Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دار الدعوه p. 61
دار الكفريا بلاد الكفار کے الفاظ عباسی دور میں استعمال کیے گئے ۔ اس سے پہلے یہ اصطلاحیں اہل اسلام کے درمیان رائج نہ تھیں ۔ میر ے نز دیک یہ اضافہ درست نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ جو ملک اسلامی ملک ہو اس کو دار السلام کہا جائے اور بقیہ تمام ملکوں کو دار الدعوہ کہا جائے۔ دار السلام کے سوا ہر ملک دارالدعوہ ہے خواہ وہ مسلمانوں کے حق میں بظاہر دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ p. 61
قرآن میں پیغمبر اسلام ﷺ کی نسبت سے ارشاد ہوا ہے وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا (6:93)۔ یعنی، یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے برکت والی ہے، تصدیق کرنے والی اُن کی جو اس سے پہلے ہیں ۔ اور تاکہ تو ڈرائے امّ القری کو اور اس کے آس پاس والوں کو ۔ p. 62original + quote
قرآن کی اس آیت میں امّ القری سے مراد مکہ ہے۔ جب یہ آیت اتری، اُس وقت مکہ غیر مسلموں کے قبضہ میں تھا۔ حتیٰ کہ کعبہ کو بتوں کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ مگر اس آیت میں قدیم مکہ کودار الكفريا مدينة الكفر نہیں کہا گیا بلکہ ام القری کہا گیا اور وہاں انذار ،بالفاظ دیگر، دعوت کا حکم دیا گیا۔ اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ وہ تمام مقامات جہاں غیر مسلموں کا غلبہ ہو، وہ اسلامی اصطلاح میں دار الدعوه یا دار الانذار قرار پائیں گے۔ ایسے کسی بھی مقام کے لیے دار الکفر یا بلاد الكفار جیسے الفاظ کا استعمال درست نہ ہوگا۔ p. 62original + quote
کسی ملک کا حوالہ جب جغرافی اعتبار سے دینا ہو تو اس کا ذکر اس نام سے کیا جائے گا جس نام سے وہ عمومی طور پر معروف ہے۔ مثلا ًسری لنکا کو سری لنکا اور جنوبی کوریا کو جنوبی کوریا۔ اور جب اہل اسلام کی ذمہ داری کے اعتبار سے کسی ملک کا حوالہ دینا ہو تو اس کو دارالدعوہ کہا جائے گا ۔ دارالدعوہ کا لفظ جغرافی تقسیم کو نہیں بتاتا، بلکہ وہ اہل اسلام کی دعوتی ذمہ داری کو بتاتا ہے (الرسالہ، دسمبر 2003)۔ p. 63original + quote