Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
زیادہ عجیب، کمتر عجیب p. 178
كها جاتا هے كه خدا كي بنياد پر كائنات كي توجيه كرنا اصل مسئلے كا حل نهيں۔ كيوں كه پھر فوراً يه سوال پيدا هوتاهے كه اگر خدانے كائنات كو بناياتو خدا كو كس نے بنايا۔ p. 178
مگر يه ايك غير منطقي سوال هے۔ اصل مسئله ’’بےسبب‘‘ خدا كو ماننا نهيں هے۔ بلكه دو ’’بے سبب‘‘ ميں سے ايك بے سبب كو ترجيح دينا هے۔ صورتِ حال يه هے كه همارے سامنے ايك پوري كائنات موجود هے۔ هم اس كو ديكھتے هيں۔ هم اس كا تجربه كررهے هيں۔ هم كائنات كے وجود كو ماننے پر مجبور هيں۔ ايك شخص خدا كو نه مانے، تب بھي عين اسي وقت وه كائنات كو مان رها هوتا هے۔ p. 179
اب ايك صورت يه هے كه آدمي كائنات كو بے سبب مانے۔ مگر اس قسم كا عقيده ممكن نهيں۔ كيوں كه كائنات ميں تمام واقعات بہ ظاهر اسباب وعلل كي صورت ميں پيش آتے هيں۔ هر واقعے كے پيچھے ايك سبب كار فرما هے۔ اس طرح خود كائنات كي اپني نوعيت هي يه چاهتي هے كه اس كے وجود كا ايك آخري سبب هو۔ جب كائنات كے حال كا ايك سبب هے تو اس كے ماضي كا بھي لازمي طورپر ايك سبب هونا چاهيے۔ يعني وهي چيز جس كو علت العلل كها گيا هے۔ p. 179
بے سبب كائنات كو ماننا ممكن نهيں، اس ليے لازم هے كه هم اس كا ايك سبب مانيں۔ كائنات لازمي طورپر اپنا ايك آخري سبب چاهتي هے۔ يهي منطق اس كو لازمي قرار ديتي هے كه هم خدا كو مانيں۔ اس لا ينحل مسئله كو حل كرنے كي دوسري كوئي بھي تدبير ممكن نهيں۔ جب هم بے سبب خدا كو مانتےهيں تو هم دو ممكن ترجيحات ميں سے آسان تر كو ترجيح ديتے هيں۔ بے سبب خدا كو مان كر هم اپنے آپ كو بے سبب كائنات كو ماننے كے ناممكن عقيده سے بچا ليتے هيں۔ p. 179
خدا كو ماننا عجيب هے۔ مگر خدا كو نه ماننا اس سے بھي زياده عجيب هے۔ خدا كو مان كر هم صرف زياده عجيب كے مقابلے ميں كم عجيب كو اختيار كرتےهيں۔ p. 179
يه صرف خدا كے وجود كا معامله نهيں ۔ خالص سائنسي نقطهٔ نظر سے، اس دنيا ميں كوئي بھي چيز نه ثابت(prove) كي جاسكتي، اور نه غير ثابت (disprove) كي جاسكتي۔ كسي بھي چيز كو ماننے كے معاملے ميں يهاں انتخاب (option) ثابت شده (proved) اور غير ثابت شده (unproved)كے درميان نهيں۔ بلكه هر انتخاب ورك ايبل (workable)اور نان ورك ايبل (non-workable) كے درميان هوتا هے۔ p. 180
مثال كے طور پر اهلِ سائنس عام طورپر كشش (gravity)كے نظريے كو مانتے هيں۔ مگر يه ماننا اس ليے نهيں كه كشش ثقل كوئي ثابت شده نظريه هے۔ نيوٹن نے سيب كو درخت سے گرتے هوئے ديكھ كر يه سوال كيا تھا كه سيب نيچے كيوں آيا، اور پھر تحقيق كركے اس نے كششِ ارض كا نظريه دريافت كيا۔ مگر ايك سائنس داں نے كها كه نيوٹن كو اس پر تعجب هوا تھا كه سيب نيچے كيوں آيا۔ مجھے يه تعجب هے كه سيب اوپر كيسے گيا۔درخت كي جڑ نيچے كي طرف جاتي هے، اور اس كا تنه اوپر كي طرف۔ اگر جڑ كے نيچے جانے كا سبب يه بتايا جائے كه زمين ميں كشش هے تو تنه اور شاخوں كے اوپر جانے كي توجيه كس طرح كي جائے گي۔ p. 180original + quote
يهي معامله تمام سائنسي نظريات كا هے۔ سائنس ميں جب بھي كسي نظريے (theory)كو مانا جاتا هے تو وه غيرثابت شده كے مقابلے ميں ثابت شده كو ماننا نهيں هوتا۔ بلكه نان ورك ايبل تھيري (non-workable theory)كے مقابلے ميں ورك ايبل تھيري (workable theory) كو ماننا هوتا هے۔ ٹھيك يهي اصول نظريهٔ خدا كے معاملے ميں بھي چسپاں هوتاهے۔ p. 180
كشش كے معاملے ميں همارے ليے جو انتخاب هے وه كشش رکھنے والے ماده اور بےكشش ماده ميں نهيں هے۔ بلكه كشش رکھنے والے ماده اور غير موجود ماده ميں هے۔ چونكه غيرموجود مادے كا نظريه ورك ايبل نهيں هے۔ اس ليے هم نے كشش رکھنے والے مادہ كا انتخاب لے ركھا هے، خالص علمي اعتبار سے يهي معامله خدا كے عقيده كا بھي هے۔ p. 180
كائنات كےاندر تخليق كي صلاحيت نهيں، وه اپنے اندر كے ايك ذرّے كو نه گھٹا سكتي، اور نه بڑھا سكتي۔ اس ليے، دوسرے تمام سائنسي نظريات كي طرح، يهاں بھي همارے ليے انتخاب با خدا كائنات (universe with God) اور بے خدا كائنات(universe without God) ميں نهيں هے۔ بلكه با خدا كائنات اور غير موجود كائنات (non-existent universe) ميں هے۔ چونكه هم غير موجود كائنات كا انتخاب نهيں كرسكتے۔ اس ليے هم مجبور هيں كه باخدا كائنات كے نظريے كا انتخاب كريں۔ p. 181