Islam Aur Inteha Pasandi

جوابی مذہبیت

Islam Aur Inteha Pasandi — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. غلو کیا ہے
  3. مذہبی انتہا پسندی
  4. ایک ایت
  5. بے معنی مسائل
  6. شدت پسندی نہیں
  7. نا قابل معافی
  8. بے فائدہ باتیں
  9. فتوی ایکٹوزم یا ایجوکیشنل ایکٹوزم
  10. فتوی کا غلط استعمال
  11. کلچرل ہیرٹیج کا پریز رویشن
  12. کفر اور کافر کا مسئلہ
  13. داعی اور مدعو کا رشتہ
  14. کافر کا مفہوم
  15. فعل اور فاعل کا فرق
  16. کریڈٹ کا مسئلہ
  17. کفر کا تحقق
  18. کفر کی اصطلاح
  19. چند تاریخی مثالیں
  20. قریش کی مثال
  21. مناظرہ
  22. دار الدعوہ
  23. ٹیلی ویژن کا استعمال
  24. غلوکی حقیقت
  25. غلو نہیں
  26. دین میں غلو
  27. جوابی مذہبیت
  28. عمر ضائع کردی
  29. سوال و جواب

جوابی مذہبیت p. 74

مئی 1922 کا واقعہ ہے ۔ لاہور کے شاہ عالمی دروازہ کے باہر ہندوؤں نے ایک مندر تعمیر کیا۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں کے اندر یہ جذبہ جاگ اٹھا کہ مندر کے ساتھ مسجد بھی ہونا چاہیے۔ جس فضا میں مندر کے کلس چمک رہے ہیں وہاں مسجد کے مینار کی عظمت بھی دکھائی دینا ضروری ہے۔ چنانچہ فورا ًچندہ ہوااور مندر کے پاس ایک زمین مسجد کے لیے حاصل کی گئی۔ نمازعشا ء کے بعد اس مسجد کی تعمیر شروع ہوئی ۔ ساری رات کام ہوتا رہا ۔ یہاں تک کہ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ مندر کے مقابلہ میں ایک مسجدبنی ہوئی کھڑی ہے۔یہی وہ واقعہ ہے جس سے متاثر ہوکر ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنا مشہور شعر کہا تھا p. 74

مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے p. 75

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا p. 75

یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی بیشتر سرگرمیوں پر چسپاں ہوتا ہے ۔ موجودہ زمانےمیں ہماری اکثر دینی سرگرمیاں حقیقتاً جوابی سرگرمیاں ہیں۔ان کا اصل محرک کسی غیر قوم کا کوئی عمل ہے، نہ کہ حقیقتاً اللہ اور اس کے رسولکا حکم۔ p. 75

اس قسم کی مذہبیت جوابی مذہبیت ہے۔ وہ قومی محرک کے تحت پیدا ہوتی ہے،نہ کہ خدائی محرک کے تحت۔چنانچہ مسلمانوں نے مادی اور جغرافی اور سیاسی اسباب کے تحت دیگراقوام کو اپنا حریف سمجھ لیا ہے۔ وہ ان کو نیچا دکھا کر اپنے لیےقومی تسکین حاصل کرتے ہیں— ایسی تمام کاروائیاں بلا شبہ قومی کاروائیاں ہیں، خواہ بظاہر ان کو مذہب کے لباس میں کیوں نہ پیش کیا گیا ہو۔ p. 75

مومن وہ ہے جو خدا سے ڈرے ۔ جس کی تمام سرگرمیاں خدا کے زیر اثر انجام پاتی ہوں۔ اس کارُ کنا خدا کے لیےہوتا ہو اور آگے بڑھنا خدا کے لیے۔ جوکام اس طرح کے جذبات کے ساتھ کیا جائے اس کے ساتھ خدا کی مدد شامل رہتی ہے ۔وہ مفید نتائج پیدا کرتا ہے ۔ مگر جو کام دوسری قوموں کی ضد میں کیا جائے اس سے صرف نفرت اور کش مکش بڑھے گی۔اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی چلی جائے اور کبھی وہ حسن ِخاتمہ تک نہ پہنچے (الرسالہ، جنوری 1983)۔ p. 76