Hikmat-e-Ikhtilaf

اختلاف کو بھلا دیا

Hikmat-e-Ikhtilaf — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (93 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. مقدمہ
  3. پہلا حصہ
  4. اختلاف، تنوع
  5. اختلاف کا معاملہ
  6. اختلاف رائے
  7. تنقید کا عمل
  8. ترک تعلق نہیں
  9. اختلاف ایک مثبت ظاہرہ
  10. ترقی کا راز
  11. فکری تعدد، فکری حریت
  12. مخاصمت نہیں
  13. اختلاف اوراتحاد
  14. اختلاف، رواداری
  15. آرٹ آف لائف
  16. شکایت ختم کرنے کا طریقہ
  17. تخلیق میں تنوع
  18. پختگی کیا ہے
  19. اختلاف ایک رحمت
  20. اختلاف کو مینج کرنا
  21. ثالثی کا اصول
  22. آرٹ آف ڈفرینس مینجمنٹ
  23. اختلاف کا مسئلہ
  24. رواداری کا اصول
  25. اتحاد کی نفسیات
  26. اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر
  27. آزادی کا دور
  28. درست مشورہ
  29. ایک مثال
  30. حکمت کی بات
  31. اختلاف نہیں
  32. شکایت کا مزاج
  33. اعتدال کا مطلب
  34. معتصبانہ طرزِ فکر
  35. اجتماعی کام کی اہمیت
  36. اختلاف کثیر
  37. ایسی بحثیں نہ چھیڑو جو لوگوں کو
  38. اللہ سے غافل کر دے
  39. نزاع کا مسئلہ
  40. نزاع مینجمنٹ
  41. مینجمنٹ نہ کہ ردعمل
  42. منفی جذبات کی قربانی
  43. اختلاف کے وقت
  44. کامیابی کا راز
  45. بلند فکری
  46. امت میں اختلاف کا مسئلہ
  47. تنقید واختلاف
  48. اختلاف ایک فطری معاملہ
  49. اختلاف کا مسئلہ
  50. وحدت، تنوع
  51. علم کی دو قسمیں
  52. اختلاف ایک صحت مند ظاہرہ
  53. اختلاف ایک برکت
  54. تفریق کا سبب
  55. کلیات کے بجائے جزئیات
  56. پانچ فقہی اسکول
  57. فقہی مسائل میں اختلاف
  58. موافقت، مخالفت
  59. غیر فطری اختلاف
  60. اختلاف کو نظر انداز کیجیے
  61. دوسرا حصہ
  62. پنج کرنا سیکھیے
  63. اختلاف کے باوجود
  64. آخرت رخی سوچ
  65. اختلاف کے باوجود اعتراف
  66. اختلاف کو مسئلہ نہ بنانا
  67. وسیع ترمفاد
  68. تنقید کوسن کر
  69. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  70. اختلاف، نفرت
  71. اختلاف کے ساتھ اعتراف
  72. اتحاد کی طاقت
  73. اختلاف کو بھلا دیا
  74. حل رخی پالیسی
  75. ایک تقابل
  76. عربوں کا مزاج
  77. انگلینڈ، آئرلینڈ
  78. اختلاف کے باوجود قدردانی
  79. تم قیمتی آدمی ہو
  80. استاد، شاگرد
  81. اسکائی از دی لمٹ
  82. چلو یہ بھی ٹھیک ہے
  83. وسعت ظرفی
  84. مغربی دنیا، مسلم ادارے
  85. امریکا کی مثال
  86. تیسرا حصہ
  87. مشاہدات دنیا
  88. چوتھا حصہ
  89. تاثرات و تجربات
  90. پانچواں حصہ
  91. سوال و جواب
  92. خاتمہ کلام
  93. اختلاف ایک آزمائش

اختلاف کو بھلا دیا p. 112

گوربا چوف(Mikhail Sergeyevich Gorbachev, 1931-2022) سوویت یونین کے آخری لیڈر تھے۔ وہ1985 میں سوویت روس میں برسر اقتدار آئے۔ انھوں نے پارٹی میں اپنے موافق افراد لانے کے لیے اس کے ڈھانچے کو بدلنا شروع کیا۔ اس وقت بورس یلتسین (Boris Nikolayevich Yeltsin, 1931-2007) پولِٹ بیورو کے ممبر تھے۔ گوربا چوف ان کی غیر معمولی شخصیت سے خائف تھے۔ اس لیے وہ یلتسین کو پولٹ بیورو میں شامل کرنے کے مخالف تھے۔ یہ اختلاف بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ 1987 میں یلتسین نے پارٹی کے تمام اعلیٰ عہدوں سے استعفا دے دیا۔1989 میں یلتسین جمہوریہ روس کی صدارت کے لیے کھڑے ہوئے تو گوربا چوف نے ان کی مخالفت کی۔ اور ان کے مقابلےمیں دوسرا امیدوار کھڑا کیا۔ تاہم اس مخالفت کے باوجود یلتسین کامیاب ہوئے اور جمہوریہ روس کے صدر بن گئے (ہندوستان ٹائمس 26 اگست 1991)۔ p. 112original + quote

روسی کمیونسٹ پارٹی کے انتہا پسند گروہ نے 19 اگست 1991 کو گوربا چوف کے خلاف بغاوت کی اور ان کو ہٹا کر کر یملن کی حکومت پر قابض ہو گئے۔ اس کا حوصلہ بھی ان کو اسی اختلاف سے ملا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یلتسین اور گوربا چوف کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر وہ گوربا چوف کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ مگر عملاً اس کے برعکس صورت ِحال پیش آئی۔ بغاوت کے بعد یلتسین نے اپنے تمام اختلافات کو بھلا دیا۔ انھوں نے اپنی پوری طاقت اور اپنی ساری ذہانت گوربا چوف کی حمایت پر لگادی۔ اپنی ذات کو خطرے میں ڈال کر انھوں نے باغی حکمرانوں کے خلاف عوام کو منظم کیا۔ بغاوت کے اگلے ہی دن اس کے خلاف ماسکو میں اتنا بڑا عوامی مظاہرہ کرایا کہ باغیوں کو حکومت چھوڑ دینا پڑا۔ 21 اگست 1991 کو گوربا چوف کریمیا سے واپس آگئے اور دوبارہ حکومت کا عہدہ سنبھال لیا۔ عام طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ گوربا چوف کا زندہ بچ جانا اور دوبارہ صدر کے عہدہ پر واپس آجانا یلتسین کا کارنامہ ہے۔ p. 112

بلند فطرت آدمی کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔ مشکل وقت میں وہ شکایت اور اختلاف کو بھلا کر انسان کا ساتھ دیتا ہے۔ جبکہ پست فطرت آدمی کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ p. 113