Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
زمانۂ رسالت میں اجتہاد p. 123
اجتہاد کا لفظ عام طور پر تقلید کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں ۔ اجتہاد دراصل جمود کا ضد ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ لوگ ذہنی جمود کی حالت میں رہیں۔ تخلیقی فکر ان کے اندر پایا نہ جاتا ہو۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کا ذہن متحرک ہو۔ وہ تخلیقی انداز سے مسائل پر سوچتے ہوں۔ ذہنی جمود کی حالت میں اجتہاد کا عمل رک جاتاہے۔ اور ذہنی بیداری کی حالت میں اجتہاد کا عمل جاری رہتا ہے۔ p. 123
اجتہاد کا عمل دوراول میں زمانۂ رسالتؐ ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ اور اس وقت سے آج تک وہ کسی توقف کے بغیر مسلسل جاری ہے۔ اس عمل میں مختلف اوقات میں کمی بیشی تو ہوئی۔ مگر خود اجتہاد کا عمل کبھی موقوف نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتہاد زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اگر کوئی اس کو روکنا چاہے تب بھی خود اپنے زور پر وہ لوگوں کے درمیان جاری ہو جائے گا۔ p. 123
زمانۂ رسالت میں اجتہاد کی ایک مثال یہ ہے کہ غزوۂ احزاب کے بعد 5ھ میں آپؐ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمائی۔ یہ روانگی غالباً ظہر کی نماز کے بعد ہوئی تھی۔ ان کو روانہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)، لَا تُصَلُّوا صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى تَأْ تُوا بَنِي قُرَيْظَةَ (مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 252)۔ ان دونوں روایتوں کا لفظی مطلب یہ ہے کہ تم لوگ عصر کی نماز صرف اس وقت پڑھنا جب کہ تم بنی قریظہ کے علاقہ میں پہنچ جاؤ۔ p. 123original + quote
اس کے مطابق لوگ اپنے اونٹوں پر روانہ ہو گئے۔ مگر ابھی وہ راستہ ہی میں تھے کہ سورج ڈوبنے کے قریب آ گیا۔ اب ان میں اختلاف پیدا ہوا، کچھ لوگوں نے کہا کہ بنو قریظہ تک پہنچتے پہنچتے عصر کی نمازکا وقت ختم ہو جائے گا ، اس لیے ہم کو درمیان ہی میں نماز پڑھ لینا چاہیے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ نہیں، ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ کیوں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے کہ عصر کی نماز تم لوگ بنو قریظہ کی بستی میں پہنچنے سے پہلے مت پڑھنا۔ p. 124original + quote
چنانچہ کچھ لوگوں نے اپنی رائے کے مطابق درمیان میں عصر کی نماز ادا کر لی۔ اور کچھ لوگ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ بنو قریظہ کے علاقہ میں پہنچ گئے اس وقت انھوں نے عصر کی نماز پڑھی۔ اگرچہ وہاں پہنچ کر عصر کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ اس کے بعد جب رسول اللہ ؐ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے دونوں ہی کے عمل کی تصدیق فرمائی۔ p. 124quoted source
علما نے اس واقعہ پر کافی بحث کی ہے۔ محقق علما کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے درمیان میں نماز پڑھی وہ اگرچہ بظاہر قول رسول کی خلاف ورزی تھی ، مگر یہ ان کا اجتہاد تھا اور ان کا اجتہاد درست تھا۔ کیونکہ انھوں نے اس حقیقت کو جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تیزی سے سفر کرکے جلد منزل پر پہنچو۔ آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ نماز دیر کر کے پڑھو(اِنَّهُمۡ فَهِمُوا أَنَّ الْمُرَادَ إِنَّمَا هُوَ تَعْجِيلُ السَّيْرِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، لَا تَأْخِيرُ الصَّلَاةِ) البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، جلد6، صفحہ75۔ p. 124original + quote