Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خیر پسند p. 213
زید بن مُھَلۡھِل نجد میں بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہوئے۔ وہ شاعر تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے شمشیر زنی اور گھوڑے کی سواری میں شہرت حاصل کی۔ چنانچہ زید الخیل کہے جانے لگے۔ خیل عربی زبان میں گھوڑے اور گھوڑے سوار کو کہتے ہیں۔ p. 213
انھوں نے اسلام سے پہلے فارس (شہ سوار) اور شمشیر زنی کی تعریف پر ایک پرجوش نظم کہی تھی۔ اس میں وہ اپنے قبیلہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ میری قوم لوگوں کی سردار ہے۔ اور سردار ہی اس وقت قائد بنتا ہے جب کہ شعلہ بار ہتھیلیوں نے جنگ کی آگ کو بھڑکا دیا ہو : p. 214
وَقَوْمِي رُؤُوسُ النّاسِ وَالرَّأْسُ قَائِدٌ p. 214
إِذَا الحَرْبُ شَنَّتْها الأكُفُّ المَسَاعِرُ p. 214
زید الخیل ہجرت کے بعد مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید الخیل کا نام پسند نہیں کیا۔ آپ نے ان کا نام بدل کر زید الخیر رکھ دیا۔ 9 ھ میں مدینہ میں ان کاانتقال ہوا۔ p. 214
اس واقعہ سے اسلام کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اسلام کا مقصد آدمی کو ’’زید شہ سوار‘‘ بنانا نہیں ہے بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی ’’زید صاحب خیر‘‘ بنے۔ قدیم عرب میں گھوڑا دوڑانا اور تلوار کا کمال دکھانا ہیروانہ کام سمجھا جاتا تھا۔ پیغمبر اسلام نے ان کے جذبات کو موڑا۔ اور ان کو یہ ذہن دیا کہ وہ خیر کے حامل بنیں، وہ خیر کے میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیں۔ وہ لوگوں کو موت کا تحفہ نہ دیں بلکہ وہ لوگوں کو زندگی کا تحفہ دینے کی کوشش کریں۔ p. 215
آجکل کی زبان میں اگر کہا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اسلام کا خاص مقصد تخلیقی (creative) انسان پیدا کرنا ہے۔ اللہ پر ایمان آدمی کے اندر تخلیقی اوصاف کو جگا دیتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ عام سوچ سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ اس کا کردار دوسرے لوگوں کے کردار سے بلند ہو جاتا ہے۔ وہ زمین میں رہتے ہوئے ایک آسمانی انسان بن جاتا ہے۔ p. 215
مومن کا کام زید الخیل بننا نہیں بلکہ زید الخیر بننا ہے۔ یہی مومنانہ شخصیت کا خلاصہ ہے۔ p. 215