Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
امن کی طاقت p. 365
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ امن کی طاقت تشدد کی طاقت سے زیادہ ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں سب سے زیادہ جس طاقت کو استعمال کیا وہ یہی امن کی طاقت ہے۔ مثال کے طور پر جب مکہ فتح ہوا تو مکہ کے وہ مخالفین آپ کے پاس لائے گئے جنہوں نے آپ کو ستایا تھا، جنہوں نے آپ کو مکہ سے نکالا تھا۔ جنہوں نے آپ کے خلاف جنگی کارروائی کی تھی۔ اور آپ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائی تھیں۔ p. 365
یہ لوگ ثابت شدہ طور پر جنگی مجرم تھے۔ اور جنگی مجرم کے لیے یہ عام رواج تھا کہ فاتح اس کو قتل کر دیتا تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے ان کو ملامت کا کلمہ تک نہیں کہا۔ آپ نے سادہ طور پر اعلان فرمایا کہ جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو(اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ الطُّلَقَاءُ) سيرت ابن ہشام،جلد2،صفحہ 412۔ p. 365original + quote
یہ تشدد کے بجائے امن کی طاقت کو استعمال کرنا تھا۔ یہ جسمانی تسخیر کے بجائے ضمیر اور قلب کو متاثر کرکے آدمی کو اپنے قابو میں لینا تھا۔ اس اعلیٰ اخلاقی روش کا نتیجہ، راوی کے الفاظ میں یہ ہواکہ وہ لوگ حرم سے باہر اس طرح نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں۔ اور پھر وہ اسلام میں داخل ہوگئے(فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ) السنن الكبرى للبيهقي،حدیث نمبر 18275۔ p. 366original + quote