Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کھجور کی چپل پہننے والے p. 239
موجودہ افغانستان قدیم زمانہ میں سجستان کہا جاتا تھا۔ اس کا دارالسلطنت کابل تھا۔ یہاں ایک ترک راجہ کی حکومت تھی۔ وہ بدھ مذہب کو مانتا تھا اور اس کا خاندانی لقب رُتبیل(زَندپیل) تھا۔ یہ علاقہ امیر معاویہ کے زمانہ میں اسلامی خلافت میں شامل ہوا۔ رتبیل نے ابتداً اسلامی فوجوں سے مقابلہ کیا۔ اس کے بعد اس نے دس لاکھ درہم سالانہ خرچ پر معاہدہ کرے اپنے لئے امان حاصل کر لی۔ رتبیل ایک مدت تک خراج دیتا رہا۔ اس کے بعد اس نے خراج دینا بند کر دیا۔ اس کے علاقہ پر بار بار فوجیں بھیجی گئیں مگر وہ مطیع نہ ہوا۔ p. 239
اس سلسلہ میں تاریخوں میں جو واقعات آتے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ یزید بن عبدالملک اموی(م105ھ) کے زمانہ میں جب خلافت دمشق کے کچھ نمائندے اس کے پاس خراج طلب کرنے کے لئے پہنچے تو اس نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’وہ لوگ کہاں گئے جو پہلے آیا کرتے تھے۔ ان کے پیٹ فاقہ کشوں کی طرح دبے ہوئے تھے۔ پیشانیوں پر سیاہ نشان پڑے رہتے تھے اور وہ کھجوروں کی چپلیں پہنا کرتے تھے‘‘ راوی کا بیان ہے کہ یہ کہہ کر رتبیل نے خراج دینے سے انکار کر دیا اور تقریباً چوتھائی صدی تک وہ اسلامی حکومت سے آزاد رہا۔ p. 240unverified
صحابہ کے زمانہ کے سیدھے سادھے معمولی لوگ رتبیل کی نظر میں اس سے زیادہ طاقتور تھے جتنا کہ بنوامیہ کے زمانہ میں شان و شوکت والے لوگ۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی آدمی کی طاقت کا راز اس کے جسم پر دکھائی دینے والی ظاہری رونقیں نہیں ہیں بلکہ اس کی اندرونی صلاحیت ہے۔ یہ اندرونی صلاحیت پہلے کے لوگوں میں بہت زیادہ تھی اگرچہ ظاہری طور پر وہ معمولی حالت میں دکھائی دیتے تھے۔ p. 240
طاقت ور وہ ہے جس کی ضروریات مختصر ہوں۔ جس کی آرزوئیں محدود ہوں۔ جو لذت اور جاہ کا طالب نہ ہو۔ جس کی تواضع میں تسکین ملتی ہو نہ کہ اپنے کو بڑا بنانے میں۔ ایسا آدمی نفسیاتی پیچیدگیوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے لئے صحیح فیصلہ کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ مصلحتوں کا خیال کبھی اس کا قدم نہیں روکتا۔ اپنے مقصد کی خاطر قربانی کی حد تک جانے میں اس کے لئے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ p. 240
اس کے برعکس جو لوگ مصنوعی چیزوں میں گھرے ہوے ہوں وہ زندگی کی حقیقی معرفت سے محروم رہتے ہیں۔ غیر ضروری تکلفات ان کے لئے ایسا بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ نہ تو کسی بات کو صحیح رنگ میں دیکھ پاتے اور نہ اس میں اپنے آپ کو واقعی طور پر شامل کر سکتے۔ وہ ذات کے لئے زیادہ اور مقصد کے لئے کم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ p. 240