Hikmat-e-Ikhtilaf

مشاہدات دنیا

Hikmat-e-Ikhtilaf — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (93 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. مقدمہ
  3. پہلا حصہ
  4. اختلاف، تنوع
  5. اختلاف کا معاملہ
  6. اختلاف رائے
  7. تنقید کا عمل
  8. ترک تعلق نہیں
  9. اختلاف ایک مثبت ظاہرہ
  10. ترقی کا راز
  11. فکری تعدد، فکری حریت
  12. مخاصمت نہیں
  13. اختلاف اوراتحاد
  14. اختلاف، رواداری
  15. آرٹ آف لائف
  16. شکایت ختم کرنے کا طریقہ
  17. تخلیق میں تنوع
  18. پختگی کیا ہے
  19. اختلاف ایک رحمت
  20. اختلاف کو مینج کرنا
  21. ثالثی کا اصول
  22. آرٹ آف ڈفرینس مینجمنٹ
  23. اختلاف کا مسئلہ
  24. رواداری کا اصول
  25. اتحاد کی نفسیات
  26. اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر
  27. آزادی کا دور
  28. درست مشورہ
  29. ایک مثال
  30. حکمت کی بات
  31. اختلاف نہیں
  32. شکایت کا مزاج
  33. اعتدال کا مطلب
  34. معتصبانہ طرزِ فکر
  35. اجتماعی کام کی اہمیت
  36. اختلاف کثیر
  37. ایسی بحثیں نہ چھیڑو جو لوگوں کو
  38. اللہ سے غافل کر دے
  39. نزاع کا مسئلہ
  40. نزاع مینجمنٹ
  41. مینجمنٹ نہ کہ ردعمل
  42. منفی جذبات کی قربانی
  43. اختلاف کے وقت
  44. کامیابی کا راز
  45. بلند فکری
  46. امت میں اختلاف کا مسئلہ
  47. تنقید واختلاف
  48. اختلاف ایک فطری معاملہ
  49. اختلاف کا مسئلہ
  50. وحدت، تنوع
  51. علم کی دو قسمیں
  52. اختلاف ایک صحت مند ظاہرہ
  53. اختلاف ایک برکت
  54. تفریق کا سبب
  55. کلیات کے بجائے جزئیات
  56. پانچ فقہی اسکول
  57. فقہی مسائل میں اختلاف
  58. موافقت، مخالفت
  59. غیر فطری اختلاف
  60. اختلاف کو نظر انداز کیجیے
  61. دوسرا حصہ
  62. پنج کرنا سیکھیے
  63. اختلاف کے باوجود
  64. آخرت رخی سوچ
  65. اختلاف کے باوجود اعتراف
  66. اختلاف کو مسئلہ نہ بنانا
  67. وسیع ترمفاد
  68. تنقید کوسن کر
  69. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  70. اختلاف، نفرت
  71. اختلاف کے ساتھ اعتراف
  72. اتحاد کی طاقت
  73. اختلاف کو بھلا دیا
  74. حل رخی پالیسی
  75. ایک تقابل
  76. عربوں کا مزاج
  77. انگلینڈ، آئرلینڈ
  78. اختلاف کے باوجود قدردانی
  79. تم قیمتی آدمی ہو
  80. استاد، شاگرد
  81. اسکائی از دی لمٹ
  82. چلو یہ بھی ٹھیک ہے
  83. وسعت ظرفی
  84. مغربی دنیا، مسلم ادارے
  85. امریکا کی مثال
  86. تیسرا حصہ
  87. مشاہدات دنیا
  88. چوتھا حصہ
  89. تاثرات و تجربات
  90. پانچواں حصہ
  91. سوال و جواب
  92. خاتمہ کلام
  93. اختلاف ایک آزمائش

مشاہداتِ دنیا p. 128

ستمبر 1989ء کولیبیا کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔اس سفر میں میں نے لیبیا پہنچ کر اپنی گھڑی میں مقامی وقت کے مطابق تبدیلی نہیں کی تھی۔ جب مجھے وقت معلوم کرنا ہوتا تو میں ایسا کرتا کہ اپنی گھڑی میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق کر لیتاتھا۔ اس طرح مجھے مقامی وقت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ ہندوستان کے مقابلہ میں لیبیا کا وقت ساڑھے تین گھنٹہ پیچھے ہے۔ وقت کے آگے پیچھے ہونے کا مطلب کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان نے اپنی سہولت کے لیے رات اور دن کی مدت کو 24 گھنٹے میں تقسیم کیا ہے۔ یہ مان لیا گیا ہے کہ ہر ملک میں دوپہر کا وقت 12 بجے کا ہو گا۔ اب چونکہ زمین کی محوری گردش کی بنا پر ’’دوپہر‘‘ کا لمحہ ہر ملک میں الگ الگ وقت پر آتا ہے، ہر ملک کا وقت الگ الگ ہو گیا ہے۔ مثلاً ہندوستان میں جس وقت دوپہر ہو گا، اس وقت لیبیا میں ابھی دوپہر کا وقت آنے میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹہ باقی ہوں گے۔ ہر ملک دوپہر کے وقت کو 12 بجے کا وقت مان کر اپنی گھڑی کا آغاز کرتا ہے، اس لیے ہر ملک کا وقت نسبتی طور پر الگ الگ ہو جاتا ہے۔ p. 128

وقت کا یہ فرق قدرت کا ایک سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’فرق‘‘ اس دنیا کی لازمی حقیقت ہے۔ اس دنیا میں ہمیں فرق کے باوجود مل کررہنا ہے۔ یہاں اختلاف کے باوجود اتحاد قائم کرنا ہے۔ p. 128

٭٭٭٭٭ p. 129

7دسمبر 1993کی صبح کو رشی کیش میں فجر کی نماز اول وقت پڑھی۔ اس کے بعد سوامی چیدانند سے رخصتی ملاقات کرنے کے لیے ان کے دفتر میں گیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ کانفرنس کے بہت سے مرد اور عورت وہاں چلے آ رہے ہیں۔ سوامی جی نے بتایا کہ ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ آج آپ جا رہے ہیں تو وہ آپ سے ملنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ یہ زیادہ تر یورپ کے ملکوں سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ انگریزی میں تقریباً10 منٹ تک ان کے سامنے خطاب کیا۔ p. 129

میں نے کہا کہ آپ لوگ یہاں روحانی اتحاد کے عنوان پر جمع ہوئے ہیں۔ اس نسبت سے چند باتیں میں قرآن کے حوالے سے کہوں گا۔ قرآن میں یہ تصور دیا گیا ہے کہ تمام انسان ایک ہی صحیح فطرت پر پیدا کیے جاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف، جھگڑے، غلط فہمیاں یہ سب چیزیں انسانی شخصیت کا اصل حصہ نہیں ہیں، یہ سب اوپری چیزیں ہیں۔ جہالت، حرص، تعصب، کینہ وغیرہ ان کے اسباب ہیں۔ یہ سب چیزیں وقتی طور پر آدمی کی فطرت کو ڈھک لیتی ہیں۔ اگر ان کو ہٹا دیا جائے تو اندر کی یکساں فطرت بے نقاب ہو کر سامنے آ جائے گی۔ p. 129original + quote

اس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی اتحاد تو اپنے آپ سارے انسانوں کے درمیان موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اوپر کے پردوں کو ہٹا دیا جائے۔ پردہ ہٹنے کے بعد جو چیز حاصل ہوگی وہ وہی ہوگا جس کو ہم روحانی اتحاد کہتے ہیں۔ p. 129

٭٭٭٭٭ p. 130

سینیگال کے سفر( 1990) میںایک بار ہوٹل کے لاؤنج میں آیا تو یہ دیکھا کہ کچھ افریقی مقامی زبان میں بات کر رہے تھے۔ میری سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہوٹل کے باہر نکلا تو جھاڑی میں ایک بلی تھی۔ اس نے ’’میاؤں میاؤں‘‘ کی آواز نکالی۔ اچانک خیال آیا کہ جانور تمام دنیا میں ایک ہی انداز پر بولتے ہیں۔ کوئی جانور جس طرح ہندوستان میں بولتا ہے، ٹھیک اسی طرح وہ یورپ اور افریقہ میں بھی بولتا ہے۔ مگر انسان کی بولیاں الگ الگ ہیں۔ حتی کہ دنیا بھر میں ان کی کئی ہزار بولیاں ہو گئی ہیں۔ p. 130

پھر خیال آیا کہ یہ انسان کے حالتِ امتحان میں ہونے کا ایک پہلو ہے۔ جانوروں کا کوئی امتحان نہیں۔ اس بنا پر ان کی ہر نوع کے لیے ایک ہی بولی مقرر کردی گئی۔ مگر انسان اس امتحانی میزان پر کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ خود اپنے ارادے سے متحد ہو۔ وہ اختلاف کے باوجود اتحاد کا ثبوت دے۔ جانوروں سے امتحان مطلوب نہ تھا، اس لیے انہیں ازاول تاآخر حالتِ اتحاد میں رکھا گیا۔ اس کے برعکس انسان سے امتحان مطلوب تھا۔ اس لیے انہیں حالت اختلاف میں ڈال دیا گیا اور پھر کہا گیا کہ تم اپنے اختلاف کو نظرانداز کرتے ہوئے اتحاد کا ثبوت دو۔ p. 130

٭٭٭٭٭ p. 130

4 مئی 1990ءکی سہ پہر کو جنیوا سے دکار کے لیے روانگی ہوئی۔ میری سیٹ کھڑکی سے ملی ہوئی تھی۔ باہر کی طرف دیکھا تو جہاز کا ’’پر‘‘ لمبا پھیلا ہوا تھا۔ پر (wing)کے اوپر انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ اس کے آگے نہ چلیں p. 130

Do not walk outside this area. p. 131

ہوائی جہاز جب ایئر پورٹ پر کھڑا ہوتا ہے تو کارکن حضرات اس کو چیک کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی شخص چلتا ہوا پر کے اوپر پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے اس کو پر کے اوپر چلنے سے منع کر دیا گیا ۔ کیونکہ ہوائی جہاز کا پر اس کا کمزور حصہ ہے۔ وہ انسانی بوجھ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ p. 131

ہوائی جہاز کے پَر (wing)کے اوپر مذکورہ الفاظ پڑھتے ہوئے مجھے وہ حدیث یاد آگئی جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی کچھ حدیں ہیں تم ان حدوں سے تجاوز نہ کرو — وَحَدَّ ‌حُدُودًا ‌فَلَا ‌تَعْتَدُوهَا (المعجم الصغیر للطبرانی، حدیث نمبر 1111)۔ ’’حد‘‘ کا معاملہ دنیا اور آخرت دونوں قسم کے معاملات میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں عالَموں میں وہی لوگ کامیاب رہیں گے جو حد کو جانیں۔ مثلاً کسی سے آپ کو اختلاف ہو تو علمی تردید کی حد تک آپ جا سکتے ہیں۔ اس کے آگے الزام تراشی اور کردار کشی اور سبّ و شتم کے لیے زبان و قلم کو استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ اسی طرح عمل کے معاملہ میں جائز حدود میں سرگرم ہونے کی ہر ایک کو اجازت ہے۔ مگر جائز حدود کے باہر کسی کو اجازت نہیں۔ p. 131original + quote

٭٭٭٭٭ p. 131

امریکا میں بڑی تعداد میں ایسے مراکز قائم ہیں جن کو یہاں کی اصطلاح میں ’’اسلامک سنٹر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہندستانی اصطلاح میں ان کو وسیع تر مسجد کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں مرکزی طور پر ایک مسجد ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ دوسرے تعلیمی اور ثقافتی شعبے بھی۔ یہ مراکز یہاں کے مسلمانوں کے لیے نقطہ اتحاد یا اجتماعی شیرازہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ p. 132

اس قسم کے ایک مرکز کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہاں کے وابستہ مسلمانوں میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ وہاں میں نے لوگوں کے اجتماع میں ایک تقریر کی۔ اس میں میں نے بتایا کہ اتحاد کی واحد قیمت اختلاف کو برداشت کرنا ہے۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے ہی کا دوسرا نام اتحاد ہے۔ اس سلسلہ میں صحابہ کرام کی بہت سی مثالیں دیں۔ p. 132original + quote

تقریر کے بعد بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد مجھ سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اختلاف کے باوجود اتحاد‘‘ کا یہ نظریہ ابھی تک ہم کو بتایا ہی نہیں گیا۔ حالانکہ اس معاملہ میں اہم ترین بات یہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ مشرق کے مسلمان ہوں یا مغرب کے مسلمان، سب کی واحد کمی یہ ہے کہ ان میں حقیقی شعور موجود نہیں۔ ہمارے علما اور قائدین خود ہی بے شعوری کا شکار ہیں، پھر وہ دوسروں کو کس طرح شعور دے سکتے ہیں۔ p. 132original + quote

٭٭٭٭٭ p. 132

23 ستمبر 1989ء کی شام کو دہلی سے پی آئی اے کی فلائٹ 293 کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز کی سروس انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے مطابق تھی۔ کراچی تک ایک گھنٹہ 45 منٹ کی پوری پرواز نہایت ہموار رہی۔ جہاز کے اندر مطالعہ کے لیے پاکستان کے اردو اور انگریزی اخبار موجود تھے۔ p. 133

اخبارات کامطالعہ میرے لیے کچھ زیادہ خوشی کا باعث نہ ہو سکا۔ اخبارات میں لفظی کشتی کا منظر دکھائی دیا۔ پنجاب کے ریاستی وزیر کی تقریر اسلام آباد کے مرکزی وزیر کے خلاف اور مرکزی وزیر کی تقریر پنجاب کے ریاستی وزیر کے خلاف ۔ جماعت اسلامی کے لیڈر کا بیان مہاجر لیڈر کے خلاف اور مہاجر لیڈر کا بیان جماعت اسلامی کے لیڈر کے خلاف ۔ اسی قسم کی خبریں اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ اس سے یہ تو اندازہ ہوا کہ موجودہ پاکستان میں جمہوریت ہے۔ مگر اہل پاکستان شعوری اعتبار سے شاید ابھی اس درجہ کو نہیں پہنچے کہ وہ جمہوریت کا تحمل کر سکیں۔ p. 133

پاکستان ہندو اور مسلم اختلاف سے بچنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ ’’خداداد ملک‘‘ میں مسلم اور مسلم اختلاف اس سے بھی شدید صورت میں موجود ہے۔ p. 133

٭٭٭٭٭ p. 133

مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کی طرف سے اکثر یہ الفاظ سننے پڑتے ہیں کہ تمہارے یہاں تو ستر سے زیادہ فرقے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں اس سے بھی زیادہ فرقے ہیں۔امریکا کے ونسنٹ فوٹ(Vincent Foote) ایک بیپٹسٹ (Baptist) تھے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا میں 250 قسم کے بیپٹسٹ ہیں۔ اور مجموعی طورپر عیسائیوں میں تین ہزار فرقے ہیں۔ ابھی حال میں (35 سال پہلے) ایک نیا عیسائی فرقہ بنا ہے۔ اس کا صدر دفترامریکا(واشنگٹن ڈی سی) میں ہے۔ اس کا نام یہ ہے p. 133original + quote

Church of Scientology International p. 134

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں اور دوسرے مذاہب میں اصل فرق فرقے کی کثرت کا نہیں ہے بلکہ جھگڑے کی کثرت کا ہے۔ مسلمان بات بات پر آپس میں لڑتے رہتے ہیں اس لیے کم فرقہ ہونے کے باوجود وہ کثرت فرقہ کے لیے مشہور ہیں۔ جب کہ دوسرے مذاہب کے لوگ زیادہ فرقے ہونے کے باوجود اس طرح آپس میں نہیں لڑتے، اس لیے ان کا باہمی اختلاف دوسروں کو بہت کم دکھائی دیتا ہے۔(سفرنامہ غیرملکی اسفار) p. 134original + quote

٭٭٭٭٭ p. 134

21 نومبر 1993کو عصر کی نماز گورنمنٹ کالونی(باندرہ، بمبئی) کی مسجد غوثیہ میں پڑھی۔ یہ ہائی وے کے عین کنارے ہے۔ نہایت وسیع اور خوبصورت مسجد ہے۔1974ء میں جب کہ جناب عبدالرحمن انتولے مہاراشٹر کے ہاؤسنگ منسٹر تھے، انہوں نے اس مسجد کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔ کافی نمازی جماعت میں موجود تھے۔ میں نے سوچا کہ پنج وقتہ نماز اور ہفتہ وار جمعہ کی نماز کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے کتنی بڑی نعمت اہل اسلام کو عطا کی ہے۔ اس طرح ہر روز ہر علاقہ کے مسلمان روحانی مرکز کے ماحول میں ملتے ہیں۔ اس سے جو اجتماعی فائدے ہوتے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسجدوں کی تعداد ہزار گنا بڑھ گئی ہے۔ مگر مسجد کا عملی فائدہ اتنا ہی کم ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ نااہل لوگ ہر مسجد میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ مسجد کو اعتقادی اختلاف، سیاسی نزاعات، حتیٰ کہ متشدانہ تحریکوں کا اڈہ بنا دیتے ہیں۔ یہ اللہ کی مسجدوں کا غلط استعمال ہے۔ اس غلط استعمال نے مسلم آبادیوں کو مسجد کے حقیقی دینی فائدے سے محروم کر دیا ہے۔ p. 134

٭٭٭٭٭ p. 135

امریکہ کے موجودہ سفر (1988)میں میں نے جو نئی باتیں دریافت کیں، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ امریکی یہودیوں کی طاقت کا اصل راز ان کی تنظیم ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984) نےامریکا میں یہودیوں کی تعداد58 لاکھ بتائی ہے۔ اس قلت تعداد کے باوجود انہوں نے اپنے تمام قابل ووٹ افراد کو ووٹر لسٹ میں درج کرا رکھا ہے۔ ہر الیکشن میں ان کے بیشتر افراد ووٹ دیتے ہیں اور ہمیشہ متحدہ طور پر اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے تمام ادارے شیرازہ کی طرح باہم مربوط ہیں۔ ا پنے قومی مقاصد کے لیے وہ بے دریغ دولت خرچ کرتے ہیں۔ ان میں انفرادی سطح پر اختلافات ہیں، مگر قومی نوعیت کے معاملہ میں وہ ہمیشہ متحد رہتے ہیں۔ وہ اربابِ کار سے مسلسل ربط رکھتے ہیں اور ان کی رائے کو اپنے حق میں متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہر کام منظم انداز میں کرتے ہیں، نہ کہ اس طرح متفرق انداز میں جس کا ہمارے یہاں عام رواج ہے۔ p. 135original + quote

٭٭٭٭٭ p. 135

ایک سفر میں فلپائن کے ایک صاحب (احمد نوح) سے ائرپورٹ پر ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ فلپائن میں سات ملین مسلمان ہیں۔ مسلمان تعلیمی اعتبار سے بہت پیچھے ہیں۔ حتی کہ ان کے بیان کے مطابق سارے فلپائن میں ایک بھی مسلمانوں کا پریس موجود نہیں۔ p. 135original + quote

فلپائن کے ایک علاقے میں مسلمان آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس تحریک آزادی کے لیڈر پہلے صرف مسٹر نورمیسواری (Nur Misuari, b. 1939) تھے۔ ہاشم سلامات (Hashim Salamat, 1939-2003) ان کے نائب تھے۔ اب دونوں میں سخت اختلاف ہو گیا ہے۔ دونوں الگ الگ اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ احمد نوح صاحب دونوں لیڈروں سے ملے۔ انہوں نے نورمیسواری سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی سیاست کو نہ بدلا تو انقلاب ناکام ہو جائے گا (إِنْ لَمْ تُغَيِّرْ سِيَاسَتَكَ الآنَ فَالثَّوْرَةُ سَتَفْشَلُ)۔ مگر دونوں کو متحد کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ p. 135original + quote

ان کی گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ فلپائن کے دونوں لیڈر اگرچہ اپنے اختلاف اور علاحدگی کے لیے اصولی الفاظ بولتے ہیں، مگر اصلاً یہ قیادت کا جھگڑا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ وہی جھگڑا ہے جو ہندوستان سمیت تمام ملکوں میں پیش آ رہا ہے۔ لوگ اسلام کے نام پر اٹھتے ہیں۔ کام شروع کرتے ہیں۔ مگر جلد ہی بعد ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اگر ان کی سرگرمیاں حقیقتاً اسلام کے لیے ہوتیں تو اختلاف کے وقت ایک شخص پیچھے ہو جاتا اور پھر اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا (جیسا کہ دو اصحابِ رسول ابوعبیدہ بن جراح اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہماکے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے، دیکھیے زیر نظر کتاب کا مضمون آخرت رخی سوچ)۔ مگر جب اصل مقصد لیڈری ہو اور اسلام کا نام محض نعرہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہی پیش آتا ہے۔ p. 136original + quote

٭٭٭٭٭ p. 136

3 جنوری (1994)کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے ساتھ امریکا میں ایک صاحب سے ملنے کے لیے روانہ ہوا۔ راستہ میں ہم لوگ ایک مقام سے گزرے۔ صغیر اسلم صاحب نے بتایا کہ پہلے ہم لوگ یہاں رہتے تھے۔ یہاں ان کے پاس چھ ہزار مربع فٹ کا مکان تھا۔ خوبصورت پارک کے کنارے کا یہ مکان بہت وسیع اور بہت شاندار تھا۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اپنے بچوں کی تربیت کے لیے اس کو چھوڑ کر مسجد کے قریب چھوٹا مکان لے لیا۔ یہ دوسرا مکان دو ہزار مربع فٹ کا ہے۔ علاقہ کے لحاظ سے بھی پہلا مکان نہایت اہم علاقہ میں تھا۔ جب کہ موجودہ مکان دوسرے درجہ کے علاقہ میں ہے۔ جب انہوں نے یہ مکان بدلا تو اکثر لوگ ان کا مذاق اڑا رہے تھے کہ اتنا اچھا مکان چھوڑ کر معمولی مکان میں آگئے۔ p. 136

یہاں ہر آدمی بچوں کے بگڑنے کی شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر یہ شکایت میرے نزدیک بے معنی ہے۔ اس لیے کہ اس معاملہ کا تعلق بچوں سے زیادہ ان کے بڑوں سے ہے۔ بڑے لوگ اپنے چاہنے کی قیمت ادا نہیں کرتے اسی لیے وہ اپنے بچوں کی اصلاح نہیں کر پاتے۔ اگر آپ اپنے بچوں کو آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کے ماحول کو دنیوی شان و شوکت سے پاک کرنا ہوگا۔ اس کے بجائے اپنے آپ کو مسجد والے ماحول سے قریب کرنا ہوگا۔ p. 136

یہی معاملہ پوری ملت کا ہے۔ لوگ جو کچھ چاہتے ہیں اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے وہ تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مطلوب چیز بھی ان کو نہیں ملتی مثلاً ہر آدمی اتحاد کی بات کرتا ہے مگر وہ اختلاف اور شکایت کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ یہ اتحاد کی واحد قیمت ہے۔ لوگ سچائی کی بات کرتے ہیں، مگر وہ راہِ حق میں لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی زیادتیوں پر صبر کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ صبر کے بغیر خدا کے پیغام کو عام کرنا ممکن ہی نہیں۔ لوگ ملت کی تعلیم و ترقی کی بات کرتے ہیں مگر وہ نزاعات کو اوائڈ کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ تعلیم و ترقی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نزاعات کو ہر حال میں اوائڈ کیا جائے۔ p. 137

٭٭٭٭٭ p. 137

لندن کے سفر (1992)میں ماہنامہ صراط مستقیم کے مدیر محترم نے ایک انٹرویو لیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو ہر ایک سے اختلاف ہے اور آپ دوسری جماعتوں سے کٹ کر اپنا ایک نیا دین پیش کر رہے ہں۔ میں نے کہا کہ یہ بات سراسر غلط ہے۔ میں نے کہا کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اساسیات میں اختلاف، اور دوسرا فروع میں اختلاف۔ میرا اساسیات میں کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔ مثلاً تمام لوگ رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتے ہیں تو میں بھی رسول اللہ کو خاتم الرسل مانتا ہوں۔ میرا جو کچھ اختلاف ہے وہ فروعات میں ہے اور فروعات میں اختلاف صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہا اور علما کے درمیان ہمیشہ رہا ہے۔ یہاں اصل مسئلہ اختلاف کا نہیں بلکہ غیر ضروری حساسیت کا ہے۔ لوگ غیر ضروری طور پر اختلاف کے معاملہ میں حساس ہوگئے ہیں۔ اس بنا پر وہ فروع میں اختلاف کو وہ درجہ دینے لگے ہیں جو اساسیات میں اختلاف کا درجہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی یہی غیرضروری حساسیت ہے جس نے مسئلہ پیدا کیا ہے، نہ کہ نفس اختلاف نے۔ p. 137original + quote

٭٭٭٭٭ p. 137

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے کہا کہ آپ کی تحریروں میں اختلاف رائے اور تنقید بہت ہوتی ہے۔ یہاں کے کچھ لوگ کہنے لگے ہیں کہ آپ کو تنقید کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بے بنیاد الزام ہے۔ آپ کسی بھی مہینہ کے الرسالہ کو اٹھاکر دیکھیے اور ہر مضمون کو پڑھ کر پتہ کیجیے کہ اس میں اختلاف رائے والا پہلو کتنا ہے۔ آپ پائیں گے کہ کسی پرچہ میں سرے سے ایسا کوئی مضمون نہ ہوگا اور کسی میں ہوگا بھی تو صرف ایک یا دو فیصد۔ p. 138original + quote

پھر میں نے کہا کہ اصل مسئلہ اختلاف رائے نہیں ہے۔ اصل مسئلہ لوگوں کی غیر ضروری حساسیت ہے۔ صحابہ کے زمانہ سے لے کر ہر اگلے دور تک علما کے درمیان اختلاف ہوتا تھا مگر کبھی کسی نے اختلاف کو برا نہیں بتایا۔ مثلاً امام محمد اور امام ابو یوسف دونوں امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے۔ دونوں نے امام ابو حنیفہ کی رایوں سے 182 معاملہ میں اختلاف کیا ہے۔ مگر اس کو کبھی کسی نے برا نہیں مانا۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف رائے یا علمی و فکری تبصرہ قوموں کی زندگی ہے۔ اس کو اسلام میں اتنا زیادہ جگہ دی گئی ہے کہ آدم کی پیدائش کی کہانی کا ایک جزء جو بائبل میں حذف ہوگیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درج فرمایا۔ یہ خود اللہ تعالیٰ سے فرشتوں کا یہ کہنا تھا  أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها وَيَسْفِكُ الدِّماءَ (2:30)۔ یعنی،زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ p. 138original + quote

اس اختلاف کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو کوئی سزا نہیں دی۔ p. 138

٭٭٭٭٭ p. 138

بمبئی کے سفر (نومبر 1993)میں عشا کی نماز کے بعد جناب جمشید علی سید کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ تعلیم یافتہ افراد اور الرسالہ کے قاری اس میں شریک ہوئے۔ میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ الرسالہ مشن اور موجودہ حالات میں اسلام کا طریق کار کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس کے بعد سوال و جواب کی صورت میں گفتگو دیر تک جاری رہی۔ عام طور پر لوگوں نے الرسالہ کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ p. 138

اجتماع میں موجودجناب خلیل زاہدی صاحب نے میری ایک بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ ہر مسلمان ہندوؤں سے ذاتی تعلق میں اعراض اور ہم آہنگی کے اصول ہی پر عمل کرتا ہے مگر جب ملت کے پلیٹ فارم سے بولنا ہو تو وہ ٹکراؤ کی زبان بولنے لگتا ہے۔ اس دو عملی کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ p. 139original + quote

حاجی مستان مرزا(67 سال) بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ نے بہت تجرباتی زندگی گزاری ہے۔ یہ بتایئے کہ مخالف کو جیتنے کا طریقہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا محبت، پیار۔ اگر آپ اپنے مخالف سے محبت کا سلوک کریں گے تو وہ بھی آپ ہی کی بولی بولنے لگے گا۔ p. 139

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ بقیہ علما سے میرا کوئی اختلاف نہیں۔ ان کے دل میں جو کچھ ہے اگر وہ وہی کرنے لگیں تو ان سے میرا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جائے۔ حاجی مستان صاحب نے اس کو سن کر کہا’’پھر علمائے دین کے دل میں جو ہے وہ اس کو اپنی زبان سے کہہ دیں۔ تمام علمائے دین ایک اسٹیج پر آ کر اپنے دل کی بات تمام اہل اسلام کو بتا دیں۔‘‘ p. 139original + quote

جمشید سید صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ بزنس کرتے ہیں۔ بتایئے کہ بزنس میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا کنٹروورسی (controversy)سے بچنا اور اگر کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو میز پر بیٹھ کر اس کو طے کرلینا۔ میں نے کہا کہ یہ اصول جو ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کیے ہوئے ہے، اسی کو ہم کہتے ہیں کہ ملی معاملات میں بھی اختیار کر لو تو لوگ فوراً کہنے لگتے ہیں کہ الرسالہ بزدلی سکھاتا ہے۔ آخر لوگوں کی زندگی میں یہ دو عملی کیوں ہے۔ کیا دوعملی کا نام اسلام ہے۔ p. 139original + quote

٭٭٭٭٭ p. 140

لندن میں ایک علمی ادارہ ہے جس کا نام ہے مسلم انسٹی ٹیوٹ۔ اس ادارہ کے تحت لندن میں حج کے موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمینار(4 تا 7 اگست 1982ء) ہوا۔ اس سیمینار میں شرکت کے لیے مجھے بھی دعوت دی گئی تھی۔ مرکزی لندن کے ایک ہوٹل میں ہمارے لیے قیام کا انتظام تھا، اس میں ایک بڑا کمرہ نماز کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ یہاں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاتی تھی، مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں کے مسلک بھی الگ الگ تھے۔ کوئی ایک ہاتھ کان پر رکھ کر اذان دیتا تھا اور کوئی دونوں ہاتھ۔ کوئی ہاتھ لٹکا کر نماز پڑھتا تھا کوئی ہاتھ باندھ کر۔ کوئی نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتا تھا اور کوئی بغیر دعا کے نماز ختم کر دیتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان اختلافی مسائل پر یہاں نہ کوئی بحث ہوئی تھی اور نہ اختلاف ۔ ہر ایک دوسرے کے مسلک پر اعتراض کیے بغیر اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھتا اور پھر باہم اس طرح ملتا جیسے ان کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں۔ p. 140

اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ’’مغربی علما‘‘ ان مشرقی علما سے بہتر ہیں، جو انہیں امور پر باہم لڑتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ دینی مسجدیں اور مدرسے الگ الگ بنا لیتے ہیں۔ یہ دراصل میدان اختلاف میں فرق کا سوال ہے، نہ کہ خود اختلاف کا۔ مشرقی علما جب کسی مختلف مسلک والے آدمی پرتنقید کرتے ہیں تو وہ کفر و فسق کی اصطلاحوں میں کلام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، مغربی تعلیم یافتہ لوگ اس معاملہ میں اپنے مغربی اساتذہ کی نقل کرتے ہیں، وہ اپنی اختلافی شدت کو سیکولر الفاظ اور اصطلاحات تک محدود رکھتے ہیں۔ p. 140

٭٭٭٭٭ p. 140

نئی دہلی میں سینیگال کی ایمبیسی موجود ہے۔ جو صاحب اس سفر(مئی 1990ء)کے لیے سینیگال ایمبیسی میں میرا ویزا لینے کے لیے گئے تھے، انہوں نے بتایا کہ ویزا افسر نے پاسپورٹ میں میری تصویر دیکھی تو کہاکہ میں ان کو جانتا ہوں۔ ہم کو خوشی ہے کہ وہ ہمارے ملک میں جا رہے ہیں۔ p. 140

ویزا افسر کے اس طرح ’’پہچاننے‘‘ کا سبب یہ تھا کہ ٹائمس آف انڈیا (10 دسمبر 1989 ء) میں میرا انٹرویو چھپا تھا۔ اس میں انٹرویور نے میری تصویر بھی چھاپ دی تھی۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ میں نے اس انٹرویو کو پڑھا تھا اور اس میں ان کی تصویر دیکھی تھی۔ یہ تصویر اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ موجودہ زمانہ کے نئے امکانات میں سے ایک امکان یہ ہے کہ ایک شخص کسی آدمی کو براہ راست نہ دیکھے، اس کے باوجود وہ اس کو اس کی صورت سے پہچانتا ہو۔ p. 141

اس زمانہ میں تصویری صحافت نے انسان کے اوپر جو نئے مواقع کھولے ہیں، ان کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ ہندوستان کے علما تصویر کو ناجائز بتاتے ہیں، مگر یہی علما عرب شخصیتوں کا اپنے اداروں میں استقبال کر رہے ہیں، جب کہ یہ عرب لوگ تصویر کو عین جائز سمجھتے ہیں۔ p. 141original + quote

ہندوستان کے دو عالموں کے درمیان اگر اختلاف ہو تو دونوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ مگر یہی اختلاف ہندستانی عالم اور عرب عالم کے درمیان ہو تو ہندستانی عالم اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ گوارا کر لیتا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے، یہ ایک نازک معاملہ ہے۔ مگر اس سے پردہ اٹھانا شاید خدا کے سوا کسی اور کے اختیار میں نہیں۔ p. 141

٭٭٭٭٭ p. 141

پونے کے سفر ( 1991) میں ایک شام کو جناب عبدالصمد صاحب کی رہائش گاہ کے سامنے کھلی زمین پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں شہر کے پڑھے لکھے لوگ جمع ہوئے۔ اس اجتماع میں ایک گھنٹہ کی تقریر میں میں نے بتایا کہ اس وقت ہماری سب سے بڑی طاقت اتحاد ہے۔ اور اتحاد پیدا ہونے کا واحد راز یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا مزاج پیدا ہو جائے۔ p. 142

اسی سفر کے دوران ایک مجلس میں حدیث رسول، صَلُّوا ‌خَلْفَ ‌كُلِّ بَرٍّ ‌وَفَاجِرٍ (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 1768) — یعنی نیک اور فاجر ہر ایک کے پیچھے نماز پڑھو— کی تشریح کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برے لوگوں کو لا کر امام کی جگہ کھڑا کر دو۔ اس حدیث کا خطاب حقیقتاً امام کی طرف نہیں ہے۔ بلکہ مقتدیوں کی طرف ہے۔ یعنی مسجد میں کسی کو امام بنا دیا گیا۔ اب ایک شخص کے اندر خیال پیدا ہوا کہ امام کے اندر تو فلاں خرابی ہے۔ تو جس شخص یا جن لوگوں کے دل میں اس طرح کا خیال آئے انھیں اپنے اس خیال کے پیچھے نہیں دوڑنا چاہیے بلکہ اس کو نظرانداز کر کے امام کے پیچھے نماز پڑھتے رہنا چاہیے۔ p. 142original + quote

٭٭٭٭٭ p. 142

اخوانی فکر کے حامل ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ امراء المسلمین سے سیاسی نزاع کرنا اسلام میں جائز نہیں ۔ حالاں کہ امام احمد بن حنبل جیسے جلیل القدر محدث نے عباسی حکومت سے نزاع کی۔ میں نے کہا کہ آپ کا حوالہ درست نہیں۔ امام احمد نے کبھی بھی عباسی حکومت سے سیاسی نزاع نہیں کی۔ یعنی انہوں نے کبھی یہ مہم نہیں چلائی کہ وہ عباسی خلافت کو توڑ کر نیا سیاسی نظام بنائیں۔ ان کا اختلاف صرف ایک مخصوص اعتقادی مسئلہ میں تھا۔ اس کے آگے ان کا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں تھا۔ p. 142original + quote

٭٭٭٭٭ p. 142

کراچی(چاندنی چوک، ناظم آباد) کی محمدی مسجد کے خطیب جناب سید عبدالرؤف صاحب کو ایک تلخ تجربہ ہوا۔ انہوں نے ایک بار جامعہ کراچی میں قرآن کی تلاوت کی۔ تلاوت کے خاتمہ پر، عام قاریوں کے معمول کے خلاف، انہوں نے صدق اللہ العظیم نہیں کہا۔ اس پر ایک طالب علم نے انہیں ٹوکا اور کہا جناب، آپ ایک آیت چھوڑ گئے ہیں۔ p. 143original + quote

جناب عبدالرؤف صاحب پر اس کا سخت ردعمل ہوا۔ ان کے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ چونکہ علما اور قرّاءنے اختتام تلاوت پرصدق اللہ العظیم کہنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ لہٰذا اس تواتر عمل نے عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شاید یہ الفاظ بھی قرآن کا مستقل حصہ ہیں۔ ان کا یہ احساس اتنا شدید ہوا کہ وہ تلاوت قرآن کے آخر میں اس کلمہ کے کہنے کو بدعت و گمراہی سمجھنے لگے۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک سخت مضمون لکھا جو لاہور کے ماہنامہ حکمت قرآن(نومبر، دسمبر1989) میں دو قسطوں میں چھپا۔اس مضمون کی اشاعت کے بعد جوابی ردوکد ہوئی۔ یہاں تک کہ حکمت قرآن(مارچ1990) میں مدیر محترم نے لکھا کہ یہ انتہا پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ اگر دور اول میں اس کا معمول نہ ہو تب بھی تلاوت قرآن کے آخر میں صدق اللہ العظیم کہنا بدعت اور گمراہی نہیں۔ یہ گویا اختتام تلاوت کی علامت ہے اور اس اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں۔ p. 143

میں نے ایک صاحب سے گفتگو کے دوران کہا کہ مذکورہ طالب علم کی بات محض ایک انفرادی بات تھی، اس کو اتنی زیادہ اہمیت دینا اور اس کو عمومی گمراہی سمجھ کر اس پر بحث جاری کر دینا صحیح نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی حلقوں میں عام طور پر یہی ذہن چھایا ہوا ہے۔ اور اختلاف کا اصل سبب یہی مزاج ہے۔ p. 143

٭٭٭٭٭ p. 143

1984کے مدینہ کے سفر میں بعض اشخاص نے عالم اسلام کے دینی مدارس کی بابت سوال کیا۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں اور دوسرے ملکوں میں جو اسلامی ادارے قائم ہیں وہ اپنے اعلان کردہ مقصد کے برعکس نتائج پیدا کررہے ہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کا نظام جدلی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ ان کے یہاں سارا زور اساسیات کے بجائے جزئیات پر ہے۔ ان میں سے کسی کا زور اعتقادی اختلافات پر ہے، کسی کا فقہی اختلافات پر اور کسی کا سیاسی اختلافات پر۔ اب چوں کہ جزئیات میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ اس لیے وہاں کے ماحول میں جس کی تربیت ہوتی ہے وہ اختلافات کا ماہر ہو کر نکلتا ہے۔ p. 144

٭٭٭٭٭ p. 144

28ستمبر کو ظہر کی نماز قاہرہ کی مسجد ابی بکر الصدیق(شارع عبدالعزیز فہمی) میں پڑھی۔اس پر تعمیر کا سن1957لکھا ہوا تھا۔ مسجد کشادہ تھی۔ مسجد سے متصل ایک کمرہ تھا جس میں امام کا دفتر تھا۔ اس میں میز کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز کے اوپر ٹیلی فون رکھا ہوا تھا۔ نمازیوں کی اکثریت کے سر پر ٹوپی نہ تھی۔ امام نے نماز ختم کی تو اجتماعی دعا کے بغیر اٹھ کر اپنے کمرہ میں چلے گئے۔ اس قسم کی چیزیں ہندوستان میں اجنبی سمجھی جائیں گی۔ مگر عرب دنیا میں اس قسم کی چیزیں عام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہی جھگڑے صر ف برصغیر ہند میں پائے جاتے ہیں۔ عالم عرب میں اس قسم کے جھگڑوں کا کوئی وجود نہیں۔ p. 144

اس فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کچھ عرب حضرات سے میں نے کہا کہ عبادت میں کچھ ارکان ہیں اور کچھ آداب۔ ارکان میں کوئی اختلاف نہیں۔ مگر آداب کے بارے میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جب احادیث جمع کی گئیں اور یہ اختلافات سامنے آئے تو محدثین نے ان کو توسع پر محمول کیا اور کہا کہ اِس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے، اور اُس پر عمل کر لو تب بھی ٹھیک ہے۔ مگر فقہا نے کہاکہ الحق لا يتعدد(حق کئی نہیں ہو سکتا)۔ اس وقت عالم اسلام، بڑی تقسیم میں دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ عرب ملکوں میں محدثین کا نقطہ نظر مقبول ہوا۔ اس بنا پر وہاں توسع کا مزاج پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس،برصغیر ہند میں فقہا کا نقطہ نظر پھیلا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں محدثین کا نقطہ نظر ہی درست ہے۔ اور اگر عرب دنیا کی طرح برصغیر میں بھی محدثین کا نقطہ نظر آجائے تو تمام غیر ضروری جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ p. 144original + quote

29 ستمبر کو عصر کی نماز قاہرہ کی مسجد الامین (شارع اسماعیل صبری باشا) میں پڑھی۔ یہ ایک چھوٹی مگر صاف ستھری مسجد تھی۔ اس کے ایک گوشہ کو منبر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ مسجد کے اندر دو الماری میں کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ اور علم العقائد وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ p. 145

وقت ہوا تو امام مصلے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے اقامت کہی، اس کے بعد خود ہی نماز پڑھائی۔ نمازیوں کی تعداد ایک صف سے زیادہ نہ تھی۔ نماز پوری کرنے کے بعد امام نے اپنے دائیں طرف چہرہ کرکے السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا اور بائیں طرف السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ اس کے بعد اجتماعی دعا کے بغیر لوگ اٹھ کر چلے گئے۔ p. 145

برصغیر ہند میں فقہی اختلاف نے ملت کو مختلف طبقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ عالم عرب میں یہ چیزیں موجود نہیں۔ البتہ ایک اور چیز مزید شدت کے ساتھ موجود ہے، اور وہ سیاسی اختلاف ہے۔ p. 145

اس سلسلے میں ڈاکٹر عبد الحلیم عویس مصری سے بات چیت ہوئی انھوں نےکچھ مسلم لیڈروں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنے غلط عمل کے ذریعہ ملت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ مگر مسلمانوں کے درمیان اب بھی ان کو بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے مفسدین کو عظمت کا درجہ دیتے ہیں(امۃ’‘ تُعَظِّمُ مفسدِیھا)۔ p. 145other source

٭٭٭٭٭ p. 145

امریکا کے سفر (1993) میں ایک فلسطینی نوجوان سے اسلامک سوسائٹی(آرنج کاؤنٹی) میں ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے بعد انہوں نے فرائڈے رپورٹ(The Friday Report) کے تین شمارے برائے مطالعہ دیے۔ یہ دارمکہ ڈینور(Denver) کی طرف سے ہر ماہ’’اسلامک نیوزلیٹر‘‘ کے طور پر شائع ہوتا ہے۔اس نیوز لیٹر کے شمارہ اکتوبر۔ نومبر1993(جمادی الاول4141ھ) میں فتویٰ کا ایک صفحہ تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ یہ فتاویٰ اہل السنۃ و الجماعۃ کے علما کی طرف سے دیے گئے ہیں۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک غیر اسلامی ملک میں ایک مسجد بیچ کر دوسری زیادہ بڑی جگہ خریدی جائے۔ اس کے جواب میں بتایاگیا تھا کہ بیچنا اور جگہ کا بدلنا دونوں جائز ہے۔ p. 146

Q. Is it permissible to sell a mosque in a non-Islamic country in order to buy a bigger one? p. 146

A. If the mosque is ruined or not big enogh and they have to demolish or sell it, it is permissible to sell it and to buy or build another one or transfer it to another place for the interest of the Muslims. (p.3) p. 146

اس کو پڑھ کر میں نے ایک صاحب سے کہاکہ اس قسم کا فتویٰ اگر انڈیا کا کوئی عالم دے تو شاید فوراً ہی دوسرا جوابی فتویٰ شائع ہوگا جس میں اعلان کیا جائے گا کہ جس شخص نے ایسا فتویٰ دیا ہے وہ مباح الدم ہے، اس کو ذلت کے ساتھ قتل کر دینا چاہیے۔ مگرامریکا میں یہ فتویٰ چھپ رہا ہے اور انٹرنیشنل سیرت کانفرنس میں وہ تقسیم کیا جا رہا ہے مگر کوئی اس کے خلاف احتجاج کرنے والا نہیں۔ ہندوستان اورامریکا کا یہی فرق ہے جس نے ایک ملک کو مسلمانوں کے لیے فساد کا ملک بنا دیا ہے اور دوسرے کو امن کا ملک۔ p. 146

٭٭٭٭٭ p. 147

4 مارچ 1984کو مدینہ کے سفر میں ایک صاحب عبدالقادرالنماری(الجزائر) نے انٹرویو لیا۔ وہ اخبار المدینہ کے نمائندہ تھے۔ انہوں نے ایک کاغذ پر بہت سے سوالات لکھ رکھے تھے۔ میں نے کچھ سوالات کے جوابات دیے اور کچھ اختلافی نوعیت کے سوالات کے جوابات سے معذرت کی۔ میں نے دیکھا کہ میرے جوابات کے بعد دوبارہ وہ نئی شق نکال کر سوال نہیں کرتے تھے اور میری معذرت فوراً قبول کر لیتے تھے۔ p. 147

عبدالقادر جزائری تبلیغی جماعت سے متاثر ہیں اور کسی جماعت کے ساتھ دہلی (نظام الدین) بھی جا چکے ہیں۔ مجھے گفتگو کے دوران بار بار یہ تجربہ ہوا کہ تبلیغی جماعت کے افراد بحثوں میں نہیں الجھتے۔ اور نہ اختلافی امور میں زیادہ شدت ظاہر کرتے۔ یہ ان کے دینی مزاج کا ثبوت ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اسلام کی سیاسی تعبیر سے متاثر ہیں ان سے گفتگو کے دوران اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ان کو سب سے زیادہ دلچسپی اختلافی امور سے ہے۔ کوئی بھی جواب انہیں چپ نہیں کرتا۔ ہر جواب کے بعد وہ ایک نیا لفظی شوشہ نکال کر نئی بحث شروع کر دیتے ہیں۔ p. 147

٭٭٭٭٭ p. 147

3اکتوبر 1990ء کو طرابلس سے پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 720 کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ 4 اکتوبر کو صبح ساڑھے چار بجے کراچی پہنچا۔ یہاں ٹرانزٹ پسنجر کے طور پر دو دن قیام رہا۔ p. 147

4 اکتوبر کو ظہر کی نماز گلشن اقبال (بلاک نمبر 7) کی جامع مسجد میں پڑھی۔ پوری مسجد ایک بڑے ہال کی صورت میں ہے۔ اس کے اندر اور باہر بالکل فطرت کا ماحول ہے۔ نماز پڑھتے ہوئے ایسامحسوس ہوا کہ میں ایک روحانی مرکز میں ایک روحانی عمل اداکررہا ہوں۔ جب میں مسجد کے اندر بیٹھا ہوا تھا، مجھے خیال آیا کہ اگر مسلمان ان تمام جھگڑوں کو ختم کر دیں جن کو وہ اسلام کے نام پر غیرضروری طور پر جاری کیے ہوئے ہیں اور اسلام کی نمائندگی کے لیے صرف اس قسم کی مسجدیں دنیا میں باقی رہیں تو دنیا کی آدھی آبادی صرف ان مسجدوں کو دیکھ کر اسلام قبول کر لے۔ دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں کے مقابلہ میں مسجد کا ماحول نہایت فطری اورسادہ ہوتا ہے۔ مگر مسلمانوںکی بے فائدہ سیاسی اور مادی اور قومی ہنگامہ آرائیوں نے اسلام کے اس فطری حسن پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اگر مسلمان صرف اتنی قربانی کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تو اسلام اپنے آپ دنیا کو اپنی طرف کھینچے گا اور لوگ جوق در جوق دین فطرت کے دائرہ میں داخل ہو جائیں گے۔ p. 148

ایک پاکستانی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس سال ہائی اسکول پاس کیا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں ہندو لڑکے تعلیم کے میدان میں مسلمان لڑکوں سے آگے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہاں ، یہ بات صحیح ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرے ایک استاد نے ایک مرتبہ یہی بات ہم لوگوں سے کہی۔ انہوں نے اس کا راز یہ بتایا کہ ہندو لڑکوں میں مل کر پڑھنے (combined study)کا رواج ہے۔ مل کر پڑھنے سے ہر ایک کو دوسرے کی معلومات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، ایک طالب علم ذاتی طور پر پڑھے تو اس کو ایک درجہ فائدہ ملے گا۔ مگر جب کئی طالب علم مل کرمطالعہ کریں تو ہر ایک کو کئی گنا زیادہ فائدہ ملنے لگتا ہے۔ p. 148original + quote

کراچی کے روزنامہ جنگ (3 اکتوبر) میں ’’جنگ الیکشن سیل‘‘ کی طرف سے ایک تجزیہ چھپا تھا اس میں 1988ء میں ہونے والے الیکشن کی ان 34 نشستوں کا ذکر تھا جو اسلامی جمہوری اتحاد اور دوسری جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو مل گئیں۔ ان جماعتوں میں ووٹ بٹ جانے کے باعث پیپلز پارٹی جیت گئی۔ p. 148

مضمون میں بتایا گیا تھاکہ یہ پوری سچائی نہیں۔ مضمون نگارنے نام بنام تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ یہی واقعہ خود پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی پیش آیا۔ اس کے اپنے دائرہ میں بھی کئی جگہ امیدواروں کی کثرت کی بنا پر اس کے ووٹ بٹ گئے اور وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے مقابلہ میں ہار گئی۔ مضمون نگار نے لکھا تھاکہ اس نے باقاعدہ تفصیلات جمع کیں تو حیرت انگیز طور پر ان نشستوں کی تعداد بھی 34 ہی تھی جو پیپلز پارٹی نے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر کھو دیں۔ یعنی اپنے ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر اسلامی جمہوری اتحاد نے بھی 34 نشستیں کھوئیں اور اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی ووٹوں کی تقسیم کی بنا پر 34 نشستیں کھو دیں۔ p. 148

اختلافی معاملات میں لوگ اکثر ایساکرتے ہیں کہ وہ اپنے موافق آدھی بات کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے مخالف آدھی بات کا ذکر نہیں کرتے۔ یہ طریقہ نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کریں وہ ہمیشہ حقیقت کی دریافت میں ناکام رہتے ہیں۔ p. 149

٭٭٭٭٭ p. 149

اندور، مدھیہ پردیش کے سفر (مئی 1993ء)میں اندور یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں میرے لیے رکنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ گیسٹ ہاؤس کے کمرہ میں ’’مدھیہ پردیش شاسن‘‘ کا ہندی کا کیلنڈر لٹکا ہوا تھا۔ اس کے ہر صفحہ پر دو تاریخیں درج تھیں۔ کھلے ہوئے صفحہ پر ایک طرف ’’مئی 1993ء ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اور دوسری طرف ’’ویشاکھ۔ جیٹھ 1915‘‘ درج تھا۔ یہ کیلنڈر اگر کسی مسلم ادارہ نے چھاپا ہوتا تو اس پر’’ مئی 1993ء ‘‘کے ساتھ ’’ذی الحجہ 1413 ھ‘‘ چھپا ہوا ہوتا۔ p. 149

میں نے سوچا کہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو بڑھا کر دو قومی نظریہ کا پرچار کیا گیا۔ اور ملک کا بٹوارہ کرایا گیا۔ اور اب دوبارہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو لے کر ہمارے لیڈر باہمی نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ حالاں کہ یہ فرق یا اختلاف کسی انسان کے گھڑے ہوئے نہیں۔ وہ فطرت کے نقشۂ تخلیق پر مبنی ہیں جن کو نہ انسان نے بنایا اور نہ وہ ان کو بنانے پر قادر ہے۔ مثلاً فطرت کا نظام یہ ہے کہ سورج الگ طریقہ سے گردش کرتا ہے اور چاند الگ طریقہ سے ۔ اگر خود فطرت میں یہ فرق نہ ہوتا تو ایک سے زیادہ کیلنڈر بھی نہیں بن سکتے تھے۔ اس اختلاف کو تنوع سمجھ کر قبول کرنا چاہیے، نہ کہ اس کو دو انسانی گروہوں میں ٹکراؤکا اشو بنایا جائے۔ p. 149

٭٭٭٭٭ p. 150

ایک انٹرفیتھ پروگرام میں میں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ روزانہ کی زندگی میں گھر کے اندر اور گھر کے باہر ہم طرح طرح کے اختلافات سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہاں ہم کیا کرتے ہیں۔ وہاں ہم برداشت کے اصول پر عمل کر کے زندگی گزارتے ہیں۔ یہی طریقہ مذہب میں بھی اختیار کرنا ہے۔ یعنی مذہبی عقائد کے اختلاف کے باوجود ٹالرنس (tolerance) ۔ p. 150

٭٭٭٭٭ p. 150

ایک مجلس میں بات چیت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انڈیا میں جو ہندو مسلم معاملہ ہے اس کا بہت کم تعلق نام نہاد انتظامیہ سے ہے۔ اس کا زیادہ تر تعلق مسلم عوام اور ہندو عوام سے ہے۔ اس معاملہ میں ہمیں یہ کرنا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں خوشگوار تعلقات پیدا کریں اور لوگوں کو یہ نصیحت کریں کہ وہ اختلافی معاملات میں صبر و ضبط اور حکمت و تدبیر سے کام لیں، نہ کہ جوش اور مشتعل مزاجی سے۔ اس کے سوا جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے وہ تباہ کن ثابت ہو گا۔ p. 150

٭٭٭٭٭ p. 150

ایک مرتبہ سیوا گرام کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ وہاں پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے میں نے یہ کہا کہ دیش کی ترقی کے لیے بلاشبہ ایک پروگرام درکار ہے۔ مگر پروگرام سے پہلے وہ افراد درکار ہیں جو اس پروگرام کو دل کی آمادگی کے ساتھ اختیار کریں۔ میں نے کہا کہ اس وقت ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات ہر سماج میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود مل جل کر رہنا سیکھیں۔ ہمارے دیش کے مسئلہ کا حل وہی ہے جو کسی نے کہا کہ اختلافی باتوں کو پرامن طور پر طے کر لینا  p. 151

Peaceful resolution of conflicts. p. 151

اس مقصد کے لیے ہمیں intensive awareness programme جاری کرنا ہو گا۔ p. 151

٭٭٭٭٭ p. 151

مالٹا کے سفر (1991)میں ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان ڈائیلاگ کی کامیابی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ کیونکہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے یہ کوشش آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ ایک جملہ میں اس کا جواب یہ ہے کہ اختلاف کو نظر انداز کیجیے۔ اور اتحاد کے گوشوں کی تلاش جاری رکھیے p. 152

I will give the answer in a single sentence: avoid the differences and continue the dialogue to seek the points of agreement. p. 152

٭٭٭٭٭ p. 152

کینیڈا کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کچھ لٹریچر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کینیڈا میں سرکاری سطح پر ایک تحریک چلائی جا رہی ہے جس کو وہ لوگ ملٹی کلچرلزم (Multiculturalism) کہتے ہیں۔ یہ اسی قومی ایکتا کے لیے ہے جس کو ہندوستان میں نیشنل انٹگریشن (National integration) کہا جاتا ہے۔ مگر مجھے کینیڈا کی اصطلاح، ہندوستان کی اصطلاح سے زیادہ پسند آئی۔ ہندوستان کی اصطلاح میں بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ مختلف گروہوں کے درمیان یک جہتی کوکلچرل یکسانیت کے ذریعہ حاصل کرنا مقصود ہے۔ جب کہ کینیڈا کی اصطلاح واضح طور پر کلچرل تعدد کو تسلیم کرتے ہوئے سماج کے اندر ہم آہنگی لانا چاہتی ہے۔ p. 152

جس طرح ہندوستان میں مختلف تہذیبی گروہ ہیں، اسی طرح کینیڈا (اور دوسرے ملکوں) میں بھی مختلف تہذیبی گروہ ہیں۔ اس ’’اختلاف‘‘ کو ’’اتحاد‘‘ میں تبدیل کرنے کا راز یہ نہیں ہے کہ خود اختلاف کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی جائے۔اس کا راز صرف ایک ہے، وہ یہ کہ اختلاف کو بطور واقعہ تسلیم کیا جائے اور اسی کے ساتھ لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ باہمی طور پر رواداری اور احترام کے ساتھ رہ سکیں۔ p. 152

٭٭٭٭٭ p. 153

ایک بڑے سائنسی ادارہ ایم آئی ٹی کے زیر انتظام پونے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جو 24 نومبر سے یکم دسمبر1996ء تک جاری رہی۔ اس کانفرنس کا نام ورلڈ فلاسفرس میٹ تھا۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں بہت بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو شریک تھے۔ کئی ہندوؤں نے اپنے مخصوص ذوق کے مطابق یہ بات کہی کہ سب دھرم ایک ہیں۔ لوگ ناحق مذہب کے نام پر آپس میں لڑتے ہیں۔ اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مذہبی اختلاف کا حل یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سب مذہب ایک ہیں۔ اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ ٹالرنس پر زور دیا جائے۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے نہ صرف مذہب میں بلکہ ہر معاملہ میں اختلافات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں پرامن سوسائٹی بنانے کا راز یہ ہے کہ لوگ اپنے عقیدے کو مانتے ہوئے دوسرے کا احترام کریں۔ گویا کہ اس مسئلہ کا حل باہمی اعتراف(mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام(mutual respect) میں ہے۔ p. 153

٭٭٭٭٭ p. 153

بمبئی (ممبئی)کے سفر میں ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ’’ہندو تعصب‘‘ کا ذکر کیا۔ میں نے مثال پوچھی تو انھوں نے کہا کہ دیکھیے، بمبئی میں جمعہ کی نماز میں کچھ مسجدوں میں نمازی زیادہ ہو جاتے ہیں تو وہ سڑک پر صف بنا لیتے ہیں۔ اس کو ہندو برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ ہم کو وارننگ دے رہے ہیں کہ سڑک پر نماز پڑھنا بند کر دو، ورنہ — میں نے کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اختلاف اور دشمنی کے وقت بھی انصاف سے کام لو۔ اس لیے اس معاملہ میں آپ لوگوں کو انصاف والی بات کہنا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ اسی ملک میں پچاس سال سے یہ ہو رہا ہے کہ ٹرین میں سفر کرتے ہوئے مسلمان جب نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو ہندو مسافر کھڑے ہو کر جگہ خالی کر دیتے ہیں تاکہ مسلمان سہولت کے ساتھ نماز پڑھ سکیں۔ اگر آپ کو اس میں شبہ ہو تو تبلیغی جماعت کے کسی بھی آدمی سے پوچھ لیجیے۔ p. 153original + quote

اب سوچئے کہ وہی ہندو جو روزانہ ٹرین میں نماز پڑھنے کے لیے جگہ خالی کر دیتا ہے وہی سڑک پر نماز پڑھنے کو کیوں ناپسند کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرین میں آپ کو نماز کی جگہ دینے سے اس کا سفر بھنگ نہیں ہوتا۔ جب کہ سڑک پر آپ کی نماز سے اس کا سفر بھنگ ہوتا ہے۔ سڑک سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو سڑک کے اِدھر اور اُدھر اس وقت تک رکے رہنا پڑتا ہے جب تک آپ نماز ختم کرکے سڑک کو خالی نہ کر دیں۔ اس لیے آپ یوں کہیے کہ جو نماز ہندو کی زندگی میں خلل نہ ڈالے اس کا وہ سواگت کرتا ہے، البتہ وہ اس نماز کا مخالف ہے جس سے اس کی زندگی میں خلل واقع ہوتا ہو۔ p. 154

٭٭٭٭٭ p. 154

دسمبر 1992 میں شانتی یاترا کے تحت میں اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شری رام پور (مہارشٹرا) میں پہنچا۔ لوگوں سے ملاقاتوں کے دوران شری رام پور کا ایک سبق آموز قصہ معلوم ہوا۔ یہاں ایک بزرگ کی قبر ہے۔ 6 دسمبر کے بعد کسی شریر آدمی نے رات کے وقت قبر کو توڑ ڈالا۔ اس قسم کا ایک واقعہ عام طور پر دو فرقوں میں کشیدگی اور پھر خونین فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ مگر شری رام پور میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ قصہ پیش آیا تو فوراً ہی بستی کے ہندو اور مسلمان وہاں پہنچے اور دونوں نے مل کر قبر کو پھر سے بنایا۔ اور پھر اس کے اوپر حسب قاعدہ چادر چڑھائی ۔ اس طرح انھوں نے فساد کے بم کو ڈیفیوز کر دیا۔ یہ واقعہ 17 دسمبر کو مجھے معلوم ہوا جب کہ میں شانتی یاترا کے تحت شری رام پور میں پہنچا تھا۔ p. 154

اسی یاترا کے تحت 17 دسمبر کی شام کو ہم نِواسا پہنچے ۔ یہاں پدیاترا کے بعد حسب معمول جلسہ ہوا جس میں ہمارے ساتھیوں نے تقریریں کیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ زندگی میں کبھی کبھی اختلاف کا پیدا ہونا عین فطری ہے۔ ایسا ہمیشہ ہو گا۔ خواہ وہ ایک سماج ہو یا کوئی دوسرا سماج۔ پھر اس کا حل کیا ہے۔ p. 154

میں نے کچھ واقعات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے حل کے لیے میں آپ کو دو آسان نسخہ بتاتا ہوں۔ ایک یہ کہ— دوری کو دور کیجیے۔ یعنی ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ کے لوگ آپس میں خوب ملیں۔ وہ باہمی دوری کو ختم کریں۔ اس کے بعد بہت سی غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔ p. 155

دوسرے یہ کہ جب جھگڑے یا اختلاف کی صورت پیدا ہو تو ایسے موقع پر آپ کا اصول ہونا چاہیے — ٹکراؤ نہیں، تدبیر۔ یعنی ایسے مواقع پر آپ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ تدبیر کا طریقہ اختیار کریں۔ آپ بم پر بم نہ ماریں بلکہ بم کو ڈیفیوز کر دیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ جھگڑے کو اس کے پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیں گے۔ میری تقریر کے بعد کچھ ہندو نوجوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کبھی اس طرح سوچا نہیں تھا۔ مگر آج سمجھ میں آیا کہ یہی اصل بات ہے اور ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔ p. 155original + quote

٭٭٭٭٭ p. 155

14 دسمبر 1992ء کو ڈیفنس کالونی (نئی دہلی) میں بابری مسجد کے واقعہ کے بعدایک ٹی وی پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف مذہبوں کے لوگ جمع ہوئے۔ پروگرام کے اینکر نے ہر ایک سے ایک ہی سوال کیا ’’موجودہ حالات میں آپ دیش کے لوگوں کو کیا سندیش دینا چاہیں گے۔‘‘ ہر مذہب کے نمائندہ نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت یہ ہے کہ امن قائم ہو اور نفرت کا خاتمہ کیا جائے۔ میں نے بھی یہی بات اپنے انداز سے کہی۔ p. 155

میں نے مزید کہا کہ جب کچھ لوگ مل کر رہیں، تو خواہ وہ ایک گھر میں ہوں یا ایک ملک میں، بہرحال ایسے مواقع آتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اس لیے عملی طور پر امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب کہ اختلافی بات پیش آنے کے باوجود امن و محبت کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ p. 155

٭٭٭٭٭ p. 156

ایک صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہندستانیوں میں یہ کمزوری ہے کہ ہم اکیلے اکیلے کام کر سکتے ہیں، مگر ہم سنگٹھن کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔ p. 156other source

میں نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنگٹھن یا اتحاد کے ساتھ کام کرنے کے لیے اختلاف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں یہ مزاج نہیں۔ ہندستانی انسان اپنی رائے دینا جانتا ہے مگر وہ اپنی رائے واپس لینا نہیں جانتا۔ جب کہ اتحاد کی یہ لازمی شرط ہے۔ اتحاد کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو زبان رکھتے ہوئے نہ بولیں۔ جو رائے رکھتے ہوئے اس کو ظاہر نہ کریں۔ جو اختلاف رکھتے ہوئے اس کو استعمال نہ کریں۔ p. 156

٭٭٭٭٭ p. 156

12 جون 1969 کو جمعیۃ علما گڑگاؤں کی مجلسِ عاملہ کا اجتماع تھا۔ ارکان عاملہ کے علاوہ ضلع کے مختلف مقامامت سے دیگر علما کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ مدرسہ فیض الاسلام کی وسیع اور پُرفضا مسجد میں نماز عشاء کے بعد نشست ہوئی۔اس اجتماع میںمَیں نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ملت کو سربلند کرنے کے لیے سب سے پہلے خود ملّت کو بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں عالَم یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی معاملہ میں ذرا سا بھی کسی سے اختلاف پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کا جانی دشمن بن جاتا ہے۔ جب تک ہمارے افراد میں کیریکٹر نہ ہو اور انہیں مل کر رہنا نہ آتا ہو کوئی اجتماعی کام سرے سے انجام نہیں دیا جاسکتا۔ پھر جب یہ ابتدائی چیز ہی ہمارے درمیان موجود نہیں ہے تو ہم کوئی اگلا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔ p. 157