پٹرول دے دو۔ پٹرول لینے کے بعد میں نے اپنی جیب سے بیس روپیہ کا نوٹ نکالا تاکہ پٹرول کی قیمت ادا کروں۔ اب ہندو فوراً ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا کہ ہم کو معاف کیجیے۔ پیسہ کی ضرورت نہیں۔ ہم کو بس آپ کی دعا چاہیے۔ p. 245
انسان کو غصہ نہ کیجیے اور اگر کسی وجہ سے وہ غصہ ہو جائے تو جوابی غصہ نہ کرکے اس کو ٹھنڈا کر دیجیے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ جس کو آپ اپنا دشمن سمجھ رہے تھے، وہ وہ آپ کے لیے ایسا ہوگیا ہے جیسے کہ وہ آپ کا قریبی دوست ہو۔ p. 245
ہر آدمی خدا کا بنایا ہوا ہے۔ اس دنیا میں کوئی آدمی نہیں جس کو خدا کے علاوہ کسی اور نے پیدا کیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر وہی فطرت ہے جو کسی دوسرے کے اندر ہے۔ ہر آدمی کے اندر اچھے اور برے کی وہی تمیز موجود ہے جو کسی دوسرے کے اندر پائی جاتی ہے۔ p. 245
تاہم اسی کے ساتھ ہر آدمی کے اندر انا(ego) بھی موجود ہے۔ یہی ’’انا‘‘ ساری خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے ہر آدمی کی انانیت کو اس کے سینہ کے اندر سلا رکھا ہے۔ ہر آدمی کی انا ابتدائی طور پر حالت خواب میں ہے۔ آپ کی عقل مندی یہ ہے کہ آدمی کی اس انا کو سویا رہنے دیں، اس کو کبھی بیدار نہ کریں۔ p. 245
جب آدمی کی انا سو رہی ہو تو وہ اپنی حالت فطری پر ہوتا ہے۔ اس وقت وہ وہی کرتا ہے جو سچی انسانیت کا تقاضا ہے۔ کوئی آدمی صرف اس وقت برا بنتا ہے جب کہ اس کی انانیت کو جگا دیا جائے۔ عقل مند آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی انا کو جگانے سے آخری حد تک پرہیز کرے، اور بالفرض اگر کسی کی انا جاگ اٹھے تو پہلی فرصت میں اپنے حکیمانہ رویہ سے اس آگ کو بجھا دے۔ p. 246
جو لوگ عقل مندی کی اس روش کو اختیار کرلیں، ان کو کبھی دوسروں کی طرف سے شکایت نہ ہوگی، خواہ وہ ایک ملک میں رہتے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں۔ p. 246