Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
زاویہ نظر کا فرق p. 228
سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل کی قدیم تاریخ کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے تقریباً تین سو سال بعد، اور حضرت داؤدؑ سے کچھ پہلے، ان کے ایک نبی شموئیل(1100-1020)تھے جو شام کے ایک شہر رامہ میں رہتے تھے۔ بنی اسرائیل اس وقت دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لیے ایک ملک(بادشاہ) مقرر کر دیجئے۔ شموئیل جو اس وقت بوڑھے ہو چکے تھے، انہوں نے کہا کہ اللہ نے طالوت(Saul) کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے(2:247)۔ p. 228original + quote
اس کے بعد قرآن میں ہے کہ: نبی اسرائیل نے کہا کہ اس کو ہمارے اوپر بادشاہی کیسے مل سکتی ہے۔ حالانکہ اس کے مقابلہ میں ہم بادشاہی کے زیادہ حق دار ہیں، اور اس کو زیادہ دولت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا کہ اللہ نے تمہاے مقابلہ میں اس کو چنا ہے اور علم اور جسم میں اس کو زیادتی دی ہے۔ اور اللہ اپنی سلطنت جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا، جاننے والا ہے(2:247)۔ p. 229Qur'an
سموئیل نبی نے جس آدمی کو بنی اسرائیل کے اوپر سردار مقرر کیا، اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ اونچے خاندان کا نہیں تھا اور اس کے پاس زیادہ دولت بھی نہیں تھی، بنی اسرائیل نے جب اس کو اس اعتبار سے دیکھا تو وہ ان کے درمیان ایک کم تر انسان نظر آیا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا ایک کم تر انسان ہمارے اوپر سردار کس طرح بن سکتا ہے۔ مگر اس کی شخصیت کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ وہ جسمانی اعتبار سے ایک طاقت ور انسان تھا اور اس کے ساتھ ذہین اور مدبر تھا۔ اس دوسرے پہلو سے دیکھنے میں وہ سب سے زیادہ لائق تھا۔ کیونکہ سرداری کے لیے اسی قسم کی صلاحیت والے انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ p. 229
یہ زاویۂ نظر کے فرق کا معاملہ ہے۔ کسی چیز کو آپ ایک رخ سے دیکھیں تو وہ درست نظر آئے گی۔ اسی چیز کو دوسرے رخ سے دیکھئے تو وہ بالکل غلط معلوم ہونے لگی گی۔ p. 229
یہی اس دنیا میں انسان کا امتحان ہے۔ یہاں صحیح زاویہ نظر والا آدمی ہدایت پائے گا، اور غلط زاویہ نظر والا آدمی بے راہ ہو کر رہ جائے گا۔ p. 229