Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ان شاء اللہ p. 205
اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ آدمی جب کسی کام کے بارے میں اپنے ارادہ کا اظہار کرے تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) بھی ضرور کہے۔ مثلاً ایک شخص دہلی سے بمبئی جانے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس طرح نہ کہے کہ کل میں بمبئی جاؤں گا، بلکہ یوں کہے کہ ان شاء اللہ کل میں بمبئی جاؤں گا۔ p. 205
یہ کلمہ گویا اس حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے کہ میری چاہ صرف اس وقت پوری ہو گی جب کہ اللہ کی چاہ بھی اس میں شامل ہو جائے۔ یہ اپنے چاہنے میں اللہ کے چاہنے کو ملانا ہے، انپے ارادے کے ساتھ اللہ کے ارادے کو شامل کرنا ہے۔ p. 205
اصل یہ ہے کہ انسان ارادہ کرتا ہے اور اس کے مطابق کوشش کرتا ہے۔ مگر کسی کوشش کی تکمیل صرف اس وقت ممکن ہوتی ہے جب کہ اس کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی شامل ہو جائے۔ اسی کو عربی میں اس طرح کہا گیا ہے کہ کوشش میری طرف سے ہے اور اس کی تکمیل اللہ کی طرف سے (السعی منّی والاتمام من اللّٰہ)اس اعتبار سے خدا اور بندے کا معاملہ گویا دندانہ دار پہیہ (Cog wheel) کا معاملہ ہے۔ ایک پہیہ خدا کا ہے اور دوسرا پہیہ انسان کا۔ جب دونوں کے دندانے ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں، اس کے بعد زندگی کی مشین چل پڑتی ہے۔ انسان اگر ایسا کرے کہ خدا کے پہیہ سے الگ ہو کر اپنا پہیہ چلانا چاہے تو بظاہر حرکت کے باوجود وہ بے فائدہ ہو گا۔ کیوں کہ پوری مشین کے چلنے کے لیے ضروری تھا کہ خدا کے پہیہ کا دندانہ بھی انسان کے پہیہ کے ساتھ شامل ہو۔ p. 206original + quote
ان شاء اللہ کا کلمہ، باعتبار حقیقت، ایک دعا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان انپے کام کا آغاز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہے کہ وہ انسان کے کاگ میں اپنا کاگ ملا دے تاکہ زندگی کی مشین چل پڑے اور اپنے مطلوبہ انجام تک پہونچے۔ ان شاء اللہ کہنا گویا زندگی کے سفر میں مالک کائنات کو اپنے ساتھ لینا ہے۔ اور جس آدمی کا یہ حال ہو کہ خود مالک کائنات اس کا ہم سفر ہو جائے اس کی منزل تک پہونچنے سے کون روک سکتا ہے۔ p. 206