Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دیوار کی ضرورت p. 106
غلط شکل سے میری مراد وہ تجویزیں ہیں جو اس امید میں پیش کی جا رہی ہیں کہ محض اخلاقی اپیلوں کے ذریعہ آدمی کے ا ندر اس قسم کا احساس پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علم بردار وہ لوگ ہیں جو مذہب میں عقیدہ نہیں رکھتے مگر اخلاق کی ضرورت بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس لیے چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا طریقہ دریافت ہو جائے کہ مذہب کی دیوار سے مدد لیے بغیر اخلاق کی چھت کھڑی ہو جائے۔ ہندوستان کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اسی گروہ کی ایک مثال ہیں۔ p. 106
1956ء کا واقعہ ہے۔ میک گل یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پروفیسر مائیکل بریچر نے ایک انٹرویو کے دوران ان سے سوال کیا۔’’کیا آپ مختصر طور پر مجھے بتائیں گے کہ آپ کے نزدیک اچھے سماج کے لیے کیا کیا چیزیں ضروری ہیں۔‘‘ وزیراعظم نے جواب دیا۔ p. 107original + quote
’’میں کچھ معیاروں کا قائل ہوں، وہ ہر فرد اور ہر سماجی گروپ کے لیے ضروری ہیں اور اگر وہ معیار باقی نہ رہیں تو تمام مادی ترقی کے باوجود آپ کسی قابل قدر نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان معیاروں کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔ ایک تو مذہبی طریقہ ہے۔ لیکن یہ اپنے تمام رسوم و تقریبات کے ساتھ مجھے تنگ نظر آتا ہے۔ میں اخلاقی اور روحانی قدروں کو مذہب سے علیحدہ رکھ کر بڑی اہمیت دیتا ہوں۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ ان کو ماڈرن زندگی میں کس طرح قائم رکھا جا سکتا ہے۔‘‘ p. 107
Nehru: A Political Biography, London, 1959, pp. 607-608 p. 107
ان فقروں میں پنڈت نہرو نے اپنے طبقے کے لوگوں کی نہایت صحیح ترجمانی کی ہے۔ جو لوگ مذہب سے الگ رہ کر اخلاقی قدروں کو زندہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی مشترک خصوصیت یہ ہے کہ وہ سب کے سب بے یقینی میں مبتلا ہیں۔ وہ خود اپنے مقدمے کی کمزوری تسلیم کرتے ہیں۔ وہ ایک چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ وہ انسانوں سے اسے کس طرح منوائیں۔ انہیں اپنے خیالات کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔ p. 107
کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شخص کوئی بدعنوانی کرتا ہے تو اس لیے کرتا ہے کہ اس میں اسے اپنی تمنائیں پوری ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں وہ اس کو اپنی ترقی اور کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اس میں اسے عزت اور دولت پانے کی توقع ہوتی ہے۔ پھر آخر کس لیے وہ اسے چھوڑ دے گا۔ کیا محض اس لیے کہ کچھ لوگ اسے اخلاق اور انسانیت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ کیا محض کسی کے اپدیش کی خاطر کوئی شخص ایسا کر سکتا ہے کہ نفع کے بجائے نقصان کو اپنے لیے قبول کر لے۔ p. 108
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ انسانیت(مانوتا) کے نام پر لوگوں کو اخلاقیات کا پابند بنانا چاہتے ہیں وہ ہوا میں عمارت کھڑی کر رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی عمارت کبھی وجود میں نہیں آ سکتی۔ p. 108
ایک مثال لیجیے۔ ہندوستانی ریلوں پر ہر بیس مسافروں میں سے ایک آدمی بلاٹکٹ سفر کرتا ہے اور اس طرح مرکزی خزانے کو تقریباً پانچ کروڑ روپے سالانہ کا مسلسل نقصان ہو رہا ہے۔ اس وبا کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں بارہ ہزار سات سو اشخاص ملازم ہیں جن پر ہر سال دو کروڑ انیس لاکھ روپے صرف ہوتے ہیں۔ جب ہزاروں آدمیوں کا یہ عملہ اور سالانہ سوا دو کروڑ روپے کا خرچ بلاٹکٹ سفر کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا تو حکومت نے ایک اخلاقی تدبیر سوچی۔ حکومت کی طرف سے ایک خاص پوسٹر چھپوا کر تمام اسٹیشنوں پر لگا دیا گیا۔ جس پر لکھا ہوا تھا p. 108
Ticketless travel is a social evil. p. 109
یعنی بے ٹکٹ سفر کرنا سماجی گناہ ہے۔ مگر اس کا حاصل اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوا کہ کرایہ وصول نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو جو کچھ نقصان ہو رہا تھا اس میں اس پروپیگنڈے کے اخراجات کا مزید اضافہ ہوگیا۔ اصل صورت حال بدستور اپنی جگہ باقی رہی۔ p. 109
اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نقطہ نظر بار بار کے تجربے میں قطعی طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ مگر کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اس کے باوجود ساری دنیا میں اخلاق کی اسی خیالی بنیاد پر تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔ آج جو منصوبے بن رہے ہیں، جو سیاسی اور سماجی ڈھانچے کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ وہ سب اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ افراد اور سرکاری عملہ اس کی تکمیل میں اپنا حصہ صحیح طور پر ادا کریں گے۔ اس کے بغیر کسی اسکیم کی کامیابی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ مگر حالات پکار رہے ہیں کہ یہ امیدیں بالکل فرضی ہیں۔ p. 109
اس کے لیے کالج کے طلبہ کی مثال کافی ہوگی۔ کالجوں میں جو لوگ پڑھتے ہیں ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ آج کے شہری اور کل کے سرکاری لوگ ہیں۔ ان کی زندگی میں ہم بیک وقت دونوں کردار دیکھ سکتے ہیں۔ ان طلبہ کو اخلاق اور تہذیب سکھانے کے لیے کروڑوں روپے صرف کیےجا رہے ہیں مگر ان کا حال یہ ہے کہ سال بھر کھیل کود میں گزارتے ہیں اور جب امتحان آتا ہے تو پرنسپل کو پستول دکھا کر پرچہ آئوٹ کر لیتے ہیں۔ ان کی آزادی بلکہ آوارگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ناچ گانے کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے اگر انہیں رعایتی پاس نہ ملے تو وہ اس قدر اودھم مچاتے ہیں کہ پولیس کو گولی چلانی پڑتی ہے اور سارے شہر میں کرفیو نافذ ہو جاتا ہے۔ p. 109
کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بل پر ہمارے سیاسی لیڈروں نے بڑی بڑی اسکیمیں بنائی ہیں اور اس کے لیے اربوں روپے کے ٹیکس ملک کے اوپر لاد رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سماج اور موجودہ سرکاری مشنری دونوں کسی قومی ذمہ داری کو اٹھانے کے بالکل نااہل ہو چکے ہیں۔ سڑکوں پر سے مین ہول کے ڈھکن کا غائب ہو جانا سماج کی طرف سے اس بات کا انتہائی اعلان ہے کہ وہ آپ کی کسی اسکیم کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سرکاری عملہ کے اندر رشوت اور ناکردگی کی بڑھتی ہوئی وبا صاف بتا رہی ہے کہ جن ہاتھوں سے کام لیا جانے والا ہے وہ ہاتھ مفلوج ہو چکے ہیں۔ آج کے انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صرف اس چیز کو مانتا ہے جس کی صداقت تجربے سے ثابت ہوگئی ہو۔ مگر یہی انسان ایک ایسے عمل پر اب تک اصرار کیےچلا جا رہا ہے جس کو تجربہ رد کر چکا ہے اور جس کے حق میں نظری استد لال تو کبھی موجود ہی نہیں تھا۔ p. 110