Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تنگی میں آسانی p. 206
فتح مکہ کا واقعہ 8 ھ میں پیش آیا۔ اس کے بعد آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ مکہ سے طائف کا سفر فرمایا۔ اس سفر میں جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا: قالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: ثُمَّ سَلَكَ في طَرِيقٍ يُقَالُ لَهَا: الضَّيِّقَةُ. فَلَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْ اسْمِهَا، فَقَالَ: "مَا اسْمُ هذِهِ الطَّرِيقِ؟" فَقِيلَ: الضَّيْقَةُ. فَقَالَ: "بَلْ هِيَ الْيُسْرَى"(سیرت ابن ہشام، ،جلد2،صفحہ482 )۔ پھر آپ ایک راستہ میں چلے جس کو تنگ راستہ کہا جاتا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے اس کا نام پوچھا۔ کہا گیا کہ اس کا نام تنگ راستہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ آسان راستہ ہے۔ p. 206original + quote
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ وہ تنگ ہے مگر بند تو نہیں۔ بظاہر اگرچہ یہ راستہ تنگ دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن اگر ہمت اور احتیاط سے کام لیں تو یقینا ہم اس سے گزر سکتے ہیں۔ پھر تنگی کے باوجود اگر وہ ہمارے لیے رکاوٹ نہیں تو ہم اس کو تنگ کیوں کہیں۔ کیوں نہ ہم اس کو آسان کہیں۔ کیوں کہ اصل مقصد گزرنا ہے اور وہ اب بھی ہمیں حاصل ہے۔ p. 207
یہ واقعہ اس طرح کے معاملات میں مومن کے مزاج کو بتاتا ہے۔ مومن چیزوں کو ان کے ظاہر کے اعتبار سے نہیں دیکھتا بلکہ چیزوں کو ان کے باطن کے اعتبار سے دیکھتا ہے۔ مومن معاملات کے تاریک پہلو کو نظرانداز کر دیتا ہے اور صرف اس کے روشن پہلو پر اپنی تمام توجہ لگا دیتا ہے۔ مومن کیا ہے کو نہیں دیکھتا، وہ ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا ہو سکتا ہے۔ مومن ناموافق پہلو کو اہمیت نہیں دیتا۔ وہ صرف موافق پہلو پر اپنی ساری نظریں جما دیتا ہے۔ p. 207
مومن منفی سوچ سے مکمل طور پر پاک ہوتا ہے۔ اس کی سوچ تمام تر مثبت سوچ ہوتی ہے۔ مومن کی شخصیت کو بتانے کے لئے اگر نفسیاتی اصطلاح استعمال کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مومن ایک مثبت مفکر (positive Thinker) ہوتا ہے۔ یعنی مثبت ذہن رکھنے والا انسان۔ p. 207
مومن کی یہ صفت اس کو بے پناہ بنا دیتی ہے۔ اس کے لئے رکاوٹیں بھی زینہ بن جاتی ہیں۔تنگ راستہ بھی اس کے لئے کشادہ راستہ بن جاتا ہے۔ p. 207