Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غیر علمی انداز p. 267
مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب مَاذَاخَسِرَ الْعَالَمُ بِاِنْحِطَاطِ الْمُسْلِمِیْنَ پر مصری عالم سید قطب کامقدمہ شامل کیا گیا ہے۔ سید قطب نے اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کتاب میں جو باتیں کہی گئی ہیں، ان کے سلسلہ میں مصنف نے محض وجدانی قسم کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ یہ کتاب موضوعی حقائق کو اپنا ذریعہ استدلال بناتی ہے(بَلْ یَتَّخِذُ الْحَقَائِقَ الْمَوْضُوعِیَّۃَ أَدَاتَہُ ، صفحہ18) p. 267original + quote
اب اس کی روشنی میں اصل کتاب کو دیکھئے۔ مولانا موصوف کی اس کتاب کا مرکزی تخیل یہ ہے کہ مسلمان قِیَادَۃُ الْأُمَمِ (صفحہ32) کے منصب پر سرفراز کیے گئے ہیں۔ کتاب کے تصدیر نگار دکتور محمد یوسف موسی نے اس کے لیے قیَادَۃُ الْإِنْسَانِیَّۃَ (صفحہ 13) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صاحب مقدمہ سید قطب کے نزدیک، اس کتاب کا مقصد مسلمانوں کو قیادت عالم کی بازیابی (رَدُّالْقِیَادَۃِ الْعَالَمِیَّۃِ، صفحہ22) پر ابھارنا ہے۔ p. 268original + quote
اگر یہ کتاب موضوعی اصول پر لکھی گئی ہے تو مصنف کا سب سے پہلا کام یہ تھا کہ وہ قرآن و حدیث کی واضح نص سے اپنے اس دعوے کو ثابت کریں کہ مسلمان کا منصب یہ ہے کہ وہ دنیا کا قائد اور اقوام عالم کا امام بنے۔ مگر326 صفحات کی اس کتاب میں کہیں بھی قرآن و حدیث کے دلائل سے یہ ثابت نہیں کیا گیا ہے کہ مسلمان کا منصب سارے عالم کی قیادت و امامت ہے۔ ساری کتاب میں اس نوعیت کی صرف ایک دلیل دی گئی ہے۔ اور وہ اقبال کا شعر ہے جو انھوں نے ابلیس کی مفروضہ مجلس شوری کی بنیاد پر کہا ہے۔ مصنف نے کتاب کے صفحہ285 سے287 تک اقبال کی اس تخیلاتی نظم کا ترجمہ دیاہے۔ اس نظم میں اقبال نے ابلیس کی زبان سے یہ شعر نظم کیا تھا p. 268
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں p. 268
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات p. 268
مگر اصل موضوع کی نسبت سے اقبال کا یہ حوالہ سراسر غیر علمی ہے۔ اصل بات ثابت کرنے کے لیے مصنف کو یاتو ایسی کوئی آیت یا حدیث پیش کرنی چاہیے جس میں عبارت النص کی سطح پر ان کا مذکورہ نقطہ ٴنظر ثابت ہوتاہے۔ یا پھر وہ یہ ثابت کریں کہ شریعت کی منشا کو جاننے کا ماخذ صرف اللہ اور رسول کا کلام نہیں۔ بلکہ اس کا ایک تیسرا ماخذ بھی ہے، اور وہ ابلیس کا کلام ہے۔ p. 268
اس طرح کتابوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ علمی اور موضوعی کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں، یہ ثابت کرتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے علما نہ صرف یہ کہ وہ حقائق موضوعی کی بنیاد پر مطلوبہ لٹریچر تیار نہ کر سکے۔ بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ حقائق موضوعی کی بنیاد پر لٹریچر تیار کرنے کا مطلب کیا ہے۔ p. 269