Deen-e-Insaniayat

دلیل نبوت

Deen-e-Insaniayat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (233 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دینِ انسانیت
  3. بسم اللہ الرحمن الرحیم
  4. ایمان و اسلام کے واقعات
  5. حُریتِ فِکر
  6. اظہار خیال کی آزادی
  7. خدا کا تخلیقی نقشہ
  8. تواصی بالحق
  9. اختلاف میں رحمت
  10. نصیحت ، تعییب
  11. افکار کا ٹکراؤ
  12. فطرت کا نظام
  13. دربار الٰہی میں
  14. پیغمبر کی مثال
  15. ابوبکر صدیقؓ کی مثال
  16. عمر فاروقؓ کی مثال
  17. عثمان غنی ؓ کی مثال
  18. علی مرتضیٰ ؓ کی مثال
  19. ایک واقعہ
  20. ظاہر داری نہیں
  21. سوال و جواب
  22. حد بندی
  23. اختلاف کے باوجود
  24. صحت مند نتائج
  25. حق کا اعتراف
  26. حق کی برتری
  27. اضافۂ ایمان
  28. بے جا غلو
  29. جارحیت نہیں
  30. مشترک ذمہ داری
  31. آزادی کی حد
  32. اختلافات کی توجیہ
  33. روشنی کی طرف
  34. حکیمانہ قول
  35. فرقہ بندی
  36. اختلاف رائے
  37. تمہید
  38. خدا اور انسان
  39. عبادت اور خدمت
  40. والدین کے ساتھ
  41. عمل صالح
  42. صبر کی تعلیم
  43. روحانی ترقی
  44. اعلیٰ اخلاق
  45. اچھا گمان
  46. تواضع
  47. نرمی کا انداز
  48. قناعت
  49. ایثار
  50. مہربانی کا سلوک
  51. عدل و انصاف
  52. قصد و اعتدال
  53. نفع بخشی
  54. سچائی
  55. حق رسانی
  56. غصہ نہیں
  57. امانت اور عہد
  58. پاکی اور صفائی
  59. حق کی ادائیگی
  60. تیسیر پسندی
  61. مشرک کا حکم
  62. مجرم کے ساتھ بھی
  63. دو طریقے
  64. دعوہ کلچر
  65. ایک دُعا
  66. محنت کی کمائی
  67. مالی تعاون
  68. انسانیت عامہ
  69. عالمی اخوت
  70. وسیع تر آدمیت
  71. عمومی عزت
  72. آفاقی انسان
  73. احترام انسانیت
  74. سب پر سلامتی
  75. خدمت عام
  76. رحمت ، سیف
  77. جنگ کا حکم
  78. بین اقوامی رواج
  79. فرشتہ کی مدد
  80. اِذن اللہ
  81. دعا بھی عمل
  82. رحمت کلچر
  83. آفاقیت نہ کہ محدودیت
  84. حقیقتِ اسلام
  85. صبر و توکل
  86. حُسن اخلاق
  87. اسلامی طریقہ
  88. رسول خدا کا اسوہ
  89. عافیت کی زندگی
  90. غیر اثر پذیر
  91. صبر کی اہمیت
  92. ایک آیت
  93. غلط فہمی
  94. مطلوب عمل
  95. کلام کی شرط
  96. بلند کرداری
  97. قرآنی اصول
  98. بے حساب اجر
  99. قلبی عمل
  100. اعتماد و توکل
  101. برتر روش
  102. اعتدال کا طریقہ
  103. بہتر انسان
  104. ایک اسلامی حکم
  105. شکایت کے باوجود
  106. عبادت اور اخلاق
  107. معیار کو بلند کرنا
  108. ترک تعلق
  109. چپ رہنا
  110. صبر ضروری
  111. اجتماعی آداب
  112. درس حدیث
  113. پیغمبر کا طریقہ
  114. اخلاق کا کرشمہ
  115. آگ کا ٹکڑا
  116. والدین کی ذمہ داری
  117. قرآنی طریقہ
  118. چپ رہیے
  119. قیامت میں ادائیگی
  120. دعا اور اعتراف
  121. خیر کثیر
  122. صبرکی عبادت
  123. برا گمان
  124. دفع احسن
  125. تکبیر، تواضع
  126. جنت میں مکان
  127. سکون کا راز
  128. ان شاء اللہ
  129. تنگی میں آسانی
  130. حیاتِ مومن
  131. صفت مومن
  132. مثبت طریقہ
  133. قول سدید
  134. قابل پیشین گوئی کردار
  135. خیر پسند
  136. اچھا مسلمان
  137. جامع اصول
  138. بے مسئلہ
  139. پڑوسی کے ساتھ
  140. حدیث کا مطالعہ
  141. اعتراف
  142. ناشکری نہیں
  143. جنت کے کنارے
  144. ذکر و فکر
  145. ایک انسانی کردار
  146. زاویہ نظر کا فرق
  147. نصرت کا قانون
  148. اثر قبول نہ کرنا
  149. مخلص، منافق
  150. پاکیزہ روش
  151. مومن کا طریقہ
  152. پہچان کا فرق
  153. فکری انقلاب
  154. کھجور کی چپل پہننے والے
  155. عزت کیسے ملتی ہے
  156. خاموش تدبیر
  157. زبان کی طاقت
  158. حاضر جوابی
  159. اعلیٰ کردار کی ایک مثال
  160. حوصلہ مندی
  161. کامیاب مقابلہ
  162. مثبت اثر
  163. صرف الفاظ سے
  164. اِس پل پریا اُس پل پر
  165. کتے سے بھی زیادہ برا
  166. غریبی کا مطلب بے وقوفی نہیں
  167. غم آدمی کو گہرا بنا دیتا ہے
  168. تنقید کو سن کر
  169. نقطۂ انقلاب
  170. برائی کی قسمیں
  171. صبر و ہمدردی
  172. سچی ہوشیاری
  173. اعلیٰ ظرفی
  174. مومنانہ طریقہ
  175. چھوٹا واقعہ بڑا سبق
  176. دو انسان
  177. دو گواہ
  178. کرنے کا کام
  179. مسافر کی زندگی
  180. حدیث دعا
  181. بعضکم من بعض
  182. خاتون جنت
  183. عورت، مرد
  184. تقسیم کار
  185. بہترین خزانہ
  186. اخلاق نسواں
  187. روزمرہ کی زندگی
  188. حسن معاشرت
  189. مومن کا گھر
  190. تربیت اولاد
  191. صلح بہتر ہے
  192. انتظار کیجئے
  193. پیغمبرانہ نصیحت
  194. جنت کا استحقاق
  195. سب سے زیادہ
  196. غیبت نہیں
  197. حضرت خدیجہؓ
  198. حضرت عائشہؓ
  199. ایمان کی طاقت
  200. ایک گواہی
  201. تین مرحلے
  202. نکاح و طلاق
  203. نکاح سے پہلے
  204. نکاح کے بعد
  205. رحمۃ للعالمینؐ
  206. مطالعہ سیرت
  207. دلیل نبوت
  208. سیرت کی رہنمائی
  209. ممکن سے آغاز
  210. عسر میں یسر
  211. ہجرت مقام عمل کی تبدیلی
  212. فطرت پر اعتماد
  213. دشمن کو استعمال کرنا
  214. امن کی طاقت
  215. تھرڈ آپشن
  216. میدان عمل کی تبدیلی
  217. تدریج کا اصول
  218. آئیڈیلزم کے بجائے پریگمیٹزم
  219. بصیرت کی ضرورت
  220. حدیبیہ منہاج
  221. جنگ پر بیعت نہیں
  222. تکمیل دین
  223. آخری بات
  224. پیغمبر اسلام کا اسوہ
  225. پیغمبرانہ طریقہ
  226. پیغمبرانہ اسلوب
  227. اسوۂ حسنہ
  228. ہجرت رسولؐ
  229. قائد اتحاد
  230. سنجیدگی شرط ہے
  231. ایک شہادت
  232. مذہب امن
  233. اسلام مذہبِ امن

دلیل نبوت p. 348

قرآن میں پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسالَتَهُ (6:124) اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے۔ یعنی پیغمبر کو بھیجنے کے لیے وہ مناسب شخص اور مناسب وقت اور مناسب جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور اسی کے مطابق اس نے اپنے پیغمبر کو مبعوث کیا ہے۔ p. 348original + quote

اس آیت میں جعل سے مراد وضع(placement) ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے بنائے کعبہ کے وقت یہ دعا کی تھی کہ یااللہ، تو اسماعیل کی نسل میں ایک نبی پیدا کر(2:129)۔ اس دعا کے ڈھائی ہزار سال بعد محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب مکہ میں پیدا ہوئے گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ وضع رسالت انتہائی موزوں تاریخی لمحہ میں وقوع میں آیا۔ پوری نسل اسماعیل میں سے اس انسان کا انتخاب کیا گیا جو اس منصب کے لیے موزوں ترین تھا۔ وہ اس ملک میں پیدا ہوئے جو اس کام کے لیے سب سے زیادہ مناسب ملک تھا اور اس وقت خاص میں ان کا ظہور ہوا جب کہ تمام موافق اسباب حیرت انگیز طور پر ایک ساتھ جمع ہوگئے تھے۔ p. 349original + quote

پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عظیم کارنامہ انجام دیا وہ حیرت انگیز ہے۔ مگرا سے بھی زیادہ حیرت انگیز مختلف موافق اسباب کا وہ اجتماع ہے جو عین ان کی مدت عمر میں بیک وقت ان کے حق میں اکٹھا ہوگئے۔ آپ کے حق میں یہ غیر معمولی تاریخی مساعدت بیک وقت دلیل توحید بھی ہے اور دلیل نبوت بھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عالم کے پیچھے ایک عظیم ذہن اور عظیم ارادہ والی ہستی موجود ہے۔ نیز یہ کہ یہی وہ ہستی ہے جس نے محمد عربی کو اتنے زیادہ موزوں تاریخی وقت میں اور اتنے زیادہ موزوں جغرافی مقام پر مبعوث فرمایا۔ خدائے عظیم و برتر کے سوا کوئی بھی ایسا کرنے پر قادر نہ تھا۔ p. 349

کوئی بڑا کارنامہ یا کوئی انقلابی کام انجام دینے کے لیے تین چیزیں انتہائی طور پر ضروری ہیں___ اعلیٰ قائد، موزوں مقام، موافق تاریخی حالات۔ اسلامی انقلاب کے حق میں یہ تینوں اسباب اعلیٰ ترین صورت میں جمع ہوگئے۔ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متفقہ طور پر اعلیٰ ترین قائدانہ اوصاف کے مالک تھے۔ عرب مطلوبہ انقلاب کے لیے موزوں ترین مقام تھا۔ جس کا اعتراف اکثر مورخین نے کیا ہے۔ اسی طرح تاریخی وقت کے اعتبار سے وہ وقت سب سے زیادہ موزوں تھا جب کہ آپ کی بعثت ہوئی۔ p. 349original + quote

کوئی انقلابی کام انجام دینے کے لیے تاریخ کی موافقت انتہائی طور پر ضروری ہے۔ تاریخی اسباب کی موافقت کے بغیر اس دنیا میں کوئی بڑا انقلاب برپا نہیں کیا جا سکتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ آپ نے عظیم ترین انقلاب برپا کیا۔ ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ حیرت انگیز طور پر اعلیٰ تین تاریخی اسباب آپ کے حق میں جمع ہوگئے تھے۔ p. 349

1۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش 570ء میں ہوئی۔ عین اسی سال اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا۔ یمن کے حاکم ابرھہ نے ہاتھیوں کی ناقابل تسخیر فوج کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا تاکہ کعبۃ اللہ کو ڈھا دے۔ مگر معجزاتی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کے اوپر کنکریوں کی بارش ہوئی جس میں ساری فوج بھس بن کر رہ گئی۔ p. 350

یہ ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا جس نے اہل عرب کی نظر میں توحید کی عظمت کو ازسر نو قائم کر دیا اور شرک و بت پرستی کا پورا نظام بے قیمت ہو کر رہ گیا۔ یہی بات ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ نمبر106,105 میں اشارہ کیا گیا ہے۔ عین اس عظیم مظاہرۂ توحید کے زمانہ میں پیغمبر اسلامؐ کی پیدائش ہوئی جو اس لیے دنیا میں بھیجے گئے کہ وہ شرک کو ختم کریں اور توحید کی عظمت دنیا میں قائم کر دیں۔ پیغمبر توحید کا عین عام الفیل میں پیدا ہونا خدائی منصوبہ بندی کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔ p. 350original + quote

2۔ پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملا کہ وہ توحید کی دعوت کا کام مکہ میں شروع کریں۔ مکہ کی خصوصیت یہ تھی کہ صدیوں کے حالات کے نتیجہ میں وہ عرب قیادت کا مرکز بن گیا تھا۔ مکہ میں بین الاقوامی تجارت اور بین الاقوامی تعلق کی روایات پائی جاتی تھیں۔ چنانچہ یہاں ایسے لوگ موجود تھے جن کو اپنے زمانہ میں اصحاب فکر اور اصحاب قیادت کا درجہ حاصل تھا۔ مثال کے طور پر ابوبکر بن ابی قحافہ اور عمر بن الخطاب وغیرہ، اس قسم کے اعلیٰ افراد کو اسلامی تحریک کی حمایت میں لینا ضروری تھا۔ چنانچہ اسلامی جماعت کے بیشتر تاریخ ساز افراد مکہ ہی سے حاصل ہوئے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا میں نظر آتی ہے کہ اے اللہ، اسلام کو ابوالحکم بن ہشام یاعمربن الخطاب کے ذریعہ طاقت دے(اللَّهُمَّ ‌أَيِّدْ ‌الِإسلام بِأَبِي الْحَكَمِ بْنِ هِشَامٍ، أَوْ بِعُمَرِ بْنِ الْخَطَّابِ) سيرت ابن ہشام،جلد1،صفحہ 296۔تاہم مکہ والوں کے لیے شرک ایک اقتصادی انٹرسٹ کا معاملہ تھا۔ انہوں نے عرب کے 360 قبیلوں کے 360 بت کعبہ میں رکھ دیئے تھے۔ یہ قبیلے سال بھر مکہ آتے تھے۔ ان کی وجہ سے مکہ کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا تھا۔ ان بت پرست قبائل کی مکہ میں آمد ٹھیک اسی طرح تجارتی نوعیت رکھتی تھی جس طرح کسی سیاحتی ملک میں سیاحوں کی آمد تجارتی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیاحت کو انڈسٹری سمجھا جاتا ہے اسی طرح مکہ والوں کے لیے شرک ایک انڈسٹری تھی۔ ان کے بیشتر تجارتی مفادات اسی انڈسٹری سے وابستہ تھے۔ اس لیے مکہ میں عمومی سطح پر توحید کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ یہی بات تھی جس کو قرآن کے بیان کے مطابق اہل مکہ نے اس طرح کہا تھا: اگر ہم تمہارے ساتھ ہو کرتوحید کی اس ہدایت پر چلنے لگیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے(28:57)۔ p. 350unverified

3۔ مکہ میں جب حصول افراد کا وہ کام مکمل ہوگیا جس کو قرآن میں قطع طرف(آل عمران،3:127) کہاگیا ہے، یعنی ان کے بہتر حصہ کو کاٹ کر نکال لینا، تو اس کے بعد آپ نے وہاں سے ہجرت کا فیصلہ فرمایا۔ ہجرت کوئی فرار نہیں تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ جا کر وہاں کے امکانات کو استعمال کیا جائے۔ یہ تاریخی امکانات اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مدینہ میں پوری طرح جمع کر دیئے تھے۔ p. 350original + quote

مثلاً مدینہ کے علاقہ میں یہود کے تین قبائل(نضیر، قُریظہ، قینقاع) کی موجودگی۔70ء میں رومی شہنشاہ تیتس(Titus) نے فلسطین کو فتح کیا۔ اس نے یروشلم کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد یہودی جلاوطن ہو کر مختلف ملکوں میں چلے گئے۔ ان میں سے کچھ مدینہ بھی آئے۔ چند صدیوں میں ان کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ ان یہودیوں کے اختلاط سے اہل مدینہ کو ایک آنے والے نجات دہندہ کا تصور ملا جو اچانک آ کر قوم کے تمام مسائل کو حل کر دے گا۔ p. 350

چنانچہ ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ حج کے موسم میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبائل عرب سے ملنے کے لیے نکلے تو آپ کی ملاقات مدینہ کے قبیلہ خزرج کے کچھ آدمیوں سے ہوئی۔ ان کے سامنے آپ نے اسلام پیش کیا اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے آپ کی بات سنی تو آپس میں کہنے لگے: يَا قَوْمِ، ‌تَعلَّموا وَاَللَّهِ إنَّهُ لَلنَّبِيُّ الَّذِي تَوَعَّدَكُمْ بِهِ يَهُودُ، فَلَا تسبقُنكم إلَيْهِ. فَأَجَابُوهُ فِيمَا دَعَاهُمْ إلَيْهِ (سیرت ابن ہشام،جلد2،صفحہ 55)۔لوگوں سمجھ لو۔ خدا کی قسم، ضرور یہ وہی نبی ہے جس کا ذکر تم سے یہودی کیا کرتے تھے۔ دیکھو، کہیں وہ اس کی جانب تم پر سبقت نہ لے جائیں۔ پس جس چیز کی دعوت آپ نے انہیں دی اس کو انہوں نے قبول کر لیا۔ p. 351original + quote

یہی معاملہ خود مدینہ کے عربوں کے سلسلہ میں ایک اور شکل میں پیش آیا۔ ہجرت سے چند سال پہلے618ء میں مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج میں خوں ریز جنگ ہوئی۔ ان حالات میں وہ محسوس کرنے لگے کہ انہیں ایک قومی قائد کی شدید ضرورت ہے۔ یہی بات ہے جس کو حضرت عائشہؓ نے اس طرح فرمایا: كَانَ ‌يَوْمُ ‌بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا، فَقَدَّمَهُ اللهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ( صحيح البخاري،حدیث نمبر 3777)۔بعاث کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جو اللہ نے اپنے رسول کی خاطر تمہید کے طور پر برپا کیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو ان کے سردار متفرق ہو چکے تھے۔ ان کے سربرآوردہ لوگ مقتول اور زخمی ہوگئے تھے۔ چنانچہ اس واقعہ کو اللہ نے اپنے رسول کے لیے بطور تمہید برپا کیا جو اہل مدینہ کے لیے دخولِ اسلام میں معاون بنا۔ p. 351original + quote

یہی بات انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے اس طرح کہی ہے کہ مدینہ کی ایک قبائلی جنگ میں بہت زیادہ خون بہا تھا جو 618 میں ہوئی۔ اس کے بعد امن پوری طرح قائم نہیں ہو سکا تھا۔ محمدؐ کو مدینہ بلا کر وہاں کے بہت سے عرب غالباً یہ امید کر رہے تھے کہ وہ مخالف گروہوں کے درمیان ثالث کا کام کریں گے۔ اور یہود سے اہل مدینہ کے ربط نے غالباً انہیں ایک مسیحائی مذہبی قائد کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا ہوگا جو کہ انہیں ظلم سے نجات دلائے اور ایک ایسی سلطنت بنائے جس میں انہیں انصاف مل سکے p. 351other source

Much blood had been shed in a battle at battle at about 618, and peace was not fully restored. In inviting Muhammad to Medina, many of the Arabs there probably hoped that he would act as an arbiter among the opposing parties, and their contact with the jews may have prepared them for a messianic religious leader, who would deliver them from oppression and establish a kingdom in which justice prevaild.(12/607) p. 351original + quote

4۔ پیغمبر اسلامؐ کے مشن کا ایک جزء یہ تھا کہ وہ اس دور کو دنیا سے ختم کر دیں جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت(absolute imperialism) سے تعبیر کیا ہے۔ یہی سیاسی نظام ہے جو قدیم زمانہ میں انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ کی پیدائش جزیرہ نمائے عرب میں ہوئی جو اس زمانہ کی دو عظیم ترین شہنشاہیتوں، رومی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے درمیان میں واقع تھا۔ p. 352original + quote

اس مقصد کے لیے آپ کا مقابلہ ان شہنشاہیتوں کے ساتھ پیش آنے والا تھا۔ چنانچہ تاریخی اعتبار سے آپ کا ظہور انتہائی موزوں وقت میں ہوا۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ رومیوں اور ایرانیوں کے درمیان پچیس سالہ جنگ(603-628ء) پیش آئی۔ یہ دونوں اپنے زمانہ میں ناقابل تسخیر حد تک طاقت ور سلطنتیں تھیں۔ مگر پیغمبر اسلام کی بعثت حیرت انگیز طور پر عین اس زمانہ میں ہوئی جب کہ دونوں سلطنتیں آپس میں لڑ کر تباہ ہو چکی تھیں۔ یہی واقعہ ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ نمبر30 میں اشارہ کیا گیا ہے(غُلِبَتِ الرُّومُ ۔فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ)30:2-3۔ p. 352original + quote

پیغمبر اسلام کی پیدائش کے بعد603ء میں ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ تباہ کن جنگ کے بعد رومیوں کو شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616ء میں یروشلم سمیت رومن ایمپائر کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ p. 352

اس کے بعد قیصر روم کے اندر نیا حوصلہ پیدا ہوا۔ اس نے تیاری کرکے 623ء میں ایران کے اوپر جوابی حملہ کیا۔624ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔627ء میں اس نے اپنے مقبوضہ علاقے دوبارہ ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ تاہم ان دو طرفہ لڑائیوں میں دونوں عظیم سلطنتوں کی طاقت ٹوٹ گئی۔ دونوں کمزور ہو کر رہ گئیں۔ p. 352

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ پیغمبر اسلامؐ کا ظہور ہوا۔ آپ نے اور آپ کے بعد آپ کے اصحاب نے دونوں سلطنتوں سے ٹکر لی اور دونوں کو توڑ کر تاریخ میں ایک نئے دور آزادی کا آغاز کیا۔ p. 353

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984) میں بازنطینی ایمپائر(Byzantine Empire) کے نام سے 26 صفحہ کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اس کے مصنف بازنطینی تاریخ کے ایک اکسپرٹ پروفیسر نکل (Donald MacGillivray Nicol) ہیں۔ مسلم عہد کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں p. 353other source

632ء میں پیغمبر کی وفات کے بعد خلفاء نے عرب بدوؤں کی طاقت کا رخ ایک بامقصد اور منظم منصوبہ فتح کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔636ء میں بازنطینی فوج کو دریائے یرموک کے کنارے ایک جنگ میں شکست ہوئی۔ اس کے بعد فلسطین اور شام کا دروازہ عربوں کے لیے کھل گیا۔ اسکندریہ نے 642ء میں ہتھیار ڈال دیا اور پھر ہمیشہ کے لیے مصر کا صوبہ بازنطینیوں کے اقتدار سے نکل گیا۔ اسی درمیان عربوں نے میسوپوٹامیا کے علاقہ میں پیش قدمی کی اور جلد ہی ایرانی فوج کو شکست دے کر ان کی راجدھانی کو فتح کر لیا۔ اس طرح ایرانی شہنشاہیت کی لمبی تاریخ ختم ہوگئی۔ p. 353

اس وقت کی بازنطینی سلطنت اور ایرانی سلطنت کے کم ازکم تین پہلوؤں نے عربوں کے لیے اس شاندار کامیابی کو آسان بنا دیا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کی۔ اول، دونوں سلطنتیں جنگوں کے نتیجہ میں بالکل ختم ہو چکی تھیں اور 632 سے پہلے انہوں نے اپنی فوجوں کو گھٹا دیا تھا۔ دوم، دونوں ہی سلطنتیں عرب سرحد پر اپنی ماتحت حکومتوں کی مدد بند کر چکی تھیں جنہوں نے پچھلی ایک صدی سے صحرائی بدوؤں کو آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔ سوم، اور خاص طور پر بازنطینیوں کے معاملہ میں مذہبی اختلافات جنہوں نے شامیوں اور مصریوں کی قسطنطنیہ کے ساتھ وفاداری کو کمزور کر دیا تھا p. 353unverified

At least three aspects of the contemporary situation of Byzantium and Persia account for the phenomenal ease with which the Arabs overcame their enemies: first, both empires, exhausted by wars, had demobilized before 632; second, both had ceased to support those client states on the frontiers of the Arabian Peninsula that had restrained the Bedouin of the desert for a century past; third, and particularly in reference to Byzantium. religious controversy had weakened the loyalties that Syrians and Egyptians rendered to Constantinople.(3/557) p. 353

5۔موسموں کی تبدیلی کا تعلق سورج کے گرد زمین کی گردش پر ہے۔ شمسی کیلنڈر اسی کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ چنانچہ شمسی کیلنڈر میں ہر موسم ہمیشہ ایک ہی مہینہ میں آتا ہے۔ مثلاً دسمبر میں ہمیشہ سردی اور جون میں ہمیشہ گرمی۔ مگر قمری کیلنڈر، جس کا سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے، وہ قمری مہینوں کی بنیاد پر بنایاگیا ہے۔ اس لیے قمری کیلنڈر میں مہینے ہمیشہ موسم کے مطابق نہیں ہوتے۔ مثلاً رمضان کا مہینہ کبھی جاڑے کے موسم میں آتا ہے اور کبھی گرمی کے موسم میں۔ p. 354

حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے جب اللہ کے حکم سے کعبہ کی تعمیر کی اور حج کا نظام قائم کیا تو انہوں نے اس کا نظام قمری کیلنڈر کی بنیاد پر بنایا تھا۔ یعنی یہ کہ حج کی عبادت ذی الحجہ کے مہینہ میں ادا کی جائے۔ قدیم زمانہ میں مکہ کا قبیلہ قریش کعبہ کا متولی تھا۔ ان کی معاشیات کا سب سے بڑا ذریعہ کعبہ کا حج تھا۔ عرب کے تمام قبائل ہر سال حج و زیارت کے لیے مکہ آتے۔ وہ اس پر چڑھاوے چڑھاتے۔ اس کے علاوہ ان کے آنے سے مکہ کو تجارت کو فروغ حاصل ہوتا جس طرح سیاح آج کل جس ملک میں بڑی تعداد میں آتے ہیں وہاں کی تجارت کو ان سے فروغ حاصل ہوتا ہے۔ p. 354

قریش نے دیکھا کہ ذی الحجہ کا مہینہ جب معتدل موسم میں پڑتا ہے تو زائرین کے قافلے زیادہ بڑی تعداد میں مکہ آتے ہیں۔ اور جب ذی الحجہ کا مہینہ سخت موسم میں پڑتا ہے تو زائرین کی تعداد کافی کم ہو جاتی ہے۔ اس تجربہ کے بعد قریش نے حج کے نظام کو بدل دیا۔ انہوں نے اس کو قمری کیلنڈر سے ہٹا کر شمسی کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ تاکہ حج کی تاریخ کو ہمیشہ معتدل اور موافق موسم میں انجام دیں اور اس طرح اپنے تجارتی مفاد کو بلا روک ٹوک حاصل کر سکیں۔ p. 354

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا ایک جزء یہ بھی تھا کہ آپ حج کی عبادت کو دوبارہ ابراہیمی طریقہ پر قائم کر دیں۔ اس تبدیلی کا اعلان آپ فتح مکہ(8ھ) کے موقع پر کر سکتے تھے۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی اصلاح کے سلسلہ میں آپ کی ایک مستقل سنت یہ تھی کہ روایات کو توڑے بغیر ان کو نافذ کیا جائے۔ اگر آپ فتح مکہ کہ دن اس کا اعلان فرماتے تو ایسی کارروائی روایات کو توڑے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ p. 354original + quote

اصل یہ ہے کہ قمری کیلنڈر چونکہ شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اس لیے 33 سال کی گردش کے بعد دونوں ایک دوسرے کے برابر ہو جاتے ہیں۔ مثلاً رمضان کا مہینہ اس سال اگر فروری میں پڑے تو33 سال کے بعد دوبارہ وہ فروری کے مہینہ میں آ جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دو مہینہ پہلے یہ 33سالہ دور پورا ہونے والا تھا۔ اور دوبارہ حج کا موسم ذی الحجہ کے مہینہ میں آنے والا تھا۔ p. 355

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد نہ تو حج کے نظام میں تبدیلی کا اعلان فرمایا اور نہ اس کے بعد آنے والے حج میں آپ نے شرکت کی۔ آپ نے 10ھ میں پہلا حج کیا جس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس سال کا حج اپنے آپ خود گردش کے نظام کے نتیجہ میں ذی الحجہ میں پڑنے والا تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ پہلے مکہ جا کر حج ادا فرمایا۔ اس حج میں آپ نے جو خطبہ دیا، اس میں آپ نے اعلان کر دیا اور فرمایا کہ اے لوگو، زمانہ گھوم گیا۔ پس آج کے دن وہ اپنی اس ہیئت پر ہے جس دن کہ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حقیقت حج، صفحہ32) p. 355original + quote

یعنی 33 سالہ دور کو پورا کرکے اب حج کا موسم دوبارہ ذی الحجہ کے مہینہ میں پڑ رہا ہے۔ یہی نظام مشیت خدا وندی کے مطابق ہے۔ اب قریش کا جاری کردہ نظام ختم کیا جاتا ہے۔ آئندہ ہمیشہ کے لیے قمری کیلنڈر کے مطابق، ذی الحجہ کے مہینہ میں حج ادا کیا جائے گا۔ p. 355

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ روایات کو توڑے بغیر اصلاحات کرنا۔ اسی لیے آپ نے حج کی تاریخوں میں اصلاح فرمائی مگر یہ کام آپ نے روایات کو توڑے بغیر انجام دیا۔ یہ بے حد حیرت انگیز بات ہے کہ آپ کی پیدائش اور آپ کی وفات انتہائی موزوں وقت میں ہوئی۔ ایک طرف مذکورہ33 سالہ دور پورا ہوا، اور دوسری طرف آپ اپنی مدت حیات پوری کرکے اس مخصوص مہینہ اور سال میں پہنچ گئے جب کہ آپ روایت شکنی کے بغیر فطری انداز میں حج کے نظام کی اصلاح کر سکیں۔ یہاں واضح طور پر آپ کی پیدائش اور آپ کی وفات کے وقت کی تعیئین میں اس برترخالق کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے جو تخلیق کے پورے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ آپ کی عمر اور خارجی زمانہ میں اگر یہ مطابقت نہ ہوتی تو آپ اتنی صحت کے ساتھ اپنے مشن کو پورا نہیں کر سکتے تھے یہ واقعہ بھی اللَّهُ أَعْلَمُ ‌حَيْثُ ‌يَجْعَلُ ‌رِسالَتَهُ(6:124)کی ایک ایمان افروز مثال ہے، یعنی، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو بخشے۔ p. 355original + quote

پیغمبر اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں یہ بھی تھا کہ آپ حج کی سالانہ عبادت میں اس طرح اصلاح کریں کہ وہ شمسی کیلنڈر سے ہٹ کر قمری کیلنڈر پر آ جائے۔ اور اس عمل کے درمیان روایات کو بھی توڑنا نہ پڑے۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو محدود عمر کے ایک انسان کی استطاعت سے باہر تھا۔ اس انقلابی تبدیلی کو قائم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ مصلح کی پیدائش بالکل حسابی انداز میں ایسے زمانہ میں ہو جب کہ کائنات کا آفاقی نظام بھی اس کی مدت حیات کے ساتھ مساعدت کر رہا ہو۔ صرف خدا وند عالم ہی اس پر قادر ہو سکتا تھا۔ اور پیغمبر اسلام کی زندگی میں ان آفاقی اسباب کا جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ خدا وند عالم کے فرستادہ تھے۔ p. 355

6۔دنیا کے تمام انقلابات، خالص نظریاتی اعتبار سے، ناکام انقلابات ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی انقلاب اپنے نظریاتی معیار والا نظام نہ بنا سکا۔ تمام انقلابات صرف ارباب حکومت کی تبدیلی کے ہم معنی ہیں۔ اس کا آغاز خوش نما نظریات کی تبلیغ سے ہوا۔ مگر جب عملی انقلاب کی نوبت آئی تو ان کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہ تھا کہ ایک گروہ کی سیاسی حکمرانی ختم ہو کر دوسرے گروہ کی سیاسی حکمرانی قائم ہوگئی۔ انقلابات کی تاریخ میں اسلامی انقلاب واحد انقلاب ہے جس میں عین اس کے نظریہ کے مطابق، ایک مثالی معاشرہ بنا اور ایک مثالی سماج قائم ہوا۔ p. 356

اس فرق کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بقیہ تمام انقلابات دوسری اور تیسری نسل میں مکمل ہوئے۔ جب کہ اسلامی انقلاب اپنی پہلی ہی نسل میں عملی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچ گیا۔ کسی نظریاتی تحریک کی جو پہلی نسل ہوتی ہے اس کے افراد کے لیے وہ نظریہ ذاتی دریافت ہوتا ہے۔ ان کے اندر اس نظریہ کے حق میں کامل اخلاص موجود رہتا ہے۔ جب کہ دوسری اور تیسری نسل تک پہنچ کر نظریہ صرف ایک قسم کا رسمی عقیدہ بن کر رہ جاتا ہے۔ زندگی میں قوت محرکہ کے اعتبار سے وہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔ p. 356

ڈیمو کریسی(جمہوریت) کا نظریہ سترھویں صدی کے کچھ یورپی مفکرین نے پیش کیا۔مگر عملی صورت میں ڈیمو کریسی اٹھارویں صدی کے آخر میں قائم ہوئی۔1776 میں امریکہ میں اور 1789 میں فرانس میں۔ اس طرح ڈیمو کریسی اپنی پہلی نسل میں صرف نظریہ کے دریجہ میں باقی رہی۔ وہ اپنی تیسری نسل میں پہنچ کر عملی واقعہ بن سکی جب کہ اس کے ابتدائی نظریہ ساز ختم ہو چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیمو کریسی کے نام پر آنے والے انقلابات ڈیمو کریسی کا حقیقی عملی نمونہ نہ بن سکے۔ p. 356

اسی طرح کمیونزم کا نظریہ انیسویں صدی میں ابھرا۔ مگر اس کا عملی نفاذ بیسویں صدی میں کمیونسٹوں کی دوسری اور تیسری نسل میں ہوا۔ پہلی نسل کے افراد کے لیے اس کو عملی روپ دینا ممکن نہ ہو سکا۔ چنانچہ حکمرانوں کی تبدیلی کے معنی میں تو کمیونزم نافذ ہوگیا۔ مگر اس کا نظریاتی معیار کبھی اور کسی ملک میں واقعہ نہیں بنا۔ p. 356

اس کے برعکس اسلام کا نظریہ پہلی ہی نسل (محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کے زمانہ میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اگر مثال کے طور پر ایسا ہوتا کہ عرب کی فتح بنوامیہ کی خلافت کے زمانہ میں ہوتی اور ایران و روم کی فتوحات بنو عباس کی خلافت کے زمانہ میں انجام پاتیں تو ناممکن تھا کہ اسلام کی تاریخ میں حیات انسانی کا وہ مثالی ماڈل موجود ہو جو اسلام کے پہلے دور میںبنا اور جو عام انسانوں کے لیے دائمی طور پر مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اگلی نسل تک پہنچتے پہنچتے اسلام کی اصل اسپرٹ لوگوں میں کافی کمزور ہو چکی تھی۔ p. 357

کیا وجہ ہے کہ دوسرے انقلابات کی تکمیل کئی نسلیں گزرنے کے بعد ہوئی۔ مگر اسلامی انقلاب پہلی ہی نسل میں مکمل ہوگیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ دوسرے نظریات کو پہلی نسل میں بڑی تعداد میں مردان کار حاصل نہ ہو سکے۔ جب کہ اسلامی نظریہ کو پہلی ہی نسل میں مردان کار کی ایک طاقت ور ٹیم مِل گئی جس نے غیر معمولی جدوجہد اور قربانی کے ذریعہ پہلی ہی نسل میں اس کو تکمیل کے آخری مرحلہ تک پہنچا دیا۔ p. 357

اوپر جو آیت ہم نے نقل کی ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے(الانعام،6:124)۔ اسی کا ایک پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کی جائے پیدائش اور مقام عمل کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں اس کو پہلے ہی مرحلہ میں اعلیٰ صلاحیت کے مردان کار مل سکیں۔ ظہور محمدی کے زمانہ کو دیکھئے تو بظاہر عرب کا ملک اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ غیر اہم نظر آتا ہے۔ اس وقت عربوں کی تصویر دنیا کی نظر میں کیا تھی، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ فردوسی اپنے شاہنامہ میں ان کے بارے میں لکھتا ہے کہ اے آسمان تجھ پر افسوس ہے کہ اونٹ کا دودھ پینے والے اور گوہ کا گوشت کھانے والے عربوں کا معاملہ اب یہاں تک پہنچا ہے کہ وہ ایرانی تخت کی آرزو کر رہے ہیں p. 357original + quote

زشیر شتر خورن و سوسمار عرب رابجائے رسید است کار p. 357

کہ تخت کیاں راکنند آرزو تفوبر تو اے چرخ گرداں تفو p. 358

اس وقت صرف خدا ہی جان سکتا تھا کہ اس بظاہر غیر اہم قبائلی مجموعہ کے اندر ایک عظیم قوم بننے کے امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ مارگولیتھ نے عربوں کو ہیروؤں کی ایک قوم(a nation of heroes) کہا ہے۔ مگر یہ اعتراف واقعہ کے ظہور میں آنے کے بعد کا ہے۔ ظہور واقعہ سے پہلے صرف خدا ہی یہ جان سکتا تھا کہ عرب قوم کے اندر کیا امکانی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔ p. 358original + quote

ان عربوں میں دوسری غیر معمولی صفات کے ساتھ ایک انوکھی صفت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کے تعصب سے خالی تھے۔ ان کے مزاج میں یہ چیز رچی بسی ہوئی تھی کہ وہ حق کا فوراً اعتراف کر لیں۔ ان کی اسی صلاحیت کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ پیغمبر کی زندگی ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی آپ پر ایمان لا کر آپ کے ساتھی بن گئے۔ p. 358

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں مبعوث کرنا کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک انتہائی اعلیٰ منصوبہ بندی کا معاملہ تھا۔ اس میں منصوبہ ساز کو یہ جاننا تھا کہ ساری دنیا میں وہ کون سا مخصوص مقام ہے جو پیغمبر اسلام کو اپنا کام شروع کرنے کے لیے موزوں ترین ہے۔ p. 358

نہ صرف پیغمبروں کی تاریخ بلکہ کوئی تخلیقی نظریہ پیش کرنے والے ہر آدمی کی تاریخ بتاتی ہے کہ معاصر زمانہ میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس کے پیغام کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور اس کے زمانہ ہی میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ عرب جیسی قوم میں مبعوث کرنے ہی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اپنی زندگی ہی میں پیغمبر اسلام کو کثیر تعداد میں ایسے ساتھی مل گئے جو مطلوبہ انقلاب کے لیے جہاد عظیم کر سکیں۔ p. 358

یہ واقعہ اتنا اہم اور اتنا زیادہ استثنائی تھا کہ بائبل میں اس کے بارے میں پیشگی خبر دے دی گئی۔ بائبل (کتاب استثنا) میں ہے کہ مرد خدا موسیٰ نے جو دعائے خیر دے کر اپنی وفات سے پہلے بنی اسرائیل کو برکت دی وہ یہ ہے کہ۔ اور اس نے کہا خداوند سینا سے آیا۔ اور شعیر سے ان پرآشکارا ہوا۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا۔ وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا p. 359original + quote

and he came with ten thousands of saints. (Deuteronomy 33:2) p. 359

بائبل کی اس آیت میں سینا سے آنے والے حضرت موسیٰ ہیں۔ شعیر سے آنے والے حضرت مسیح ہیں اور فاران سے آنے والے سے مراد پیغمبراسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کے ساتھ یہ انوکھا واقعہ پیش آیا کہ وہ آغاز نبوت کے صرف 20 سال بعد دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہوئے p. 359original + quote

He received his prophetic call in about 610, and in january 630 he entered Mecca with 10,000 men. (VII/84) p. 359