Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اِس پل پریا اُس پل پر p. 255
ملک شاہ سلجوقی کی شاہی سواری ایک روز ایک پل سے گزر رہی تھی۔ ایک بڑھیا وہاں آ کر کھڑی ہوگئی۔ بادشاہ اس کے قریب پہنچا تو بڑھیا نے پکار کر کہا اے بادشاہ بتا میرا اور تیرا انصاف اس پل پر ہوگا یا اس پل(صراط) پر۔ ملک شاہ پر اس جملہ کا بے حد اثر ہوا۔ وہ گھبرا کر سواری سے اتر پڑا اور کہا ماں، اُس پل پر کس کی ہمت ہے کہ کھڑا ہو سکے۔ بہتر ہے کہ میرا اور تمہارا حساب اسی پل پر ہو جائے۔ اس کے بعد بڑھیا نے بتایا کہ سپاہیوں نے اس کی گائے پکڑ کر ذبح کر دی ہے، میں تم سے اس ظلم کا انصاف چاہتی ہوں۔ ملک شاہ سلجوقی وہیں ٹھہر گیا اور معاملہ کی تحقیق شروع کر دی۔ جب ثابت ہوگیا کہ بڑھیا کی شکایت صحیح ہے تو اس نے اسی وقت مجرموں کو سزا دی۔ اس کے بعد اس نے بڑھیا سے معافی مانگی اور گائے کی اصل قیمت سے بہت زیادہ معاوضہ دے کر بڑھیا کو راضی کیا۔ p. 255