Fikr-e-Islami

غیر علمی انداز

Fikr-e-Islami — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (92 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. اجتہاد کی اہمیت
  3. دعوہ ایمپائر
  4. خلاصہ کلام
  5. فکر اسلامی کی تشکیل جدید
  6. تشکیل جدید کیا ہے
  7. اجتہاد کی اہمیت
  8. اجتہاد مطلق ، اجتہاد مقید
  9. اجتہاد کی شرطیں
  10. شخصیت پرستی اصل سبب
  11. دارالحرب یا دارا لاعداد
  12. شناخت کا مسئلہ
  13. محقق علما کا اختلاف
  14. قدیم و جدید کا فرق
  15. صلاحیتوں کا فقدان نہیں
  16. دور جدید کا اغاز
  17. موجودہ صورت حال
  18. اسلامی لٹریچر کی ترتیب جدید
  19. مسائل قدیم ، دلائل جدید
  20. خلاف زمانہ تفکیر
  21. اجتہادی کوتاہی کے نتائج
  22. تقلید کے نقصانات
  23. پیغمبر اسلامؐ کی سنتیں
  24. اسپین کی تاریخ برعکس صورت میں
  25. میدان عمل میں تبدیلی
  26. تدریجی نہ کہ انقلابی
  27. چند متفرق مسائل
  28. رواج عام کا حکم
  29. جدید مواقع استعمال نہ ہو سکے
  30. ایک جامعہ اسلامیہ کی ضرورت
  31. مجتہدانہ عمل تاریخ میں
  32. حدیث میں
  33. مسئلہ اجتہاد پر کتابیں
  34. زمانہ رسالت میں اجتہاد
  35. خلافت راشدہ کے دور میں
  36. بعد کے زمانہ میں
  37. عصر حاضر میں اجتہاد
  38. جدید مسائل
  39. سیکولرزم کا مسئلہ
  40. جہاد کا مسئلہ
  41. بینک کا مسئلہ
  42. اجتہاد جاری ہے
  43. اسلام اور عقلیت
  44. عقیدہ اور استدلال
  45. ایک سوال کا جواب
  46. اسلام دور جدید میں
  47. ایک شبہ
  48. تصوف مثبت اور منفی پہلو
  49. تصوف کا دوسرا پہلو
  50. اسلامک ایکٹوزم
  51. دعوتی عمل
  52. برمنگھم سے موصولہ نوٹ
  53. اسلامک ایکٹوزم
  54. مسلمان اور جدید تحدیات
  55. اخری بات
  56. ایک شرعی مسئلہ
  57. مسلم حکمراں کا معاملہ
  58. غیر مسلم حکمراں کا معاملہ
  59. ایک شرعی اصول
  60. ایک اعتراض
  61. ایک شبہ کا ازالہ
  62. تعبیر کا مسئلہ
  63. علما کا قائدانہ کردار
  64. علما کا رول اسلام میں
  65. دائرہ عمل کی تقسیم
  66. ایک حدیث
  67. اورنگ زیب عالم گیر
  68. انسانیت نئے عہد میں
  69. شاہ ولی اللہ دہلوی
  70. نوابادیاتی دور کے علما
  71. ایک صحیح اواز
  72. دوسری عالمی جنگ کے بعد
  73. پیغمبر کی مثال
  74. زمانی تبدیلی
  75. کونیت بشری، امارت بشری
  76. شاکلہ انسانی کا مسئلہ
  77. معیار قوت میں تبدیلی
  78. عسر میں یسر
  79. نئے دعوتی امکانات
  80. دور جدید سے بے خبری
  81. چند مثالیں
  82. سطحی رائے
  83. ایک مغربی حوالہ
  84. حجۃ اللہ البالغہ
  85. غیر علمی انداز
  86. استدلال کا معیار
  87. چند مثالیں
  88. خلاصہ بحث
  89. الفصل بین القضیتین
  90. تاریخی فرق
  91. عمومی انطباق
  92. عصر جدید کا مذہب

غیر علمی انداز p. 267

مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب مَاذَاخَسِرَ الْعَالَمُ بِاِنْحِطَاطِ الْمُسْلِمِیْنَ پر مصری عالم سید قطب کامقدمہ شامل کیا گیا ہے۔ سید قطب نے اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کتاب میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان کے سلسلہ میں مصنف نے محض وجدانی قسم کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ یہ کتاب موضوعی حقائق کو اپنا ذریعہ استدلال بناتی ہے(بَلْ یَتَّخِذُ الْحَقَائِقَ الْمَوْضُوعِیَّۃَ أَدَاتَہُ ، صفحہ18) p. 267original + quote

اب اس کی روشنی میں اصل کتاب کو دیکھئے۔ مولانا موصوف کی اس کتاب کا مرکزی تخیل یہ ہے کہ مسلمان قِیَادَۃُ الْأُمَمِ (صفحہ32) کے منصب پر سرفراز کیے گئے ہیں۔ کتاب کے تصدیر نگار دکتور محمد یوسف موسی نے اس کے لیے قیَادَۃُ الْإِنْسَانِیَّۃَ (صفحہ 13) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صاحب مقدمہ سید قطب کے نزدیک، اس کتاب کا مقصد مسلمانوں کو قیادت عالم کی بازیابی (رَدُّالْقِیَادَۃِ الْعَالَمِیَّۃِ، صفحہ22) پر ابھارنا ہے۔ p. 268original + quote

اگر یہ کتاب موضوعی اصول پر لکھی گئی ہے تو مصنف کا سب سے پہلا کام یہ تھا کہ وہ قرآن و حدیث کی واضح نص سے اپنے اس دعوے کو ثابت کریں کہ مسلمان کا منصب یہ ہے کہ وہ دنیا کا قائد اور اقوام عالم کا امام بنے۔ مگر326 صفحات کی اس کتاب میں کہیں بھی قرآن و حدیث کے دلائل سے یہ ثابت نہیں کیا گیا ہے کہ مسلمان کا منصب سارے عالم کی قیادت و امامت ہے۔ ساری کتاب میں اس نوعیت کی صرف ایک دلیل دی گئی ہے۔ اور وہ اقبال کا شعر ہے جو انھوں نے ابلیس کی مفروضہ مجلس شوری کی بنیاد پر کہا ہے۔ مصنف نے کتاب کے صفحہ285 سے287 تک اقبال کی اس تخیلاتی نظم کا ترجمہ دیاہے۔ اس نظم میں اقبال نے ابلیس کی زبان سے یہ شعر نظم کیا تھا p. 268

ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں p. 268

ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات p. 268

مگر اصل موضوع کی نسبت سے اقبال کا یہ حوالہ سراسر غیر علمی ہے۔ اصل بات ثابت کرنے کے لیے مصنف کو یاتو ایسی کوئی آیت یا حدیث پیش کرنی چاہیے جس میں عبارت النص کی سطح پر ان کا مذکورہ نقطہ ٴنظر ثابت ہوتاہے۔ یا پھر وہ یہ ثابت کریں کہ شریعت کی منشا کو جاننے کا ماخذ صرف اللہ اور رسول کا کلام نہیں۔ بلکہ اس کا ایک تیسرا ماخذ بھی ہے، اور وہ ابلیس کا کلام ہے۔ p. 268

اس طرح کتابوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ علمی اور موضوعی کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں، یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے علما نہ صرف یہ کہ وہ حقائق موضوعی کی بنیاد پر مطلوبہ لٹریچر تیار نہ کر سکے۔ بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ حقائق موضوعی کی بنیاد پر لٹریچر تیار کرنے کا مطلب کیا ہے۔ p. 269