Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
علما کا رول اسلام میں p. 207
راقم الحروف کے نزدیک، علما کے رول کے سلسلہ میں قرآن کی رہنما آیت یہ ہے p. 207
وَما كانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (9:122)۔ یعنی، اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب نکل کھڑے ہوں، تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو ڈراتا تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔ p. 207original + quote
اس آیت میں تفقہ کا لفظ وضاحت طلب ہے۔ پہلے ہم فقہ یا تفقہ کی لغوی تحقیق کریں گے۔ اس کے بعد یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ اس آیت کے مطابق علماء کا کردار کیا ہے یا کیاہونا چاہیے۔ p. 208
فقہ کا لفظ بعد کے زمانہ میں علم الفروع کے لیے بولا جانے لگا ہے۔ یعنی شریعت کے جزئی مسائل کو جاننا۔ مگر یہ اس لفظ کا ایک استعمال مفہوم ہے جو نزول قرآن کے بہت بعد رائج ہوا۔ قرآن میں فقہ موجودہ معروف معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس کے اصل لغوی معنی میں ہے۔ p. 208
راغب الاصفہانی(م502ھ) نے لکھا ہے کہ فقہ یہ ہے کہ موجود علم کے ذریعہ غائب علم تک پہنچا جائے۔ پس فقہ کا لفظ علم کے لفظ سے زیادہ خاص ہے (الفِقْهُ هُوَ التَّوَصُّلُ إِلَى عِلْمٍ غَائِبٍ بِعِلْمٍ شَاهِدٍ فَهُوَ أَخَصُّ مِنَ الْعِلْمِ) المفردات فی غريب القرآن،384۔ p. 208other source
لسان العرب(ابن منظور) میں اس کی مفصل تشریح ہے۔ اس میں بتایا ہے کہ فقہ اصلاً فہم کے معنی میں ہے( الْفِقْهُ فِي الْأَصْلِ الْفَهْمُ )۔ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ کی تشریح اس نے أَيْ لِيَكُونُوا عُلَمَاءَ بِه کے لفظ سے کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عباس کی بابت دعائیہ طور پر فرمایا تھا اللهُمَّ عَلمْهُ الدّينَ وَفقهْهُ فِي التَّأْوِيل ۔ اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے أَي فَهِّمْه تأْويلَه وَمَعْنَاهُ ۔ لسان العرب میں الازہری کا یہ قول نقل کیا گیا ہے p. 208quoted source
قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ كِلَابٍ وَهُوَ يَصِف لِي شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ كَلَامِهِ قَالَ أَفَقِهْتَ؟ يُرِيدُ أَفَهِمْتَ۔ قبیلہ کلاب کا ایک شخص مجھ کو ایک بات بتا رہا تھا۔ جب وہ اپنی بات کہہ کر فارغ ہوا تو اس نے کہا أَفَقِهْتَ ۔ اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ کیا تم نے سمجھ لیا۔ p. 208other source
اسی طرح لسان العرب میں اس سلسلے کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے p. 208other source
وَفِي حَدِيثِ سَلْمان أَنه نَزَلَ عَلَى نَبَطِيَّةٍ بِالْعِرَاقِ فَقَالَ لَهَا هَلْ هُنَا مكانٌ نَظيف أُصَلي فِيهِ؟ فَقَالَتْ طَهِّرْ قَلْبَك وصَلِّ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ سَلْمَانُ فَقِهَتْ أَي فَهِمَتْ وفَطِنَتْ للحقِّ (لسان العرب، جلد 13، صفحہ 522)۔ p. 208original + quote
حدیث سلمان میں ہے۔ وہ عراق میں ایک نبطی عورت کے یہاں ٹھہرے۔ انھوں نے عورت سے کہا۔ کیا یہاں کوئی صاف جگہ ہے جہاں میں نماز پڑھوں۔ عورت نے کہا کہ اپنے دل کو پاک رکھو اور پھر جہاں چاہے نماز پڑھو۔ یہ واقعہ بتا کر سلمان نے کہا کہ فَقِهَتْ ۔ یعنی، وہ عورت سمجھ گئی، اس نے حق کا ادراک کر لیا۔ p. 209original + quote
اہل لغت کی اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہ کا مطلب فہم اور بصیرت اور ادراک ہے۔ اس سے مراد وہ جاننا ہے جو معرفت کے درجہ تک پہنچ جائے۔ جو آدمی کو شناسائے حقیقت بنا دے۔ صرف عالم ہونا فقیہ ہونا نہیں ہے۔ فقیہ وہ ہے جو عالم ہونے کے ساتھ عارف بھی ہو۔ p. 209