Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مسلمان اور جدید تحدیات p. 183
موجودہ زمانہ کے مسلمان سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ ان مسائل کے خلاف ان کی جدوجہد 19ویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کا عام ذہن یہ تھا کہ ہمارے تمام مسائل کا اصل سبب مغربی قوموں کا سیاسی غلبہ ہے۔ اگر مغرب کا سیاسی غلبہ ختم ہو جائے تو اس کے بعد ہمارے تمام مسائل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ p. 183
ایشیا کے مسلمان سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے مسائل کا شکار ہیں، اس کے خلاف ان کی جدوجہد19 ویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کا عام ذہن یہ تھا کہ ہمارے تمام مسائل کا اصل سبب مغربی قوموں کا سیاسی غلبہ ہے۔ اگر مغرب کاسیاسی غلبہ ختم ہو جائے تو اس کے بعد ہمارے مسائل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ p. 183
دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ نشانہ پورا ہوگیا۔ اس کے بعد تمام مسلم علاقے مغرب کے سیاسی غلبہ سے آزاد ہوگئے۔ مگر مسلمانوں کے مسائل ختم نہیں ہوئے۔ وہ بدستور پوری شدت کے ساتھ آج بھی باقی ہیں۔ p. 184
اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کا غلبہ سادہ طورپرصرف سیاسی غلبہ نہ تھا۔ وہ دراصل جدید صنعتی تہذیب کا نتیجہ تھا۔ سیاسی غلبہ کے خاتمہ کے باوجود صنعتی تہذیب کی فاتحانہ حیثیت بدستور انھیں مغربی قوموں کو حاصل تھی، اس لیے ان کا غلبہ بھی بدستور جاری رہا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ غلبہ براہ راست تھا ، اور اب یہ غلبہ بالواسطہ انداز میں ہے۔ p. 184
ان منفی انجام کو دیکھنے کے بعد کچھ مسلم دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری اصل کمی صنعتی پس ماندگی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس کمی کو دور کرنا ہوگا۔ ہمیں دوسری قوموں کی طرح ایک بڑی صنعتی طاقت بننا ہے۔ اس کے بغیر ہماری قسمت بدلنے والی نہیں۔ p. 184
مگر یہ بھی ہمارے مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ کیوں کہ زمانہ ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ وہ مسلسل ترقی کررہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم صنعتی ترقی کی طرف بڑھنا شروع کریں تو ساری کوشش کے بعد جب ہم انڈسٹریل دور میں داخل ہوں گے تو، الون ٹافلر کے الفاظ میں، مغربی قومیں سپرانڈسٹریل دور میں داخل ہو چکی ہوں گی۔ اس طرح ہم بدستور پیچھے رہیں گے اور ہمارا اصل مسئلہ اس کے بعد بھی غیر حل شدہ پڑا رہے گا۔ p. 184original + quote
آج مسلمان جس قسم کے مسائل سے دو چار ہیں۔ اور سیاسی، اقتصادی، صنعتی، تہذیبی اور ثقافتی سطح پر جو تحدیات ان کو درپیش ہیں، وہ کوئی نئی صورت حال نہیں ہے۔ اس قسم کے حالات کا تجربہ امتِ مسلمہ کی طویل تاریخ میں بار بار مختلف شکلوں میں پیش آتا رہا ہے۔ تاریخ مزید بتاتی ہے کہ ہر خطرہ یا ہر چیلنج سے گزرنے کے بعد امت پہلے سے زیادہ طاقت ور اور مستحکم ہوگئی ہے۔ p. 184
اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے پہلے امت کو جب اس قسم کے مسائل اور تحدیات سے دو چار ہونا پڑا تو کیا صورت پیش آئی اور کس طرح اس کا مقابلہ کیا گیا۔ اس کا جواب تاریخ کی روشنی میں صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ کامیابی اسلام کی دعوتی طاقت کے ذریعہ حاصل کی گئی۔ p. 184
تیرھویں صدی عیسوی کے وسط میں تاتاریوں نے عالم اسلام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا۔ وحشی اور خوں خوار تاتاریوں کی طاقت بظاہر ناقابل شکست بنی ہوئی تھی۔ مگر اس کے بعد اسلام کی دعوتی طاقت ظاہر ہوئی۔ اس نے تاتاری قوم کو مسخر کر لیا۔ ایک مستشرق نے اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے p. 185original + quote
The religion of the Mulims had conquered where their arms had failed.) p. 488( p. 185
آج مسلمانوں کو اسلام کی اسی دعوتی طاقت کو لے کر اٹھنا ہے۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کے کام کو صحیح طور پر انجام دے سکیں تو یقینی طور پر ان کے حالات بدل جائیں گے۔ اس کے بعد وہی ہوگا جس کی خبر قرآن میں دی گئی ہے کہ جو لوگ بظاہر ہمارے دشمن نظر آتے ہیں وہ ہمارے دوست اور ساتھی بن جائیں گے(41:34)۔ p. 185original + quote
موجودہ زمانہ میں اسلام کے دعوتی عمل کو زندہ کرنے کے مواقع غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ایک طرف یہ ہوا ہے کہ مذاہب کے علمی مطالعہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام کے سوا تمام مذاہب غیر معتبر ہیں۔ کسی بھی دوسرے مذہب کو تاریخی اعتباریت حاصل نہیں۔ جبکہ اسلام ہر علمی جانچ میں معتبر ثابت ہوا ہے۔ اس طرح گویا اسلام اس حیثیت میں ہے کہ وہ بلامقابلہ کامیابی حاصل کر سکے۔ p. 185
جہاں تک انسانی ساخت کے ازموں کا تعلق ہے، وہ بھی سب کے سب ناکام ہو چکے ہیں، اس سلسلہ کا آخری فیصلہ کن واقعہ کمیونسٹ ایمپائر کا ٹوٹنا ہے۔ کمیونسٹ ایمپائر کی موجودگی میں دنیا اس غلط فہمی میں تھی کہ ہمارے پاس ایک آئیڈیالوجی موجود ہے۔ مگر1991 میں جب کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ کر گر گئی تو اس بھرم کا بھی خاتمہ ہوگیا اب ساری دنیا میں ایک فکری اور نظریاتی خلا(ideological vacuum) ہے۔ اس خلا کو صرف اسلام پر کر سکتا ہے۔ p. 185
اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اسلام کی دعوت کو لے کر اٹھیں اور اس کے ذریعہ سے اقوام کی فکری تسخیر کرکے اسلام کی نئی تاریخ بنائیں۔ p. 186
اب ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم خود اپنی تاریخ کے اس تجربہ کو نئے حالات میں دہرائیں جو بار بار اپنی کامیابی کو ثابت کر چکا ہے۔ یعنی ہم موجودہ مسائل اور تحدیات کا مقابلہ اسلام کی دعوتی طاقت کے ذریعہ کریں۔ مسلمان اپنی طویل تاریخ میں ہمیشہ دعوت کی طاقت سے فتح یاب ہوئے ہیں، اور آج بھی یقینی طور پر اسی کے ذریعہ وہ فتح یاب ہو سکتے ہیں۔ p. 186
دعوت کی تسخیریت کا راز اس کی نفع بخشی کی صفت ہے۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ جو چیز لوگوں کے لیے نافع ہو، اس کو لوگوں کے درمیان قبولیت اور جماؤ ملے۔ اسلام سب سے بڑی نفع بخش چیز ہے ۔وہ انسان کی تلاشِ حق کا جواب ہے، وہ انسان کو سچا نظریۂ حیات دیتا ہے۔ وہ انسان کو ذہنی سکون عطا کرتا ہے، وہ انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ وہ انسان کی اس شاہراہ کی دریافت کراتا ہے جس پر چل کر وہ دنیا سے لے کر آخرت تک محفوظ سفر طے کر سکے۔ p. 186
بلاشبہ اس سے زیادہ نفع بخش اور کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔ اس لیے اس سے زیادہ قابلِ قبول چیز بھی انسان کے لیے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ p. 186
اسلام کا یہ تسخیری پہلو ایک معلوم اور مشہور حقیقت ہے۔ اگر آپ کے پاس زیادہ تحقیقی مطالعہ کا موقع نہ ہو تو آپ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ آپ ریاض سے نکلنے والے عرب ہفت روزہ الدعوہ کو یا مکہ سے نکلنے والے اخبار العالم الاسلامی کو پڑھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ان کے تقریباً ہرشمارہ میں اسلام کی دعوتی تسخیر کی خبریں موجود ہیں۔ p. 186
مثال کے طور پر اسی مہینہ میں الدعوہ(ریاض) کے شمارہ12 اگست1993ء میں ایک خبر اس سرخی کے ساتھ چھپی ہوئی ہے کہ900 شخص یعتنقون الاسلام۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چند مہینے میں جنوبی افریقہ میں تقریباً نو سو آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان میں سے چار مسیحی پادری ہیں۔ p. 187
اسی طرح اسی مہینہ میں العالم الاسلامی(مکہ) کے شمارہ16-22 اگست1993 کے انگریزی حصہ میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کی سرخی یہ ہے p. 187
653 Embrace Islam in UAE p. 187
اس سرخی کے تحت چھپنے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ 1413ھ کے ایک سال کے دوران صرف عرب امارات میں بیرونی ملکوں کے جو لوگ دین اسلام میں داخل ہوئے ہیں ان کی مجموعی تعداد653 ہے۔ p. 187other source
یہ دونوں خبریں صرف بطور مثال نقل کی گئی ہیں۔ ورنہ اس طرح کے دعوتی واقعات ہر روز دنیا کے ہر حصہ میں تقریباً تسلسل کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔ p. 187
اسلامی دعوت کی اہمیت نظری طور پر بھی مسلّم ہے اور عملی تجربہ میں بھی اس کی افادیت پوری طرح ثابت ہو چکی ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ دعوت کو باقاعدہ ملی پروگرام قرار دے کر اس کے لیے منظم اور منصوبہ بند عمل شروع کر دیا جائے۔ p. 187
دعوتی طریق کار کی کامیابی جزئی طور پر آج بھی ظاہر ہو رہی ہے، جب کہ ابھی دعوت کا کام منظم طور پر اور قومی فیصلہ کے تحت انجام نہیں دیا جا رہا ہے۔ پچھلے سو سال میں بےشمار سیاسی قربانیاں دی گئی ہیں۔ مگر اس سے ابھی تک کوئی حقیقی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ جب کہ اسی مدت میں دعوت نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کرکے انہیں اسلام کے دائرہ میں داخل کیا ہے۔ p. 188
اسلام دین فطرت ہے۔ وہ واحد غیر محرف مذہب ہے۔ ہر قسم کی علمی صداقتیں اس کے حق میں جمع ہو چکی ہیں۔ ان چیزوں نے اسلام کو اپنی ذات میں ایک موثر طاقت بنا دیا ہے۔ چنانچہ ہر ملک میں اور دنیا کے ہر علاقہ میں لوگ برابر اسلام قبول کرتے رہتے ہیں۔ p. 188