Islam Aur Inteha Pasandi

بے معنی مسائل

Islam Aur Inteha Pasandi — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. غلو کیا ہے
  3. مذہبی انتہا پسندی
  4. ایک ایت
  5. بے معنی مسائل
  6. شدت پسندی نہیں
  7. نا قابل معافی
  8. بے فائدہ باتیں
  9. فتوی ایکٹوزم یا ایجوکیشنل ایکٹوزم
  10. فتوی کا غلط استعمال
  11. کلچرل ہیرٹیج کا پریز رویشن
  12. کفر اور کافر کا مسئلہ
  13. داعی اور مدعو کا رشتہ
  14. کافر کا مفہوم
  15. فعل اور فاعل کا فرق
  16. کریڈٹ کا مسئلہ
  17. کفر کا تحقق
  18. کفر کی اصطلاح
  19. چند تاریخی مثالیں
  20. قریش کی مثال
  21. مناظرہ
  22. دار الدعوہ
  23. ٹیلی ویژن کا استعمال
  24. غلوکی حقیقت
  25. غلو نہیں
  26. دین میں غلو
  27. جوابی مذہبیت
  28. عمر ضائع کردی
  29. سوال و جواب

بے معنی مسائل p. 11

حدیث میں آیا ہے قَالَ ‌نَهَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْغَلُوطَاتِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23687)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلوطات سے منع کیا ہے۔ غلوطات سے مراد وہ مسائل ہیں جو واقع ہونے سے پہلے فرضی طور پر قائم کیے جاتے ہیں ۔ (هِیَ الْمَسَائِلُ الَّتِي لَمْ تَقَعْ) ۔ دوسری حدیث میں ارشاد ہوا ہے سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ إِنَّ اللهَ ‌كَرِهَ ‌لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، ‌وَكَثْرَةَ ‌السُّؤَالِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1477) ۔ الله نے تمہارے لیے قیل و قال کو اور کثرت سوال کو اور مال ضائع کرنے کو نا پسند کیا ہے۔ p. 11original + quote

یہ تعلیم بے حد حکمت پر مبنی ہے۔ اگر لوگوں کے اندر یہ مزاج باقی نہ رہے تو وہ ہر بات کو بحث کا موضوع بنائیں گے، ہر چیز کو منطق کے پیمانے سے ناپیں گے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہو گا کہ دین کا اصل سرا چھوٹ جائے گا اور بے معنی مسائل پر لفظی بحث کے سوا ان کے پاس اور کچھ باقی نہ رہے گا۔ خدا کا سادہ دین انسانی اضافوں کے بعد مشکل اور پیچیدہ دین ہو کر رہ جائے گا۔ p. 12

ایک مثال لیجیے ایک مرتبہ کسی نے ایک آدمی سے پوچھا کیا تم مسلمان ہو؟ اس کی زبان سے نکلا أَنَا مُؤْمِنٌ إِنْ شَاءَ اللهُ( خدا نے چاہا تو میں مومن ہوں)۔ یہ بات بحث کی نہ تھی۔ مگر بعد کے ماہرین فقہ نے غیر ضروری طور پر اس کو بحث کا موضوع بنایا ۔ اب ان کے درمیان یہ بحث چل پڑی کہ اس قسم کا جواب دینا جائز ہے یا نا جائز ۔ ایک گروہ نے کہا کہ جائز ہے۔ کیونکہ کسی کا مومن ہونا یا نہ ہونا خدا کی مشیت ہی پر ہے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ نا جائز ہے ۔ کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنے ایمان میں شک ہے۔ شافعی مسلک کے لوگ اس کے قائل تھے کہ  أَنَا مُؤْمِنٌ إِنْ شَاءَ اللهُ (میں مومن ہوں، اگر اللہ نے چاہا) کہنا جائز ہے۔ اس کے برعکس، حنفی مسلک کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسا کہنا جائز نہیں۔ جب یہ بحث بڑھی تو یہ سوال پیدا ہو گیا کہ ایسے لوگوں کے درمیان نکاح درست ہو گا یا نہیں۔ ایک گروہ نے کہا کہ حنفی عورت کا نکاح شافعی مرد کے ساتھ جائز نہیں۔ کیونکہ اس کو اپنے ایمان میں شک ہے (لَا يَصِحُّ لِأَ نَّهَا تَشُكُّ فِي إِيمَانِهَا)۔ دوسروں کا فتوی یہ تھا ذمی عورت پر قیاس کرتے ہوئے کہ نکاح درست ہوگا  يَصح نِكَاحهَا ‌قِيَاسا ‌على ‌الذِّمِّيَّة (ارشاد النقاد للصنعانی، صفحہ 21) ۔ p. 12original + quote

اس سے اندازہ کیجیے کہ غیر ضروری بحثوں میں پڑنے کے بعد صراط مستقیم کا سراکس طرح چھوٹ جاتا ہے۔(الرسالہ، جنوری 1983) p. 13