Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اثر قبول نہ کرنا p. 231
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے کہ لوگوں سے اختلاط کرو اور یہ دیکھتے رہو کہ تم اپنے دین کو زخمی نہ کر لو(خالطوا الناس و انظروا اَلّاتکلمو ادینکم) فتح الباری لابن حجر العسقلانی543/10 p. 231quoted source
قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: خَالِطِ النَّاسَ ، وَدِينَكَ لَا تَكْلِمَنَّهُ (صحیح البخاری، جلد8،صفحہ30)۔ p. 232hadith
اسلام میں یہ پسندیدہ بات نہیں کہ آپ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیں۔ بلکہ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آپ ہر قسم کے لوگوں سے ملتے رہیں۔ یہ اختلاط اس لئے بھی ضروری ہے کہ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے، اور اختلاط کے بغیر دعوت کا کام نہیں ہو سکتا۔ p. 232
اس کے علاوہ آپ کی شخصیت کی تکمیل کے لئے بھی اختلاط ضروری ہے۔ جب آپ لوگوں سے ملتے جلتے ہیں تو بار بار ایسے حالات پیش آتے ہیں جو آپ سے کسی ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں۔ مثلاً کسی آدمی نے کڑوی بات کہہ دی۔ اب آپ کو اس کا جواب دینا ہے۔ کسی سے آپ نے ایک وعدہ کر لیا، اسے آپ کو پورا کرنا ہے۔ کسی کی کوئی امانت آپ کے پاس آگئی جسے آپ کو ادا کرنا ہے۔ اس طرح کے معاملات کے دوران ہی آپ تربیت پا کر اسلامی اخلاق کے مالک بنتے ہیں۔ p. 232
تاہم اختلاط کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہئے کہ آپ دوسروں کا غلط اثر قبول کر لیں۔ مثلاً ایک خاتون نے ایک صاحبہ کو اپنی سہیلی بنایا۔ خاتون سادہ انداز میں رہتی تھیں اور سہیلی کے اندر فیشن والا مزاج تھا۔ سہیلی نے بار بار خاتون سے کہنا شروع کیا کہ تم کیا یہ بیوہ عورتوں کی طرح بالکل سادہ کپڑے پہنتی ہو۔ اس طرح کی باتیں کرکے سہیلی نے مذکورہ خاتون کو رنگین کپڑوں کی طرف راغب کیا پھر ان کے ڈھیلے کپڑے کی جگہ چست کپڑے سلوائے۔ اس طرح سہیلی کے اثر سے خاتون کی ایک ایک چیز بدلنے لگی۔ یہاں تک کہ وہ باقاعدہ فیشن پسند ہوگئیں اور روزانہ ان کے کئی کئی گھنٹے صرف میک اپ کی نذر ہونے لگے۔ p. 232
مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی دینی شخصیت کا ہمیشہ محافظ بنا رہے۔ وہ دوسروں سے اثر قبول کرنے کے بجائے خود دوسروں پر اپنا اثر ڈالنے کی کوشش کرے۔ وہ لوگوں کے درمیان داعی بن کر رہے، نہ کہ خود دوسروں کا مدعو بن جائے۔ p. 233