Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
قیمت ضروری p. 104
ائیر پورٹ پر خود کار اسکیل (ترازو) رکھا ہوا تھا۔ اس میں ایک روپیہ ڈالنے کے بعد ایک ٹکٹ نکلتا تھاجس پر آدمی کا وزن چھپا ہوا ہوتا تھا۔ p. 104
ایک بچہ اسکیل کے تختہ پر کھڑا ہو گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک روپیہ کا سکہ تھا۔ اس نے یہ سکہ اسکیل کے مخصوص خانہ میں ڈالا۔ اس کے بعد کھٹ کھٹ کی سی آواز ہوئی اور پھرایک چھپا ہوا کارڈ سامنے آ گیا۔ اس پر بچہ کا وزن واضح حرفوں میں لکھا ہوا تھا۔ p. 104
بچہ کو یہ چیز ایک کھیل سی معلوم ہوئی۔ اس نے اپنے والدین سے مزید سکے مانگے۔ وہ اس فعل کو بار بار دہراتا رہا۔ ہر بار جب وہ اپنا سکہ مشین میں ڈالتا تو چند سیکنڈ کے بعد ایک خوب صورت کارڈ باہر آ جاتا۔ آخر والدین کے سب سکے ختم ہو گئے۔ اب ان کے پاس روپیہ کے بجائے پچاس پیسہ کا سکہ تھا۔ بچہ نے پچاس پیسہ کا سکہ لے کر اس کو مشین میں ڈالا۔ اس کے بعد کھٹ کھٹ کی آواز تو سنائی دی مگر حسب سابق وزن کا کارڈ باہر نہیں آیا۔ مشین کی طرف سے رسپانس نہ ملنے پر بچہ رونے لگا۔ p. 104
کم عمر بچہ اس واقعہ کی توجیہہ نہ کر سکا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ رونے کا نہیں بلکہ سبق لینے کا تھا۔ مشین نے اپنی خاموش زبان میں ایک ایسا سبق دیا جو بچہ کے لیے اور اس کے سرپرستوں کے لیے عظیم اہمیت رکھتا تھا۔ یہ سبق کہ یہاں ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔ ا گر تم نے وہ قیمت ادا نہیں کی تو تم کو مطلوبہ چیز بھی نہیں ملے گی ، حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ تم نے اصل قیمت سے کم قیمت ادا کی ہو۔ p. 105
یہی قانون موجودہ دنیا کے لیے ہے اور یہی قانون آخرت کے لیے بھی۔ دونوں دنیائوں میں آدمی کسی چیز کو اسی وقت پا سکتا ہے جب کہ وہ حسب اصول اس کی پوری قیمت اداکرے۔ جو شخص قیمت ادا کرنے پر راضی نہ ہو، اس کو یہ امید بھی نہیں کرنا چاہیے کہ اس کی مطلوبہ چیز اس کے حصہ میں آ سکے گی۔ p. 105
قیمت کا قانون ایک اٹل قانون ہے۔ نہ کسی کی خوش گمانیاں اس قانون کو بدل سکتیں ہیں اور نہ احتجاج اور شکایت کے ذریعہ اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ p. 105